24/04/2026
شخصیت پرستوں سے بہت ہی معذرت کے ساتھ۔۔۔۔۔
سورج اللہ رَب العالمین کی بہت عظیم نعمت ہے، گھر کا صحن یا چھت ہمارا ہے، سولر پینلز اپنے پیسوں سے خریدے ہیں، اِس سارے پروجیکٹ پر پیسے ہمارے لگے ہیں تو حکومت کے ادارے سے اجازت کِس بات کی؟ اِس کے اوپر ٹیکس کِس بات کا؟ پوری دُنیا میں سولر لگانے کیلئے صوبائی حکومتیں مالی مدد کرتی ہیں یا بلاسود آسان اقساط پر قرضہ بھی دیتی ہیں اور بعض ممالک میں نیٹ میٹرنگ کی سہولت بھی موجود ہے، خرید اور فروخت میں اتنا فرق نہیں ہے۔
یہ یا وُہ حُکمران عوام کو کوئی بہتر سہولتیں تو دے نہیں سکتے اور نہ ہی اِن کے پاس وُہ جذبہ اور دیانت ہے کہ وُہ اپنے آپ کو "اللہ تعالیٰ کا نائب" سمجھتے ہوں۔
یہ کِس قدر بیغیرتی اور ذلالت کی انتہاء ہے کہ "اللہ تعالیٰ کی عطا کردا عظیم نعمت سورج پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"، اگر آج وُہ اِس مزموم مقصد میں کامیاب ہو گئے تو کل آکسیجن ٹیکس بھی لگ جائیگا"۔
میرا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ملک میں انتشار پھیلے، لیکن عوام کو متحد ہو کر حکومتی منفی ہتھکنڈوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنا ہو گا، دوسرا اقدام احتجاج لیکن وُہ بھی پُرامن۔
*"آئیں پورا سوچیں آدھا نہیں، آج آپ کی خاموشی آپ کے بچوں کے حقوق سلب کروا دیگی اور آپ کے بچے بزدل بن جائیں گے وُہ اپنے جائز حق کیلئے بھی کبھی کوئی قدم نہیں اُٹھائیں گے۔"*
*"اتحاد و اتفاق میں عظیم برکت بھی ہے اور اتحاد و اتفاق کامیابی کی ضمانت ہیں۔"*