15/09/2022
رسول اللہ ﷺ اور جنگل کے شیروں کا دلچسپ واقعہ ۔ ❤
انسان تو حسن کے طالب ہے ہی ہے لیکن اللہ پاک نے حضور ﷺ کے حسنِ مبارکہ میں وہ راہنائی رکھی ہے کہ جنگل کے پرند چرند جانور بھی حسن مصطفٰی ﷺ کے دیدار کے طالب آتے ہیں ۔جو ذکر کرنے جارہا ہوں کتاب کا نام( ذوقِ خطیب)
اس سے پڑھ کر لکھ رہا ہوں توجہ سے پڑھے ۔بڑی پیاری بات بزرگ لکھتے ہیں ۔جب حضرت حلیمہ ؓ کے ہاں رسول اللہ ﷺ پرورش فرما رہے تھے جب آپﷺ کی عمر age 3 سال ہوئی تو آپﷺ نے حضرت حلیمہ سعدیہ سے فرمایا اماں میرے بھائی روزانہ کہاں جاتے ہیں ۔ کہا بیٹا یہ بکریاں چرانے جاتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اماں میرا بھی دل کرتا ہے میں بھی اپنے بھایئوں کے ساتھ بکریاں چرانے جاو ۔حضرت حلیمہ نے کہاں نہیں بیٹا تم بہت نرم و نازک ہو کہی تمہیں دھوپ نا لگ جائے ۔ آپﷺ کی منہ بولی بہن شیما ساتھ کھڑی تھی کہنے لگی اماں تم دھوپ کی بات کرتی ہو ۔جب میں بھائی محمد ﷺ کے ساتھ بکریاں چرانے جاتی ہوں تو آسمان سے بادل آکر ہم پر سایا کرتے ہیں ۔رسول اللہ ﷺ نے بہت اصرار کیا تو حضرت حلیمہ ؓ نے اجازت دے دی۔ایک دن حضور ﷺ گے بکریاں چرانے اس طرح چار پانچ دن حضور ﷺ بکریاں چرانے کےلیے ساتھ جاتے رہے ۔ایک دن حضرت حلیمہ ؓ نے روک دیا کہا بیٹا محمد ﷺ آج کے بعد تم نے بکریاں چرانے نہیں جانا ۔ایک دن بھی گزر گیا دوسرا تیسرا دن بھی گزر گیا تیسرے دن حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ کا بیٹا روتا ہوا آیا ۔ حضرت حلیمہ نے پوچھا بیٹا کیا ہوا کیوں رورہے ہو ۔کہا اماں ہماری بکری کو شیر اٹھا کرلے گیا ہے ۔جب حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ نے یہ بات سنی تو حضرت حلیمہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔جب رسول اللہ ﷺ کی نگاہ کرم حضرت حلیمہ کے رخسار پر پڑھی آپﷺ نے دیکھا حضرت حلیمہ رو رہی ہے فرمایا اماں روتی کیوں ہو ۔حلیمہ سعدیہ نے کہا بیٹا محمد ہماری بکری کو شیر اٹھا کر لےگئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اماں رو نہیں آ ہم اپنی بکری کو شیروں سے لے کر آتے ہیں آپﷺ کی ابھی تین سال کی عمر مبارک تھی ۔ حضرت حلیمہ نے کہا بیٹا محمد ایسا نہیں ہوتا ۔ آپﷺ نے فرمایا اماں وہ کسی اور کے کہنے پر نہیں ہوتا جب میں محمد کہوں گا تو جنگل کے شیر بکری لے کر آجائیں گے ۔چنانچہ جب آپﷺ حضرت حلیمہ کو ساتھ لےکر اپنی۔بستی سے جنگل کی طرف آتے ہیں تو آقا ﷺ نے آواز دی اے جنگل کے شیروں میری ماں کی بکری واپس کردو، ۔بس اتنا فرمانا تھا جنگل کے شیر دوڑتے ہوئے حضرت حلیمہ کی بکری سا۔تھ لیے ، شیر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہیں فوراً رسول اللہ کے قدموں میں اپنا سر رکھتے ہیں آپﷺ نے فرمایا اے شیروں تمہیں نہیں پتا تھا کہ بکری ہماری ہے بتاؤ میری اماں کی بکری کو تم نے کیوں اٹھایا ۔پتا ہے جنگل کے شیر کیا کہتے ہیں شیروں نے عرض کی اے اللہ کے حبیب ﷺ آپ جب بکریاں چرانے آتے تھے, تو ہم چھپ چھپ کر آپﷺ کا دیدار کرتے تھے آپﷺ کے حسن و جمال کو دیکھتے تھے کائنات بنانے والے نے اپنا محبوب کیسا بنایا ہے۔پر آقا ﷺ جب تین 3 دن گزرگئے آپﷺ تشریف نہیں لائے ہم سے بڑے شیر نے کہا اگر حضور ﷺ کا دیدار دوبارہ کرنا ہے تو حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بکری اٹھا لو محمد ﷺ بکری چھڑانے آئیں گے اسی بہانے دیدار ہوجائے گا ۔ یارسول اللہ ﷺ بہانہ تو بکری کا تھا اصل میں آپ کے دیدار کا بکری بہانہ تھا ۔
سبحان اللہ اے لوگوں غور کرو جس نبی کے جلوے کو دیکھنے کےلیے جنگل کے شیر بھی ترسے پھر مومن کا بھی حق بنتا ہے نا سب محبتوں سے بڑھ کر اپنی آقا ﷺ سے محبت کرے۔ اپنی نگاہوں کو حیا سے پرنور کرو اور اپنی نگاہوں میں ہروقت رسول اللہ ﷺ کے حسن کی تجلی رکھو ۔
کتاب کا حوالہ اوپر دیا ہے ✍✍ کتاب کا نام( ذوقِ خطیب)
تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیراﷺ
نہ بن سکی ہے، نہ بن سکے گا، مثال تیری جواب تیراﷺ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم