Islamic Novels

Islamic Novels promotion of Islamic novel

01/02/2025

اپنی زبان کی طاقت ان ماں باپ پر کبھی مت آزماؤ
جنہوں نے تمہیں بولنا سیکھایا ہے

08/06/2024

خطبہ حجۃ الوداع -
اسلام کے دعوتی اسلوب،نظریاتی افکار ،اخلاقی تعلیمات ،انسانی حقوق اور معاشرتی نظام کا جامع دستور العمل

خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کو23سال پورے ہونے کو تھے ، حج کامہینہ بالکل قریب آن پہنچا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے 23سالہ دور رسالت کی ہمہ جہت تعلیمات کا خلاصہ پیش فرمانا چاہ رہے تھے ،چنانچہ دین کی جامع ترین عبادت حج کا ارادہ کیا ،اطرافِ مکہ میں آپ کی آمد کی اطلاع پہنچی، تمام قبیلوں کے سردار اور نمائندگان اپنے اپنے قبائل کے افراد کے ہمراہ اس عظیم اجتماع میں جمع ہونا شروع ہو گئے ، مسلمانانِ عرب کے بڑے بڑے قافلے جوق در جوق مکۃ المکرمہ جانے لگے ۔

26 ذوالقعدہ 10 ہجری اتوار کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرماکر احرام کی چادر اور تہبند باندھا،نماز ظہر کی ادائیگی کے بعدمدینہ سے مکہ کی طرف سفر شروع فرمایا۔ ازواج مطہرات بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔

مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ذوالحلیفہ جو مدینہ منورہ کی میقات ہے وہاں پہنچ کر شب بھر قیام فرمایا۔ اس کے بعد دو نفل ادا فرمائے، احرام کی نیت فرمائی اور قصویٰ اونٹنی پر سوار ہوکر بلند آواز میں تلبیہ پڑھی
لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد و النعمۃ لک و الملک لا شریک لک لبیک:
’’اے اللہ ہم تیرے سامنے حاضر ہیں، اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں، ہم حاضر ہیں، تعریف اور نعمت سب تیری ہی ہے اور سلطنت میں تیرا کوئی شریک نہیں۔

‘‘
سفر جاری رہا ، مکہ مکرمہ کے قریب وادی فاطمہ میں پہنچ کر غسل فرمایا۔تقریباً آٹھ دن کا سفر طے کرنے کے بعد 4ذی الحج10ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوا لاکھ صحابہ کرام کی کثیر تعداد کے جلو میں مکۃ المکرمہ داخل ہوئے۔بیت اللہ پر نگاہ پڑی تو فرمایا ’’ اے اللہ اس گھر کی عزت و شرف کومزید دوبالافرما‘‘ پھر بیت اللہ کا طواف ادا کیا، پہلے تین چکروں میں رمل (خوب کندھا ہلاکر اور اکڑ کر چلنے کو کہتے ہیں) کے ساتھ اور باقی چار چکر عام چال سے پورے فرمائے۔
طواف سے فارغ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم پر تشریف لائے۔ اور یہ آیت تلاوت فرمائی : واتخذوا من مقام ابراہیم مصلیٰ۔ترجمہ: اور مقام ابراہیم کو سجدہ گاہ بناؤ‘‘
اس مقام پر دو نفل ادا کیے، پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری میں سورۃ اخلاص پڑھی۔ اس کے بعد صفا مروہ پر سعی کے لیے تشریف لے گئے۔ سات چکر ادا کرنے کے بعد اعلان فرمایا : جن کے پاس قربانی کے جانور ہیں وہ احرام نہ کھولیں اور باقی لوگ حجامت بنوا کراحرام کھول دیں۔
اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن سے قربانی کے اونٹ لانے کے لیے بھیجا تھا وہ ایک سو اونٹ اور یمن کے حجاج کا قافلہ لے کر تشریف لائے۔
جمعرات 8ذی الحجہ صبح سورج طلوع ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشریف لے گئے جہاں ظہر، عصر، مغرب ،عشاء اور نو ذی الحج کی فجر کی نماز ادا فرمائی۔
جمعہ کے دن 9 ذی الحجہ منیٰ سے عرفات کو روانہ ہوئے۔
نمرہ میں کمبل کا ایک خیمہ نصب کیا گیا وہاں قیام فرمایا، زوال کے وقت اونٹنی قصویٰ پر سوار ہوکر میدان عرفات میں تشریف لائے اور اونٹنی پر ہی خطبہ ارشاد فرمایا۔یہ خطبہ اسلام کے دعوتی اسلوب،نظریاتی افکار ،اخلاقی تعلیمات ، انسانی حقوق اور معاشرتی نظام کے جامع دستور العمل کی حیثیت رکھتاہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ارشاد فرمایا:’’لوگو! میری باتیں سنو! شاید اگلے سال مجھے اور تمہیں ایسی محفل میں اکٹھے ہونے کا موقع نہ ملے۔
میں آج کے دن مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو قیامت تک ایک دوسرے پر حرام کرتا ہوں۔ جس طرح تمہیں اس مہینے اور اس دن کا احترام ہے۔ اسی طرح تمہیں ایک دوسرے کے مال ، آبرو اور خون کا احترام کرنا چاہیے۔ کوئی چیز جو ایک بھائی کی جائز ملکیت میں ہے دوسرے پر حلال نہیں، جب تک کہ وہ خود اپنی خوشی سے اْسے نہ دے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کے دن احتساب کے بارے میں فرمایا:
’’یاد رکھو! ایک دن ہم سب کو مر کر خدائے تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔
جہاں ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ‘‘
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر اسلامی رسوم کے بارے میں فرمایا:
’’لوگو! یاد رکھو زمانہ جاہلیت کی ہر رسم میرے قدموں کے نیچے ہے میں اسے ختم کرتا ہوں۔ زمانہ جاہلیت کے قتل و خون کے جھگڑے آج تک ختم کردیئے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے میں خود ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کے خون سے دستبردار ہوتا ہوں۔
‘‘
اس خطبہ شریف میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلامی مساوات کا درس دیا:
’’سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ ہاں! صرف پرہیز گاری خدا کے نزدیک افضل ہے۔‘‘
کمزوروں کے حقوق کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’غلاموں اور عورتوں کے تم پر حقوق ہیں۔
ان حقوق کا خاص خیال رکھو۔ عورتوں کے ساتھ نرمی اختیار کرو اور مہربانی سے پیش آؤ۔ غلاموں کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور انہیں وہی لباس پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا:
’’ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے۔ بیٹا باپ کا اور باپ بیٹے کے جرم کا ہرگز ذمہ دار نہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اطاعت امیر کا حکم دیا:
’’اگر کوئی حبشی کان کٹا غلام بھی تمہارا امیر ہو اور تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔
‘‘
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’لوگو! نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا نہ نئی امت پیدا ہوگی۔ خوب سن لو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچوں وقت نماز پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، مال کی زکوٰۃ خوشی خوشی ادا کرو، خانہ کعبہ کا حج کرو اور اپنے حاکموں کے فرمانبردار رہو۔ اس کی جزا یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔
‘‘ ’’اور میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ باتیں غیر حاضر لوگوں تک پہنچادیں۔ ممکن ہے بعض سامعین کے مقابلے میں بعض غیر حاضر لوگ ان باتوں کو زیادہ اچھی طرح یاد رکھیں اور ان کی حفاظت کریں۔

’’اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے میراث میں سے ہر وارث کے لئے ثابت کردہ حصہ مقرر کیا ہے اور ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘ ’’بچہ اس کا جس کے بستر پر (نکاح میں )تولد ہوا اور بدکار کے لئے پتھر! جس نے اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے کو باپ قرار دیا تو ایسے شخص پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے لعنت ہے۔
اس کے لئے قیامت کے دن کوئی عوض یا بدلہ نہ رکھا جائے گا۔‘‘
اس خطبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار قابل احترام مہینوں کا بھی ذکر فرمایا یعنی ذی القعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امانت کی ادائیگی کا حکم دیا: ’’جس کے قبضے میں کوئی امانت ہے تو اسے اس کے مالک کو ادا کردے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کو حرام قرار دیا:
’’دور جاہلیت کا سود کالعدم کردیا گیا ہے البتہ تمہارے لئے اصل پر حق ہوگا۔
نہ تم کسی پر ظلم کر و نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ سب سے پہلے میں اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے سودی مطالبات کو کالعدم کرتا ہوں۔‘‘
خطبہ کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا:
’’کیا میں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا؟‘‘
سب نے بیک آواز جواب دیا آپ نے اپنا حق ادا کردیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور تین بار کہا: ’’اے خدا! تو گواہ رہنا، اے خدا! تم گواہ رہنا، اے خدا! تم گواہ رہنا۔
‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنی بلند آواز سے لوگوں تک پہنچارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوچکے تو جبرائیل امین اللہ عزوجل کی طرف سے یہ وحی لے کر نازل ہوئے:
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔
’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیا۔
‘‘حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی تو رونے لگے۔ اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے الوداع ہونے والے ہیں۔
مختصراً یہ کہ اس خطبہ میں اصلاح عقائد و اعمال ، اتفاق و اتحاد کا درس، جاہلانہ رسومات کی بیخ کنی ، سود کا خاتمہ، مکمل اور متوازن معاشی نظام کا تصور، صالح حاکم وقت کی اطاعت ، نسلی امتیاز، قومی ، علاقائی اور لسانی عصبیت اور رنگ و نسل کی برتری و کمتری کا خاتمہ فرمایا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطبہ امت کیلئے وصیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دنیا و وآخرت کی ساری کامیابیاں حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔
خطبہ سے فارغ ہوکر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا۔ پھر ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا فرمائی۔ پھر موقف میں تشریف لائے اور دیر تک قبلہ رو کھڑے ہوکر دعا میں مصروف رہے۔
جب سورج ڈوبنے لگا تو چلنے کی تیاری فرمائی۔ اسامہ بن زید کو اونٹ پر پیچھے بٹھالیا۔ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نماز ادا فرمائی۔ رات آرام فرمانے کے بعد صبح نماز پڑھ کر سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ واپس تشریف لائے اس وقت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اونٹنی پر پیچھے بیٹھے تھے۔ وادی محسر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ مجھے کنکریاں چن دیں۔
جمریٰ عقبیٰ کی رمی سے فارغ ہوکر میدان منیٰ تشریف لائے، سید نا بلال رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی مہارپکڑے ہوئے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی کی۔ 63اونٹوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے نحر(اونٹ کے ذبح کا مخصوص طریقہ)کیے جبکہ37 سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے۔ قربانی سے فارغ ہوکر معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سر مبارک منڈوایا۔
اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی ام سلیم کو اپنے دست مبارک سے کچھ بال عنایت فرمائے اور باقی ماندہ بال ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے تمام مسلمانوں میں ایک ایک دو دو کرکے تقسیم کردیے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کیا۔ چاہ زمزم پر تشریف لائے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ڈول میں پانی نکال کر پیش کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رو ہوکر نوش فرمایا اور منیٰ واپس تشریف لے جاکر نماز ظہر ادا فرمائی۔ 13ذی الحجہ تک منیٰ میں قیام فرمایا۔ زوال کے بعد منیٰ سے چل کر وادی محصب (معابدہ) میں قیام کیا۔ رات وہاں بسر فرمائی اور سحری کے وقت مکہ تشریف لائے۔ بیت اللہ شریف کا الوداعی طواف کیا اور نمازفجر کی ادائیگی کے بعد واپس مدینہ طیبہ کے لیے سفر شروع فرمایا

02/04/2024

کُچھ سال پہلے ترکی میں ایک بھیڑ (Sheep) نے نجانے کیوں پہاڑی سے چھلانگ لگا دی اور اس کی دیکھا دیکھی پندرہ سو مزید بھیڑوں نے چھلانگ لگائی اور چار سو پچاس بھیڑیں موت کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔۔ لاشوں کا ڈھیر اونچا ہونے کی وجہ سے باقی یا بچ گئیں یا زخمی ہوگئیں ۔۔ اسے کہتے ہیں ہرڈ سائیکالوجی ۔۔۔ یعنی ریوڑ کی نفسیات
Herd Psychology
اور عام زبان میں بھیڑ چال۔۔

ہرڈ تھیوری ۔۔ Herd theory کا مطلب کسی انفرادی عمل کا پورے گروپ یا گروہ کا فالو کرنا یا عمل کرنا بغیر کسی براہ راست ڈائرکشن کے ۔۔۔ یہ بات زیادہ تر جانوروں میں دیکھی جا سکتی ہے جیسے مچھلیوں کا ایک سمت تیرنا یا پرندوں کا اڑنا یا بھیڑوں کا چلنا ۔۔ مگر انسانوں میں بھی یہ عمل اس وقت بہت زیادہ دیکھا جاتا ہے جب سیاست یا مذہب کا معاملہ ہو کیونکہ اس میں مرکزی یا بنیادی ہدایات سے انحراف کر لیا جاتا ہے ۔۔

اور صرف ایک بھیڑ چال میں لوگ چلتے ہیں اور اپنے اور سماج کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں ۔۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہی مذہبی اور سیاسی بھیڑ چال کو ختم کرنا ہے ۔۔

02/11/2023
20/08/2023

سنا ہے وڈیرے اور جاگیردار جس لڑکی کو پسند کرتے ہیں حاصل کر لیتے ہیں اور جسے زیادہ عرصہ اپنے تسلط میں رکھنا چاہتے ہیں اس کی شادی اپنے کسی کمّی کمین سے کروا دیتے ہیں
یوں عورت کو نام کا شوہر بھی مل جاتا ہے، وڈیرے کا مفاد بھی پورا ہوتا رہتا ہے اور عورت کو بیوی کے
حقوق بھی نہیں دینا پڑتے

اب پتہ نہیں یہ وڈیروں نے بڑے ممالک سے سیکھا ہے یا بڑے ممالک نے وڈیروں سے
کرتے تو وہ بھی ایسا ہی کچھ ایسا ہی ہیں
جن ممالک پر وہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں یا جہاں کی زمین سے معدنیات حاصل کرنا چاہتے ہیں وہاں اپنی غلام (کمّی کمین) حکومت، بادشاہت
یا کمپنی یا پراپرٹی ڈیلرز مسلط کر دیتے ہیں
یوں اس ملک کے باسیوں کو اپنے شہریوں کے برابر حقوق بھی نہیں دینا پڑتے اور زمین کو بھی نوچتے رہتے ہیں جیسے کہ کسی مزارعے کی بیٹی کا جسم ہو کوئی..

#جڑانوالہ #پاکــــــــــــــــــستان

20/08/2023

بے خودی کیا چیز ہے
میں بابا کرم الٰہی المعروف کانواں والی سرکار کے مزار کے بالکل سامنے بیٹھا پچھلے ایک گھنٹے سے یہی سوچ رہا ہوں کہ جو جو لوگ اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ اس مادیت کے متوازی ایک نظام چل رہا ہے ، وہ کافی حد تک درست ہیں ۔
میں نا تو ان کے سلسلے سے بیعت ہوں اور نا ہی پیروں اور مروجہ خانقاہی نظام سے کوئی اتفاق یا ہمدردی رکھتا ہوں ۔ میرا نقطہِ نظر اس سب سے بہت مختلف ہے ۔ میرے سامنے بہت سارے گندم کے دانے گرائے گئے ہیں جو کہ یہاں آنے والا ہر زائر تھیلیاں بھر بھر کے لاتا ہے اور یہاں کوے اور باقی پرندے بہت زیادہ ہوتے ہیں تو ان کو یہ "چوگ" ڈالی جاتی ہے ۔
پتا ہے انسان کا نقطہِ نظر بدلنے میں کتنا وقت لگتا ہے ؟
میرے سامنے ایک جوان سُرخ گالوں والی دریائی عورت ان میں سے ایک دانہ اٹھانے کو جھکتی ہے تو کرم الٰہی صاحب مجھے اچانک جھنجھوڑ کے کہتے ہیں کہ نظر کو تیز کرو اور اس کے دل میں ایک دانے سے پیدا ہونے والی اولاد کی امید پہ دیکھو ، نخلِ امید ہرا ہوتا دیکھو، جسم کو اس امید کی جانب پلٹتا دیکھو ۔ یہ کرامت نہیں ، فطرت ہے ۔
جب نکتہِ نظر بدلتا ہے تو دنیا بدل جاتی ہے ۔
پتا ہے جب انسان قبول اور انکار کے درمیان ٹنگا ہوتا ہے تو یہی سرگوشی انسان کو پل صراط سے گزار کے اطمینان کی جنت میں داخل کر دیتی ہے ۔ باقی ان بابوں کے پاس کچھ نہیں ہے عوام الناس کیلئے ۔ ہاں جب جب جو جو انسان جس جس مقام پہ حاضر ہوتا ہے تو تب تب اس کیلئے اگلا دروازہ یہ بابے کھولتے جاتے ہیں ۔
جب میں نے پہلی بار دیکھا تو حیرت تھی ۔
دوسری بار دیکھا تو ایک جہدِ مسلسل کا پروانہ تھا ۔
اور جب تیسری بار دیکھا تو اطمینان تھا ۔
میں اب یہ دیکھ کر بھی نہیں روتا کہ رب کی جنت کیلئے دنیا دوزخ بنتی جا رہی ہے ۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ قوم کے شعور کی جراحت ہو رہی ہے اور سارا حیوان پن باہر آ رہا ہے ۔ میں تو یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ شفا کی جانب قدم اب بھاگ رہے ہیں ۔
خیر یہ اور بات تھی ۔
میرا سارا وجود اب کانپتا نہیں کیونکہ اب میں اس سے گزر آیا ہوں ۔ اور چیزیں جب وقوع پذیر ہوتی ہیں تو سرگوشیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ نظر حقیقت شناس ہونا بھی ایک اعجاز ہے لیکن یہ ایک آزمائش بھی ہے ۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر پردہ اٹھ جائے تو موسیٰ علیہ السلام کے چالیس درویشوں کی سی حالت ہو جائے ۔
لیکن جو نظام چلا رہا ہے وہ سب کچھ اس متوازی غیر مادی نظام کے ذریعے وقوع پذیر کروا رہا ہے ۔ توحید کا ایک مقام یہ بھی ہے ۔
ہوش والوں کو خبر کیا
بے خودی کیا چیز ہے
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزادبے خودی کیا چیز ہے
میں بابا کرم الٰہی المعروف کانواں والی سرکار کے مزار کے بالکل سامنے بیٹھا پچھلے ایک گھنٹے سے یہی سوچ رہا ہوں کہ جو جو لوگ اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ اس مادیت کے متوازی ایک نظام چل رہا ہے ، وہ کافی حد تک درست ہیں ۔
میں نا تو ان کے سلسلے سے بیعت ہوں اور نا ہی پیروں اور مروجہ خانقاہی نظام سے کوئی اتفاق یا ہمدردی رکھتا ہوں ۔ میرا نقطہِ نظر اس سب سے بہت مختلف ہے ۔ میرے سامنے بہت سارے گندم کے دانے گرائے گئے ہیں جو کہ یہاں آنے والا ہر زائر تھیلیاں بھر بھر کے لاتا ہے اور یہاں کوے اور باقی پرندے بہت زیادہ ہوتے ہیں تو ان کو یہ "چوگ" ڈالی جاتی ہے ۔
پتا ہے انسان کا نقطہِ نظر بدلنے میں کتنا وقت لگتا ہے ؟
میرے سامنے ایک جوان سُرخ گالوں والی دریائی عورت ان میں سے ایک دانہ اٹھانے کو جھکتی ہے تو کرم الٰہی صاحب مجھے اچانک جھنجھوڑ کے کہتے ہیں کہ نظر کو تیز کرو اور اس کے دل میں ایک دانے سے پیدا ہونے والی اولاد کی امید پہ دیکھو ، نخلِ امید ہرا ہوتا دیکھو، جسم کو اس امید کی جانب پلٹتا دیکھو ۔ یہ کرامت نہیں ، فطرت ہے ۔
جب نکتہِ نظر بدلتا ہے تو دنیا بدل جاتی ہے ۔
پتا ہے جب انسان قبول اور انکار کے درمیان ٹنگا ہوتا ہے تو یہی سرگوشی انسان کو پل صراط سے گزار کے اطمینان کی جنت میں داخل کر دیتی ہے ۔ باقی ان بابوں کے پاس کچھ نہیں ہے عوام الناس کیلئے ۔ ہاں جب جب جو جو انسان جس جس مقام پہ حاضر ہوتا ہے تو تب تب اس کیلئے اگلا دروازہ یہ بابے کھولتے جاتے ہیں ۔
جب میں نے پہلی بار دیکھا تو حیرت تھی ۔
دوسری بار دیکھا تو ایک جہدِ مسلسل کا پروانہ تھا ۔
اور جب تیسری بار دیکھا تو اطمینان تھا ۔
میں اب یہ دیکھ کر بھی نہیں روتا کہ رب کی جنت کیلئے دنیا دوزخ بنتی جا رہی ہے ۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ قوم کے شعور کی جراحت ہو رہی ہے اور سارا حیوان پن باہر آ رہا ہے ۔ میں تو یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ شفا کی جانب قدم اب بھاگ رہے ہیں ۔
خیر یہ اور بات تھی ۔
میرا سارا وجود اب کانپتا نہیں کیونکہ اب میں اس سے گزر آیا ہوں ۔ اور چیزیں جب وقوع پذیر ہوتی ہیں تو سرگوشیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ نظر حقیقت شناس ہونا بھی ایک اعجاز ہے لیکن یہ ایک آزمائش بھی ہے ۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر پردہ اٹھ جائے تو موسیٰ علیہ السلام کے چالیس درویشوں کی سی حالت ہو جائے ۔
لیکن جو نظام چلا رہا ہے وہ سب کچھ اس متوازی غیر مادی نظام کے ذریعے وقوع پذیر کروا رہا ہے ۔ توحید کا ایک مقام یہ بھی ہے ۔
ہوش والوں کو خبر کیا
بے خودی کیا چیز ہے
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

19/08/2023

جنرل ایوب نے مولانا مودودی سےپوچھا، "مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ اسلام کا سیاست سے کیا تعلق ھے؟"
‏مولانا نے فرمایا، "اور قوم کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ فوج کا سیاست سے کیا تعلق ھے؟"

12/08/2023

میں قدرت اللہ شہاب کے ساتھ مسجد الحرام کے صحن میں بیٹھا ھوا تھا کہ اچانک قدرت نے پوچھا: "یہ آپ کے ھاتھ میں کیا ھے؟"
"یہ کاپی ھے۔"
"یہ کیسی کاپی ھے؟"
"اِس میں دعائیں لکھی ھیں۔ میرے کئی ایک دوستوں نے کہا تھا کہ خانہؑ کعبہ میں ھمارے لئے دعا مانگنا،*میں نے وہ سب دعائیں اِس کاپی میں لکھ لی تھیں۔"
"دھیان کرنا!" وہ بولے "یہاں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ھو جاتی ھے۔"
"کیا مطلب؟" میری ھنسی نکل گئی۔ "کیا دعا قبول ھو جانے کا خطرہ ھے؟"
"ھاں، کہیں ایسا نہ ھو کہ دعا قبول ھو جائے۔"
میں نے حیرت سے قدرت کی طرف دیکھا۔
بولے "اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر ھیں۔ عرصہ دراز ھوا اُنہیں بخار ھو جاتا تھا۔ ڈاکٹر، حکیم، وید، ھومیو،سب کا علاج کر دیکھا، کچھ افاقہ نہ ھوا۔ سوکھ کر کانٹا ھو گئے۔ آخر چارپائی پر ڈال کے کسی درگاہ پر لے گئے۔ وھاں ایک مست سے کہا بابا دعا کر کہ اِنہیں بخار نہ چڑھے۔۔۔ انہیں آج تک پھر کبھی بخارنہیں چڑھا۔
اب چند سال سے ان کی گردن کے پٹّھے اکڑے ھوئے ھیں۔ وہ اپنی گردن اِدھر اُدھر ھلا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر کہتے ھیں کہ یہ مرض صرف اسی صورت میں دور ھو سکتا ھے کہ انہیں بخار چڑھے۔ انہیں دھڑا دھڑ بخارچڑھنےکی دوایاں کھلائی جا رھی ھیں، مگر انہیں بخار نہیں چڑھتا۔"
دعاؤں کی کاپی میرے ھاتھ سے چھوٹ کر گر پڑی۔ میں نے اللہ کے گھر کی طرف دیکھا۔ "میرے اللہ! کیا کسی نے تیرا بھید پایا ھے؟"

(ممتاز مفتی کی "لبّیک" سے اقتباس)

03/08/2023

‏اس دنیا میں سب سے بڑی خیر مثبت سوچ ہے اور دنیا کا سب سے بڑا شر منفی سوچ ہے یہی میری زندگی کی آخری دریافت ہے۔

مولانا وحیدالدین خان

29/07/2023

ترجیع اول ، شخصیت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور واقعہ کربلا۔۔۔۔۔۔

استاد محترم کی کتاب استفسارات سے اقتباس

واقعہ کربلا کے اسباب کیا تھے؟ زمینی اور آسمانی حقائق کی روشنی میں کیا گریز کی کوئی ایسی صورت نہیں تھی کہ تاریخِ اسلام کے اوراق اہل بیت کے خون سے سرخ ھونے سے بچ جاتے؟

میرا خیال یہ ھے کہ اس کی وہ "ویلیو" شاید زندہ نہیں ھو سکتی جس کو ھم سمجھتے ھیں زندہ ھونا چاھیۓ۔ بات یہ ھے کہ اللہ نے کہا کہ انسانوں پر چار پانچ قسم کی آزمائشیں آئیں گیں۔

وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَىۡءٍ۬ مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ وَٱلۡجُوعِ وَنَقۡصٍ۬ مِّنَ ٱلۡأَمۡوَٲلِ وَٱلۡأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٲتِ‌ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّـٰبِرِينَ (١٥٥) سُوۡرَةُ البَقَرَة
اور (دیکھو) ہم تمھارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف سے اور فاقہ سے اور مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے اور آپ ایسے صابرین کو بشارت سنادیجیے ۔ سورہ نمبر 2، البقرہ (آیت نمبر: 155)
خوف اور نقصان، بال بچوں کا نقصان، اموال کا نقصان اور عزت کا بحران، ھر آدمی پر یہ مراحل گزرتے ہیں اور اللہ تعالی کی طرف سے کچھ نہ کچھ آزمائش درپیش ھوتی ھے۔ مگر بِشَىۡءٍ۬ بہت تھوڑا تھوڑا، ان مصائب و آلام میں سے کچھ نہ کچھ ھم پہ ضرور گزرتا ھے۔ عام مشاہدہ ھے کہ ھم میں سے بیشتر لوگ ایک "سنگل" المیۓ پر حواس باختہ ھو جاتے ہیں۔ ذرا سا ضرر چۘھو جاۓ تو ان کی حالت غیر ھو تی ھے۔ محض کیفیات ذات کی آزمائش پہ اکثر لوگ بلبلا اٹھتے ہیں۔ حزن و ملال میں وہ اس قدر بے چارگی کے مظہر ھوتے ہیں کہ آہ و فغاں ان کا روز مرّہ کا معمول بن جاتا ھے۔ اس معاملے میں چھوٹے بڑے کی کوئی تحصیص نہیں، بلکہ ہمیں اگر کوئی مرحلہء آزمائیش درپیش ھو تو ھم دست بستہ دعا کر رھے ھوتے ہیں کہ وہ کسی بڑی تکمیل کو پہنچے بغیر واپس لوٹ جاۓ۔
بےشمار لوگ اپنے نفس کی وسعت کو ھی نہیں جانتے۔
وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَا‌ۖ (٦٢) سُوۡرَةُ المؤمنون
اور ہم (تو) کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کام نہیں کہتے۔ سورہ نمبر 23، المومنون (آیت نمبر: 62)
جب ذرا سی بھی صعوبت آلگے تو چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں، پھر کبھی لوگوں سے مدد کی التجا کرتے ہیں اور کبھی بزرگوں کی دعائیں لیتے نہیں تھکتے۔ ھر وقت ان کے اضطراب کا یہ عالم ھوتا ھے کہ گویا اس المئيے سے زندہ نہیں بچ کر گزریں گے۔ عصر حاضر کو ھم "ایج آف فئیرز اینڈ فرسٹریشن" کہتے ہیں۔ محض ایک ذرا سا خوف لگنے سے بندوں میں عجیب و غریب امراض پیدا ھو رھے ہیں، کسی کے گردے فیل ھو رھے ہیں تو کسی کو شوگر ھو رھی ھے، کسی کو ھائپر ٹینشن ھو رھی ھے تو کسی کا ذہن توجہ کے دائرے سے نکل جاتا ھے، اور کوئ "بیلنس" سے ھی نکل جاتا ھے۔ اس لحاظ سے اگر آپ شہادتِ حسینؓ کو دیکھو تو آپ کو اس کی عظمت کا صحیح اندازہ ھو گا۔ ایسا تو نہیں ھے کہ تاریخ انسان میں پہلے "ھیروز" گزرے ھی نہیں ہیں، جیسے ابھی 300 کی فلم چل رھی ھے، اسی طرح "ھومر" نے بہت بڑا ایک "ایپک" ڈرامہ لکھا ھے، "پویٹری" میں، غالباً اس کا نام "ھوراشو" تھا، جس نے ایک بہت بڑا لشکر روکے رکھا اور پھر اپنی جان بھی دے دی۔ ان تاریخی کرداروں میں ایک بہت بڑا ھیرو کارتھیج کا "ھنی بال" تھا جس نے بہت دیر تک "رومن امپائیر" کو خطرے میں ڈالے رکھا۔ مرنے پر آیا تو پھر اس نے خود کو رومیوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ تو تاریخ ایسے "سنگولر ایکٹ آف بریوری" سے بھری پڑی ھے جن کو ھم بہت بڑے ھیروز مان سکتے ہیں، مگر بنی نوع آدم کے تمام "ھیرویک کیریکٹرز" میں کربلا کے شہید کو ایک لحاظ سے فیصلہ کن برتری حاصل ھے۔

ایک بہت بڑا سوال جو ھمارے ذہن میں اٹھتا ھے کہ ایسے دورٍ ابتلاء میں اگر کسی کا بجہ ساتھ ھوتا یا اس کی بیوی ساتھ ھوتی تو کیا پھر بھی وہ اسی دلیری سے کام لیتا یا کسی مصلحت پر آمادہ ھو جاتا؟ "دا کوسچِن اِز دیٹ حسینؑ اِز م ویری ڈیفرینٹ" اگر ایک طرف ھمیں بہت خوفناک عنصر یہ نظر آتا ھے کہ ان کے عزیز و اقارب، ان کے دوست احباب سارے کے سارے ان کا ساتھ چھوڑ گئے تو دوسری طرف وہ سارے لوگ اپنے وعدوں سے منحرف ھو گئے جنہوں نے امامِ عالی مقامؓ سے پڑے اھم عہدوپیمان باندھ رکھے تھے۔ ادھر میدان کربلا میں جبر و استبداد کی نوعیت اتنی جان لیوا اور اتنی مکمل تھی کہ "ھِیؑ ھیڈ او وے آوٹ" واحد متبادل حل یہ تھا کہ حسینؓ کسی بھی وقت مصالحت کر سکتے تھے۔ مگر سوال یہ ھے کہ کیوں نہیں کی؟ یہ المیّہ ھمیں بھی درپیش ھے مگر ھم حسینؓ کی آزمائش سے نہیں گزر سکتے۔ اگر کوئ شخص انفرادی سطح پہ مجھے کہے کہ میری بات مانو ورنہ آپ کو سزا ملے گی، شاید انفرادی حیثیت میں برداشت کا حوصلہ رکھتے ھوۓ میں انکار کی جرأت کر لوں مگر جب پورے خاندان کی بقا اور سالمیت کا سوال ھو یا کسی ایسے خطرے کا احتمال ھو کہ آپ کے انفرادی عمل کا خمیازہ آپ کے لواحقین کو بھی بھگتنا پڑے گا تو مجھے یقین ھے کہ شاید میں یہ حوصلہ نہ رکھوں اور جانتے ھوئے بھی کہ سچ کیا ھے میں شاید باطل کا ساتھ دوں۔

حسینؓ کے زمانے مین بھی یہ المیّہ اپنے عروج پر پہنچا ھوا تھا۔ فی الحقیقت حسینؓ ایک علم کے وارث تھے، ایک "ٹریڈیشن" کے وارث تھے، ایک مثالی گھرانے کے فرد تھے، اللہ کے رسولۖ کے نواسے تھے اور نسل در نسل "فیملی ٹۘو فیملی" باپ سے، نانا سے، دادا سے اعتقاد کی ایک ایسی سطح ان تک پہنچتی تھی جو عام انسانوں کو نصیب نہیں ھے تو ان کے پاس کسی قسم کی کوئ گنجائش نہیں تھی کہ وہ اپنے مسلک سے بد عہدی کرتے ھوئے اپنے آباؤ اجداد کے انتہائ خوبصورت اور پختہ ترین شکل اعتقاد سے گریز کر سکیں۔ دوسری طرف دیکھنا یہ ھے کہ ان کے پاس گریز کی صورت کیا تھی؟ صرف ایک تھی اور وہ حضرتؓ نے باربار ان کے سامنے رکھی کہ اگر تم بیعت نہ لو تو میں اپنے ھر حق سے دست بردار ھونے کو تیار ھوں۔ مگر اُن کو بیعت پر اصرار تھا اور اِن کو صرف بیعت سے گریز تھا۔ اگر دیکھا جاۓ کہ آخر انہیں بیعت سے گریز کیوں تھا؟ اس سوال کا بھی بہت سادہ جواب ھے کہ یہ کوئ فرضی یا چھپی ھوئ حقیقت نہہں تھی کہ یزید فاسق و فاجر تھا، حتی' کہ یہ بات اُس کے کلام اور اُس کی عادات سے بھی ظاھر تھی، مروّجہ بی تھا (اُس کی بدکرداری کے دستاویزی ثبوت موجود تھے) اور عوام الناس کا بھی یہ ایمان تھا کہ یزید بحثیتِ امیر انتہائ فسق و فجور کا شکار ھے، بلکہ حافظِ شیراز نے جب اپنی غزل لکھی کہ:

؂ الآ يُا ایّھاُ الساقىِ ادر قاسم و نہ وِلھا
کہ عشق آساں نمۘودِ اوّل ولے ٱفتادِ مشکلا

اے ساقی شراب ڈال پیالوں میں۔۔۔۔۔ توحافظ کے بارے میں شاید یہ بات مشتبہ ھو کہ وہ شراب پیتا تھا یا نہیں پیتا تھا مگر اصل میں یہ یزید کا شعر تھا اور بادشاہ ھونے کی حیثیت میں نہ صرف شراب نوشی کا ایک اقرار تھا بلکہ اس کے زنا کا سارا اقرار بھی موجود تھا۔ یہ اقرارات فرضی بھی نہیں تھے "پریکٹیکل" تھے۔ اب ان اقرارات کے ساتھ حسینؓ کا بیعت سے انکار کرنا بڑا واضح تھا۔ یہ قرین از قیاس ھے کہ اگر یہ بات حسینؓ کے علم میں نہ ھوتی تو اسے "بینِیفٹ آف ڈاوٹ" دے دیتے۔۔۔۔۔۔ "چلو یارو اچھا ھی ھو گا، برا نہیں ھو گا۔۔۔۔۔۔ چلو میں اس کے ساتھ اتفاق کر لیتا ھوں" مگر چونکہ اس وقت یہ اتنا مصدقہ علم تھا کہ تمام لوگ بڑے چھوٹے ھر کوئ اس پر مکمل یقین رکھتا تھا۔ اس لیۓ

حسینؓ کو بھی اس کا پورا یقین تھا کہ یہ جو بادشاہِ وقت ھے ان تمام امراض کا شکار ھے تو وہ اس کی ریاست میں رھنے کو تیار تھے مگر بیعت کرنے سے اس لیۓ گریزاں تھے کہ ان کے لیۓ اپنی پوری روحانی، علمی، ذھنی شحصیت کو اس کے تابع کر دینا ناممکن تھا۔ اس لیۓ وہ بیعت نہیں کر سکتے تھے "دیئر واز نو رِیزن" اگر وہ بیعت کرتے تو پھر دنیا کا اصول جدا ھو جاتا۔ دنیا کا اصول یہی ھوتا کہ پھر جس طرح کوئ صاحبِ جبر یا قدر کہے آپ کو ھر قیمت پر اس کی متابعت کرنی چاھیۓ۔

مزید برآں جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ تاریخِ انسان میں یوں تو بہت ھیروز گزرے ھیں مگر بعض اوقات ھم ٹائم دیکھتے ھیں، زمان و مکاں دیکھتے ھیں کہ اگر ایک شخص پہ آج مصیبت آتی ھے پھر پانج سال بعد آتی ھے یا دس سال بعد آتی ھے تو اس کی تکلیف میں تخفیف کا پہلو نکل آتا ھے، اس کے صدمے کا "سپےین لائٹ" ھو جاتا ھے، ییچ میں کچھ وقفہ مل جاتا ھے، امن مل جاتا ھے تو بندہ یہ سوچ کر خود کو دلاسہ دے لیتا ھے کہ چلو تھوڑی سی مصیبت میں نے آج سہی ھے، کل پھر آسانی ھے، لیکن یہاں بھی حسینؓ کے معاملے میں صورتِ احوال بالکل مختلف نظر آتی ھے۔ آپرض پہ دس دنوں کے اندر ایک "ھیڈ" کی آزمائش نہیں آئ بلکہ بغیر کسی وقفے کے آپ کو بیک وقت سارے "ھیڈز" سے آزمایا گیا۔ وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَىۡءٍ۬ مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ خوف کی آئی، وَٱلۡجُوعِ بھوک پیاس کی آئی، وَٱلۡأَنفُسِ کیفیاتِ ذات کی آئ وَٱلثَّمَرَٲتِ بال بچوں کی آئ، تمام کی تمام آزمائشیں بڑے تھوڑے سے وقفے میں اکٹھی ھو گئیں۔ اگر آپ "سائنٹیفیکلی" دیکھو تو اُن کی "اِنٹینسِٹی" کتنی بڑھ جاتی ھے؟ میں سوچتا ھوی کہ کتنی زیادہ "اِنٹینسِٹی" ھو گئ ھو گی؟ ایک "اِنٹینسِٹی" اگر آپ دس پہ پھیلاتے ھو تو کرب و بلا کی کتنی "ھائیٹ" ھو جاتی ھے کہ تمام بلائيں جمع ھو کر دس دنوں میں ھو جائیں۔ جہاں تک "وے آوٹ" کی بات ھے تو دئیر اِز نو وے آوٹ" جو واحد "وے آوٹ" وہ حسینؓ مان نہیں سکتا اور نہ اس کا ایمان اسے اجازت دیتا ھے۔ مین اس سارے منظرنامے کو جبر و قدر کے ایک آفاقی پسِ منظر میں دیکھتا ھوں۔ میرا خیا ل ھے کہ اس وقت اگر حضرت حسین علیہ السلام زمین پر حالتِ جنگ میں تھے تو آسمان پر بھی شاید ایک "میکسیمیم بیٹل" ھو رھی تھی۔ جیسے شیطان نے اللہ سے کہا کہ مجھے ایوب علیہ السلام پر اثر دے، مجھے اس پر گرفت دے تو اللہ نے دے دی اور پھر حضرت ایوب کو بارہ سال تک کوڑھ برداشت کرنا پڑا مگر وہ آزمائش انفرادی نوعیت کی تھی، آٹھ یا بارہ سال انہوں نے جو اذیت سہی وہ شخصی تھی، ان کے اہل و عیال اور عزیز و اقارب اس سے مستثنی' تھے، اگرچہ ان کے چار تچے فوت ھو گۓ مگر قتل نہیں گیۓ اور پھر ان کی بیوی کو بھرپور خدمت کرنے کا موقع ملا۔ گویا اگرچہ شیطان کو
پوری قدرت دی گئ مگر وھاں ایک "سنگولر لوکل پرابلم" تھا۔

مگر حضرتِ امامؓ کے معاملے میں ایک فرد سے ھٹ کر ایک پورا مسلک خطرے میں پڑ گیا، جب شیطان نے اللہ سے اجازت مانگی (میرا خیال ھے) تو اللہ نے اسے دی ھو گی کہ حسینؓ میرا ایک مخلص کیا ھوا بندہ ھے، صاحبِ اخلاص ھے اس لیۓ اس کے پاۓ استقامت میں لغزش نہیں آسکتی یغنی ایک طرف پانچوں "ھیڈز" کی آزمائش بلند کی گئ اور اس کا پورے کا پورا اختیار شیطان کو دیا گیا تو دوسری طرف اللہ نے صبر کی ایک "اکمپلیشمنٹ" بتائ کہ میرا بندہ اتنا صبر والا ھے اور اتنے یقین والا ھے کہ اپنے سر پہ موجود تمام تر بوجھ کے باوجود اپنے یقین کو قائم کھے گا۔ تُو اس کے عزم اور ارادے کو جھکا نہیں سکے گا اور وہ ذھنی طور پر سلامت رھے گا۔ سب سے بڑی بات ھے ذھنی طور پر سلامت رھنا "اِیون اِن ھِز لاسٹ سپیچ" جو حضرت حسینؓ نے کی، حیران کن بات ھے کہ ان کے لہجے میں کوئ کمزوری نہیں، ان کے انداز میں کوئ "بیگِنگ" نہیں ھے۔ وہ ایک بڑے شاندار اور تناور مرد کی طرح کھڑا ھے جسے اپنا اللہ بالکل سامنے نظر آرھا ھے۔ کسی بندے کا تقدیر سے اتنا زیادہ راضی ھونا بہت مشکل امر ھے، کوئ گلہ نہیں، کوئ شکوہ نہیں اور وہ جانتے بوجھتے ھوۓ اپنی تقدیر کے انجام کو بڑی سلامتئ ذھن کے ساتھ جاتے ھیں۔ تو اس لحاظ سے میرا خیال یہ بے کہ حسینؓ منفرد ھے۔ " ھی ھیز آلویز آ چائیس" وہ کسی بھی مرحلے پہ بیعت کر سکتے تھے، ان کے پاس عذر بھی موجود تھا، جان کا، عزت کا، مال کا، بھوک پیاس کا۔ اس کے باوجود وہ اختیاراً ایک ایسی "ویلیو" کے ساتھ کھڑا تھا ایک ایسا ماڈل جو شاید دنیا میں نہ پہلے پیش آیا نہ بعد میں پیش آۓ گا۔

دئیرفور، وی کال ھِیم آ سِنگولر پرسن" جس میں اللہ تعالی' نے ایک "میکسیمم ھائٹ آف آ کیریکٹر" اور "پیشینس شو" کیا۔ آپ کہو کہ کیسے تھا؟ میرا خیال یہ ھے کہ وہ حق الیقین تک پہنچے ھوۓ شخص تھے جنہیں اپنا خدا بھی نظر آرھا تھا۔ غالباً جو چیز وہ (یزید کے لشکری) نہیں دیکھ رھے تھے وہ آپؓ کے مشاھدے میں تھی۔ حسینؓ کو شاید ملائکہ بھی نظر آرھے تھے اور اللہ بھی دکھائ دے رھا تھا۔ حتی' کہ جو آخری "ایکٹ" انہوں نے کیا وہ اتنا متحمل اور اتنا "سوبر ایکٹ" نظر آتا ھے کہ بجاۓ کسی بڑی "وَری" کے وہ اپنی دو رکعت کی نماز پوری کرنے کی "وَری" کر رھے تھے۔ "اینڈ دیٹ اِز سمتھنگ ویری ویری سپیشل" میرا نہیں خیال کہ اس سے بڑی مثال ھمیں تاریخِ عالم میں کسی اور اقدار کے ھیروز میں نظر آتی ھو۔

29/07/2023

حُر کے لشکرِ یزید سے نکل کر لشکرِ حسین میں شامل ہونے تک یہ جو رات ہے یہ بڑی کشمکش کی رات رہی ہو گی۔ اسی رات نے حُر کا مقدر بدل دیا۔ اسے ذِلتوں سے نکال کر حسینی بنا دیا اور تا قیامت امر کر دیا۔ حُر کا نام جب آئے گا، جہاں آئے گا احترام میں سر جھک جائیں گے۔ آج اس کا نام ضرب المثل بن چکا ہے۔ "مردِ حُر"۔

یہ وہی حُر تھا جس نے 2 محرم کو حسینی قافلے کو زبردستی کربلا میں روک لیا تھا اور قافلے کی ناکہ بندی کر دی تھی۔ حُر کی کمان میں تین ہزار نفوس پر مشتمل لشکر تھا۔ امام عالی مقام کے گھوڑے کی نکیل میں حُر نے ہاتھ ڈالا تو امام نے قدرے غصہ فرماتے ہوئے کہا " تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے، کیا تو بھول گیا کہ کس کے گھوڑے کو روک رہا ہے ؟ " ۔۔ حُر نے جواب دیا " آپ کی والدہ خاتونِ جنت ہیں، میں جواب میں آپ کو کچھ کہہ کر گستاخی نہیں کر سکتا۔ مجھے حکم ہے کہ جہاں آپ کو پا لوں وہیں روک لوں"

اور یہ وہی حُر ہے جو صبحِ عاشور فجر سے ذرا پہلے اپنے بیٹے کے ہمراہ امام کے پاس آیا اور بولا کہ میرے گناہوں کی کوئی معافی ہے ؟ ۔ یہ وہی ہے جو کربلا کا پہلا شہید ہے۔ اسی نے عرض کی تھی کہ آپ کو سب سے پہلے روکا بھی میں نے تھا اور اب سب سے پہلے جنگ کو بھی میں جاؤں گا۔

یہ جو نو اور دس محرم کی درمیانی رات ہے جسے تاریخ شبِ عاشور لکھتی ہے۔ یہ حُر کے لئے بہت بے چین رات رہی ہو گی۔ اس کی نگاہیں خیام گاہ حسینی پر ٹکی رہی ہوں گی۔ اسی شب امام عالی مقام نے اپنے اصحاب کو خیمے میں جمع کیا اور چراغ گُل کر کے مکمل اندھیرا کرتے ہوئے کہا " صبح موت یقینی ہے۔ میں تم سب سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں۔ اس اندھیرے میں جو جانا چاہے ابھی چلا جائے۔ سپاہ یزید کی دشمنی مجھ سے ہے۔ وہ میرے اور میری اولاد کے خون کے پیاسے ہیں۔ تم سب کو وہ بخوشی جانے دیں گے۔ دیکھو اگر تم کو میرے منہ پر رخصت ہوتے شرم آتی ہے تو میں نے چراغ بجھا دیئے ہیں۔ اور دیکھو، اگر تم اس وجہ سے برائے مروت رکے ہو کہ بروزِ محشر میرے نانا کو کیا منہ دکھاؤ گے تو میں حسین ابن علی تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری وفا کی گواہی میں دوں گا۔ میں اپنی رضا سے تم سب سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں"

جب خیمہ گاہ سے کوئی بھی رخصت نہ ہوا اور چراغ دوبارہ روشن ہو گئے تو شاید یہی وہ فیصلہ کن گھڑی رہی ہو جس نے حُر کی قسمت لکھ دی۔ اس نے اپنے بیٹے کو جب اپنا فیصلہ سنایا تو وہ اپنے باپ کے ہمراہ ہو لیا۔

حُر بننا آسان تھوڑی ہوتا ہے۔ اک طرف دنیا ، دولت، عیش و عشرت، تین ہزار نفوس پر مشتمل دستے کی سپہ سالاری۔ دوسری جانب نری موت، پکی موت، یقینی موت۔۔۔ فیصلہ تو حق و باطل کا تھا۔ اس نے کیا خوب فیصلہ لیا۔

چودہ صدیاں بیتیں ، حُر ایک کردار تھا، جیتا جاگتا کردار۔ جب موت یقینی ہو اور بالکل سامنے ہو تو کوئی نہیں مرتا صاحب ! حُر بننا آسان نہیں، بہت کٹھن ہے بہت کٹھن ۔۔۔ میرا سلام ہو حُر پر۔

ہم جیسے روزگارِ دنیا میں ڈھلے لوگ تو بس یہی شعر دل کی تشفی کو گنگنا سکتے ہیں

میرا حسین ابھی کربلا نہیں پہنچا
میں حُر ہوں اور لشکرِ یزید میں ہوں

تحریر : سید مہدی بخاری
Syed Mehdi Bukhari

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Novels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islamic Novels:

Share