Al-Fahmi Quran Method

Al-Fahmi Quran Method ڈاکٹر منظور احمد الشیخ الفھمی
بانی:
الفہمی قرآن میتھڈ

الفہمی قرآن میتھڈ
ڈاکٹر منظور احمد الفہمی کی پی ایچ ڈی کی ریسرچ ہے،5رنگوں کے ذریعےترجمہ قرآن کو بغیر سزا کے پڑھانے کی 20 سالہ محنت اور4500 مقامات پر پریکٹیکل کلاسز کا نچوڑ ہے

60 منٹ میں 60فیصد قرآنی الفاظ کا ترجمہ

اول تا پنجم ناظرہ قرآن ترجمہ کے ساتھ

ان شاءاللہ حاضری ہو گی
14/05/2026

ان شاءاللہ حاضری ہو گی

09/05/2026
الفہمی تربیتی اعتکافان شاءاللہ 20 اپریل 2026 سے دوسری کلاس کا آغازبمقامجامع مسجد حضرت علی المرتضیٰ گلشن فرید کالونی پاکپ...
19/04/2026

الفہمی تربیتی اعتکاف

ان شاءاللہ 20 اپریل 2026 سے دوسری کلاس کا آغاز
بمقام
جامع مسجد حضرت علی المرتضیٰ گلشن فرید کالونی پاکپتن شریف
زیر اہتمام
دی ہیلپنگ مشن پاکستان

بیسویں صدی کے علمی افق پر نمودار ہونے والا وہ درخشندہ ستارہ  جس کی شخصیت علم و حکمت اور زہد و اتقا کا ایک حسین سنگم تھی۔...
19/04/2026

بیسویں صدی کے علمی افق پر نمودار ہونے والا وہ درخشندہ ستارہ جس کی شخصیت علم و حکمت اور زہد و اتقا کا ایک حسین سنگم تھی۔ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن اور عہد ساز تحریک کا نام ہے، جس نے بنجر زمینوں کو علم کی خوشبو سے مہکا دیا۔​وہ ایک ایسے متبحر مفسرِ قرآن تھے جنہوں نے لفظوں کو معانی کا نیا پیرہن عطا کیا، اور ایک ایسے عظیم سیرت نگار جن کے قلم کی جنبش نے شمعِ رسالت کے پروانوں کے ایمان کو نئی جلا بخشی۔ علمِ حدیث پر ان کی گرفت جتنی مضبوط تھی، عدلیہ کے اعلیٰ ایوانوں میں ان کا وقار بھی اتنا ہی بلند تھا، جہاں انہوں نے قانون کو انصاف اور فہمِ دین کے نور سے ہمکنار کیا۔​ایک مدبر ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے قدیم و جدید کے تضاد کو ختم کر کے علم کا ایک نیا اسلوب متعارف کروایا۔ ان کی شخصیت میں جہاں فقیہ کا جلال تھا، وہاں ایک صوفی باصفا کا وہ جمال بھی تھا جو دلوں کو تسخیر کر لیتا تھا۔ اعتدال پسندی، فکری بلندی اور ملی یکجہتی کا یہ پیکرِ جمیل کوئی اور نہیں، بلکہ حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمة اللہ علیہ کی ذاتِ گرامی ہے۔

ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمہ اللہ تعالٰی کا شمار عالمِ اسلام کی اُن برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے جن کے حصول میں تاریخ کو صدیاں انتظار کرنا پڑتا ہے تب کہیں گلشنِ انسانیت میں وہ پھول کھلتے ہیں جن کی مہک سے افسردہ دماغوں کو طراوٹ اور پریشان دلوں کو طمانیت نصیب ہوتی ہے۔

؎
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

سیارہ ڈائجسٹ کے مدیراعلیٰ امجد رؤف خان لکھتے ہیں:

”پیر کرم شاہ کی شخصیت ایک ہیرے کی مانند ہے آپ ان کو جس طرف سے دیکھیں ان کی چمک میں کوئی کمی نہیں آتی۔ وہ ایک خدا رسیدہ ، متقی اور پارسا بزرگ ہیں۔ ان کے چہرے پر روشنی بکھری رہتی ہے جو دوسروں کو بھی تاریکی سے نجات دلاتی رہتی ہے۔ ان کی زبان میں بڑی تاثیر ہے۔ بڑے سادہ دل ، خوش اخلاق اور دردمند انسان ہیں۔ اتنے ہلکے پھلکے انداز میں چلتے ہیں جیسے کوئی فرشتہ ہوا میں تیر رہا ہو ،یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ زمین کو بھی دُکھانا نہیں چاہتے ، اس تاریخ ساز شخصیت نے اپنے علم و حکمت کے نور اور اخلاق کے زور سے اجڑے ہوئے انسانوں کو فرشتہ سیرت بنایا ہے۔“

آپؒ کے شیخ طریقت اور اساتذہ کے تأثرات

١٩٤٣ء میں دورہ حدیث کیلئے آپ مرادآباد تشریف لے گئے اور مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ تعالٰی کے خلیفہ اعظم صدر الافاضل حضرت محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالٰی سے دورہ حدیث کیا۔ آپؒ کی دستار فضیلت اجمیر شریف کے سجادہ نشین حضرت دیوان سید آل رسولؒ نے بندھوائی۔اس موقع پر صدر الافاضل حضرت محمد نعیم الدین ؓ نے یہ تاریخی جملہ فرمایا:

”میں آج مطمئن ہوں کہ میرے پاس جو امانت تھی وہ میں نے موزوں فرد تک پہنچا دی ہے۔“

آپ کے پیرومرشد حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ پر بہت مہربان تھے اور ایک دفعہ فرمایا:

”پیر کرم شاہ میری آنکھوں کا نور ہے صرف یہی نہیں بلکہ پیر سیال کے روضہ کا مینار ہے۔“

ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ کے سلسلہ میں حضورضیاء الامت جیل سے رہا ہو کر سیال شریف پہنچے تو حضرت پیر سیال ؒ نے فرمایا:

”مبارک ہو آپ نے آج سے سنت یوسفی بھی ادا کر لی ہے۔“

جامعہ ازہر سے فراغت کے وقت ایم اے کی ڈگری کے علاوہ آپ کے اساتذہ نے آپ کو ذاتی طور پر بھی حسن کارکردگی کے سرٹیفکیٹ عطا کئے۔ مثلاً :

١۔ امام ابو زہرہ ؓجس کو علمائے مصر نے اپنا امام تسلیم کیا ہے ان کی تصانیف ازہر اور قاہرہ یونیورسٹی کے مختلف نصابات میں شامل ہیں وہ ہستی حضور ضیاء الامت ؒ کی استاذ ہے اور اپنے ذاتی سرٹیفکیٹ میں لکھتے ہیں:

”جس لمحہ میں نے تجھ سے ملاقات کی میں نے تجھ میں بلند نگاہی ، رفعت کردار ، اعلیٰ مقاصد کی طرف میلان اور بے مقصد امور سے دوری کا احساس کیا۔ میں تجھ میں ایک ایسی انسانی روح پاتا تھا جو دنیاوی بوجھوں سے بلندوبالا اور ارفع و اعلیٰ تھی۔ اے میرے فرزند ارجمند ! مجھے تیری ذات میں اسلام ایک آفتاب کی طرح درخشاں نظر آتا ہے اور میں تجھ میں وہ اسلام دیکھتا ہوں جو بکھرے دلوں کی شیرازہ بندی کرنے والا ہے اور مجھے تجھ میں روشن مستقبل کی امید نظر آتی ہے، آج جبکہ میں تجھے الوداع کہہ رہا ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ گویا میرے نفس کا ایک حصہ مجھ سے جدا ہو رہا ہے اور گویا میری روح کا ایک ٹکڑا الگ ہو رہا ہے، پس میں تجھ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“

۲۔عربی ادب کے نامور استاذ شیخ احمد زکیؒ نے اپنے سرٹیفکیٹ میں فرمایا:

” گوناگوں علوم کے گلستان میں جب میں تدریس کے وقت تیرے ساتھ بحث و مباحثہ کرتا اور ہم ایک دوسرے کے سامنے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے تو مجھے یوں معلوم ہوتا کہ تو پیدائشی ادب کی ارفع و اعلیٰ مثال ہے تو فصاحت و بلاغت کے نکات کا غیر معمولی ذوق رکھتا ہے خداداد صلاحیتوں کا امین ، پاکباز نفس کا مالک اور بلند تربیت کا ایک نادر نمونہ ہے اور ان تمام اخلاق حسنہ پر اسلام کا لہرانے والا پرچم مجھے تجھ پر سایہ فگن نظر آتا ہے۔“

دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

١٩٥٧ میں اپنے والد گرامی کے انتقال کے بعد آپؒ نے دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کی نشأۃ ثانیہ کا آغاز کیا اور ایسے نصاب تعلیم کو متعارف کرایا جو قدیم و جدید علوم کا حسین امتزاج ہے اس کی تکمیل کے بعد ایک مسلمان اپنے دین سے بھی پوری طرح آگاہ ہو جاتا ہے اور دنیوی تعلیم کے میدان میں بھی وہ کسی احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہوتا۔ آج اس دارالعلوم کی دو سو چالیس سے زائد شاخیں اندرون ملک اور بیرون ملک سرگرم عمل ہیں جن میں ٢٥ ہزار سے زائد طلبہ و طالبات دینی اور دنیاوی علوم سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔

تفسیر ضیاء القرآن

حضرت ضیاء الامت ؒ نے ١٩ سال کی طویل مدت میں٣٥٠٠صفحات پر مشتمل قرآن کریم کی تفسیر پانچ جلدوں میں مکمل فرمائی۔معروف ادیب جناب طالب ہاشمی اپنے تاثرات یوں بیان کرتے ہیں:

”تفسیر ضیاء القرآن میں ترجمہ کا انداز بے مثل و بے نظیر ہے اور قرآن پاک کی ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ سمجھنے کے لئے نعمت غیر مترقبہ ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس باب میں حق تعالیٰ نے خود حضرت پیر کرم شاہ کی رہنمائی فرمائی۔ تفسیر کا انداز بیان نہایت دل نشین اور اثر انگیز ہے اور پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ علم و حکمت کی ایک جوئے رواں ہے جو مسلسل بہہ رہی ہے اور ہر شخص اس سے بقدر ظرف استفادہ کر سکتا ہے۔“

۲۔پروفیسر شاہ فرید الحقؒ فرماتے ہیں:

”قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں ایک طرف تو خداتعالیٰ کی وحدانیت کا پتہ چلتا ہے تو دوسری طرف حضور اکرم ﷺ کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ دور حاضر کے بعض مفسرین نے عظمت رسالت مآب ﷺ کو ملحوظ نہیں رکھا لیکن تفسیر ضیاء القرآن کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ اس میں جہاں دلائل توحید پر بڑی واضح بحثیں ملتی ہیں وہاں عظمت رسالتؐ بھی اپنی رعنائی کے ساتھ موجود ہےدرحقیقت یہ وہ تفسیر ہے جس سے صاحب تفسیر قبلہ پیر صاحب کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ پیر صاحب قابل صد مبارک ہیں کہ انہوں نے صاحب قرآن ﷺ کی شخصیت کو اجاگر کرنے کے لئے خود اپنی شخصیت کو اس میں گم کردیا ہے۔میں نے بذات خودامام اہل سنت احمد رضا خان بریلوی ؓ کے ترجمہ قرآن کو انگریزی میں ڈھالتے ہوئے ضیاء القرآن کے ترجمہ کو بڑے غور سے پڑھا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا ترجمہ ہے جو سلیس اور بامحاورہ ہونے کے ساتھ ساتھ منشائے الٰہی اور عظمت رسالت کا آئینہ دار ہے۔“

ضیاء النبی شریف

حضور ضیاء الامت ؒ نے سات جلدوں میں سیرت النبی ﷺ پر ضیاء النبی ﷺ کے نام سے ایک بے مثال کتاب لکھ کر علمی دنیا میں ایک گراں قدر اضافہ کیا ہے، اس عظیم تصنیف پر آپ کو صدر پاکستان اور وزیراعظم آزاد کشمیر کی طرف سے ایوارڈ پیش کئے گئے۔

۱۔ آستانہ عالیہ گولڑہ شریف کے چشم و چراغ، شاعر ہفت زبان حضرت پیر سید نصیرالدین نصیر گیلانیؒ نے فرمایا:

”یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت پیر صاحب قبلہ کو یہ کتاب تصنیف کرنے کے لئے تیار کرتی رہی ہے ، انداز تحریر انتہائی دل نشین ہے حضور اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا قلم موتیوں کی لڑیاں پرونے لگتا ہے۔ مصنف کی ذات گرامی زہد و تقویٰ اور پارسائی کی چلتی پھرتی تصویر ہے، حقیقت یہ ہے کہ سیرت طیبہ جیسے مقدس موضوع پر قلم اٹھانے کے لئے ایسی ہی ہستیاں درکار ہوتی ہیں۔ آپ کو دیکھ کر پانچ سو سال پرانی شخصیات یاد آتی ہیں۔“

ہے شاہِ کرم(ﷺ) جن کا لقب عالم میں
اک خاص کرم ان کا کرم شاہ پہ ہے

۲۔ محسن پاکستان نامور سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے فرمایا:

”حضرت پیر صاحب ساری ملت کا سرمایہ ہیں اور ان کی یہ تصنیف ساری امت کے لئے ایک تحفہ کا درجہ رکھتی ہے۔ ضیاء النبی ، حضور سرکار مدینہ ﷺ کے رخ انور کی ضیا پاشیوں سے ہماری زندگی کی تاریک راہوں کو جگمگا رہی ہے۔ وہ لوگ یقیناً خوش قسمت ہیں جو اس کے مطالعہ سے اپنے دل و دماغ کو منور کریں گے۔“

۳۔ صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی لکھتے ہیں:

”ضیاء النبی لفظ لفظ خوشبو حرف حرف روشنی ہے۔ قبلہ پیر محمد کرم شاہ نے منبر دل پر کھڑے ہو کر خوب خطبۂ محبت دیا ہے،انہوں نے داستانِ ذوق و عشق کو وجد کے عالم میں سنایا ہے، انہوں نے قلم کے منہ سے فقط لفظ نہیں اگلے بلکہ قلم کی نوک سے ہیرے تراشے ہیں۔ ضیاء النبی ﷺ میں کوئی بھی ایسا لفظ نہیں جو پندار نفس اور نشہ علم کی تسکین کی چغلی کھاتا ہو ورنہ بڑے بڑے قلم کار تمام تر ضبط نفس کے باوجود ضبط سخن کا مظاہرہ نہیں کر پاتے اور کہیں نہ کہیں ان کی بات سے ان کی ذات چھلک پڑتی ہے، دراصل یہ مزاج کا فرق ہوتا ہے بعض لوگ اس محفل میں دادتحقیق لینے آتے ہیں اور کچھ فقیر اس گلی میں بھیک لینے آتے ہیں، پیر صاحب قبلہ دوسرے قبیلے کے فرد ہیں۔ ہر چند وہ مفسر قرآن ہیں ، ہرگاہ کہ وہ اچھے انشاپرداز ہیں ، بجا کہ وہ جج کے منصب پر فائز ہیں ، تسلیم کہ وہ بہت بڑے ادارے کے سربراہ ہیں ، معلوم کہ وہ گدی نشین ہیں ، مانا کہ وہ زبان و بیان کی بے شمار خوبیاں رکھتے ہیں مگر ان کی تازہ تصنیف ان کی نظر میں کشکول گدائی ہے جسے وہ ہاتھ میں تھام کر سلطان حسینان جہان اور سرور اورنگ نشینان عالم کی بارگاہ میں حاضر ہیں وہ خود رقم طراز ہیں’’ ایک مفلس و کنگال منگتا خالی جھولی لے کر ترے حسن و جمال کی خیرات لینے کے لئے حاضر ہے اور ایک ادنیٰ سا ارمغان عقیدت و محبت پیش کرنے کا آرزومند ہے۔‘‘ اور اس آرزومندی میں کوئی ناز، کوئی گھمنڈ، کوئی استحقاق اور کوئی مان نہیں بلکہ از اول تا آخر یہ کیفیت ہے جسے خود سپردگی کہا جاتا ہے۔ آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب کشتی تمہی پہ چھوڑی لنگر اٹھا دئیے ہیں۔“

ضیاء الامت رحمہ اللہ تعالٰی کے اعزازات

اسلامی جمہوریہ مصر کے صدر حسنی مبارک نے ٢٧ رمضان المبارک ١٩٩٣ ء کو اسلامی خدمات کے صلہ میں جامعہ ازہر کی طرف سے سب سے بڑا قومی اعزاز ’’نوط الامتیاز‘‘ آپ کو پیش کیا۔ نیز آپ عالمی دارالمال اسلامی جنیوا کے ڈائریکٹر بورڈ کے ممبر اور رؤیۃ ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین بھی رہے۔

بادشاہی مسجد لاہور کی خطابت

جب آپؒ کو بادشاہی مسجد لاہور کی خطابت پیش کی گئی تو آپ کا جواب سن کر ایوان حکومت پر سناٹا طاری ہوگیا۔آپ نے فرمایا:

”یہاں آکر شاید حق کا اظہار صحیح انداز میں نہ کرسکوں اس لئے میں یہ منصب قبول نہیں کر سکتا۔“

انتقال پُر ملال

حج اور عید الاضحیٰ کی درمیانی رات نو ذوالحجہ ١٤١٨ ھ بمطابق سات اپریل ١٩٩٨ء کو آپ کا انتقال ہوا اور دس ذوالحجہ یعنی عید الاضحیٰ کے دن چار بجے بعد دوپہر آپ کا جنازہ سیال شریف کے سجادہ نشین حضور محمد حمید الدین سیالوی رحمہ اللہ تعالٰی نے پڑھایا اور اپنے والدِ گرامی کے پہلو میں دفن ہوئے۔

الحاصل، آپ کا وجودِ مسعود اس عہد کے لیے قدرت کا وہ عطیہ تھا جس نے علم کو محض کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے کردار کی صورت میں زندہ کر دکھایا۔ آپ کی علمی و ملی خدمات وہ ان مٹ نقوش ہیں جو تاریخ کے ماتھے پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے اور حق کے مسافروں کے لیے زادِ راہ بنے رہیں گے۔

(ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ایک تاریخ ساز شخصیت از پیرزادہ محمد امداد حسین بانی و پرنسپل جامعہ الکرم،بتصرف)

القادری
١٨اپریل٢٠٢٦

17/04/2026

ماشاءاللہ
ڈاکٹر اسحاق رضا صاحب الفہمی قرآن میتھڈ کے ذریعے بچوں کو 60 منٹ میں 60 فیصد ترجمہ قرآن والا کورس پڑھاتے ہوئے

الحاج منظور احمد الفہمی الفہمی قرآن میتھڈ کے ذریعے 60 منٹ میں 60 فیصد قرآنی الفاظ کے ترجمہ والا کورس پڑھاتے ہوئے شاباش و...
16/04/2026

الحاج منظور احمد الفہمی الفہمی قرآن میتھڈ کے ذریعے 60 منٹ میں 60 فیصد قرآنی الفاظ کے ترجمہ والا کورس پڑھاتے ہوئے
شاباش ویلڈن

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Fahmi Quran Method posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Al-Fahmi Quran Method:

Share