Anjuman Sarfroshan E Islam Lahore

Anjuman Sarfroshan E Islam Lahore Humara yhan ane Ka maqsad koi saysat nahi na kisi fiqah ki dil azari hy har jagah pay kuch dil wale

13/04/2020

مرا ز پیر طریقت نصیحتی یاد است
که غیر یاد خدا هرچه هست برباد است
ترجمہ:
مجھے اپنے پیر طریقت کی نصیحت اچھی طرح یاد ہے کہ ذکر اللہ کے سوا ہر چیز برباد ہے۔

عین الفقر، ص: 228، 229، حضرت سلطان باھُو (رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ)

13/04/2020



ذکرِ الہٰی سے ایک لمحہ کی غفلت بھی ہزار سالہ عبادت سے بدتر ہے کیونکہ ایک لمحہ کی غیر حاضری کی گستاخی کو ہزار سالہ عبادت ملیا میٹ نہیں کر سکتی۔

حضرت جنید بغدادیؒ
تذکرۃ الا ولیاء

01/04/2020

محبوبِ سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

اے شخص تو کہتا ہے میں جس سے محبت کرتا ہوں اس سے جدا کردیا جاتا ہوں۔ کبھی بیماری سے کبھی عداوت سے، کبھی غلط فہمی سے کبھی موت سے، ہر قیمت پر مجھ سے جدا کردیا جاتا ہے۔ اے نادان تُو تو وہ خوش قسمت ہے جس پر اللہ تعالٰی نے رحمت کی ہے۔ اللہ تجھے اپنے لیے چاہتا ہے اور تو غیر کا ہونا چاہتا ہے۔ ہوش کر ایسا ٹوٹا برتن بن جا جس میں ماسوائے اللہ کے کچھ نہ ٹھہرے
تو غیر کے پیچھے بھاگے گا اللہ تجھ سے اس کے ہاتھوں توڑے گا اور جب تو اللہ کا ہوجائے گا تو ساری مخلوق کو تیرے قدموں میں لا بٹھائے گا۔ تیرے رشتے، تیری محبتیں، تیری آسائشیں لوٹا دی جائیں گی۔ تیری دولت واپس لوٹا دی جائے گی اور جن سے تو محبت رکھتا تھا اور رویا کرتا تھا اب تیرے لیے روئیں گے مگر اب تیرا دل ان سے بے نیاز ہوگا۔ جب تو ان چیزوں کو دور نہ کردے گا۔ یہ تجھے تکلیف دیں گی۔ ہر محبت دکھ دیتی ہے سوائے اللہ کی محبت کے.

01/04/2020
03/03/2020



باطل سے راضی ہونا بھی باطل ہے اور غصہ کی حالت میں حق کو ہاتھ سے چھوڑنا بھی باطل ہے۔مومن کی یہ شان نہیں کہ اپنے آپ کو باطل میں مبتلا کرے۔

کشف المحجوب

03/03/2020

مرید ہندی اور پیر رومی

علامہ محمد اقبال اور مولانا جلال الدین رومی کے درمیان بڑا گہرا روحانی تعلق موجود ہے۔ علامہ اقبال خود کو مریدِ ہندی اور مولانا جلال الدین ر ومی کو پیر ِ رومی کہتے تھے۔ حکومتِ ترکی نے علامہ محمد اقبال کی اس گہری محبت کے اعتراف کے طور پر مولانا جلال الدین رومی کی قبر مبارک کے قریب پاکستان کے اس قومی شاعر کی ایک علامتی قبر بنا رکھی ہے جس پر یہ الفاظ کنندہ ہیں ’’پاکستان کے ملی شاعر علامہ محمد اقبال عزیز مرشدی حضرت مولانا‘‘۔ یہ علامتی قبر ساٹھ کی دہائی میں علامہ محمد اقبال کی مولانا جلال الدین رومی سے انسیت، دلی لگاؤ کی عکاسی کے طور پر بنائی گئی ۔ ترک باشندے بھی پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال سے بڑی گہری محبت کرتے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، وزیراعظم احمد داؤد اولو اور کابینہ کی اکثریت علامہ محمد اقبال سے بڑی متاثر ہے۔ مرید ِہندی اور پیرِ رومی پر روشنی ڈالنے سے قبل مولانا جلال الدین رومی کے بارے میں مختصر سی معلومات فراہم کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔

شہر قونیہ سات ہزار سال قبلِ مسیح سے آباد چلا آرہا ہے۔ شہر کے مرکزی علاقے سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ’’ قارا جا ہیوک‘‘ میں تانبے کے دور سے لے کر حطیطی دور تک بہت سی تہذیبوں نے جنم لیا۔ وقتا فوقتا قونیہ کی اہمیت میں کمی بھی آئی لیکن اسکندر اعظم کے سفر مشرق پر نکلنے سے اس شہر کی شان و شوکت پھر سے دوبالا ہوگئی۔ یہاں سے تین کلو میٹر ہی کے فاصلے پر سلطنت روم کے کھنڈرات بھی موجود ہیں۔ سلجوقی ترکوں کی جانب سے اس شہر کو بارہویں صدی میں دارالحکومت بنائے جانے کے بعد نئے دور کا آغاز ہوا اور شہر میں بڑی تعداد میں سلجوقی دور کے فنِ معماری کے شاہکار آج بھی اپنی عظمت رفتہ کو برقرا رکھے ہوئے ہیں۔ اسی دوران مفکر، عالم اور شاعر جلال الدین رومی کے والد نے بھی بلخ سے آکر یہاں پر آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔ جلال الدین رومی کے والد بہا الدین ولَد جن کو سلطان العلما ء کے نام سے یاد کیا جاتا تھا نے یہ فیصلہ مکہ، مدینہ، دمشق اور دیگر علاقوں کی زیارت کرنے کے بعد سلطان کیکوباد کی دعوت پر کیا۔ مولانا رومی نے یہاں پر اپنے دور کے علما سے تعلیم حاصل کی۔ جب مولانا کے والد کا انتقال ہوا تو مولانا چوبیس برس کے تھے۔ ان کے والد کی وفات کے بعد والد کے دوست سید برہان الدین نے ان سے کہا ’’ جلال الدین علم میں تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے ، تم ہی اپنے والد کے وارث بنو اور دنیا جہان کو اپنی روشنی سے منور کرو ‘‘۔ ان کی اس نصیحت کے بعد مولانا رومی نے وعظ دینا شروع کردیا اور اپنے والد کی مسند علم سنبھال لی۔

مولانا رومی کا مسجد اور مدرسے باقاعدگی سےآنے جانے کا سلسلہ شمس تبریزی کے ان کی زندگی میں داخل ہونے کے بعد ٹوٹا ۔ دونوں کی پہلی ملاقات اورآمنے سامنے آنے کے بارے میں کئی ایک روایات مشہور ہیں تاہم شمس تبریزی نے اپنی کتاب ’’ مقالات‘‘ میں اس ملاقات کا ذکر کچھ یوں کیا ہے ۔ ایک رات انہوں نے دعا کی ’’ اے خدا مجھے اپنے سچے اور کھرے دوستوں سے ملادے‘‘۔ اگلی رات انہوں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی ان سے کہہ رہا ہے ’’ تمہاری ملاقات ایک پہنچے ہوئے بزرگ سے کروائی جائے گی‘‘ اس پر شمس تبریزی جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پکار اٹھے ’’ کہاں ہیں وہ بزرگ؟ کہاں ہیں وہ ولی اللہ؟‘‘ اگلے روز خواب میں ان بزرگوں کو ملک روم میں دیکھا جس پر انہوں نے سرزمیں اناطولیہ کی طرف رخت سفر باندھا ۔ انہوں نے مولانا رومی کو قونیہ میں بڑی جدو جہد کے بعد ڈھونڈ نکالا اور پھر دونوں کی دوستی کے شہر بھر میں چرچے ہونے لگے لیکن یہ دوستی بعد میں خاندانی تنازع کی وجہ بنی جس پر شمس تبریزی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس شہر کو ترک کرنا پڑا۔ (اس بارے میں مختلف روایات پیش کی جاتی ہیں) مولانا رومی نے شمس تبریزی کے چلے جانے کے بعد ایک بار پھر اپنے آپ کو علم کے لئے وقف کردیا اور دولت علم کے ذخیرے کو گہرے فلسفۂ حیات میں مدغم کرلیا تھا۔ محافل اور مجالس میں ان کی کہی ہوئی ہر بات کو رقم کرلیا جاتا تھا ۔

مولانا کی مثنوی دنیا میں مقدس کتابوں کے بعد سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ مولانا کو دوسرے مفکرین سے منفرد بنانے والی ایک دیگر خصوصیت سوچ اور فن کا امتزاج ہے ۔ مولانا اشعار میں خیالات کے اظہار میں وزن اور قافیے کی رکاوٹ کے مخالف ہیں۔

اقبال نے مولانا رومی کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کیا ہے۔ مولانا رومی زاو یۂ وجدان کے بانی اور رہبر تسلیم کئے جاتے ہیں اور اقبال بھی وجدانی اہمیت کے قائل ہیں۔ اس لئے مولانا رومی کو وہ وجدانی تصور کے تحت اپنا مرشد اور پیر طریقت تسلیم کرتے ہیں۔
اقبال مولانا کے تصور عشق اور ان کی عملی شخصیت سے بہت متاثر تھے کیونکہ مولانا کے عشق میں بے عملی کی بجائے عمل کی حرکت و حرارت ہے۔ اقبال نے مولانا کے عشق کو اپنا مطمح نظر بنا لیا کیونکہ وہ ایسے عشق کو کرامت تصور کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

عشق کی مستی سے ہے پیکر گُل تابناک
عشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرام

اقبال میں شخصیت کے تحفظ اور ارتقاء کی امنگ جگانے والے مولانا رومی ہی تھے۔ دوسری گول میز کانفرنس (لندن) سے اقبال مایوس ہوئے تو اس وقت بھی مولانا روم کے کلام نے انہیں سنبھالا اور مولانا رومی کی عظمت کا سکہ ان کے دل پر بٹھادیا

ہم خو گرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار
اک بحر پُر آشوب و پُر اسرار ہے رومی

اقبال نے جس قدر مولانا رومی کا اثر قبول کیا ہے ۔ اس قدر مشرق و مغرب کے کسی بھی مفکر یا شاعر کا اثر قبول نہیں کیا۔ انہیں غیر معمولی عقیدت اور داخلی ربط ہے۔ اقبال نے بال جبرائیل کی نظم مریدِ ہندی اور مرشد رومی میں خود کو مرید اور مولانا کو مرشد قرار دیا ہے۔

اقبال اور رومی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’ اگر رومی نے اقبال کی فکر کو چار چاند لگائے ہیں تو اقبال نے بھی رومی کے افکار ِ عالیہ کو بڑی عقیدت سے دنیا میں متعارف کروایا ہے۔ اقبال نے مولانا رومی سے استفادہ ہی نہیں کیا بلکہ ایک دبستان فکر رومی کی بنیادی رکھی ۔ اقبال اور رومی کے ہاں بہت سے نظریات مشترک ہیں ۔ اقبال کا نظریہ خودی جو اقبال کے کمال کی وجہ سے اس کا اپنا بن گیا۔ اس کے بنیادی تصورات بھی رومی کے ہاں ملتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال جن کے بارے میں مولانا محمد علی جوہر نے مولانا عبدالماجد دریا ہادی کے نام ایک خط میں کہا تھا کہ:

’’خدا کی رحمت ہو اقبال پر تعلیم مولانا رومی کا اتمام کر رہا ہے‘‘۔

آخر میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ مولانا رومی اور علامہ محمد اقبال نے ترکی اور پاکستان کے درمیان محبت کی بنیاد رکھ کر دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے اتنا قریب لاکھڑا کیا ہے کہ دنیا ان دونوں ممالک کی دوستی پر رشک کرتی نظر آتی ہے۔
زیشان سلیمی

05/01/2020

تصوف اور صوفیاء کی تاریخ عرب سے ہندوستان تک

تصوّف و طریقت کیا ہے؟

تصوّف کا تعلق توحید اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے ہے۔ صاحبِ تصوّف کو صوفی کہا جاتا ہے۔ تصوّف کو ان ناموں سے بھی جانا جاتا ہے احسان ، توحید ، سلوک ، معرفت ، حقیقت ، اخلاص ، کشف ، اسرارو معارف وغیرہ۔ تصوّف اور صوفی کی تعریف یا معنی میں علمائے کرام کے بہت اقوال ہیں چند آپکی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں

ٗٗ’’ تصوّف یہ ہے کہ حق تعالیٰ تجھے تیری ذات سے فنا کر دے اور اپنی ذات کے ساتھ زندہ رکھے۔‘‘

ّّّحضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں

ٗٗٗ’’ تصوّف حقائق پر عمل کرنے اور لوگوں کی چیزوں سے نا امیدی کا نام ہے۔‘‘

ٗحضور غوث الاعظم رضی اللہ تعا لیٰ عنہ فرماتے ہیں

ٗٗ ’’ تصوّف چار حرف سے مل کر بنتا ہے یعنی (ت،ص،و،ف) ت سے مراد توبہ ، ص سے مراد صفائی،و سے مراد ولایت اور ف سے مراد فنا فی اﷲ تعالیٰ ہے۔ ان چاروں صفات کے علم و عمل کا مجموعہ تصوّف ہے اور جس شخص میں یہ چاروں صفات موجود ہوں وہ صوفی ہے۔‘‘

ّّّ۰ حضرت ذوالنون مصر ی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں

’’ صوفی وہ لوگ ہیں جنہوں نے تمام کائنات میں اﷲ تعالیٰ کو پسند کیا۔‘‘

ّّّ۰ حضرت ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں

ٗٗٗ’’ تصوّف تمام نفسانی لذت سے ہاتھ کھینچنے کا نام ہے۔‘‘

ّّّ۰ حضرت ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین ابنِ علی بن ابی طالب علیہم السلام فرماتے ہیں

ٗٗٗ’’ تصوّف ایک نیک خصلت ہے، جو زیادہ نیک خصلت ہے وہ اعلیٰ صوفی ہے۔‘‘

۰ حضرت شبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں

’’ صوفی وہ ہے جو دونوں جہاں میں سوائے ذاتِ قدیم کے کچھ نہیں دیکھتا۔‘‘

۰ حضرت محمد بن احمد مقریٔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

ٗٗ’’ تصوّف وہ استقامتِ حال ہے جو ذاتِ حق کے ساتھ ہو۔‘‘

۰ حضرت مرتعش رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں

ٗٗٗ’’ تصوّف نیک خصلت کو کہتے ہیں۔‘‘

۰ حضرت سمنون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں

ٗٗٗ’’ تصوّف یہ ہے کہ نہ تو کسی چیز کا مالک ہو اور نہ کوئی چیز تمہاری مالک ہو۔‘‘

(کشف ُ المحجوب ، رسا لہ قشیریہ)

لفظ صوفی کی تحقیق:

(۱) صوف:

اس لفظ کے معنی ’’اون ‘‘ کے ہیں یعنی یہ لوگ کمبل یا موٹے کپڑے پہننے کی وجہ سے صوفی کہلائے۔

(۲) صوف:

اس لفظ کے معنی ہیں ’’ایک طرف ہونا ‘‘ یعنی یہ لوگ دنیا کو ترک کر کے اللہ ربُّ العزّت کی طرف ہوگئے۔

(۳) صف:

اس سے مراد کہ یہ لوگ دین میں اوّل صف میں ہیں۔

(۴) صفّہ:

اس سے مراد کہ یہ لوگ اصحابِ صفّہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں۔

(۵) صفا:

اس لفظ کے معنی’’ صفائی ‘‘ کے ہیں یعنی یہ لوگ اپنے دل کو تمام برائیوں سے پاک کر دیتے ہیں۔

(۶) صفو:

اس لفظ کے معنی ’’محبت اور دوستی‘‘ کے ہیں یعنی یہ لوگ دنیا و آخرت سے بے نیاز ہو کر صرف محبوبِ حقیقی سے محبت کرتے ہیں۔

امام قشیری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے نز دیک عربی قواعد کی رو سے’’ صوفی‘‘ کی وجہ تسمیہ ثابت نہیں یہ ایک لقب کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

(تصوّف و طریقت ٗ صفحہ۵۸ ، حقیقتتِ تصوّف ٗ صفحہ ۷۸ تا۲ ۸ ، مخزنِ طریقت ٗ صفحہ ۳ تا۶)

اگر ان تمام لفظوں کو مشترکہ ایک تعریف کے طور پر بیان کیا جائے تو یہ ہوگا کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں جو اون کا لباس پہنتے ہیں، جنہوں نے اپنے ظاہر اور باطن کو پاک و صاف کرکے اصحابِ صفّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرح دنیا کو ترک کردیا ہے اور صرف اللہ ربُّ العزّت سے محبت کرتے ہیں۔کل قیامت میں یہی لوگ صفِ اوّل میں ہونگے۔‘‘

َعلم کی اقسام:

علمائے کرام کے نزدیک علمِ دین کی دو (۲) قسمیں ہیں۔

(۱) علمِ ظاہر :

اس علم سے مراد شریعت ہے ۔ جس کے چار (۴) ماخذ ہیں (قرآن ، حدیث ، اجماع ، قیاس )۔

(۲) علمِ باطن:

اس علم سے مراد طریقت ہے۔ جسے علمِ لدُنّی بھی کہتے ہیں۔ یہ علم قرآن کے باطن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہِ مبارک سے حاصل ہوتا ہے اور پھر اولیا اللہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے قلوب پر منعکس ہوتے ہوئے سینہ بہ سینہ تمام اہل اللہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے دلوں پر نقش ہوتا ہے۔

سورۃ کہف میں اللہ ربُّ العزّت کا ارشاد ہے ـ

’’اور اسے (یعنی خضر علیہ اسّلام) کو اپنا علم الدنی عطا کیا‘‘

(آیت ۶۵)

اس علم کی وضاحت حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ہوتی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے:

’’ فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو (۲) علوم سیکھے ہیں۔ پہلا علم میں نے تم پر بیان کر دیا اور اگر دوسرا بیان کردوں تو یہ گر دن اُرادی جائے۔‘‘

(صحیح بخاری ‘۱ : ۳ ۲)

(تصوّف و طریقت ٗ صفحہ۵۲ ، اسرارالسلوک ٗ صفحہ ۱۱ ، حقیقتِ تصوّف ٗ صفحہ۶۰)

علمائے کرام کے نزدیک تصوّف و طریقت کے تین (۳) مقاصد ہیں:

(۱) تزکیۂ نفس
(۲) تصفیۂ قلب
(۳) معرفتِ الہی۔

(حقیقتِ تصوّف ٗ صفحہ۶۵)

(۱) تزکیۂ نفس :

انسان اگر کامیابی چاہتا ہے تو اپنے نفس کو پاک کرے مطلب کہ اسے شرک سے،کفر سے، معصیت سے الغرض تمام برائیوں سے پاک کرے اور اللہ ربُّ العزّت کی وحدانیت اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرے۔

(۲) تصفیۂ قلب:

اگر انسان برُے اعمال میں مشغول رہتا ہے تو اسکے قلب (دل) پر سیاہ نکتہ لگ جا تا ہے جو آہستہ آہستہ پورے قلب کو سیاہ کر دیتا ہے اور اگر قلب سیاہ ہوجائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

’’ تحقیق جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اگر وہ اصلاح پذیر ہوجائے تو تمام جسم کی اصلاح از خود ہو جاتی ہے اور اگر وہ فاسد ہوجائے تو سارے جسم میں فساد برپا ہو جائے خبردار وہ دل ہے۔‘‘

( صحیح بخاری ‘ ۱ : ۱۳)

(۳) معرفتِ الہی:

جب انسان تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کی دولت سے مالامال ہوجائے تو اس کے ذریعے اُسے اپنے رب کی معرفت نصیب ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا واقعہ مذکور ہے کہ:

’’آپ ؓ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، اے زید( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تونے کس حال میں صبح کی؟ عرض کی میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں سچّا مومن ہوں۔ فرمایا، ہر شے کی ایک حقیقت ہوتی ہے تیرے ایمان کی کیا حقیقت ہے؟ عرض کی ، میں نے دنیا سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو پہچانا پس اس کا سونا، چاندی اور مٹی کنکر میری نظر میں برابر ہوگئے میں ساری رات بیدار رہا اور سارا دن پیاسا رہا (یعنی روزہ دار رہا) یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کے میں اپنے رب تعالیٰ کا عرش دیکھ ہوں اور میں اہلِ جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ ایک دوسرے سے ملاقات کر رہے ہیں اور میں اہلِ جہنم کو بھی دیکھ رہا ہوں کہ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔

’’ اے زید ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! تیرے قلب کو اللہ تعالیٰ نے روشن کر دیا اور تجھے معرفت حاصل ہوگئی اس پر قائم رہ۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین (۳) بار ارشاد فرمائی۔

(کشف المحجوب )

ان تینوں (۳) مقاصد کو قرآن ِپاک نے یوں بیان کیا ہے۔

قاضی ثناء اللہ مجددی قدس سرہ تفسیر مظہری میں سورۃ الاعلیٰ کی آیت ۱۴،۱۵ کے تحت فرماتے ہیں کہ ان آیات میں مدارجِ سلوک کی طرف اشارہ ہے

’’ قد افلح من تزکیٰ‘‘ (بے شک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا)

اس میں توبہ اور تزکیہ ٔ کی طرف اشارہ ہے،

’’وذکر اسم ربہ‘‘ (اور اپنے رب کا ذکر کیا) اس میں زبانی ، قلبی ، روحی اور سری ذکر کی پابندی کی طرف اشارہ ہے اور ’’ فصلیٰ ‘‘ (نماز پڑھی) اس میں مشاہدہ کے دوام کی طرف اشارہ ہے کیونکہ نماز مومنوں کی معراج ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ

’’ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔‘‘

(احمد ، نسائی، حاکم ،بیہقی)

اب اگر اس تمام گفتگو کی روشنی میں تصوّف کی تعریف بیان کی جا ئے تو یہ بنتی ہے کہ شریعت مطہرہ کی پابندی کرتے ہوئے تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کے ساتھ تجلیاتِ ربّانی کا مشاہدہ کرنا تصوّف و طریقت ہے۔

ؔ۰ مآخذ و مراجع:

۰ کشف ُالمحجوب (حضرت سیّد علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
مکاشفہ القلوب ( امام محمد بن محمد غزالی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ )

محک الفقر ( حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )

۰ رسالہ قشیریہ (حضرت ابوالقاسم عبد الکریم ھوازن قشیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )

۰ تصوّف و طریقت ( حضرت علامہ سیّد شاہ ترابُ الحق قادری دامت برکاتہم العالیہ)

۰ اسرار السلوک ( حضرت علامہ پیر سائیں غلام رسول قاسمی قادری دامت برکاتہم العالیہ)

22/07/2019

اصل میں اللّٰہ جو ہے ، وہ تیرے دل کے کعبے میں ، مکیں ہے ۔

اپنے دل کے کعبے کی تلاشی لو ، کہیں اس میں ، دنیا کی آرزو تو نہیں پھنسی ہوئی ۔۔۔۔ ،

اگر دل میں دنیاوی آرزوئیں ہیں ، تو تمہیں کعبہ کِدھر سے ملے گا ۔۔۔!
پھر تو یہ دل ، بُت کدہ بن گیا ۔

اگر دل سے دنیا کی آرزو نکالو ، تو یہی کعبہ ہے ، اور کوئی کعبہ نہیں !
اصل میں یہی کعبہ ہے ۔

ھے زمیں پہ کعبہ میرا مکاں
میں فلک پہ رکھتا ہوں لامکاں
تیرے دل میں رہتاہوں ہر زماں
ھے نشان ہی میرا جاوِداں

کہتا ہے زمیں پہ کعبہ ہمارا ہے ۔ کعبة اللہ ، اللہ تعالیٰ کا گھر ہے ۔ آسمان پہ لامکاں ہے ۔

اصل میں رہائش ہے انسان کے دل میں ۔۔۔۔ !

تو اپنے دل کو آرزوؤں سے خالی کر ۔ اِسے کعبہ بنا ۔
کعبہ کیا ھے ؟

وہ اُس دل کا نام ہے جو دنیاوی آرزوؤں سے خالی ہو ۔

پس یہ اتنا چھوٹا سا کام کرنا ہے آپ نے ، کہ دل کو آرزوؤں سے خالی کرو ، اپنے آپ کو ___ آرزوؤں سے خالی کرو !

اپنے آپ کو ، اللّٰہ کا بنا کے رکھو ۔ اس کی طرف سے جو چیز آتی ہے اسے قبول کرو ، چاہے تکلیف دہ ہو ۔

دُکھ قبول محمد بخشا ، تے راضی رہن پیارے

اگر وہ تمہارے دُکھ پہ راضی ہوتا ہے ۔۔۔، تو اور کیا چاہئے ۔۔۔۔ !

حضرت واصف علی واصف ؒ
( گفتگو 3/ صفحہ : 31 )

22/07/2019

اگر کوئی شخص خواب یا مراقبے میں اذان دیتا ہے یا امامت کرتا ہے یا تلاوتِ قرآنِ پاک کرتا ہے یا ذکر اللہ کرتا ہے یا وضو یا غسل کرتا ہے یا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اُس کا نفس و قلب و روح ایک ہو چکے ہیں اور وہ ہدایتِ الٰہیہ سے مشرّف ہو چکا ہے

ماخوز از عین الفقر حضرت سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ

22/07/2019

@ لفظ تصوف کی تحقیق@

لغوی تحقیق !
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ اپنی تصنیف ; کشف المحجوب ; میں بیان فرماتے ہیں ۔
تصوف کے بارے میں لوگوں بے بہت لکھا اور کتابیں تصنیف کی ہیں ۔

1. ایک گروہ کا خیال ہے کہ صوفی کو صوفی اس لٸے کہا جاتا ہے کہ وہ صوف یعنی پشم کا لباس پہنتے ہیں ۔
2. دوسری جماعت کہتی ہے کہ صوفی صفِ اول میں ہوتا ہے اس لٸے صوفی کے نام سے موسوم ہے
3. بعض کہتے ہیں کہ صوفیا ٕ کرام نے اصحابِ صفا کی محبت اختیار کی اس لٸے صوفی کہلاۓ ۔
4.ایک جماعت کا خیال ہے کہ یہ لفظ صفا سے بنا ہے چونکہ صوفی کا ظاہر اور باطن صاف ہوتا ہے اس لٸے اسے صوفی کہتے ہیں ۔

حضرت داتا گنج بخش مزید رقمطراز ہیں ۔

اشیا ٕ کے لطیف حصے کا نام صفا اور کثیف حصہ کو کدر کہتے ہیں ۔ چونکہ اہلِ تصوف اپنے اخلاق اور معاملات کو صاف رکھتے ہیں اور قلبی آفات سے بری ہوتے ہیں اس لٸے صوفی کہلاتے ہیں ۔

حضور ضیا ٕ الامت پیر کرم علی شاہ ؒ مقدمہ کشف المحجوب مطبوعہ ضیا ٕ القرآن میں لفظ صوفی پہ تحقیق کرتے ہوۓ رقمطراز ہیں ۔

ابو ریحان البیرونی کہتے ہیں ' صوفی کا مآخذ سوف ہے ۔ جو یونانی زبان کا لفظ ہے ۔ یعنی دانش و حکمت سے محبت کرنے والا ` سوف کے لفظ کو عربی میں ڈھالا گیا تو تحریف کے بعد صوفی بن گیا ۔

حضرت علی ہجویری ؒ فرماتےکہ اگر تو صوفی کا متلاشی ہے تو یاد رکھ صوفی ہونے کی شانِ صفا تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ میں ظاہر تھی اور باطنی اعتبار سے کاملاً اغیار کی محبت سے خالی تھی ۔ اس لٸے صدیقِ اکبر ؓ وہ ہستی ہیں جسے امام طریقت اور مقتداۓ اہلِ تصوف کہا جاتا ہے ۔
تعریفات !
علامہ ابنِ خلدون ؒ اپنے مقدمہ علم التصوف کے باب میں لکھتے ہیں۔

1. تصوف کا معنی عبادت پر ہمیشہ پابندی کرنا ۔ اللہ تعالٰی کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جانا ۔

2 . ابو بکر الکتانی ؒ فرماتے ہیں ۔
تصوف خلق کا نام ہے جو کوٸ خلق میں تجھ سے برتر ہو گا وہ صفا میں تم سے بڑھا ہو گا ۔
3. ابو محمد الجریری کا ارشاد ہے ۔
یعنی ہر اعلٰی اور عمدہ خلق میں داخل ہونا اور ہر رذیل عادت سے باہر نکلنا تصوف ہے ۔

4. ابنِ سینا کتاب الارشادات میں فرماتے ہیں ۔
وہ شخص جو اپنی فکر کو قدسِ جبروت کی طرف رکھتا ہے اسے عارف کہتے ہیں اور ابنِ سینا کے نزدیک عارف ہی صوفی کہلانے کا مستحق ہے ۔

5. حضرت رابعہ بصری ؒ کا ارشاد ہے ۔
اے اللہ اگر میں تیری عبادت آتش دوزخ کے خوف سے کرتی ہوں تو مجھے اس میں جھونک دے اور اگر جنت کے لالچ میں سر بسجود ہوں تو مجھے اس سے محروم کر دے اور اگر میں صرف ذات کے لٸے عبادت کرتی ہوں تو اے میرے محبوب مجھے تو اپنے دیدار سے محروم نارکھ ۔
معلوم ہوا کہ تصوف اخلاقِ حسنہ دنیا کی لذتوں اور مسرتوں سے کنارہ کشی کا نام ہے ۔

6. ابو سعید الحزاز ؒ کہتے ہیں ۔
جس کے دل کو اس کا رب پاک کر دے اور اس کا دل نورِ الٰہی سے لبریز ہو جاۓ اور جو شخص ذکر الٰہی شروع کرتے ہی لذت و سرور میں کھو جاۓ

7. حضرت جنید بغدادی ؒ بیان کرتے ہیں کہ
تصوف یہ ہے کہ اللہ تعالٰی تجھے تیری ذات سے فنا کر دے اور اپنی ذات کیساتھ تجھے زندہ کر دے ۔

8. ابو بکر الکتانی ؒ فرماتے ہیں ۔
تصوف صفا یعنی تزکیہ اور مشاہدے کا نام ہے ۔

9. حجة الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں

اسمنزل کا راستہ یہ ہے کہ پہلے مجاھدہ کرے ۔ پوری طرح اللہ تعالٰی کی کی ذات کی طرف متوجہ ہو جاۓ اس طرح اللہ اپنے بندے کا متولی بن جاتا ہے اور علم کے انوار سے اس کو منور کرنے کا ذمہ دار بن جاتا ہے ۔

حضرت معروف کرخی کہتے ہیں
تصوف حقیقت کی معرفت حاصل کرنے اور ان چیزوں سے نا امید ہونے کا نام ہے جو مخلوقات کے ہاتھ میں ہے۔
تصوف لفظ کی یہ ایک بہت چھوٹی سی کاوش تھی اللہ سے دعا ہے کہ وہ اپنی بارگاہ میں قبول فرماۓ اور ہمیں اپنے نیک صوفیا ٕ اور صلحا ٕ کی صحبت سے بہرہ مند فرماۓ

الٰہی آمین۔

21/07/2019

عرش والوں کے مسیحاحُسینؐ علیہ السلام ھیں
فطرس کاواقعہ 🌹
______________________
کائنات کی مسکراہٹیں سمٹ کر رسول اکرمﷺ
کے گھر پر آ گئیں ہیں، فلک سے غول در غول
ملائک
اتر رہے ہیں ، زمین کا ذرا ذرا مثل آفتاب
دمک رہا ہے۔۔۔۔
آسمان جھک کر زمین کا مقدر دیکھ رہا ہے ،
زمین رشک جنت بن گئی ہے ،

ازل کے بیمار فرشتے جبرائیل اٹھا کر مدینہ
لے آتے ہیں ،
رسول کی کچہری ہے ، خدا کا رسولﷺ
عطا کے مکمل دروازے کھولے ہوئے عطا کیے
جا رہے ہیں،
جبرائیل نے بڑھ کر قدم بوسی کی ، رسول اکرمﷺ
مسکرا کر جبرائیل سے فرماتے ہیں:
جبرائیل مانگو "
جبرائیل نے نظریں نیچے ہی رکھیں پر رخ
بیمار عتاب خدا ، سراپا ء التجا، مبتلائے
مرض لاعلاج فطرس کی طرف اپنا رخ اس
ادب سے پھیرا کے منہ رسول سے بھی نہ
پھرے اور فطرس کی طرف بھی ہو ،

حاجت روائے کائنات نے سردار الملائک کی
التجائیا انداز سمجھا اور سردار النبیاءﷺ نے
مسکراتے ہوئے ، تکبر کے مجرم کے چھینے
ہوئے پر دیکھ کر سوال کیا ،
فطرس کیا ہوا تمھیں ؟

فطرس میں تاب کہاں کہ کچھ بولے ،
جرات کہاں کے آنکھ اٹھائے ،

پھر فطرس عرض کرتا ہے🙏

سردار النبیاءﷺ مجھے شفاء دیں صدقہ اس
کا کہ جو مٹی کو شفاء بنا دیتے ہیں

💕 " رسول خداﷺ فرماتے ہیں مرض بتاو "

فطرس عرض کرتا ہے 🙏
آپﷺ کو میں کیا بتاوں میرے نور کی تخلیق
آپﷺ کے سامنے ہوئے ، کائنات مثل ہتھیلی
سرکارﷺ کے سامنے

💕 رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں:

فطرس بات بتاو محفل میں صرف میں
ہی نہیں اور سارے تو مرض نہیں جانتے
مرض بتاو"
فطرس عرض کرتا ہے:
دارین کے سلطان نبیﷺ ، میں پرواز میں
اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا ایک بار جب میں
بلند پرواز کر رہا تھا تو مجھے سب نیچے نظر
آئے جبرائیل سردار الملائک بھی طاقت پرواز
مجھ جتنی نہیں رکھتے اور میں نے تکبر میں
کہہ دیا
مم مثلی ( مجھ جیسا کون )

بس کیا تھا میرا تکبر ، خالق تکبر کو ناگوار گزرا
کبریا نے میرے پر چھین لیے اور ہزاروں سال سے
ایک کونے میں پڑا تھا ہر نبی ہر رسول کے دربار
میں شفاء کی غرض سے گیا مگر کسی نبی نے
کسی رسول نے عتاب خدا میں آئے مجھ بد بخت
کی سفارش کرے کیونکہ جہاں گیا وہاں سب نے
ایک ہی بات کی
"کون ہے جو اس کی بارگاہ میں سفارش کرے
سوائے اس کے جسے وہ اجازت دے"
سو تب سے اب تک ان کا انتظار کر رہا ہوں
جن کے پاس اس کی اجازت ہو ، سنا ہے آپﷺ کے
گھر خدا کی ہاں سفارش کرنے والے کی آمد
ہوئی ہے سو مرض لادوا لیکر آیا ہوں ، یا آپﷺ
شفاء دیں یا ان سے لیکر دیں ۔

رسول خداﷺ مڑ کر دیکھتے ہیں ،
پنگھوڑے میں ناز کبریا ، بظاہر سو رہے تھے ،

نبی خداﷺ فرماتے ہیں :
حُسینؐ علیہ السلام سو رہے ہیں ،
فطرس کو اس پنگھوڑے سے مس کریں
جس لکڑی کے نصیب میں حُسینؐ کا جھولا
بننا لکھا ہوا ہے ،

ملائک نے فطرس لاغر کو مشکل سے اٹھایا ،
فطرس کا دایاں پہلو پنگھوڑے سے مس کیا
جاتا ہے
فطرس کے بے جان نوری جسم میں جان آجاتی
ہے ..... فطرس کا پر ملتا ہے ،

ملائک نے فطرس کو پہلو بدلنا چاہا
مگر عرصے کے مریض کی جان میں جان
آ چکی ہے ، ملائک کی کوشش سے قبل
فطرس نے بایاں پہلو خود مس کیا ،

پھر لوٹ آتی ہے شان ، مل گئی طاقت ،
سوئے حُسینؐ کے پیر چومنا فطرس کی اوقات
نہیں۔۔ سو اس زمین کو مجسم نور ملک نے
چومتا جس پر ناز کبریا کے پنگھوڑے کا سایہ
پڑ رہا ہے ،
دوسرے ملائک کو رسول خداﷺ نے ان کی
اوقات کے مطابق عطا کیا ، فرشتے واپس
آسمان کی طرف پلٹتے ہیں تو فطرس
طاقت پرواز میں سب سے طاقت ور ہے ،
فطرس نے اڑان بھری تو سب ملائک فطرس
کو ورطہ حیرت بنے پیچھے سے دیکھ رہے ہیں
کہ فطرس نے سب سے اوپر جا کر یکدم ملائک
کی طرف پلٹ کر دیکھا اور جھومتے ہوئے بولا
مم مثلی ( مجھ جیسا کون)

جبرائیل نے فرماتے ہیں
رک فطرس بات سن ، فطرس اپنے محسن
کے کہنے پر رکا ، جبرائیل اور دوسرے ملائک
پوری طاقت سے پرواز کر کے فطرس کے پاس
پہنچتے ہیں ، اور فطرس کے مسکراتے ہوئے
چہرے پر سخت غصہ کر کے بولے
فطرس ، یہ کیا اسی جرم میں ہزاروں
سال بے پر رہے
پھر وہ ہی جملہ مم مثلی ( مجھ جیسا کون)
تمھیں خوف خدا نہیں؟

فطرس ، مسکراتا ہے،
بولا ، پہلے دعوی کیا تھا دلیل نہیں تھی ،
اب دعوی کیا دلیل ہے

جبرائیل، کون سی دلیل فطرس؟
فطرس نے پھر تیز اڑان بھری پھر بلندی
پر جا کر کہتا ہے۔۔

"مم مثلی آنا عتیق الحُسینؐ"

کون ہے مجھ جیسا میں حُسینؐ کا آزاد کردہ
غلام ہوں

ناز کبریا ،
بقاء مصطفے ،
ولائے مرتضی،
ردائے زہرا ،
امارت حسن ،
نواب کربلا ،
حامل آیت انما ،
منبہ ء جود سخا ،
وجہ شرف کربلا ،
معدن صدق و صفا ،
امام عالی مقام ،
حضرت مولا امام حُسینؐ علیہ السلام
کی ذاتِ عالی مقام پر درود سلام 🙏

11/05/2019

*تصوف،

*پیر اور مرید کہ درمیانی فاصلے کو حجاب کہتے ہیں *
یعنی پیر کہیں ھو اور مرید کہیں ھو تو کیا منزل پانی ھے مرید نے بس ہاتھوں میں ہاتھ دئیے بیعت ھوگئے اور اسی پہ خوش ھو گئے کہ مرشد کامل کو پا لیا ھے ! سو نہ ہی اس سے عشق کیا نہ ہی اس سے محبت کی نہ اس کے ارشادات کو سمجھا نہ ہی تصور ء شیخ کیا نہ مراقبہ کیا نہ ہی نفس کی معرفت کو سمجھ کر تذلیل ء نفس کی نہ مجاھدہ کیا نہ ہی شب بیداری کی اور کہا بس سرکار آپ نے ہی پار لگانا ھے آپ جانو آپ کا کام تو یہ جہالت ھے اور کچھ نہیں !

جس عورت اور مرد نے شادی کی اور عورت نے زندگی علحدہ رہ کہ گزار دی اور مرد نے علحدہ رہ کہ گزار دی تو ان کے ہاں کیا اولاد پیدا ھونی ھے ؟
نسبت وہی ھوتی ھے جو اپنے رنگ میں رنگ دے

لوہار لوھے کو بھٹی میں ڈالتا ھے تو لوہا اپنی فطرت اور رنگ و صورت بھی بدل دیتا ھے آگ اس کو سیاہ سے سرخ کردیتی ھے پھر پتہ ہی نہیں چلتا کہ آگ کون سی ھے اور لوہا کونسا پھر وہی لوہا دھک جاتا ھے جلا دیتا ھے اس سے وہ آگ کی پوری صفات اپنے اندر منتقل کر لیتا ھے یہی تعلیم ء فنا و بقا ھے اگر کوئی سمجھ سکے تو

حجاب یا فاصلہ جسم کا نہیں روح کا ھوتا ھے اور شیخ اور مرید کا رشتہ روحانی رشتہ کہلاتا ھے فاصلہ روح سے روح کا ختم کریں جسمانی یعنی ظاہری رابطہ بھی ضروری ھے

حضرت داتا گنج بخشؒ شام کے وقت عام مریدوں کیلئے درس و تدریس کا اہتمام کرتے تھے۔ لوگ آتے تھے سوال کرتے تھے اور علم کی پیاس بجھاتے تھے۔ آپ ایک روز مریدوں کے درمیان بیٹھے تھے، لاہور کا ایک مرید آیا اور آپ سے پوچھا ”حضور اللّٰہ کی بارگاہ میں افضل ترین عبادت کیا ہے“حضرت داتا صاحب نے مسکرا کر دیکھا اور فرمایا ”خیرات“
اُس شخص نے دوبارہ عرض کیا ”اور افضل ترین خیرات کیا ہے؟“ آپ رح نے فرمایا ”معاف کر دینا“ پھر آپ رح چند لمحے رک کر دوبارہ یوں گویا ہوئے ”دل سے معاف کر دینا دنیا کی سب سے بڑی خیرات ہے اور اللّٰہ کو یہ خیرات سب سے زیادہ پسند ہے۔ آپ دوسروں کو معاف کرتے چلے جاؤ، اللّٰہ آپ کے درجے بلند کرتا چلا جائے گا“۔
آپ رح فرماتے "تصوف کی درسگاہ میں صوفی اُس وقت صوفی بنتا ہے جب اُس کا دل نفرت غصے اور انتقام کے زہر سے پاک ہو جاتا ہے اور وہ معافی کے صابن سے اپنے دل کی ساری کدورتیں دھو لیتا ہے۔"
اہل تصوف یہاں تک کہتے ہیں کہ قاتل کو صوفی کا خون تک معاف ہوتا ہے اور یہ معافی کی وہ خیرات ہے جو صوفیاء اکرام دے دے کر بُلند سے بُلند تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے درجے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ میرا بابا کہتا تھا "تم معاف کرنا سیکھ لو، تمہیں کسی اُستاد کی ضرورت نہیں رہے گی، سارے حجاب اور سارے نقاب اُتر جائیں گے۔"

حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک کانٹا روتے ہوے اللّه تعالیٰ سے کہہ رہا تھا کہ میں نے صلحین کی زبان سے سنا ہے کہ آپ کا نام ستار العیوب ہے یعنی عیبوں کو چھپانے والا لیکن آپ نے مجھے تو کانٹا بنایا ہے میرا عیب کون چھپائے گا ؟ حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کی زبانِ حال کی دعا میں اتنا اثر تھا کہ اس کے اوپر پھول کی پنکھڑی پیدا کردی گئی تاکہ وہ پھول کے دامن میں اپنا منہ چھپالے دیکھئیے گلاب کے پھول کے نیچے کانٹے ہوتے ہیں یا نہیں؟ مگر باغبان ان کانٹوں کو باغ سے نہیں نکالتا باغ سے صرف وہ کانٹے نکالے جاتے ہیں جو خالص کانٹے ہوں جنہوں نے کسی پھول کے دامن میں پناہ نہیں لی اسی طرح جو لوگ اللّه والوں سے نہیں جڑتے ان کیلئے خطرہ ہے لیکن جو گناہگار اللّه والوں کے دامن سے جڑ جاتے ہیں ان کی برکت سے ایک دن وہ بھی اللّه والے بن جاتے ہیں دنیا کے کانٹے تو پھولوں کے دامن میں کانٹے ہی رہتے ہیں لیکن اللّه والے ایسے پھول ہیں کہ ان کی صحبت میں رہنے والے کانٹے بھی پھول بن جاتے ہیں.

جس کو خود کی تعریف کرانا یا ایسی کوئ حرکت ہو جس سے کوئ آپ کی تعریف کرے تو سمجھو وہ برباد ہوگیا۔ کیونکہ اپنے آپ کی تعریف کرنا کرانا یا کوئ کرے یہ اوصافِ خودی و نفسِ امارہ کی سب سے بڑی بات ہے۔ اور اپنے نفس سے جہاد کرنا تصوف و طریقت میی پہلا درس ہے۔ اور نفس کی آلائیشوں سے پاک ہوکر بندہ قرب میی پہنچتا ہے اور نورِ یزدانی کے جلوٶں کو اپنے اندر دیکھ لیتا ہے۔ لیکن جب طالب کو جو ہتھیار نفس سے لڑنے کے لۓ دیا جاتا ہے جب اُسی ہتھیار سے وہ اپنے نفس کو مار نہیی پاتا تو اُس کی کوئ عبادت ریاضت وظیفہ کرنا کسی کام کا ہی نہیی۔ کیونکہ جب تک تیرا نفس باقی ہے تیری کوئ بھی عبادت قبول نہیی۔

ایک فقیر دریا کے کنارے بیٹھا تھا ...

کسی نے پوچھا بابا کیا کر رہے ہو؟
فقیر نے کہا انتظار کر رہا ہوں کی مکمل دریا بہہ جائیں تو پھر پار کروں.

اس آدمی نے کہا کیسی بات کرتے ہو بابا ... مکمل پانی بہہ انتظار میں تو تم کبھی دریا پار ہی نہیں کر پاؤ گے.

فقیر نے کہا یہی تو میں تم لوگو کو سمجھانا چاہتا ہوں کی تم لوگ جو ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہو کی ایک بار گھر کی ذمہ داریاں پوری ہو جائے تو پھر نماز پڑھوں گا، داڑھی رکھوں گا، حج کروں گا، خدمت کروں گا ...

جیسے دریا کا پانی ختم نہیں ہوگا ہمیں اس پانی سے ہی پار جانے کا راستہ بنانا ہے اسی طرح زندگی ختم ہو جائے گی پر زندگی کے کام اور ذمہ داری کبھی ختم نہیں ہوں گے ...

نوٹ:- ہمیں چاہئے کہ جب نماز کا وقت ہو سارے کام کاج کو ایک طرف رکھ کر مسجد کی طرف سعی کرے ہم ذرا سی بات پر نماز ترک کر دیتے ہیں دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے ہم نماز کو ضائع کر دیتے ہیں۔۔اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

( نماز سے مت کہو کہ مجھے کام ہے
کام سے کہو کہ مجھے نماز پڑھنی ہے)

*پیارے دوست! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*آپ بھی اللہ تعالیٰ کے ولی بن سکتے ہیں، ان شاؑاللہ*

*بس آپ کےلگن کی بات ہے ہے کہ آپ کا روحانیت سے کتنا لگائو ہے*

🌹🌹🌹*اپنی زندگی میں درود شریف کی کثرت لازمی کریں تاکہ ہماری محبت ہمارے نبی کریم ﷺ سے زیادہ اضافہ ہو، یہی تو قربانی ہے ورنہ صرف محبت کا نعرہ لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا*🌹🌹🌹

🌿🍇🌹🌱🌴🌴🌱🌹🌿
*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ،*
*اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ*
🌴🌱🌿🍇🌹🌿🌱🌴

Address

Lahore

Telephone

+923330445708

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anjuman Sarfroshan E Islam Lahore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Anjuman Sarfroshan E Islam Lahore:

Share