01/04/2026
آفتابِ ولایت و عزیمت کا غروب: یادِ شیخِ محترم استاذی المکرم (نور اللہ مرقدہٗ)
کائنات کا یہ دستور ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، لیکن کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی چراغ کی مانند دوسروں کو راستہ دکھاتی ہے اور ان کا وصال ایک عہد کا خاتمہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں ہم سے ایک ایسی ہی عظیم المرتبت شخصیت بچھڑ گئی ہے جو بیک وقت حافظِ قرآن، قاریِ باکمال، فنا فی الشیخ اور صبر و استقامت کا ہمالہ تھی۔
میری مراد _پیر کامل یادگار اسلاف فنا فی الشیخ استاذ العلماء حافظ و قاری خان محمد صاحب_ ہیں
آپ کا آبائی تعلق پنڈی گھیب (اٹک) کی زرخیز مٹی سے تھا، جہاں آپ پیدا ہوئے، مگر قدرت کو آپ سے ایک بڑے شہر کی آبیاری کروانی تھی۔ بچپن ہی میں آپ لاہور تشریف لے آئے اور اپنی عمر کا اکثر حصہ دینِ متین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ لاہور کی جامع مسجد زینب (فاروق کالونی) اور مدرسہ غوثیہ تعلیم القرآن آپ کی علمی و روحانی سرگرمیوں کا مرکز رہیں۔ آپ نے محراب و منبر اور درس و تدریس کے ذریعے ہزاروں سینوں کو نورِ قرآن سے منور کیا۔
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے "ولیِ کامل" دربار دریائے رحمت شریف کے سجادہ نشین آستانہ عالیہ بحر الحق کی زینت ولی کامل پیر عبدالحق صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے منظورِ نظر خلیفہِ مجاز تھے۔ آپ کی زندگی کا عنوان اور اوڑھنا بچھونا "ادب" تھا۔ آپ علماء و مشائخ کا بے حد احترام فرماتے اور اپنے مرشد کے آستانے پر کثرت سے حاضری دیا کرتے۔
اَلْاَدَبُ فَوْقَ الْعِلْمِ (ادب علم سے بلند تر ہے)۔
آپ نے نہ صرف خود کو مرشد خانے کے لیے وقف کیا بلکہ اپنی اولاد کی تربیت بھی اسی نہج پر فرمائی۔ جان ،مال اور اولاد و رشتہ دار سب کو دین کیلئے وقف کردیا ۔
ہر جمعہ دور دراز کا سفر طے کر کے مرشد کے آستانے پر امامت و خطابت کے لیے تشریف لے جانا آپ کا وہ معمول تھا جو زندگی کے آخری ایام تک برقرار رہا۔
اللہ کے مقرب بندوں کو آزمائشوں سے گزارا جاتا ہے۔ حضرتِ استاذی المکرم کی زندگی میں صبر کا ایک ایسا باب بھی ہے جو رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ آپ کے تین صاحبزادے تھے، جن میں سے دو جوان صاحبزادوں کا اسی ایک سال میں وصال ہوا۔ اس سے قبل آپ کے عالمِ دین بھائی بھی داغِ مفارقت دے گئے۔ ان پے در پے صدمات کو آپ نے جس کمال صبرو تحمل سے برداشت کیا، وہ آپ کے "مردِ مومن" ہونے کی سب سے بڑی دلیل تھی۔
بقول مولانا روم
مرگِ ہر یک اے پسر ہم رنگِ اوست
پیشِ دشمن دشمن و بر دوست دوست
(اے بیٹے! ہر شخص کی موت اس کے اپنے عمل کے رنگ جیسی ہوتی ہے۔ نافرمان کے لیے موت دشمن اور اللہ کے ولی کے لیے موت اللہ سے ملنے کا ذریعہ ہے)۔
آپ کا سینہ عشقِ رسول ﷺ سے معمور تھا۔ آپ نے تحفظِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے کئی تنظیموں تحریکوں اور جماعتوں کے ساتھ مل کر تاریخی کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ علماء و مشائخ کی بڑی تعداد آپ کی خدمات دینیہ اور بلند اخلاق و کردار کی معترف نظر آتی ہے ۔ آپ کی نمایاں خصوصیات میں:
حسنِ اخلاق و ملنساری: ہر ملنے والا آپ کی شفقت کا اسیر ہو جاتا۔
سخاوت و مہمان نوازی: آپ کا دسترخوان اور ہاتھ ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہتا۔
تربیتِ طلباء: آپ نے طلباء کو صرف الفاظ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا۔
قدرت کی کرشمہ سازی دیکھیے کہ آپ ہر منگل کو اپنے سلسلہ طریقت کا ختم شریف دلاتے تھے، اور اللہ نے وصال کے لیے بھی منگل کی شب کا انتخاب فرمایا۔ 11 شوال (30 مارچ 2026) بروز منگل زینب مسجد والٹن شریف لاہور میں آپ کا وصال ہوا ، آپ کو آپ کے آبائی گاؤں پنڈی گھیب میں سپردِ خاک کیا گیا۔ مرشدِ کامل نے خود تشریف لا کر نمازِ جنازہ کی امامت فرمائی اور وہ جملے ارشاد فرمائے جو صرف آپ کا نصیب تھا ، اور یہ آپ کی قبولیتِ بارگاہِ الٰہی کی ایک روشن علامت ہے۔
نشانِ مردِ مومن با تو گویم؟
چوں مرگ آید تبسم بر لبِ اوست
ہمیشہ محبت و شفقت فرماتے دو سال قبل بندہ ناچیز کی دعوت پر بلال مسجد کینٹ ویو بھٹہ چوک تشریف لائے اور بے سکونوں کو سکون جاوداں بخشا ۔
آپ کی ایک ایک ادا محبین کے سینوں میں محفوظ ہے اور آپ کی یاد نہ ختم ہونے والی یاد رہے گی۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
آج مریدین، تلامذہ اور عقیدت مندوں کی آنکھیں اشکبار ہیں، مگر دل اس بات پر مطمئن ہے کہ آپ نے زندگی کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور آپ کی قبرِ انور پر اپنی رحمتیں برسائے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہِ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
أُحِبُّ الصَّالِحِينَ وَلَسْتُ مِنْهُمْ ... لَعَلِّي أَنْ أَنَالَ بِهِمْ شَفَاعَهْ
احقر العباد مفتی عبید الرحمٰن حقانی نعیمی غفرلہ