05/05/2026
شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب کی شہادت پر دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر
جامع مسجد دارالقرآن والترتیل اور مدرسہ دارالقرآن والترتیل کے زیرِ اہتمام شیخ الحدیث حضرت مولانا ادریس صاحب کی المناک شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سانحۂ ارتحال کو دینی و علمی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی اشاعتِ دین، تدریسِ حدیث اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
خطیب جامع مسجد دارالقرآن والترتیل مولانا احمد حذیفہ، مہتمم مدرسہ دارالقرآن والترتیل حافظ ضیاء اللہ، اور ناظم شعبہ ناظرہ حافظ حنظلہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب علم و عمل کا حسین امتزاج تھے۔ ان کی تدریسی خدمات، علمی گہرائی، اور طلبہ کی اخلاقی و فکری تربیت میں کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے باکمال اساتذہ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی جدائی ایک عہد کے خاتمے کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس اندوہناک واقعہ نے اہلِ علم کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ذمہ داران نے حکومتِ وقت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات عمل میں لائی جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔
آخر میں مرحوم کے لیے مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔