Jamia Masjid Khatam un Nabiyeen

Jamia Masjid Khatam un Nabiyeen It is the only mosque located inside the Canal Berg Housing Society.

‏"• عید میلاالنبیﷺ  مبارک •" 🍀 َﻤﺲُ_ﺍﻟﻀُّﺤٰﯽ_ﮐﯽ_ﺑﺎﺕ_ﮐﺮﻭ🍀🍀 ُﺥِ_ﻣﺼﻄﻔﯽﷺﮐﯽ_ﺑﺎﺕ_ﻛﺮﻭ🍀💞اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍﷺوآلِ مُ...
26/10/2021

‏"• عید میلاالنبیﷺ مبارک •"

🍀 َﻤﺲُ_ﺍﻟﻀُّﺤٰﯽ_ﮐﯽ_ﺑﺎﺕ_ﮐﺮﻭ🍀
🍀 ُﺥِ_ﻣﺼﻄﻔﯽﷺﮐﯽ_ﺑﺎﺕ_ﻛﺮﻭ🍀

💞اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍﷺوآلِ مُحَمَّدٍﷺ

" "🌹🍀

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور سید عالم ﷺ اپنے نعلین مبارک کو بنفس نفیس پیوند لگا رہے تھے او ر میں چرخہ کات رہی تھی۔
اتفاق سے میری نظر امام الانبیاء ﷺ کے چہرہءانور کی طرف گئی تو میں نے دیکھا کہ آپﷺ کی پیشانی مبارک پر پسینے کے چند قطرات نمایاں ہیں اور پسینے کے اندر ایک نور ہے جو ابھر رہا ہے اور بڑھ رہا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :
میرے لیے یہ ایک ایسا خوبصورت منظر تھا کہ میں حیرت و تعجب سے پوری دلجمعی کے ساتھ کافی دیر تک آقا ﷺ کی جبیں مبارک کادیدار کرتی رہی۔
اچانک رسول اللہ ﷺ نے جو نظر مبارک اُٹھا کر میری طرف دیکھا کہ میں آپ ﷺ کی طرف حیرانگی کے ساتھ دیکھ رہی ہوں تو فرمایا:
عائشہ! کیا بات ہے،کیوں حیران ہو کر میری طرف دیکھ رہی ہو؟
میں نے عرض کیا:
یا رسول اللہﷺ! میں نے دیکھا ہے کہ آپﷺ کی پیشانی مبارک پر پسینہ کے قطرات ہیں اور مجھے قطرات میں ایک چمکتا ہوا نور دکھائی دے رہا ہے۔اس خوش کن اور مبارک منظر نے مجھے آپﷺ کی طرف دیکھتے رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔
بخدا! اگر "ابو کبیر ہذلی"زمانہ جاہلیت کا مشہور شاعر۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیتا تو اسے معلوم ہوتا کہ اس کے اشعار کا صحیح مصداق آپ رسول اللہﷺ کی ذات اقدس ہے۔
نبئ مکرمﷺ نے فرمایا:
سناؤ تو اس کے اشعار کیا ہیں؟
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کوابو کبیر ہذلی کے یہ اشعار سنائے:
ترجمہ:
"وہ ولادت اور رضاعت کی آلودگیوں سے پاک ہے اس کے روشن چہرے کودیکھو تو معلوم ہوگا کہ نور اورروشن برق جلوہ دے رہی ہے۔"
جب رسول اللہﷺ نے یہ اشعار سنے تو جو کچھ ہاتھ میں تھا وہ رکھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
جو لطف و راحت مجھے تمہارے کلام سے حاصل ہوئی ہے اس قدر مسرت و سرور تمہیں میرے نظارے سے بھی حاصل نہ ہوا ہوگا۔
(مستدرک حاکم،مدارج السالکین)

26/10/2021
📚  صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم       🌺 ُجھے_جسے_خدا_کرے⭐اللّٰه پاک نے اپنے آخری نبی صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم ...
26/10/2021

📚 صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم

🌺 ُجھے_جسے_خدا_کرے⭐

اللّٰه پاک نے اپنے آخری نبی صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اس قدر فضائل و کمالات اور امتیازات عطا فرمائے جن کا حقیقی اور مکمل بیان انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ اللّٰه پاک کی رحمت پانے کے لئے ان بے شمار امتیازات و کمالاتِ مصطفےٰ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں سے 3 کا مطالعہ فرمائیے:

🌺(1) #اللّٰه_پاک_نے_جان_کی_حفاظت_کا_ذمہ_لیا: اللّٰه پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی لوگوں سے حفاظت کا ذمہ خود لیا۔ ارشاد فرمایا گیا: 📖وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ📚ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور اللّٰه لوگوں سے آپ کی حفاظت فرمائے گا

📚(پ 6، المآئدۃ: 67، شرف المصطفیٰ، 4 / 108)

🌸اے عاشقانِ رسول! اس آیتِ مبارکہ میں قتل سے حفاظت مراد ہے کہ کفار آپ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ منقول ہے کہ 70 ہزار فرشتے اللّٰه کے حبیب صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حفاظت کیا کرتے تھے جو نیند یا بیداری کسی حالت میں آپ سے جدا نہیں ہوتے تھے۔

📚(تفسیر صاوی، 2 / 520، 521)

🌸مختلف مواقع پر کئی افراد نے سرکارِ دو عالَم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جان لینے کی کوشش کی لیکن اللّٰه پاک نے اپنے حبیب صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حفاظت فرمائی۔ ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے:

💥 ؟ حضرت سیّدُنا جابر رضی اللّٰه عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسولُ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہمراہ ایک غزوے میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے۔ واپس آتے ہوئے ہم دوپہر کے وقت ایک ایسی وادی میں پہنچے جہاں کانٹوں والے درختوں کی کثرت تھی۔ صحابۂ کرام علیھمُ الرضوان مختلف درختوں کے نیچے آرام کرنے لگے جبکہ رحمتِ عالَم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کیکر کے ایک درخت پر اپنی مبارک تلوار لٹکا کر اس درخت کے نیچے آرام فرما ہوئے۔ حضرت سیّدُنا جابر رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں: ہم لوگ سوئے ہوئے تھے کہ اچانک حضورِ اکرم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بلانے کی آواز سے ہماری آنکھ کھلی۔ ہم حاضرِ خدمت ہوئے تو دیکھا کہ ایک دیہاتی شخص بیٹھا ہوا ہے۔ سرکارِ نامدار صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ اس شخص نے میری تلوار نِیام سے نکال لی۔ میں بیدار ہوا تو تلوار اس کے ہاتھ میں تھی اور اس نے مجھ سے کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے جواب دیا: اللّٰه (مجھے بچائے گا)۔ (اس شخص پر قابو پانے کے بعد) رحمتِ عالَم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے کوئی سزا نہیں دی (بلکہ معاف فرما دیا)۔
📚(بخاری، 3 / 59، حدیث: 4135)

📚شارحِ بخاری امام بدرُ الدّین محمود عینی رحمۃ اللّٰه علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: سرکارِ دو عالَم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کفار کے دلوں کو نرم کرنے اور انہیں دائرۂ اسلام میں داخل کرنے کی بہت زیادہ رغبت رکھتے تھے، اسی لئے آپ نے اس دیہاتی کو سزا دینے کے بجائے معاف فرما دیا۔ اس کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ وہ دیہاتی نہ صرف مسلمان ہو گیا بلکہ اس نے واپس جا کر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت پیش کی تو اللّٰه پاک نے اس کی بدولت کثیر لوگوں کو اسلام کی دولت عطا فرما دی۔

📚(عمدۃ القاری، 12 / 166)

💥 : اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰه عنھا سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام علیھمُ الرضوان (بوقتِ ضرورت) سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حفاظت کیا کرتے تھے۔ جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:

📖وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ

تو آپ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خیمے سے سر نکال کر ارشاد فرمایا: اے لوگو! واپس چلے جاؤ، بے شک اللّٰه پاک نے مجھے محفوظ فرما دیا ہے (مجھے اب انسانوں کی حفاظت کی ضرورت نہیں ہے)۔

📚(ترمذی، 5 / 35، حدیث: 3057، نسیم الریاض، 4 / 222)

فانوس 🌟 بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع 🌺 کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

🌺(2) #نمازِ_عصر_کے_بعد_نماز_پڑھنا: نمازِ عصر ادا کرنے کے بعد نماز پڑھنا سرکارِ دو عالَم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔
📚(مواھب لدنیہ، 2 / 264)

🌸 : فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰى تَغِيْبَ الشَّمْسُ یعنی عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے۔

📚(بخاری، 1 / 213، حدیث: 586)

🌸صدرُ الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃُ اللّٰهِ علیہ لکھتے ہیں: نمازِ عصر سے آفتاب زرد ہونے تک نفل منع ہے۔

📚(بہار شریعت، 1 / 456)

🌸ایک مقام پر فرماتے ہیں: عصر کے بعد نفل جائز نہیں۔

📚(بہار شریعت، 1 / 696)

💥 : اُمُّ المؤمنین حضرت ام سَلَمہ رضی اللّٰه عنھا سے روایت ہے: رسولُ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نمازِ عصر پڑھ کر میرے گھر تشریف لائے اور 2 رکعت نماز ادا فرمائی۔ میں نے عرض کیا: یا رسولَ اللّٰه! آج آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی ہے جو پہلے نہیں پڑھتے تھے۔ ارشاد فرمایا: خالد بن ولید (رضی اللّٰه عنہ) مالِ غنیمت لے کر آئے تھے، اس (کی تقسیم میں مصروفیت) کے سبب میں ظہر کے بعد کی 2 رکعت نہیں پڑھ سکا تھا، وہ 2 رکعتیں اب پڑھی ہیں۔ میں عرض گزار ہوئی: اگر ہم یہ 2 رکعتیں نہ پڑھ سکیں تو کیا ان کی قضا کریں؟ ارشاد فرمایا: نہیں۔

📚(مسند ابویعلیٰ، 6 / 123، حدیث: 6993
📚خصائص کبریٰ، 2 / 416)

🌺اے عاشقانِ رسول! سرکارِ دو عالَم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب کوئی نماز پڑھنا شروع کرتے تو پھر اس کی پابندی فرماتے تھے۔ نمازِ ظہر کے بعد کی یہ 2 سنتیں جو ایک مرتبہ کسی عُذْر کے سبب رہ گئی تھیں آپ نے نمازِ عصر کے بعد پڑھیں اور پھر اس کے بعد وصالِ ظاہری تک انہیں ادا فرماتے رہے۔

📚(مواهب لدنیہ، 3 / 228، زرقانی علی المواھب، 7 / 154)

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰه عنھا سے روایت ہے کہ اللّٰه کے حبیب صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نمازِ عصر کے بعد 2 رکعتیں پڑھنے کو ترک نہیں فرماتے تھے۔

📚(بخاری، 1 / 215، حدیث: 592)

🌸شارحِ بخاری مفتی شریفُ الحق امجدی رحمۃُ اللّٰهِ علیہ فرماتے ہیں: وہ جو حضورِ اقدس صلَّی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلَّم سے مروی ہے کہ بعدِ عصر دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے وہ حضورِ اقدس صلَّی تعالیٰ اللّٰه علیہ وسلَّم کے خصائص میں (سے) ہے۔

📚(نزہۃ القاری، 2 / 261)

💥(3) : سرکارِ دو عالَم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب چلتے تو آپ کے لئے زمین لپیٹ دی جاتی تھی۔

📚(شرف المصطفیٰ، 4 / 211)

🌸حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہ کا بیان ہے: میں نے رسولُ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زیادہ تیز رفتار کوئی شخص نہیں دیکھا، گویا آپ کے لئے زمین لپیٹ دی جاتی تھی۔ (سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ چلنے کے لئے) ہم اپنی جانوں کو مشقت میں ڈال دیتے تھے جبکہ آپ تکلف نہ فرماتے (اور اپنی معمول کی رفتار سے چلتے رہتے)۔

📚(ترمذی، 5 / 369، حدیث: 3668)

🌸مفتی احمد یار خان رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں: حضور (صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی رفتار کی تیزی راستہ طے ہونے کے لحاظ سے تھی نہ کہ سرکار کے چلنے کے لحاظ سے، حضورِ انور (صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نہایت وقار سے آہستہ چلتے تھے۔ رب فرماتا ہے:
(وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ)📖(پ 21، لقمٰن: 19)
📚ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور اپنے چلنے میں درمیانی چال سے چل

🌸مگر آپ (صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے آہستہ چلنے کے باوجود راستہ جلد اور بہت زیادہ طے ہوتا تھا۔

📚(مراٰۃ المناجیح، 8 / 61)

📖         #اہلِ_ایمان_کے_امتحان_کا_ایک_واقعہ 📖فرمانِ باری تعالیٰ ہے:قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ(۴) النَّارِ ذَاتِ الْ...
17/09/2021

📖

#اہلِ_ایمان_کے_امتحان_کا_ایک_واقعہ

📖فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ(۴) النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ(۵) اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ(۶) وَّهُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ(۷)

ترجمہ: کھائی والوں پر لعنت ہو۔ بھڑکتی آگ والے۔ جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ خود اس پر گواہ ہیں جو وہ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے۔

(پ30، البروج:4تا7)

💠زندگی میں مشکلات کا پیش آنا ایک حقیقت ہے، یہ بعض اوقات گناہوں کی سزا ہوتی ہیں اور کبھی ان کی معافی کا ذریعہ۔ یونہی کبھی صالحین کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہیں اور کبھی لوگوں کا امتحان۔ جن حضرات کے مرتبے جتنے بلند ہوتے ہیں ان کی آزمائش بھی اتنے ہی اونچے درجے کی ہوتی ہے، اسی لئے انبیاءِ کرام علیھمُ السَّلام جو خدا کے سب سے مقرب اور افضل بندے ہیں ان پر بھی آزمائشیں آئیں۔ حضرت نوح علیہ السَّلام کو قوم نے ستایا، حضرت ہود و صالح علیھما السَّلام کو تنگ کیا گیا، حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کو آگ میں ڈالا گیا، حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو ہجرت کرنا پڑی، حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کو سولی دینے کی کوشش کی گئی، بہت سے انبیاء علیھمُ السَّلام کو شہید کیا گیا اور ہمارے آقا صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی بیسیوں طریقوں سے ستایا گیا۔ یونہی اِن حضرات کے بعد مرتبہ رکھنے والی ہستیوں کو دیکھ لیں مثلاً اہلِ بیتِ کرام اور سیّدُنا امام حسین رضی اللّٰه عنھم اجمعین کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا: بھوکا پیاسا رکھنا، باپ کے سامنے بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں اور اہلِ محبت کو ظالمانہ شہید کرنا، مصطفیٰ کریم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مقدس کندھوں پر سواری کرنے والی بلند ہستی کو سفاکانہ انداز میں اہلِ خانہ کے ساتھ تیروں، نیزوں سے چھلنی کر کے شہید کرنا اور گردن کاٹنا الامان والحفیظ۔ یہ سب کیا ہے؟ راہِ خدا میں رضائے خدا کے لئے تکلیفیں اٹھانا ہے۔

💠اوپر ذکر کردہ آیت میں بھی راہِ خدا میں، ایمان کی محبت اور اس پر استقامت کے لئے آزمائشیں اٹھانے والے ایک پاک گروہ کا تذکرہ ہے۔ فرمایا کہ: خندقيں کھود کر ان میں آگ بھڑکا کر کنارے پر بیٹھے ان لوگوں پر لعنت ہو جو مسلمانوں کو آگ میں ڈال رہے تھے كيونكہ ان مسلمانوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور بادشاہ انہیں اسلام چھوڑنے اور کفر اختیار کرنے پر مجبور کررہا تھا۔

(مدارک التنزیل، ص 1335، 1336، البروج، تحت الآیۃ:4-7)

❇ یہاں کھائی والوں کا جو واقعہ ذکر کیا گیا اس کے بارے میں حضرت صہیب رومی رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا: اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں، آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا دوں۔ بادشاہ نے اس کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکا بھیج دیا، وہ لڑکا جس راستے سے گزر کر جادوگر کے پاس جاتا اس راستے میں ایک راہب (تارکِ دنیا، عبادت گزار) رہتا تھا، وہ لڑکا (روزانہ) اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سنتا اور اسے پسند آتیں……اسی دوران ایک مرتبہ ایک بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ بند کر دیا، لڑکے نے سوچا: آج میں آزماؤں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب؟ چنانچہ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا: اے اللّٰه! اگر تجھے راہب کا معاملہ جادوگر سے زیادہ پسند ہے تو اس پتھر سے جانور ہلاک کر دے تاکہ لوگ راستے سے گزر سکیں۔ چنانچہ جب لڑکے نے پتھر مارا تو وہ جانور اس پتھر سے مر گیا۔ لڑکے نے راہب کے پاس جا کر واقعہ سنایا تو راہب نے کہا: اے بیٹے! آج تم مجھ سے افضل ہو گئے ہو، تمہارا مرتبہ وہاں تک پہنچ گیا ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں۔ عنقریب تم مصیبت میں گرفتار ہو گے اور جب ایسا ہو تو کسی کو میرا پتا نہ دینا۔ (اس کے بعد اس لڑکے کی دعائیں قبول ہونے لگیں) اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض اچھے ہونے لگ گئے اور وہ تمام بیماریوں کا علاج کرنے لگا۔ بادشاہ کا ایک ساتھی نابینا ہو گیا تھا، اس نے جب یہ خبر سنی تو وہ اس لڑکے کے پاس بہت سے تحائف لے کر آیا اور اس سے کہا: اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو میں یہ سب چیزیں تمہیں دے دوں گا۔ لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفا تو اللّٰه تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللّٰه تعالیٰ پر ایمان لے آؤ تو میں اللّٰه تعالیٰ سے دعا کروں گا اور وہ تمہیں شفا عطا کر دے گا۔ وہ نابینا شخص ایمان لے آیا تو اللّٰه تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔ جب وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح اس کے پاس بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا: تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ہے؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا: کیا میرے سوا تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا: ہاں! میرا اور تمہارا رب اللّٰه تعالیٰ ہے۔ یہ سن کر بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک اس نے لڑکے کا پتا نہ بتا دیا۔ پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور بادشاہ نے اس سے کہا: اے بیٹے! تمہارا جادو اتنا ترقی کر گیا کہ تم پیدائشی اندھوں کو ٹھیک کر دیتے ہو، برص کے مریضوں کو تندرست کر دیتے ہو اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کرتے ہو۔ اس لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفا تو میرا اللّٰه تعالیٰ دیتا ہے۔ بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اَذِیَّتیں دے کر راہب کا پتا معلوم کر لیا۔ پھر راہب کو بلايا اور ايمان نہ چھوڑنے پر پہلے اسے اور پھر اپنے قریبی ساتھی کو سر کے درمیان آرا رکھ كر چیر کر دو ٹکڑے کر دیا، پھر لڑکے کو ایمان نہ چھوڑنے پر دو مرتبہ شہید کرنے کی کوشش کی، پہلے پہاڑ سے پھینکنے کی کوشش کی لیکن لڑکے کی دعا سے زلزلہ آیا اور بقیہ لوگ پہاڑ سے نیچے گر کر ہلاک ہو گئے ليكن لڑکا بچ گیا۔ دوسری مرتبہ اس لڑکے کو کشتی میں سوار کر کے سمندر میں پھینکنے کی کوشش کی لیکن پھر لڑکے کی دعا سے کشتی الٹ گئی اور اس لڑکے کے علاوہ سب لوگ غرق ہو گئے۔ وہ لڑکا پھر بادشاہ کے پاس چلا گیا اور بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکو گے جب تک میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کرو۔ بادشاہ نے وہ عمل پوچھا تو لڑکے نے کہا: تم ایک میدان میں سب لوگوں کو جمع کرو اور مجھے کھجور کے تنے پر سولی دو، پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر نکال کر بِسْمِ اللّٰهِ رب الْغُلَامِ (اللّٰه کے نام سے جو اِس لڑکے کا رب ہے) کہہ کر مجھے مارو، اگر تم نے ایسا کیا تو وہ تیر مجھے قتل کر دے گا۔ بادشاہ نے تمام لوگوں کو ایک میدان میں جمع كر کے ایسا ہی کیا اور لڑکا شہید ہو گیا لیکن یہ دیکھ کر تمام لوگوں نے ايمان قبول كرتے ہوئے تین مرتبہ کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ (بادشاہ کا سارا معاملہ الٹ گیا) اس نے گلیوں کے كناروں پر خندقیں کھدوا کر ان میں آگ جلوائی اور حکم دیا کہ جو اپنے دین سے نہ پھرے اسے آگ میں ڈال دو۔ (لیکن لوگ ایمان پر ڈٹے رہے حتی کہ) وہ آگ میں ڈالے جانے لگے یہاں تک کہ ایک عورت كی باری آئی جس کی گود میں بچہ تھا، وہ ذرا جھجکی تو بچے نے کہا: اے ماں! صبر کر اور جھجک نہیں، تو سچے دین پر ہے (اور وہ بچہ اور ماں بھی آگ میں ڈال دیئے گئے)۔

(تلخیص از مسلم، ص1224، حدیث:7511)

اور حضرت ربیع بن انس رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں کہ: جو مؤمن آگ میں ڈالے گئے اللّٰه تعالیٰ نے اُن کے آگ میں پڑنے سے پہلے ہی اُن کی رُوحیں قبض فرما کر انہیں نجات دی اور آگ نے خندق کے کناروں سے باہر نکل کر کنارے پر بیٹھے ہوئے کفار کو جلا دیا۔

(خازن، ج 4، ص366، البروج، تحت الآیۃ:5)

📚 #درس

(1)راهِ خدا میں تكالیف پر صبر كرنا ہمیشہ سے نیک لوگوں کا طریقہ رہا ہے۔

(2)نیک لوگوں کو ستانے والے خدا کے دشمن ہیں۔

(3)اولیاء کی کرامات برحق ہیں۔

(4)چھوٹی عمر کے لڑکوں کو بھی ولایت مل جاتی ہے۔

(5)بزرگوں کی صحبت کا فیضان عبادات کے فیضان سے زیادہ مؤثر ہے۔

(6)جس دین میں اولیاء موجود ہوں وہ دین حق ہے۔

Address

Canal Berg, Multan Road
Lahore
54000

Website

,+Lahore,+Pakistan/@31.4761663,74.2473208,241m/data=!3m

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Masjid Khatam un Nabiyeen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category