13/08/2026
قرآنِ مجید کے الفاظ، ان کی گرامر اور ان کی باطنی حقیقت پر ایک ایسا شاندار اور انتہائی باریک سوال ہے جو کائنات کے سب سے بڑے راز (موت) کو کھول کر رکھ دیتا ہے۔
قرآن مجید میں اللَّه تعالٰی نے یہ نہیں کہا کہ
"كُلُّ رُوحٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ"
(ہر روح موت کا ذائقہ چکھے گی) اور نہ ہی یہ کہا کہ
"كُلُّ اِنْسَانٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ"
(ہر انسان موت کا ذائقہ چکھے گا)۔ بلکہ اللَّه نے سورۃ آل عمران (آیت ایک سو پچاسی) میں ایک بہت ہی خاص لفظ استعمال کیا
"كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ"
(ہر "نفس" موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔)
آئیے قرآن، عربی لغت اور اسلامی فلسفے کی روشنی میں اس کی گہرائی کو سمجھتے ہیں کہ روح، انسان اور نفس میں کیا فرق ہے، اور موت صرف "نفس" کو کیوں آتی ہے
1- "انسان" کو موت کیوں نہیں کہا گیا؟ (انسان کیا ہے؟)
عربی زبان میں "انسان" صرف مٹی کے اس پتلے (جسم) کو نہیں کہتے، بلکہ انسان = جسم + روح + نفس کا مجموعہ ہے۔
اگر اللَّه کہتا کہ "ہر انسان مرے گا"، تو اس کا مطلب ہوتا کہ اس کا جسم، اس کی روح اور اس کی ہر چیز ختم ہو جائے گی۔ لیکن شریعت کے مطابق ایسا نہیں ہوتا۔ جسم گل سڑ جاتا ہے، لیکن انسان کا شعور اور اس کی روح مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے (عالمِ برزخ میں) اس لیے اللَّه نے انسان کا لفظ استعمال نہیں کیا تاکہ یہ ثابت رہے کہ موت ایک مکمل خاتمہ نہیں، بلکہ صرف ایک "منتقلی" ہے۔
2- "روح" کو موت کیوں نہیں کہا گیا؟ (روح کی حقیقت)
روح اللَّه کا امر (نوری حکم) ہے۔ یہ عالمِ خلق کی نہیں، عالمِ امر کی چیز ہے۔ چونکہ روح اللَّه کی طرف سے آئی ہوئی ایک خالص انرجی اور روشنی ہے، اس لیے روح کو کبھی موت آ ہی نہیں سکتی۔ روح لازوال ہے۔ اگر اللَّه کہتا کہ "ہر روح موت کا ذائقہ چکھے گی"، تو یہ اللَّه کی اپنی دی ہوئی ابدی زندگی کی نفی ہوتی۔ روح کبھی مرتی نہیں، وہ صرف جسم کی قید سے آزاد ہو کر پرواز کر جاتی ہے۔
3- تو پھر "نفس" کیا ہے؟ اور موت اسی کو کیوں آتی ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کا اعجاز سامنے آتا ہے۔ نفس
(The Self / The Soul's connection with the Body)
جب اللَّه کی "روح" مٹی کے اس "جسم" میں داخل ہوتی ہے، تو ان دونوں کے ملنے سے جو چیز پیدا ہوتی ہے (یعنی انسانی شعور، اس کی خواہشات، اس کا ڈر، اس کی بھوک، اس کی پہچان)، اسے "نفس" کہا جاتا ہے۔ نفس وہ چیز ہے جو گناہ کرتا ہے (نفسِ امارہ)، نفس وہ ہے جو توبہ کرتا ہے (نفسِ لوامہ) اور نفس وہ ہے جو سکون پاتا ہے (نفسِ مطمئنہ)
موت نفس کو کیوں آتی ہے؟
آیت میں غور کریں! اللَّه نے یہ نہیں کہا کہ "نفس مر جائے گا"، اللَّه نے کہا ہے
"كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ"
(ہر نفس موت کا 'ذائقہ چکھنے' والا ہے)
ذائقہ کون چکھتا ہے؟ جو زندہ ہو! جب موت کا وقت آتا ہے، تو روح جسم سے الگ ہوتی ہے۔ اس الگ ہونے کے عمل میں جو تکلیف، گھبراہٹ، درد یا سکون محسوس ہوتا ہے، وہ اس "نفس" (انسان کے شعور) کو محسوس ہوتا ہے۔ موت دراصل ایک کڑوا (یا میٹھا) شربت ہے، جو اللَّه ہر نفس کو پلاتا ہے تاکہ وہ اس دنیا (تھری ڈی ڈائمنشن) کا کنکشن توڑ کر، برزخ کے ڈائمنشن میں داخل ہو جائے۔ نفس مرتا نہیں ہے، وہ صرف اس موت کے عمل کا "ٹیسٹ (ذائقہ)" لیتا ہے اور اگلی دنیا میں زندہ پہنچ جاتا ہے۔
روح کبھی نہیں مرتی کیونکہ وہ اللَّه کا امر ہے۔ جسم کو موت کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ وہ بے جان مٹی بن جاتا ہے۔ موت کا درد اور ذائقہ صرف اور صرف "نفس" (ہمارے شعور اور ہماری 'میں') کو چکھنا پڑتا ہے، جس دن اس کا جسم سے کنکشن توڑا جاتا ہے!۔