Ajeeb Discovery

Ajeeb Discovery Urdu Documentaries, Reality Facts, Urdu Facts, Riddles, Biography, Tourism, General Knowledge and many more topics are covered in this channel.

Ajeeb Discovery Channel is working very hard to deliver you true and accurate information.

26/03/2020

As you all know about the trending hantavirus. We have been receiving bunch of posts about hantavirus and its spread. Here are some things you should know about.
• Hantavirus is not a new virus. It causes hantavirus pulmonary syndrome (hps) which was first recognized as an infectious disease in the early 1950s.
• It is spread by rodents. Mainly by its urine, feaces and saliva.it do not cause any disease in rodents themselves.
• It cannot be transferred from one human to another via closed contact. For example, you cannot get these viruses from touching or kissing a person who has it.
• It is common in rural areas ( i.e. villages and forests)
• The risk of hantavirus infection can be minimized by following these precautions:
o avoid touching live or dead rodents.
o If you sleep outdoors, check potential campsites for rodent droppings and burrows.
o Disinfect droppings and nesting materials by spraying with a disinfectant, wearing kitchen gloves.
We here request you all to please stop creating panic while there's already a much worse situation of covid-19. Stop this trend and create awarness about covid-19.
Do your part for your people and stay safe.

10/03/2020

Not many people know that, while still in the land of his birth, Azad sahib wrote Tarana-e-Pakistan at the behest of the people with authority in Pakistan” (Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah’s)۔ The complete version of the Tarana by the Lahore-based poet Jagan Nath Azad, who wrote this anthem, Pakistan’s first, reportedly at the request of Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah.

کیا آپ جانتے ہیں ؟ 1- آپ کے جوتے وہ پہلی چیز ہیں جن کی وجہ سے لوگ آپ کی شخصیت کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ نفیس جوتے پہنو ۔2- ا...
26/02/2020

کیا آپ جانتے ہیں ؟

1- آپ کے جوتے وہ پہلی چیز ہیں جن کی وجہ سے لوگ آپ کی شخصیت کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ نفیس جوتے پہنو ۔

2- اگرآپ گیارہ گھنٹے سے زیادہ بیٹھے رہتے ہیں تو جان لیں کہ پچاس فیصد امید ہے آپ دو سال میں بیمار ہو جائیں گے ۔

3- کم ازکم چھ لوگ دنیا میں آپ کے ہم شکل موجود ہیں ۔
اور نو فیصد امید ہے کہ زندگی میں ان میں سے ایک سے آپ کی ملاقات بھی ہو گی

4- تکیے کے بغیر سونے سے آپ کی کمر مضبوط ہوتی ہے ۔ اور کمر درد سے آرام محسوس ہوتا ہے

5-کسی شخص کا قد عموما اس کے باپ کی طرح ہو گا ۔ اور وزن اس کی ماں کی طرح

6- انسانی دماغ تین چیزوں پر فورا متوجہ ہوتا ہے ۔ کھانا ، دلکش لوگ اور خطرہ

7-دایاں ہاتھ استعمال کرنے والے کھانا بھی دائیں طرف چباتے ہیں ۔

8- خشک ٹی بیگ ورزش کے سامان اور بدبودار جوتوں سے بدبو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

9- البرٹ آئن سٹائن کے مطابق اگر زمین سے شہد کی مکھی کا وجود ختم ہو جائے
تو انسانی حیات چار دن میں ختم ہو جائے گی ۔

10- سیب کی اتنی زیادہ اقسام ہیں کہ اگر ہر روز ایک نئی قسم کا سیب آپ کھانا شروع کر دیں ۔ تو بیس سال تک کھاتے رہیں گے ۔

11-آپ کھانے کے بغیر ہفتوں تک زندہ رہ سکتے ہیں ۔ لیکن نیند کے بغیر صرف گیارہ دن زندہ رہ پائیں گے ۔

12-ہنسنے مسکرانے والے لوگ خشک مزاج لوگوں سے زیادہ صحت مند ہوتے ہیں ۔

13-سستی اسی طرح لوگوں کو ہلاک کرتی ہے جیسے سگریٹ نوشی ۔

14- ایک انسانی دماغ وکی پیڈیا سے پانچ گُنا زیادہ معلومات جمع کر سکتا ہے ۔

15- ہمارا دماغ دس واٹ کے بجلی کے بلب جتنی طاقت استعمال کرتا ہے ۔

16- ہمارا جسم تیس منٹ میں اتنی حرارت پیدا کرتا ہے کہ ڈیڑھ لڑ پانی اُبالا جا سکتا ہے ۔

17- ہر روز دس منٹ پیدل چلنا چاہئیے ۔ مسکراتے ہوئے ۔ اس سے ڈپریشن دور ہو جاتا ہے ۔

جون ۲۰۰۰ ء کو انکشافات کی تاریخ کا اہم ترین دن قرار دیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اس روز سینۂ کائنات میں پوشیدہ ایک راز ...
26/02/2020

جون ۲۰۰۰ ء کو انکشافات کی تاریخ کا اہم ترین دن قرار دیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اس روز سینۂ کائنات میں پوشیدہ ایک راز ’’راز حیات ‘‘ سے پردہ اٹھ گیااور انسانی D. N. A Deoxyribo Nucleic Acid کا مخفف۔ میں تین ارب سالموں کی منظم ترتیب کے ذریعے جینیاتی کوڈ کا معمہ حل ہو گیا۔

تمام زندہ موجودات کے لیے جبلی ہدایات اللہ تعالیٰ نے خلیات (cells) کے مرکزی حصے D.N.A میں ودیعت فرمائی ہیں جو تین ارب نہایت چھوٹے سالموں پرمشتمل ہے اور حیات کا راز انہیں سالموں میں پوشیدہ ہے۔

واضح رہے کہ انسانی جسم کے اندر ۱۰۰ کھرب خلیات ہیں اور ہر خلیے میں ایک مرکزہ اور ۴۶ کروموسوم ہوتے ہیں ۔ ہر کروموسوم ایک لمبے دھاگے کی طرح ہے، جس کی لمبائی چھ قدم ہے اور اسے خیط الحیات (زندگی کی تار) کہ سکتے ہیں۔ یہ دھاگہ ان جزئیات سے بنتا ہے جنہیں D.N.A یا زندگی کی بنیادی اینٹ کہتے ہیں۔ انسانی جسم کے ۱۰۰ کھرب خلیات میں موجود ان دھاگوں کو جوڑ دیا جائے تو آٹھ ہزار مرتبہ چاند سے ہو کر واپس آ سکتے ہیں۔ ہر D.N.A میں تین ارب سالمے موجود ہیں جن کی ترتیب و تنظیم سے حیات وجود میں آتی ہے۔

D.N.A کے کئی سیکشن ہوتے ہیں جنہیں جین (gene) کہتے ہیں اور جین ہی میں وہ بنیادی نقشہ ہوتا ہے، جس پر آگے چل کر انسان کی شخصیت کی عمارت استوار ہوتی ہے۔

انسان کو آگے جو کچھ بننا ہے یاجس بیماری میں اسے مبتلا ہونا ہے، وہ اس جین میں کمپیوٹرکے ایک کوڈ کی طرح ملفوف ہوتا ہے۔

ڈی ۔ این ۔ اے میں موجود تین ارب سالموں کی ’’ منظم ترتیب‘‘سے وجود خالق پر ایک یقینی برہان وجود میں آتی ہے ۔

چنانچہ ایک مغربی مفکر اسے یوں بیان کرتا ہے:

دس ٹوکنوں پر ایک سے دس تک نمبر لگائیں۔ پھر انہیں اپنی جیب میں ڈال کر خوب ہلائیں۔ اس کے بعد ترتیب کے ساتھ جیب سے نکالیں۔ جس ٹوکن کو جیب سے نکالا گیا ہے، اسے دوبارہ جیب میں ڈال کر ہلائیں پھر دوسری بار دوسرا ٹوکن نکالیں۔ اس طرح نمبر ایک ٹوکن اتفاقیہ طور پر نکلنے کا امکان دس میں سے ایک ہے اور ایک اور دو نمبر ترتیب سے نکل آنے کا امکان ایک سو میں سے ایک ہے۔ ایک، دو اور تین ترتیب سے نکل آنے کا امکان ایک ہزار میں سے ایک ہے۔ ایک، دو، تین اور چار کا ترتیب سے نکل آنے کا احتمال دس ہزار میں سے ایک ہے۔ ایک، دو، تین، چار اور پانچ کا ترتیب کے ساتھ نکل آنے کا امکان ایک لاکھ میں سے ایک ہے۔ اس طرح ایک سے لے کر دس تک ترتیب کے ساتھ اتفاقیہ طور پر نکل آنے کا احتمال دس ارب میں سے ایک ہے۔

چنانچہ تین نمبروں کا اتفاقاً ترتیب سے آنے کا امکان کم ہونے کی وجہ سے یہی ترتیب آپ کے بریف کیس کا تالہ بھی بن جاتی ہے۔

اس سادہ مثال کے بعد انسانی خلقت پر ایک نظر ڈالیں کہ انسان کئی ملین cellsکی ترتیب و ترکیب سے وجود میں آیا ہے۔ یعنی اربوں ٹوکنوں کو ترتیب کے ساتھ رکھنے سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ اب سوچئے کہ دس ٹوکن اتفاقیہ طور پر ترتیب کے ساتھ نکل آنے کے لیے اتفاقیہ کو دس ارب میں سے ایک حصہ ملتا ہے۔ اگر یہ ٹوکن کئی میلین ہوں تو ان میں اتفاقیہ کا حصہ کیا ہوگا؟ جواب صفر ہے۔

اب آپ غور فرمائیں کہ اگر ان اربوں ٹوکنوں میں سے ہر ایک ٹوکن کے اندر موجود ٹوکنوں کی تعداد تین ارب ہو تو ان کا اتفاقاً ایک ’’ منظم ترتیب ‘‘ میں آنے کا امکان صفر سے کئی بار نیچے رہ جائے گا۔ اس سے یقین آجاتا ہے کہ ان سالموں کے منظم ترتیب سے آنے کے لیے اتفاق کا کوئی امکان نہیں ہے ،بلکہ اس کے پیچھے ایک قصد و ارادہ کار فرما ہے ۔

05/08/2019
28/07/2019

Address

Lahore
ZIPCODE

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ajeeb Discovery posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Ajeeb Discovery:

Share