Wallpapers poetry & quotes

Wallpapers poetry & quotes Mix wallpapers
Poetry
Quotations
Interesting
Unique

16/09/2023
24/02/2020

Just for fun

21/09/2019

‏عورت کے مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات:

غسل کے دوران مدینہ کی ایک عورت نے مردہ عورت کی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.

بس یہ بات کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے اپنی ڈھیل دی ہوئی رسی کھینچ دی.

اس عورت کا انتقال مدینہ کی ایک بستی میں ہوا تھا اور غسل کے دوران جوں ہی غسل دینے والی عورت نے‏ مندرجہ بالا الفاظ کہے تو اس کا ہاتھ میت کی ران کے ساتھ چپک گیا۔ چپکنے کی قوت اس قدر تھی کہ وہ عورت اپنا ہاتھ کھینچتی تو میت گھسیٹتی تھی مگر ہاتھ نہ چھوٹتا تھا۔

جنازے کا وقت قریب آ رہا تھا اس کا ہاتھ میت کے ساتھ چپک چکا تھا اور بے حد کوشش کے باوجود جدا نہیں ہو رہا تھا، تمام عورتوں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کھینچا، مروڑا، غرض جو ممکن تھا کیا مگر سب بے سود رہا!‏

دن گزرا ، رات ہوئی، دوسرا دن گزرا، پھر رات ہوئی سب ویسا ہی تھا، میت سے بدبو آنے لگی اور اس کے پاس ٹھہرنا ،بیٹھنا مشکل ہو گیا!

مولوی صاحبان، قاری صاحبان اور تمام اسلامی طبقے سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ غسال عورت کا ہاتھ کاٹ کر جدا کیا جائے‏اور میت کو اس کے ہاتھ سمیت دفنا دیا جائے۔ مگر اس فیصلے کو غسال عورت اور اس کے خاندان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہم اپنے خاندان کی عورت کو معذور نہیں کر سکتے لہذا ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں!

دوسری صورت یہ بتائی گئی کہ میت کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیا جائے اور ہاتھ کو آزاد کر کے میت‏ دفنا دی جائے، مگر بے سود. اس بار میت کے خاندان نے اعتراض اٹھایا کہ ہم اپنی میت کی یہ توہین کرنے سے بہر حال قاصر ہیں.

اس دور میں امام مالک قاضی تھے. بات امام مالک تک پہنچائی گئی کہ اس کیس کا فیصلہ کیا جائے! امام مالک اس گھر پہنچے اور صورت حال بھانپ کر غسال عورت سے سوال کیا‏ "اے عورت! کیا تم نے غسل کے دوران اس میت کے بارے میں کوئی بات کہی؟"

غسال عورت نے سارا قصہ امام مالک کو سنایا اور بتایا کہ اس نے غسل کے دوران باقی عورتوں کو کہا کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.

امام مالک نے سوال کیا "کیا تمھارے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے‏لیے گواہ موجود ہیں" عورت نے جواب دیا کہ اس کے پاس گواہ موجود نہیں. امام مالک نے پھر پوچھا "کیا اس عورت نے اپنی زندگی میں تم سے اس بات کا تذکرہ کیا؟" جواب آیا "نہیں"

امام مالک نے فوری حکم صادر کیا کہ اس غسال عورت نے چونکہ میت پر تہمت لگائی ہے لہذا ‏اس کو حد مقررہ کے مطابق 80 کوڑے لگائے جائیں!

حکم کی تعمیل کی گئی اور 70 بھی نہیں 75 بھی نہیں 79 بھی نہیں پورے 80 کوڑے مارنے کے بعد اس عورت کا ہاتھ میت سے الگ ہوا.

آج ہم تہمت لگاتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے. استغفراللہ

حوالہ:

بکھرے موتی،جلد اول

20/09/2019

جانے کہاں گئے وہ دن !!!

دس روپے کی برف۔🍷 پانی سے بھرا واٹر کولر🍺۔ وی سی آر۔ وی سی پی ۔ گھوڑے کی ٹاپ۔ فجر کے وقت گلی میں سے گزرتے کسی بابے کے درود شریف پڑھنے کی آواز۔😔😔

روشن دان۔ ہینڈ پمپ۔ قلم دوات۔ ہولڈر۔ جی کی نب۔۔ تختی۔ گاچی۔ بستہ۔ چھٹیوں کا کام ۔ لکیروں والا دستہ۔ دستے پر اخبار چڑھانا۔ مارکر۔ حاشیہ۔ خوشخطی۔ رف کاپی۔ رف عمل۔ سلیٹ۔ سلیٹی۔ کریم کی خالی شیشیاں بھرنے والا۔

گلیوں میں چارپائیاں۔ لکن میٹی۔ چور سپاہی۔ اڈا کھڈا۔

شٹاپو۔ باندر کلا۔ کوکلا چھپاکی۔ یسو پنجو‘ چڑی اُڑی کاں اُڑا۔ صراحی۔ چائے کی پیالیاں۔ سیڑھیوں کے نیچے باورچی خانہ۔ بتیوں والا چولہا۔ ٹارزن۔ عمرو عیار۔ زنبیل۔ افراسیاب۔ چھڑی اور سائیکل کا ٹائر۔ دکان دار سے چونگا۔ نیاز بٹنا اور آواز آنا ''میرے بھائی کا بھی حصہ دے دیں۔‘‘😿

ٹھنڑی ہوا والی گولیاں HOEST شوق سے کھانا۔ مرونڈا۔ گچک۔ سوکھا دودھ۔ ڈیکو مکھن ٹافی۔ لچھے۔ ون ٹین کا کیمرہ۔ مائی کا تنور۔ کوئلوں والی استری۔ ہمسائے کے ٹیلی فون کا پی پی نمبر۔ گولی والی بوتل۔ جمعرات کی آدھی چھٹی۔ ٹٹوریل گروپ۔ بزمِ ادب۔ ششماہی امتحانات۔

پراگریس رپورٹ۔ عرس کے میلے میں دھمال ڈالتا سائیں۔ ٹیڈی پیسہ۔ چونّی۔ بارہ آنے۔ پُتلی تماشا۔ گراری والا چاقو۔ سیمنٹ کی ٹینکی۔👁 شام کے وقت گلی میں پائپ سے پانی کا چھڑکائو۔ دروازے کی کنڈی۔ دیسی تالا۔ ہاون دستہ۔

دادی کی کہانیاں۔ اُڑن کھٹولے کے خواب۔ ڈھیلی جرابوں کے اوپر ربڑ چڑھانا۔ لوہے کی بالٹی۔ جست کے برتن۔ بھانڈے قلعی کرا لو۔ بندر کا تماشا۔ بچے کی پیدائش پر خواجہ سرائوں کا رقص۔ گلی میں پکتی دیگ۔ چھت کی نیند۔ تاروں بھرا آسمان۔ دوپٹے کے پلو میں بندھے پیسے۔ انٹینا۔ چھت پر مٹی کا لیپ۔ شہتیر۔ بالے۔ پھونکنی۔ تندوری۔ 🌄چڑیوں کا آلنا۔ مسہری۔ شوخ رنگوں کے پائے والا پلنگ۔ بان کی چارپائی ۔ کھرا۔ نالی۔

پلاسٹک کی ٹونٹی۔ کپڑے دھونے والا ڈنڈا۔ مسی روٹی۔ پنجیری۔ پِنّیاں۔ بالو شاہی۔ دو ٹیوٹر والا ڈیک۔ دستر خوان۔ صبح کا مشترکہ ناشتہ۔ رات کا مشترکہ کھانا۔ دانتوں پر ملنے والا منجن۔ سٹیل کے گلاس۔ سٹیل کی پلیٹیں۔ سٹیل کے جگ۔ موڑھے۔

سائیکل کی قینچی۔ ☔☔سیلاب کا خوف۔ ماں کی آغوش۔ باپ کا ڈر۔ دھوتی۔ سلوکا۔ مشترکہ بیڈ روم۔ اینٹوں والا فرش۔ بیٹھک۔ اُستادوں کی مار۔ مولا بخش۔ کاربن پیپر۔ سوجی کی مٹھائی۔ ڈیمو کے لڑنے پر تالا رگڑنا۔ ڈیمو کے ساتھ دھاگا باندھ کر اڑانا۔

دو غباروں کے درمیان ڈوری باندھ کر 'واکی ٹاکی‘ بنانا۔ پانی سے بھری بالٹی میں اُلٹا گلاس ڈال کر بلبلے نکالنا۔ صابن سے سر دھونا۔ ⚡ سر درد کے لیے مولوی صاحب سے دم کروانا۔

بوتل کے سٹرا کو پائپ کہنا۔ آدھی رات کو ڈرائونے قصے سننا۔💓 بچی کھچی روٹیوں کے ٹکڑے کباڑیے کو بیچ دینا۔

مقدس عبارت والے اوراق چوم کر کسی دیوار کی درز میں پھنسا دینا👥۔ بیلٹ کے بغیر پینٹ پہننا اور محلے داروں سے شرماتے پھرنا۔ کُنڈلوں والے بال۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے قہقہے۔ سکول جاتے ہوئے بس کی چھت پر پڑے ٹائر میں بیٹھ کر سفر کرنا۔ گلابی رنگ کا سٹوڈنٹ کارڈ جیب میں رکھنا۔ کڑھائی والا رومال۔


خوش آمدید والے تکیے۔ ہاتھوں سے گھولی ہوئی مہندی۔ رنگین آنچلوں کی خوشبو۔ بالوں میں تیل لگا کر کنگھی کرنے کا فیشن۔ سُرمے کی لکیر خوبصورتی کی علامت۔

👦پسینے بھری قمیص اتار کر چلتے ہوئے پیڈسٹل فین پر ڈال دینا۔ فیوز بلب کو ہلا کر اُس کی تار پھر سے جوڑ دینا۔ بجلی کے میٹر گھروں کے اندر۔ بجلی کا سانپ کی طرح لمبا بل آنا۔👬 سنیمائوں کے پوسٹر پر نظریں جم جانا۔

سائیکل روک کر مجمع باز کی گفتگو سننا۔ صاف کپڑوں کے ساتھ جیب میں صاف رومال بھی رکھنا۔ قمیص کی جیب میں پین لٹکانا۔ بٹوے میں چھوٹی سی ٹیلی فون ڈائری رکھنا جس میں A سے Z تک سے شروع ہونے والے ناموں کے الگ خانے ہوتے تھے۔

کسی پرانے سال کی ڈائری میں اقوال زریں‘ نعتیں اور اشعار لکھنا۔ ٹی وی کے اوپر خوبصورت غلاف چڑھائے رکھنا۔ کسی کے تالا لگے ٹیلی فون کے کریڈل سے ٹک ٹک کر کے کال ملانے کی کوشش کرنا۔

باراتوں پر سکے لوٹنا۔ 💑دولہا کا منہ پر رومال رکھنا۔ دلہن کا دوسرے شہر سے بارات کے ساتھ بس میں آتے ہوئے راستے میں دل خراب ہو جانا👩۔ سردیوں میں اُبلے ہوئے ایک انڈے کو بھی پورا مزا لے کر کھانا۔ محلے میں کسی کی وفات پر تدفین تک ساتھ رہنا۔

مسجد کے مولوی صاحب کے لیے گھر میں الگ سے سالن رکھنا۔ ٹی وی ڈرامے میں کسی المناک منظر پر خود بھی رو پڑنا۔ فلم دیکھتے ہوئے ہیرو کی کامیابی کے لیے صدق دِل سے دُعا کرنا۔

لڑائی میں گالی دے کر بھاگ جانا۔ بارش میں ایک دوسرے پر گلی کے پانی سے چھینٹے اڑانا۔ سونے سے پہلے تین دفعہ آیت الکرسی پڑھ کر چاروں کونوں میں پھونک مارنا۔

۔ 🌹 مہمانوں کی آمد پر خصوصی اہتمام کرنا اور محلے والوں کا خصوصی طور پر کہنا کہ ''مہمان نوں ساڈے ول وی لے کے آنا‘‘۔ بسنت کے دنوں میں چھت پر ڈور لگانا‘ مانجھا لگانا۔ بازار سے پنے‘ گچھے اور چرخیاں خریدنا۔

گڈیاں لوٹنا‘ ڈوریں اکٹھی کرنا۔ چارپائی پر بیٹھ کر ٹوٹا ہوا شیشہ سامنے رکھ کر چہرے پر صابن لگا کر شیو کرنا۔۔💖۔

سلیٹ ہمیشہ تھوک سے صاف کرنا۔ محلے کے بڑے بوڑھوں سے اکثر مار کھانا اور بھول جانا۔💞 پنکج ادھاس کی غزلیں یاد کرنا اور ' میکدہ‘ کے لفظ سے نا آشنائی کے باعث گاتے پھرنا ''ایک طرف اُس کا گھر‘ ایک طرف میں گدھا‘‘۔😐

اگر آپ کو یہ سب یاد ہے تو آپ خوش قسمت ہیں💝 کہ آئی ٹی انقلاب سے پہلے والی زندگی انجوائے کر آئے۔ اِن میں سے شاید ہی کوئی چیز باقی بچی ہو‘ اور اگر کوئ بات باقی رہ گی ہو تو آپ بھی کومنٹ میں درج کر سکتے ہیں۔ زندگی کی نہر کے بہتے پانیوں میں سے ایک دفعہ ہاتھ نکال لیں تو وہ ویسے کب رہتے ہیں! ایسی بھی تھی زندگی!🌻

13/09/2019

DEPRESSION!!!
یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے‘ میں ایک درمیانے سائز کی کمپنی چلا رہا تھا‘ ہم لوگ امریکی کمپنیوں ’’کو آئی ٹی سلوشن‘‘ دیتے تھے‘ ہمارے سلوشن دس پندرہ ڈالر مالیت کے ہوتے تھے لیکن ہمارے گاہکوں کی تعداد زیادہ تھی چناں چہ دس پندرہ ڈالر ایک دوسرے کے ساتھ ضرب کھا کر بڑی رقم بن جاتے تھے‘ ہمارے کام کے ساتھ تین ساڑھے تین سو لوگ وابستہ تھے۔


یہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر کام کرتے تھے‘ ہم ان کا کام ’’پول‘‘ کرتے تھے اور اس کی نوک پلک سنوار کر اسے انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے مطابق بنا کر کمپنیوں کو بھجوا دیتے تھے‘ ہماری زندگی ہموار اور رواں چل رہی تھی مگر پھر اچانک صدر اوبامہ نے پالیسیاں تبدیل کرنا شروع کر دیں‘ یورپ اور امریکا میں پاکستان کا امیج بھی مزید خراب ہو گیا لہٰذا کمپنیوں کو جوں ہی پتا چلتا تھا ہم پاکستانی کمپنی ہیں‘ وہ ہم سے رابطہ منقطع کر دیتی تھیں۔

یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے وہاں پہنچ گیا جہاں ہمارا بزنس تیزی سے نیچے آنے لگا‘ ہمارے بینک اکائونٹ خالی ہو گئے‘ لوگ فارغ بیٹھ گئے اور ہم پریشانی سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے‘ میرا صرف ایک ’’سورس آف انکم‘‘ رہ گیا اور وہ تھا صحافت‘ میں ان دنوں شدید ڈپریشن سے گزر رہا تھا۔


میں ڈپریشن میں ہمیشہ عجیب وغریب حرکتیں شروع کردیتا ہوں‘ میں پیدل چل پڑتا ہوں اور چلتے چلتے بعض اوقات کسی اجنبی گائوں یا دوسرے شہر پہنچ جاتا ہوں یا میں ائیرپورٹ جاتا ہوں اور مجھے جہاں کی فلائیٹ مل جائے میں اس میں چڑھ جاتا ہوں یا میں ٹرین میں سوار ہو جاتا ہوں یا کسی لوکل بس میں داخل ہو کر سارا دن اس میں گزار دیتا ہوں یا پھر انتہائی پرانی تھکڑ ٹیکسی میں گھس جاتا ہوں اور اسے کہتا ہوں تم بس چلتے رہو اور جہاں دل چاہتا ہے اتر کر چل پڑتا ہوں‘ ڈپریشن دور کرنے کا یہ طریقہ میں نے خود ایجاد کیا اور یہ کم از کم میرے سلسلے میں بہت کارگر ثابت ہوتا ہے‘ میں نے اس دن بھی یہی کیا‘ میں گھر سے نکلا‘ چوک میں گیا اور انتہائی تھکڑ ٹیکسی میں سوار ہو گیا۔

یہ1987ء کی ایف ایکس گاڑی تھی‘ اس کا کوئی پرزہ ٹھیک کام نہیں کر رہا تھا‘ گاڑی آگے چلنے کے ساتھ ساتھ پھڑک کر دائیں بائیں بھی چل پڑتی تھی‘ ڈرائیور گاڑی سے بھی زیادہ بیمار اور بوڑھا تھا‘ میں نے اس ٹیکسی میں بمشکل ہزار میٹر سفر کیا اور میرا ڈپریشن خوف میں تبدیل ہو گیا‘ میں ڈر گیا اور میں ڈرائیور سے ٹیکسی روکنے کے لیے منتیں کرنے لگا‘ ڈرائیور نے بڑی مشکل سے بریک لگائی‘ میں نیچے اترا‘ جیب میں ہاتھ ڈالا‘ پانچ سو روپے کا نوٹ نکال کر ڈرائیور کو دیا اور فٹ پاتھ پر پیدل چلنے لگا۔


میں نے تھوڑی دیر بعد محسوس کیا کوئی میرے پیچھے دوڑ رہا ہے‘ میں نے خوف زدہ ہو کر مڑ کر دیکھا‘ ٹیکسی کا ڈرائیور میرے پیچھے سرپٹ بھاگ رہا تھا‘ میں رک گیا‘ وہ بیمار اور بوڑھا تھا‘ وہ بڑی مشکل سے میرے قریب پہنچا‘ لمبے لمبے سانس لینے لگا اور جب سانس بحال ہو گیا تو اس نے گلوگیر آواز میں کہا ’’سر میں آپ کے ہاتھ چومنا چاہتا ہوں‘‘ مجھے میری نام نہاد کام یابی نے اس لیول تک پہنچا دیا ہے جہاں میرے جیسے چھوٹے لوگ خود کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں اور ہر شخص سے توقع کرتے ہیں یہ بھی میرا فین ہوگا۔

میں نے اس ٹیکسی ڈرائیورکو بھی اپنا فین سمجھا اور متکبر لہجے میں کہا ’’نہیں‘ نہیں باباجی کوئی بات نہیں‘ میں بھی آپ جیسا انسان ہوں‘‘ ڈرائیور نے میری بات پر توجہ دیے بغیر کہا ’’سرمجھے چار دن سے کوئی سواری نہیں ملی تھی‘ میرے گھر میں دو دن سے فاقہ چل رہا تھا‘ صاحب آپ فرشتہ بن کر آئے اور مجھے پانچ سو روپے دے دیے‘ میں اب آٹا اور دال لے کر سیدھا گھر جائوں گا اور اپنی بیوہ بیٹی اور نواسے نواسوں کو کھانا کھلائوں گا لیکن میں گھر جانے سے پہلے اپنے محسن کے ہاتھ ضرور چوموں گا‘‘ وہ یہ کہہ کر میرے ہاتھ کی طرف لپکا اور میرا ہاتھ اپنے گندے اور کھردرے ہاتھوں میں لے لیا اور میں سکتے کے عالم میں اس کی طرف دیکھنے لگا۔

مجھے اس وقت محسوس ہوا‘ میرا تازہ تازہ بزنس فلاپ ہوا ہے‘ میں کریش کر رہا ہوں لیکن میں اس کے باوجود اس شخص کی نظروں میں دنیا کا امیر ترین شخص ہوں‘ میں اس شخص کی نظروں میں صرف پانچ سو روپے کی وجہ سے ان داتا ہوں‘ فٹ پاتھ پر اس وقت دو لوگ کھڑے تھے‘ میں اور وہ ڈرائیور‘ میں خود کو ناکام‘ ڈائون اورلوزر سمجھ رہا تھا جب کہ میں ڈرائیور کی نظروں میں دنیا کا امیر اور سخی ترین شخص تھا‘ میں نے فوراً ڈرائیور کا ہاتھ پکڑا اور اس کا رخ موڑا‘ اسے اپنی جگہ کھڑا کیا اور خود اس کی جگہ کھڑا ہو گیا اور پھر وہ لمحہ آ گیا جس نے مجھے دنیا کی چوتھی سچائی سمجھا دی اور وہ چوتھی سچائی تھی ہم ناکام ہونے‘ بدحال ہونے اور کریش ہونے کے بعد بھی جہاں پہنچ جاتے ہیں وہ جگہ لاکھوں‘ کروڑوں بلکہ اربوں لوگوں کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتی ہے۔

لوگ نسلوں کی محنت کے بعد بھی اس جگہ تک نہیں پہنچ پاتے جہاں ہم اونچائی سے گرنے کے بعد‘ ناکام ہونے کے بعد ٹک جاتے ہیں‘ ہمارے ملک میں اس وقت بھی کروڑوں لوگ صرف پانچ سو روپے کے لیے سارا دن فٹ پاتھ پر گزار دیتے ہیں‘ ہمیں جس دن پانی کی بوتل نہیں ملتی اور ہم نلکے کا پانی پینے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ نلکے کا وہ پانی کروڑوں لوگوں کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے‘ ہم آدھا برگر اپنی پلیٹ میں چھوڑ کر گھر آ جاتے ہیں‘ لاکھوں لوگ برگر کے اس ٹکڑے کے لیے پوری زندگی آسمان کی طرف دیکھتے رہتے ہیں‘ ہم ریستوران میں ٹرائی کرنے کے لیے چار ڈشیں منگوا لیتے ہیں‘ پسند نہیں آتیں تو چھوڑ دیتے ہیں۔

دنیا میں اس وقت بھی ایسے کروڑوں لوگ موجود ہیں جو ایسے کھانوں کی صرف خوشبو سونگھنے کے لیے کچرا گھروں کا کچرا ادھیڑتے رہتے ہیں‘ ہم چائے کی جگہ کافی پیتے ہیں لیکن ہمارے دائیں بائیں ایسے لاکھوں لوگ موجود ہیں جن کی نظر میں چائے دنیا کی سب سے بڑی عیاشی ہے‘ ہم رات سوتے وقت گندے مندے کپڑے پہنتے ہیں‘ ہمارے چار چار سال پرانے سلیپر‘ ہماری ٹوٹی ہوئی پلیٹس‘ ہماری پھٹی ہوئی کتابیں‘ خراب کاپیاں اور ہمارے بچوں کے ناکارہ کھلونے یہ بھی اربوں لوگوں کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتے ہیں‘ لوگ آٹے کے ایک تھیلے‘ گھی کے ایک ڈبے اور سر کے ایک دوپٹے کے لیے سارا سارا دن لوگوں کی دہلیزوں پر بیٹھے رہتے ہیں‘ یہ لوگ اپنے کپڑے خود خرید سکیں‘ یہ جیب سے پیسے نکالیں اور دکان سے جو چاہیں خرید لیں یہ مسرت ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتی ہے‘ یہ اس سطح تک پہنچنے کے لیے گڑگڑا کر دعائیں کرتے رہتے ہیں۔

ہم میٹرک پاس ہیں‘ ہم بی اے میں تیسرے درجے میں پاس ہوئے اور ہم نے چار سال میں گھسٹ گھسٹ کر ایم اے کر لیا‘ ہمیں منتوں اور دعائوں کے بعد کلرک کی نوکری ملی‘ ہمارے پاس صرف اسکوٹر یا صرف ٹوٹا ہوا سائیکل ہے‘ ہم ایف ایکس گاڑی چلا رہے ہیں اور ہم دو مرلے کے گھر میں رہتے ہیں لیکن ہم نے کبھی سوچا دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو تین تین نسلوں سے دو مرلے کے اس گھر کو ترس رہے ہیں‘ ممبئی اور کولکتہ میں آج بھی لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر پیدا ہوتے ہیں اور پوری زندگی ان فٹ پاتھوں پر گزار کر انھی فٹ پاتھوں پر مر جاتے ہیں اور میونسپلٹی کے سویپر ان کی لاشیں کچرا گاڑیوں میں لاد کر لے جاتے ہیں۔

آپ اپنی ٹوٹی ہوئی سائیکل خیرات کرنے کا اعلان کر دیں‘ آپ کے گھر کے سامنے دنگا ہو جائے گا‘ لوگ ٹوٹی سائیکل کے لیے ایک دوسرے کا سر کھول دیں گے‘ یہ ٹوٹی ہوئی سائیکل ان لوگوں کی زندگی کا بہت بڑا خواب ہے‘ آپ میٹرک کے بعد دائیں بائیں دیکھیں‘ آپ کو کروڑوں لوگ میٹرک کی سند سے محروم ملیں گے‘ یہ لوگ نسلوں سے ہائی اسکولوں کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں لیکن یہ اسکول کی دہلیز کے اندر داخل نہیں ہو پا رہے‘ ہمارے ملک میں کروڑوں لوگ کلرک کی نوکری کے لیے اپنے جیسے لوگوں کے تلوے تک چاٹنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور آپ کو کروڑوں ایسے لوگ بھی مل جائیں گے جو آپ کی پالتو بلی اور جرمن کتے کی خوراک کو حسرت سے دیکھیں گے۔

یہ نسلوں کے سفر کے باوجود اس خوراک تک بھی نہیں پہنچ سکے‘ ہمارے ملک میں آج بھی ننانوے فیصد لوگ ہوائی سفر نہیں کر سکے‘ یہ ائیر پورٹ کے لائونج میں داخل نہیں ہوئے‘ ساٹھ فیصد لوگ پوری زندگی کموڈ پر نہیں بیٹھے اور کافی کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے ملک کے 80 فیصد لوگ یہ بھی نہیں جانتے‘ لاکھوں لوگ پینا ڈول کی گولی‘ شوگر کی ٹیبلٹ اور بلڈ پریشر کی دوا کو ترستے ترستے مر جاتے ہیں‘ لوگ قصابوں کی دکانوں سے چھیچھڑے اکٹھے کر کے پکاتے ہیں‘ اوجھڑیاں ابال کر کھاتے ہیں‘ لوگوں کے اترے کپڑے پہنتے ہیں‘ پانچ پانچ سال لوگوں کے پرانے سلیپر گھسیٹتے ہیں اور حلوے‘ کیک اور رس ملائی کے ذائقے کو ترستے ترستے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

میں پانچ سال پہلے کاغذ کی ایک سائیڈ پر لکھا کرتا تھا‘ مجھ سے ایک دن میرے ایک ملازم نے کہا ’’آپ مجھے یہ کاغذ دے دیا کریں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیوں‘‘ وہ بولا ’’سر میں اپنی بیٹی کو دے دیا کروں گا‘ وہ کاغذ کی صاف سائیڈ پر ہوم ورک کر لیا کرے گی‘‘ میں نے اس کی بیٹی کی کاپیوں اور کتابوں کا خرچ اٹھا لیا اور کاغذ کی دو سائیڈوں پر لکھنا شروع کر دیااور میں ریستوران میں پلیٹ میں کھانا نہیں چھوڑتا‘ پیک کراتا ہوں‘ چوکوں میں کھڑے بچوں کو دیتا ہوں‘ ہم نے کبھی سوچا ہم زندگی میں جس ناکامی‘ جس محرومی اور جس زوال کو زوال سمجھتے ہیں وہ زوال‘ وہ محرومی اور وہ ناکامی کتنے لوگوں کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتی ہے‘ لوگ نسلیں خرچ کر کے بھی اس کھجور تک نہیں پہنچ پاتے جس میں ہم آسمان سے گر کر اٹک جاتے ہیں اور باقی زندگی شکوئوں میں گزار دیتے ہیں۔

وہ بوڑھا ڈرائیور میرے سامنے کھڑا تھا‘ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اس کے کھردرے ہاتھ پکڑ رکھے تھے اورزاروقطار رو رہا تھا اور وہ حیرت سے میری طرف دیکھ رہا تھا‘ وہ حیران تھا میری جیب میں جب پانچ پانچ سو روپے کے نوٹ ہیں تو پھر میں کیوں رو رہا ہوں‘ میں کیسے دکھی ہو سکتا ہوں؟ میں اسے کیسے بتاتا میں ناشکری کے مرض میں مبتلاہوں اور ناشکری ایک ایسا کینسر ہے جس کا علاج بڑے سے بڑے ڈاکٹر کے پاس بھی موجودنہیں۔

Address

Main Avenue Punjab Housing Society Mohlanwal Lahore
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wallpapers poetry & quotes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Wallpapers poetry & quotes:

Share