My islamic dairy

My islamic dairy Please like my page

3️⃣.اعتراضکائنات بنانے سے پہلے خدا کیا کر رہا تھا؟🌾منطقی جواب🌾معترض کا اعتراض تین بنیادی مغالطوں پر مبنی ہے۔☘️پہلا مغالط...
26/12/2025

3️⃣.اعتراض
کائنات بنانے سے پہلے خدا کیا کر رہا تھا؟

🌾منطقی جواب🌾
معترض کا اعتراض تین بنیادی مغالطوں پر مبنی ہے۔

☘️پہلا مغالطہ☘️
معترض یہ سمجھتا ہے۔ کہ اللہ جو کچھ کرتا ہے، وہ سب ہمیں معلوم ہونا چاہیے۔ حالانکہ مسلمانوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم اللہ کے ہر فعل کا احاطہ کر سکتے ہیں۔ معترض یہ پوچھتا ہے کہ کائنات سے پہلے اللہ کیا کر رہا تھا؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس وقت اللہ کیا کر رہا ہے، کیونکہ اللہ کی ذات اور اس کے افعال انسانی عقل کی حد سے ماورا ہیں۔

🥀دوسرا مغالطہ🥀
اسی طرح معترض نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اللہ کو بھی انسان کی طرح کسی کام میں مشغول رہنا ضروری ہے۔ حالانکہ یہ مفروضہ غلط ہے۔ انسان زندہ رہنے کے لیے عمل پر مجبور ہے، مگر اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، اس کے لیے کسی کام میں مصروف ہونا ضروری نہیں۔

🌴تیسرا مغالطہ🌴
اسی طرح معترض نے یہ فرض کر لیا ہے کہ کائنات سے پہلے بھی کوئی وقت تھا۔ حالانکہ وقت اور مکان خود اللہ کی مخلوق ہیں۔ کائنات سے پہلے وقت نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔ جب وقت ہی موجود نہ ہو تو یہ سوال کہ اللہ اُس وقت کیا کر رہا تھا؟ بے معنی ہے۔ اللہ ہمیشہ سے اپنی ذات میں موجود ہے، اور اس کا وجود کسی زمان و مکان کا محتاج نہیں۔

🍀مثالی جواب🍀
یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ سورج نکلنے سے پہلے روشنی کہاں تھی؟۔ سوال غلط ہے، کیونکہ روشنی خود سورج کے نکلنے کے ساتھ وجود میں آتی ہے۔
اسی طرح کائنات سے پہلے اللہ کیا کر رہا تھا؟ سوال ہی بے بنیاد ہے، کیونکہ زمان و مکان کا آغاز ہی کائنات کی تخلیق سے ہوا ہے۔ فافہم

مزید جوابات دیکھنے کے لیے کتاب البراہین فی دفع شبھات الملحدین سے رجوع کریں۔
✍️

30/03/2025

حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے 28 قسم کی مخلوقات آباد تھیں۔

سب سے حسین مخلوق کون سی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں سیدنا آدم علیہ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے زمین پر اٹھائیس قسم کی مخلوقات آباد تھیں۔

مختلف زمانوں میں کئی کئی ہزار سال عجیب و غریب مخلوقات یہاں آباد رہی ہیں.

جنات کے بارے تو سبھی جانتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے پہلے یہ آباد تھے پھر انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا جنہوں نے جنات کو قتل کیا اور زمین سے نکال کر جزیروں میں بھیج دیا.

مگر جنات سے پہلے ستائیس مخلوقات اور آباد تھیں!
ان میں سے بِن پھر خِن پھر مِن دنیا میں آباد رہے .

علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا کہ بِن و خِن زمین میں رہتے تھے وہ سرکش ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے جن بھیجے جنہوں نے بِن و خِن کو زمین سے نکال دیا۔

(یہاں یہ یاد رکھیں کہ ان سب کو قتل نہیں کیا بلکہ زمین کی حدود سے نکال دیا ممکن ہے وہ کسی اور زمین کسی اور سیارے پر آباد ہو چکے ہوں اور وہی خلائی مخلوق ہوں).
پھر جنات نے سرکشی کی تو فرشتوں نے ان کو قتل کیا اور جس کے لیئے زمین کی تخلیق کی گئی یعنی حضرت انسان وہ پیدا کیا گیا!
علامہ مسعودی نے لکھا کہ انسان سے پہلے 28 قسم کی مخلوقات زمین پر آباد تھیں.
اور علامہ شہاب الدین الاشبیہی نے بھی المستطرف میں لکھا کہ 28 قسم کی مخلوقات آباد تھیں!
اور ان میں سے کچھ
(1) پروں والی مخلوق تھی جن کی زبان بجنے جیسی تھی!
(2) کچھ کے دو جسم ایک سر تھا ایک جسم شیر سا اور ایک پرندے سا اور ان بال اور ناخن ہوتے
(3) کچھ کے دو سر ایک آگے کی جناب اور دوسرا پیچھے کی جانب ہوتا تھا
(4) کچھ نصف انسان جیسے تھے اور انکی کئی ٹانگیں تھیں
(5) کچھ کا منہ انسان سا اور پیٹھ کچھوے جیسی اور سر میں سینگ ہوتے تھے
(6) کچھ کے سفید بال اور گائے جیسی دم ہوتی تھی
(7) کچھ کے ناخن خنجروں کی طرح اور لمبے لمبے کان ہوا کرتے تھے.
علامہ مسعودی نے ایک جگہ لکھا کہ آدم علیہ السلام سے پہلے 120 مخلوقات آباد تھیں .
اصل میں 28 ہی تھیں باہم شادی کی وجہ سے وہ مزید الگ الگ ہوتے گئے اور یوں 120 عجیب و غریب مخلوقات بن گئیں.
اور سب سے آخر میں حضرت انسان کو پیدا کیا گیا جو سب مخلوقات میں حسین و جمیل ہے .
اللہ رب العزت نے فرمایا
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم
ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا.
اور حدیث پاک میں ہے کہ
ان اللہ خلق آدم علی صورتہ
اللہ رب العزت نے آدم علیہ السلام کو اپنی پسندیدہ ترین صورت پر پیدا کیا.
سابقہ مخلوقات میں سے کچھ کے نشانات ملتے رہتے ہیں جن کو سائنس دان ڈائنوسار وغیرہ قرار دیتے ہیں.
اور کچھ سمندروں جزیروں میں چھپے ہوئے ہیں .
الجزائر میں موجود بہت بڑے پہاڑی سلسلے کی غاروں میں مذکورہ کچھ مخلوقات کی ان کے زمانے کی تصاویر ہیں جو دریافت ہوئی ہیں.
اس سے پ کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں.
بعض کے نزدیک یاجوج و ماجوج انہی سابقہ مخلوقات میں سے ہیں جو اب تک سکندر اعظم (حضرت ذوالقرنین) کی بنائی دیوار کے پیچھے بند ہیں!
اور بعض احادیث میں دو عظیم شہروں کا ذکر ہے جو اس دنیا سے بھی بڑے ہیں ایک مشرق میں ایک مغرب میں وہاں بھی مخلوق آباد ہے .
زیر نظر تصاویر الجزائر کے غاروں کی ہیں ماہرین کے مطابق یہ بِن،خِن اور مِن کی بنائی تصاویر ہو سکتی ہیں۔




15/12/2024

قرآن وسنت کے مطابق عقیدہ شفاعت

احادیث کے مطابق قیامت کے دن انبیا، صالحین بلکہ بعض اعمال صالحہ بھی شفاعت کریں گے مگر یہ جاننا ضروری ہے کہ قیامت میں یہ شفاعت کس اصول پر ہو گی اور کن کے لیے ہو گی۔ شفاعت کے بارے میں یہ بات اصولی طور پر جان لینی چاہیے کہ اس کی حیثیت دعا، التجا اور درخواست کی ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بیان ہوا ہے:

’’کون ہے جو اس کی بارگاہ میں بغیر اس کی اجازت کے کسی کی سفارش کر سکے۔‘‘ ﴿البقرة 255:2﴾
’’اور وہ نہیں سفارش کر سکیں گے مگر صرف اس کے لیے، جس کے لیے اُس کی رضا ہو۔‘‘ ﴿الانبیا 28:21﴾
’’﴿اُس روز﴾ ظالموں کا کوئی دوست نہ ہو گا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے۔‘‘ ﴿المومن 18:40﴾

یعنی کوئی خود آگے بڑھ کر سفارش نہ کر سکے گا اور نہ ایسا ہے کہ خدا ان کی ناز برداری میں لازماً ان کی سفارش قبول فرمائے گا اور نہ کسی کا زور اثر کام آئے گا۔ شفاعت قرآن کے بیان کردہ قانون کے مطابق اللہ کی مرضی اور رضا مندی سے ہو گی۔ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق نہیں بنا سکے گی۔ یہ دراصل شفاعت کرنے والوں کی عظمت و مقبولیت کے اظہار کے لیے اور ان کے اعزاز کے لیے ہو گی، ورنہ حق تعالیٰ کے کاموں اور اس کے فیصلوں میں دخل دینے کی کسے مجال ہے۔
اور یہ اُن لوگوں کے بارے میں ہو گی جنھوں نے ایمان کے ساتھ عمل صالح کو مقصد بنا کر تمام عمر گزاری ہو گی۔ لیکن پھر بھی بعض کمزوریوں اور گناہوں کے باعث وہ جنت کے مطلوب معیار سے کچھ کم رہ گئے ہوں گے۔ انبیا علیہم السلام، صدیقین، شہدا اور صالحین کی شفاعت سے امید ہے کہ یہ جنت کے مستحق قرار پائیں گے۔ وَاللہ علم!

شفاعت سے محروم لوگوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت عمدگی سے احادیث میں بیان فرمایا ہے:
’’کچھ لوگ ﴿روز قیامت﴾ میرے پاس آئیں گے میں انھیں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے لیکن انھیں میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ میرے امتی ہیں ﴿انھیں مجھ تک آنے دو﴾ تو جواب میں مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کی وفات کے بعد آپ کے دین میں کتنی بدعتیں داخل کر دی تھیں تو میں کہوں گا دوری ہو، دوری ہو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے میرے بعد دین کے نقشہ کو بدل ڈالا۔‘‘ ﴿متفق علیہ﴾

رہے وہ اہلِ ایمان جن کے اعمال صالحہ کا ذخیرہ اس سے بھی کم ہو گا وہ جہنم میں نامعلوم کتنی مدت عذاب سہہ کر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔ وہ جہنم جس میں ایک لمحہ دنیا کی تمام عیش بھلا دینے کے لیے کافی ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد، حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور حضرت آسیہ کا شوہر قرآنِ مجید کے مطابق جہنمی ہیں۔ باپ بیٹے اور میاں بیوی کے رشتے سب سے زیادہ محبوب رشتے ہیں اور پیغمبروں سے زیادہ خدا کا کوئی نہیں ہو سکتا لیکن جن کے پاس ایمان و نیکی کا توشتہ موجود نہیں تھا وہ ان رشتوں سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے تو دوسروں کو کیا نسبت۔

23/11/2024

⭐. حضرت خضر علیہ السلام: علم و حکمت کا بحرِ بیکراں 🌊✨

مقدمہ
حضرت خضر علیہ السلام کا ذکر قرآنِ پاک میں ایک منفرد اور پرکشش انداز میں کیا گیا ہے۔ وہ ایک ایسے بندے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت اور علم عطا کیا۔ ان کی شخصیت، علمِ لدنی، اور ان کے حکمت پر مبنی اعمال مسلمانوں کے لیے ایک گہری بصیرت کا ذریعہ ہیں۔ ان کا ذکر خصوصاً سورة الکہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک حیرت انگیز ملاقات کے حوالے سے ملتا ہے۔
---

⭐. قرآن کریم میں حضرت خضر علیہ السلام کا ذکر

قرآن میں حضرت خضر علیہ السلام کا ذکر سورة الکہف (آیات 60-82) میں تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> "وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّىٰ أَبْلُغَ مَجْمَعَ ٱلْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِىَ حُقُبًا"
(سورة الکہف، 60)
"اور جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا: میں باز نہیں آؤں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم تک پہنچ جاؤں یا طویل عرصہ سفر کرتا رہوں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ زمین پر سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے؟ جواب ملا کہ خضر علیہ السلام کو خاص علم عطا کیا گیا ہے۔ اللہ کے حکم پر موسیٰ علیہ السلام نے خضر علیہ السلام سے ملاقات کا عزم کیا تاکہ وہ ان کے علم سے استفادہ کر سکیں۔
---

⭐. حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کا قصہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کے دوران صبر اور حکمت کے عظیم سبق ملے۔ خضر علیہ السلام نے تین ایسے اعمال کیے جنہیں موسیٰ علیہ السلام فوری طور پر سمجھ نہ سکے:
1️⃣ کشتی کا سوراخ کرنا: تاکہ ظالم بادشاہ اسے چھین نہ لے۔
2️⃣ بچے کو قتل کرنا: کیونکہ وہ اپنے والدین کے لیے بڑی آزمائش بننے والا تھا۔
3️⃣ دیوار کی مرمت کرنا: تاکہ یتیموں کا خزانہ محفوظ رہے۔

ان تمام واقعات میں حضرت خضر علیہ السلام نے یہ ظاہر کیا کہ ہر عمل کی ظاہری شکل کے پیچھے اللہ کی حکمت چھپی ہوتی ہے۔

---

⭐. حضرت خضر علیہ السلام اور علمِ لدنی

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> "فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا"
(سورة الکہف، 65)
"پھر دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی طرف سے رحمت عطا کی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم دیا تھا۔"

حضرت خضر علیہ السلام کا یہ علم براہِ راست اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا تھا، جسے "علمِ لدنی" کہا جاتا ہے۔ یہ علم انہیں زمین پر ہونے والے معاملات کے پیچھے چھپی حکمت کو سمجھنے کی صلاحیت دیتا تھا
---

🌟. احادیث میں حضرت خضر علیہ السلام کا ذکر

حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں متعدد احادیث بھی موجود ہیں:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں اور سمندروں کے کنارے اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔"
(روایت: ابن عساکر)

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کے اعمال صبر اور ایمان کی بلندی کی نشانی ہیں، اور وہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔
---

🌟. حضرت خضر علیہ السلام اور حکمت کے راز

حضرت خضر علیہ السلام کے واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اللہ کی حکمت ہمیشہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہوتی ہے۔ ان کا کردار ہمیں اللہ پر مکمل بھروسہ اور اپنی عقل پر انحصار کم کرنے کا درس دیتا ہے۔
---

🌟. قرآن و سنت کی روشنی میں اہم پیغام

حضرت خضر علیہ السلام کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں ظاہری مشکلات اور آزمائشوں کے پیچھے اللہ کی حکمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ہر واقعہ ہماری محدود عقل سے زیادہ اللہ کی لامحدود حکمت پر روشنی ڈالتا ہے۔

⭐⭐عنوان: صبر اور شکر کی عظیم مثال⭐⭐

تحریر: حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائشوں کی متاثر کن کہانی

"دل تھام کر بیٹھیں، کیونکہ اگلی تحریر میں ہم آپ کو صبر اور یقین کی اعلیٰ ترین مثال، حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی کی کہانی سنائیں گے۔ یہ ایسی داستان ہے جو ہمیں آزمائشوں کے سامنے ہمت اور اللہ پر ایمان کی اہمیت سکھاتی ہے!"👍👍👍👍👍👍👍👍

🌀. ہیش ٹیگز:


15/06/2024

حضرت عمر بن خطابؓ خلافت سنبھالنے کے بعد بیت المال میں آئے تو لوگوں سے پوچھا کہ :
" حضرت ابوبکر ؓ کیا، کیا کیا کرتے تھے، تو لوگوں نے بتایا کہ :
" وہ نماز سے فارغ ہو کر کھانے کا تھوڑا سا سامان لے کر ایک طرف کو نکل جایا کرتے تھے ...۔"

آپ نے پوچھا کہ کہاں جاتے تھے :
...

آپؓ نے کھانے کا سامان لیا اور اس طرف کو نکل گے لوگوں سے پوچھتے ہوئے کہ :
" حضرت ابوبکر ؓ کس جگہ جاتے تھے پتا چلتے چلتے ایک جھونپڑی تک پہنچ گئے وہاں جا کر دیکھا کہ ایک ضعیف شخصیت دونوں آنکھوں سے آندھی ہے اور اسکے منہ پر پھالکے بنے ہوئے ہیں اس نے جب کسی کے آنے کی آواز سنی تو بڑے غصے میں فرمایا کہ پچھلے تین دن سے کہاں چلے گئے تھے تم ...؟ "

آپؓ خاموش رہے اور اس کو کھانا کھلانا شروع کیا تو اس نے غصے سے کہا کہ :
" کیا بات ہے ایک تو تین دن بعد آئے ہو اور کھانا کھلانے کا طریقہ بھی بھول گئے ہو ...؟ "

آپؓ نے جب یہ سنا تو رونے لگے اور اسے بتایا کہ :
" میں عمرؓ ہوں اور وہ جو آپ کو کھانا کھلاتے تھے، وہ مسلمانوں کے خلیفہ ابوبکر ؓ تھے، اور وہ وفات پا چکے ہیں ..."

جب اس ضعیف شخصیت نے یہ بات سنی تو کھڑا ہو گئے اور کہا کہ :
" اے عمر ؓ مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کر دیں۔ پچھلے دو سال سے وہ آدمی روز میرے پاس آتا اور کھانا کھلاتا رہا ایک دن بھی اس نے مجھے نہیں بتایا کہ میں کون ہوں ... "

میرے پیارو! ایسے اچھے اخلاق والے تھے وہ ابوبکر ؓ ۔اور ایسے ہی اچھے اخلاق کا درس دیتا ہے ہمیں ہمارا یہ دین اسلام ۔ دعا ہے اللہ مجھ بےعمل فرحان سمیت ہم سب مسلمانانِ عالم کو اچھے اخلاق پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے ..

دوستوں چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ...

منقول

صحیح بخاری کی صحیح احادیث کی تقلیدتقلید کا قانون تو اہلسنت علماء کرام حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی نے دولت عثمانیہ کے دور م...
28/08/2023

صحیح بخاری کی صحیح احادیث کی تقلید

تقلید کا قانون تو اہلسنت علماء کرام حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی نے دولت عثمانیہ کے دور میں متفقہ طور پر منظور کیا لیکن قرآن و سنت کا دعوی کے ساتھ ساتھ صحیح بخاری یا صحیح احادیث پر عمل کرنے والے اہلحدیث، توحیدی، محمدی، غیر مقلد، دیوبندی حنفی، مرزا انجینئر، غامدی، ڈاکٹر اسرار، سید مودودی کے ماننے والے بتا سکتے ہیں کہ:

صحیح بخاری کی صحیح احادیث کی تقلید کو اتباع رسول کا درجہ کس نے دیا اور کسطرح ان صحیح احادیث پر عمل کرنے کا حُکم ہے کیونکہ مندرجہ بالا ہر ایک نمبر یا دو نمبر عالم صحیح احادیث کی شرح اپنی مرضی سے کر رہا ہے؟

البتہ سعودی عرب کے وجود میں آنے اور دولت عثمانیہ کے ختم ہونے کے بعد تقلید کا قانون اگر غیر موثر ہے تو سعودی عرب کے وہابی علماء کے ساتھ ملکر اہلحدیث، سلفی، توحیدی، محمدی، دیوبندی حنفی، غیر مقلد وغیرہ ایک قانون، ایک عقائد، ایک نماز کا طریقہ، ایک اصول، ایک جماعت کا نام رکھ کر اکٹھے کیوں نہیں ہوتے تاکہ پاکستان میں فرقہ واریت ختم ہو۔

فرق بتاؤ فرق مٹاؤ مسلمان بناؤ۔

28/08/2023

حضرت داؤدؑ کی قوم بندر کیوں بنی؟

پیارے دوستو! حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم کے 70 ہزار افراد سمندر کنارے ایلہ نامی بستی میں رہا کرتے تھے۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہزاروں نعمتوں سے نوازا تھا۔ لیکن جب راحت و سکون آیا۔ تو وہ اللہ کی عبادت سے محروم ہو گئے۔ اللہ کی مخلوقات پر ظلم کرنے لگے۔ تو یوں اللہ نے ان کو خبردار کیا۔ کہ ہفتے میں ایک دن ہفتہ کے دن شکار نہ کیا کرو۔ باقی اتوار سے لیکر جمعہ تک جتنا شکار پکڑنا ہے پکڑ لو۔

لیکن ایک دن اللہ کی عبادت اور مخلوقات پے امن کے لئے رکھ دو یوں اللہ نے ان کا امتحان لینا شروع کر دیا۔ وہ اتوار سے لے کر جمعہ تک سمندر میں مچھلیاں پکڑنے لگتے تو مچھلیاں زیادہ مقدار میں ہاتھ میں نہ آتیں۔ وہ ہفتے کے دن سمندر کو دیکھتے تو انہیں بڑی بڑی مچھلیاں سمندر میں نظر آنے لگتیں۔ ان لوگوں میں سے ایک شخص کو شیطان نے ورغلایا کے پریشان کیوں ہوتے ہو میری ترکیب پرعمل کرو۔ تم شکار سے کبھی محروم نہیں رہو گے۔

تو بس شیطان کے کہنے پر اس شخص نے ہفتے کے دن کانٹا لگا کر ڈوری کو سمندر میں ڈال دیا۔ شیطان نے کہا اس مچھلی کو تم اتوار کے دن نکالنا یوں ہفتے کی حرمت بھی باقی رہے گی اور تمہارا شکار بھی ہو جائے گا۔ بس شیطان کی بتائی ہوئی ترکیب پے ہفتے کے دن مچھلی پھنسی رہتی وہ اتوار کے دن نکالتا اور خوشی سے کھاتا۔ جب آس پاس کے لوگوں نے پوچھا تو وہ ان کو بھی یہ ترکیب بتانے لگا۔ یوں اس قوم کے کچھ لوگ ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے کے لئے جان پھینکتے اور اتوار کو نکال لیتے۔ کچھ نے سمندر میں چھوٹی چھوٹی نالیاں بنا کر تالاب بنا لئے۔ تاکہ ہفتے کے دن مچھلیاں یہاں سے گزریں تو اس تالاب میں پھنس جائیں تاکہ ہم اتوار کے دن مچھلی نکال کر پکا کر کھا سکیں۔

اس گاؤں میں اللہ کے کچھ خاص بندے بھی موجود تھے۔ وہ کہنے لگے اے لوگو! اللہ نے ہفتے کے دن شکار کرنے سے منع کیا ہے۔ یہ جو تم جال پھینکتے ہو یا چھوٹے تالاب بنائے ہیں ان میں اگر ہفتے کے دن مچھلی پھنستی ہے تو وہ شکار ہفتے کے دن کا ہوگا۔ تم لوگ اللہ کے عذاب سے ڈرو اللہ کی نافرمانی نہ کرو۔ وہ لوگ ان لوگوں کا مذاق اڑانے لگے کہ ہماری جو مرضی ہوگی وہ کریں گے۔ اس بستی میں تین گروہ بن گئے۔ ان ستر ہزار میں ایک گروہ وہ تھا جو نافرمان لوگوں کی بار بار اصلاح کرتا تھا۔ دوسرے وہ جو ان سے نفرت کرتے تھے اور خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ تیسرے وہ جو گمراہ ہو کر اللہ تعالی کی نافرمانی کر رہے تھے۔

یوں نیک لوگوں نے بستی کے بیچ ایک دیوار کو کھڑا کر دیا۔ یہ حکم نافذ کیا کہ اللہ کی نافرمانی کرنے والے اس طرف ہو جائیں۔ ہم جو اللہ تعالی کے فرمانبردار ہیں دوسری طرف رہیں گے۔ وہ صالح لوگ بار بار ان لوگوں سے کہتے رہے۔ اے لوگو! اللہ سے ڈرو قوم ثمود تو میں لوٹ کا جو حشر ہوا اس کو یاد کرو۔ اللہ کی نافرمانی نا کرو ورنہ تم پر بھی کوئی عذاب آ جائے گا۔ وہ سارے نافرمان جن کی تعداد تقریباً 12 ہزار تھی سمجھتے رہے ہے اور کہنے لگے کہ یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔

بس جیسے ہی وہ قوم دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک وہ جو اللہ کے نیک بندے دیوار کے اس طرف تھے۔ دوسرے وہ جو نافرمان بندے تھے دیوار کے اس طرف تھے۔ وہ نافرمان پوری رات ہنستے رہے مذاق اڑاتے رہے۔ اور دوسری طرف اللہ کے نیک بندے اللہ سے مانگنے لگے۔ بس جیسے ہی صبح ہوئی اللہ کے نیک صالح انسان اٹھے انہوں نے محسوس کیا۔ کہ دیوار کے اس طرف سے کسی انسان کی آواز نہیں آرہی۔ جیسے ہی دیوار کے اس طرف چڑھ کر دیکھنے لگے وہ تمام بندر کی شکل میں تبدیل ہو چکے تھے۔ اور بندروں کی طرح حرکتوں کو انجام دے رہے تھے۔

وہ صالح لوگ جو دیوار سے ان لوگوں کو دیکھنے لگے ان سارے لوگوں میں سے جو جو ان کے رشتے دار تھے۔ انہوں نےان بندروں کے کپڑوں سے اپنے رشتہ داروں کو پہچانا۔ وہ چیخ کر رونے لگے اور اللہ سے معافی مانگے لگے۔

لیکن اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ ہوکر رہتا ہے۔ وہ بارہ ہزار لوگ جو بندر بن چکے تھے۔ کچھ کھا پی نہیں سکتے تھے۔ تین دن بعد وہ عذاب میں آ کر فنا ہو گئے۔ بے شک اللہ تعالی ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں۔

اے اللہ! ہم سب انسانوں کو اپنا فرمانبردار بندہ بنا ہم کو ویسا بنا دے جیسا تو چاہتا ہے

جس کو نماز کا ترجمہ و تشریح نہیں آتی اس کا نماز میں زیادہ دل نہی لگتا اسکو پتہ نہی ہوتا وہ کیا پڑھ رہا ھے آئیں نماز سیکھ...
02/08/2023

جس کو نماز کا ترجمہ و تشریح نہیں آتی اس کا نماز میں زیادہ دل نہی لگتا اسکو پتہ نہی ہوتا وہ کیا پڑھ رہا ھے آئیں نماز سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں....!

#ثـنــــاء
سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ.
اے ﷲ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں، تیری تعریف کرتے ہیں، تیرا نام بہت برکت والا ہے، تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں.

#تعـــــــوذ
أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.
میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا / مانگتی ہوں

#تســـــمیہ
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
ﷲ کے نام سے جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے


الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِO إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْO غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَO
*تمام خوبیاں, تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہے, نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے, روزِ جزا کا مالک ہے, ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں, ہمیں سیدھا راستہ دکھا, ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا, ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراھوں کا.


قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌO اللَّهُ الصَّمَدُO لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْO وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌO
آپ فرما دیجئے ک: وہ ﷲ ھے جو یکتا ہے, ﷲ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے, نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمعسر ہے.

#رکـــــــوع
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ.
پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا.

#قـــــومہ
سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ.
ﷲ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی.

رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ.
اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں.

#سجـــــــدہ
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی.
پاک ہے میرا پروردگار جو بلند تر ہے.

#تشـــــــہد
التَّحِيَّاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَ
دعا گو: سید عرفان

15/02/2023

کلمہ طیبہ کے دو حصے ہیں۔
"لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللہ" اور "مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ "
دونوں میں 12 , 12 حرف ہیں۔
دونوں غیر منقوط یعنی نقطوں کے بغیر ہیں۔
پہلا حصہ *مقصدِ زندگی* بتاتا ہے.
دوسرا حصہ *طرزِ زندگی..

اور12+12 حروف یہ تقاضہ کرتے ہیں،

کہ انسان اپنی 12+12 گھنٹے کی زندگی ﷲ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے مطابق گذارے۔
پہلے حصے میں نقطے نہ ہونے میں یہ اشارہ ہـے کہ اللہ عزوجل کا کوئی شریک نہیں حتٰی کہ ایک نقطہ بھی نہیں..
دُوسرے حصـے میں اس لیے نقطہ نہیں کہ یہاں بھی کوئی ثانی نہیں اور ذرا سی بھی نقطہ چینی اسلام سے خارج کر دیتی ہے۔
دنیا کا سَب سےخوبصورت جملہ جِسـے بغیر ہونٹ ہلاۓ ادا کیا جاسکتا ہے..
وہ ہے..
لَا اِلہَ اِلاَ اللہ -
کلمے کـے اس اوّل حصّـے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے..
کہ ایک مرتا ہوا آدمی بھی جو نقاہت کـے باعث اپنے ہونٹوں کو ہِلانے سے قاصر ہو وہ بھی یہ کلمہ آسانی سے ادا کر سکتا ہے..
سبحان اللّٰہ .

Address

Lahore
41000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when My islamic dairy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share