Tahafuz E Namoos E Risalat Mahaaz

Tahafuz E Namoos E Risalat Mahaaz Tahaffuz E Namoos E Risalat Mahaaz is a Religious Organizaton Belongs to Ahl E Sunnat Hanafi Maslak.

پریس ریلیزتحفظ ناموس رسالت محاذ لاہورتحفظ ناموس رسالت محاذ کی ایگزیکٹو باڈی کا اہم اجلاس بروز جمعہ 8 مئی 2026 جامعہ حنفی...
11/05/2026

پریس ریلیز
تحفظ ناموس رسالت محاذ لاہور

تحفظ ناموس رسالت محاذ کی ایگزیکٹو باڈی کا اہم اجلاس بروز جمعہ 8 مئی 2026 جامعہ حنفیہ غوثیہ، بھاٹی چوک لاہور میں منعقد ہوا، جس میں محاذ کی تنظیمی و انتظامی سرگرمیوں، بالخصوص حالیہ منعقدہ استحکام پاکستان کانفرنس کے انتظامی امور، عوامی پذیرائی اور بعد از کانفرنس پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں مختلف امور کے حوالے سے اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ استحکام پاکستان کانفرنس نے نظریۂ پاکستان، تحفظ عقائد اہلِ سنت اور قومی استحکام کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب کیے۔ شرکاء اجلاس نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے جید علماء کرام، مشائخ عظام، مذہبی و سماجی شخصیات، میڈیا نمائندگان اور دیگر معزز مہمانانِ گرامی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کے تعاون کو قابلِ قدر قرار دیا۔
ایگزیکٹو باڈی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ
21 جون 2026 بروز اتوار صبح 9 بجے
“تحفظ ناموس صحابہ و اہلِ بیت ریلی”
تحفظ ناموس رسالت محاذ کے پلیٹ فارم سے بھرپور انداز میں نکالی جائے گی، جس میں علماء کرام، مشائخ عظام، طلبہ، نوجوانانِ اہلِ سنت اور عوام الناس کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ ریلی کا مقصد عظمتِ صحابہ کرامؓ و اہلِ بیت اطہارؓ کے تحفظ، اتحادِ امت اور فتنہ پرست عناصر کے خلاف اہلِ سنت کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہوگا۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ آئندہ ایک ہفتہ کے اندر محاذ کا مکمل تنظیمی سیٹ اپ تشکیل دے کر مختلف شعبہ جات کی ذمہ داریاں اہل و موزوں افراد کو تفویض کر دی جائیں گی، تاکہ محاذ کی سرگرمیوں کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔
شرکاء اجلاس نے متفقہ طور پر محاذ کی سپریم کونسل تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا، جو تنظیمی رہنمائی، پالیسی سازی اور اہم معاملات میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔
اجلاس میں عقائدِ اہلِ سنت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
آخر میں فیصلہ کیا گیا کہ محاذ کا آئندہ جائزہ اجلاس بروز جمعہ 15 مئی 2026 کو منعقد ہوگا، جس میں تنظیمی پیش رفت اور دیگر امور کا جائزہ لیا جائے گا۔
جاری کردہ:
مرکزی دفتر
تحفظ ناموس رسالت محاذ لاہور

استحکامِ پاکستان کانفرنس کی بھرپور پرنٹ میڈیا کوریج۔۔۔!!!بتاریخ: 30 اپریل 2026ء، بروز جمعراتمقام: الحمراء ہال، مال روڈ ل...
04/05/2026

استحکامِ پاکستان کانفرنس کی بھرپور پرنٹ میڈیا کوریج۔۔۔!!!

بتاریخ: 30 اپریل 2026ء، بروز جمعرات
مقام: الحمراء ہال، مال روڈ لاہور

زیرِ انتظام:
تحفظ ناموسِ رسالت محاذ لاہور

الحمدللہ! استحکامِ پاکستان کانفرنس کو قومی اخبارات اور پرنٹ میڈیا میں نمایاں کوریج حاصل ہوئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ کانفرنس ملکی استحکام، نظریاتی تحفظ اور دینی اقدار کے فروغ کے حوالے سے ایک مؤثر اور بھرپور آواز ثابت ہوئی۔









01/05/2026

اعلامیہ / استحکام پاکستان کانفرنس

بروز جمعرات 30 اپریل 2026ء، الحمراء ہال، مال روڈ لاہور میں ”تحفظ ناموس رسالت محاذ“کے زیر اہتمام عظیم الشان استحکام پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ملک بھر سے جید علماء کرام، مشائخ عظام، اہلسنت تنظیمات کے قائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

استحکام پاکستان کانفرنس میں ان نکات پر مشتمل اعلامیہ جاری کیا جارہا ہے۔
1۔ قیامِ پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ برصغیر پاک و ہند کے علماء و مشائخ اہل سنت نے تاریخی جد وجہد کر کے اس اس تحریک کو کامیاب بنایا جس کے نتیجہ میں مملکت خدادا پاکستان معرض وجود میں آئی۔
2۔ استحکام پاکستان کانفرنس کے شرکاء اپنے ان عظیم محسنین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی مثالی کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہوئے ان کے کردار کو مشعل راہ بنائیں گے۔
3۔ اہلسنت کے علماء و مشائخ نے ہی قیام پاکستان کے بعد اس کی سلامتی اور استحکام کے لئے ہمیشہ ریاست پاکستان کا ساتھ دے کر ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا۔ اس سلسلہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ تحفظ ناموس رسالت محاذ کے سربراہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید ؒ نے اسی کاز کے لئے جام شہادت نوش فرمایا۔
4۔ ملک میں طالبانائزیشن، دہشت گردی، داعش اور فتنہ الخوارج کی ملک دشمن سرگرمیوں کے سد باب کے لئے علماء اہل سنت ہی نے فتاوی جات جاری کر کے، تحفط پاکستان اور استحکام پاکستان کانفرنسزاور ریلیوں کا انعقاد کر کے اس ملک کی نظریاتی حدود کے تحفظ کے لئے قابل رشک کردار ادا کیا۔
5۔اہل سنت و جماعت کے علماء، مشائخ، سنی تنظیمات اور اداروں نے ہمیشہ اپنی ریاست کا ساتھ دیا۔ ملک میں داخلی استحکام اور بیرونی جارحیت کو روکنے کے لئے ریاستی پالیسیوں کی بھرپور حمایت کی۔
6۔ استحکام پاکستان کانفرنس کے شرکاء آپریشن”بنیان المرصوص“ کے زریعے پاکستان کے بد ترین اور دیرینہ دشمن ہندوستان کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کرنے پر ایک مرتبہ پھر ریاست پاکستان، افواج پاکستان اور پاکستان کی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
7۔ ہم حالیہ دنوں میں ایران، امریکہ جنگ بندی، عرب ممالک کو حالیہ جنگ سے دور رکھنے کے لئے ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان کی خدمات اور کاوشوں کو مسلم امہ کی بقاء کے لئے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
8۔ وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب کی اس سلسلہ میں کاوشیں قابل قدر ہیں۔ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند ہوا اور اقوام عالم میں پاکستان کی قدر و منزلت بڑھی ہے اس پر ہم ان تمام احباب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔
9۔ اہلسنت وجماعت پاکستان کے حقیقی خیر خواہ اور اس سے بے لوث اور بے پناہ محبت کرنے والے ہیں۔ اہل سنت و جماعت کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ یہ جماعت ہمیشہ سے پر امن اور محب وطن ہے۔یہ جماعت کبھی بھی ملک میں یا ملک سے باہر کسی تخریبی کاروائی کا حصہ نہیں بنی۔ ہماری ریاستی ذمہ داران سے گزارش ہے کہ ملک پاکستان کی نمائندہ اکثریت پرامن، محب وطن اہل سنت وجماعت کو دیوار سے نہ لگایا جائے۔ اور انہیں مایوسی میں مبتلا نہ کیا جائے۔ ایسے کسی بھی عمل کے اثرات ملک و ملّت کے لئے کبھی بھی بہتر نہیں ہو سکتے۔
10۔ مملکت خدادا پاکستان کے قیام کا مقصد چونکہ فلاحی اسلامی ریاست کا قیام تھا جو کہ 70 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ ریاست پاکستان کے تمام ذمہ داران اور بالخصوص ہم سب علماء و مشائخ کی ذمہ داری ہے کہ ہم آج تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم اقوام عالم کے سامنے مثالی اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لا کر جد جہد کریں گے۔ تا کہ اہلیان پاکستان کو ہر طرح کی محرومیوں سے نکالا جاسکے۔
11۔ استحکام پاکستان کانفرنس کے شرکاء یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ناموس رسالت ﷺ وناموس قرآن کی توہین کے مرتکب ملزمان کو موثر عدالتی کاروائی کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، بالخصوص قران مجید کے جن نسخوں پر ناپاک مواد ہے انہیں اس سے پاک کیا جائے۔
12۔ آئین پاکستان کی دفعات اور مشترکہ متفقہ دستاویز ”پیغام پاکستان“ کی روشنی میں مقدسات دین کی توہین اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے افراد کے خلاف ریاستی ادارے سخت موثر کاروائی کریں تاکہ ملک میں کسی قسم کا انتشار نہ پھیلے۔
13۔ کانفرنس کے شرکاء حالیہ دنوں میں مختلف عدالتوں کے ججز حضرات کی طرف سے مُسلّم دینی معاملات پر قابل تشویش فیصلے دینے اور ریمارکس دے کر انہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کے عمل کی مذمت کرتے ہیں۔

پریس ریلیزاستحکام پاکستان کانفرنسلاہور (نمائندہ خصوصی)آج بروز جمعرات 30 اپریل، الحمراء ہال، مال روڈ لاہور میں ”تحفظ نامو...
30/04/2026

پریس ریلیز
استحکام پاکستان کانفرنس
لاہور (نمائندہ خصوصی)
آج بروز جمعرات 30 اپریل، الحمراء ہال، مال روڈ لاہور میں ”تحفظ ناموس رسالت محاذ“ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان استحکام پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر و عالمی دنیا سے جید علماء کرام، مشائخ عظام، اہلسنت تنظیمات کے قائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ قیامِ پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ برصغیر پاک و ہند کے علماء و مشائخ اہل سنت نے تاریخی جدوجہد کرتے ہوئے اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا، جس کے نتیجے میں مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آئی۔ کانفرنس کے شرکاء نے اپنے ان عظیم محسنین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عزم کیا کہ ان کے کردار کو ہمیشہ مشعلِ راہ بنایا جائے گا۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ قیام پاکستان کے بعد علماء و مشائخ اہل سنت نے ہمیشہ ریاست پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ اس موقع پر تحفظ ناموس رسالت محاذ کے سربراہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہیدؒ کی قربانیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
کانفرنس کے شرکاء نے ملک میں دہشت گردی، طالبانائزیشن، داعش اور فتنہ الخوارج جیسی ملک دشمن سرگرمیوں کے سدباب کے لیے علماء اہل سنت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فتاویٰ، کانفرنسز اور ریلیوں کے ذریعے ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
اعلامیہ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اہل سنت و جماعت نے ہمیشہ ریاست کا ساتھ دیا ہے اور داخلی استحکام و بیرونی جارحیت کے خلاف ریاستی پالیسیوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔
کانفرنس کے شرکاء نے آپریشن ”بنیان المرصوص“ کے ذریعے دشمن کو مؤثر جواب دینے پر ریاست پاکستان، افواج پاکستان اور حکومت پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔ مزید برآں حالیہ عالمی صورتحال میں ایران، امریکہ جنگ بندی اور عرب ممالک کو کشیدگی سے دور رکھنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا گیا۔
اعلامیہ میں وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی خدمات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان اقدامات سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔
شرکاء نے واضح کیا کہ اہل سنت و جماعت پاکستان کی ایک پرامن، محب وطن اور ریاست کی حقیقی خیر خواہ اکثریت ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طبقے کو دیوار سے لگانے کے اقدامات سے گریز کیا جائے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک فلاحی اسلامی ریاست کا قیام تھا، جس کے لیے تمام طبقات خصوصاً علماء و مشائخ کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ ملک کو حقیقی معنوں میں ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ناموس رسالت ﷺ اور ناموس قرآن کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور مؤثر قانونی کارروائی کی جائے اور قرآن مجید کے نسخوں کو ناپاک مواد سے پاک کیا جائے۔ مزید برآں آئین پاکستان اور ”پیغام پاکستان“ کی روشنی میں مذہبی منافرت اور مقدسات کی توہین کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیہ کے آخر میں حالیہ عدالتی فیصلوں اور ریمارکس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلّم دینی معاملات کو متنازع بنانے سے گریز کیا جائے تاکہ ملک میں انتشار کی فضا پیدا نہ ہو۔
کانفرنس کے اختتام پر ملکی استحکام، سلامتی اور عالم اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
قراردادیں:
استحکام پاکستان کانفرنس میں متفقہ طور پر متعدد قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن میں مطالبہ کیا گیا کہ ایران اور اسرائیل فوری طور پر مکمل جنگ بندی کریں تاکہ عالم انسانیت کو جانی و مالی نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
قراردادوں میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ غزہ، فلسطین، لبنان اور دیگر اسلامی ممالک میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔
شرکاء نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے بعض حالیہ ریمارکس اور فیصلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معزز عدالتوں کے ججز مسلم دینی معاملات کو متنازع بنانے سے گریز کریں تاکہ معاشرے میں انتشار پیدا نہ ہو۔
مزید مطالبہ کیا گیا کہ آئین پاکستان کی متعلقہ دفعات اور ”پیغام پاکستان“ کی روشنی میں مقدسات دینیہ کی توہین کا سدباب کیا جائے، خصوصاً سوشل میڈیا پر کڑی نگرانی رکھی جائے اور ذمہ دار ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔
قراردادوں میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت ﷺ اور دیگر مقدسات سے متعلق زیر التواء مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، جبکہ ایسے افراد کو فیصلے تک ہر قسم کی تحریر و تقریر سے روکا جائے۔
اجتماع میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ کا مکمل نفاذ عمل میں لایا جائے اور ریاستی نظام کو قرآن و سنت کے مطابق استوار کیا جائے۔
شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ توانائی بحران پر قابو پایا جائے اور بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، جبکہ غیر ضروری اخراجات اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی کی جائے۔
قراردادوں میں سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ باہمی کشیدگی کم کر کے ملک میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، کیونکہ سیاسی استحکام ہی امن و معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
مزید مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے۔
آخر میں مدارس دینیہ کے حوالے سے مطالبہ کیا گیا کہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان اور سہل بنایا جائے، مالی معاملات میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور چرمہائے قربانی کے لیے این او سی کی سخت شرائط میں نرمی کی جائے۔
کانفرنس میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشبندی (صدر تحفظ ناموس رسالت محاذ)، علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی (چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان)، علامہ صاحبزادہ عبدالمصطفی ہزاروی (ناظم اعلی جامعہ نظامیہ رضویہ)، صاحبزادہ پیر محمد حسان حسیب الرحمن (زیب سجادہ آستانہ عالیہ عیدگاہ شریف)، ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری (چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب)، صاحبزادہ پیر سید حسنین فاروق شاہ (سجادہ نشین درگاہ عالیہ چورہ شریف)، پیر سائیں خواجہ اسرار الحق چشتی نظامی (آستانہ عالیہ چشتیہ نظامیہ، ڈیفنس۔ لاہور)، الحاج صوفی شوکت علی قادری (جامعہ انوار مدینہ)، سید لخت حسنین شاہ (چیئرمین مسلم ہینڈز انٹرنیشنل)، بریگیڈیئر (ر) محمد شفیع غازی، محمد شاداب رضا نقشبندی، (سربراہ سنی تحریک) علامہ مفتی اسداللہ نوری اشرفی (ناظم اعلی جامعہ غوثیہ رضویہ گلبرگ) پیر شبیر احمد شفیعی نظامی، مظہر محمود بھٹی ایڈووکیٹ (ممبر پنجاب بار کونسل)، علامہ مفتی محمد رمضان سیالوی، (خطیب جامع مسجد داتا دربار لاہور) صاحبزادہ پیر محمد بن محسن یوسفی، صاحبزادہ پیر طاہر نذیر نقشبندی (آستانہ عالیہ روح بلند)، صاحبزادہ مفتی حسن علی قادری (امیر جماعت اہل سنت پاکستان ضلع قصور)، پیر سید محمد عثمان شاہ نوری گیلانی (آستانہ عالیہ چک سادہ شریف۔ گجرات)، پیر سید محمد واجد علی شاہ گیلانی(آستانہ عالیہ کوٹلی میانی شریف)، علامہ قاری محمد افضل باجوہ (امیر تحریک فدایان ختم نبوت)، علامہ مولانا قاضی عبدالغفار قادری، مولانا محمد کامران رضا قادری (آرگنائزر جماعت اہل سنت پاکستان ضلع ننکانہ)، علامہ طاہر رضا قادری (صوبائی صدر، پاکستان سنی تحریک وسطی پنجاب)، پیر نصیر احمد اشرفی (آستانہ عالیہ اشرفیہ شاہدرہ)، علامہ پروفیسر حافظ محمد عطا الرحمن رضوی، صاحبزادہ پیر محمد فاروق احمد ربانی ہمدمی (آستانہ عالیہ ہمدم۔ چھانگا مانگا)، صاحبزادہ محمد فاروق قادری (جامعہ اسلامیہ لاہور)، پیر محمد شہوار حسین عثمانی
تحفظ ناموس رسالت محاذ کے قائدین میں علامہ مولانا محمد علی نقشبندی (جنرل سیکرٹری تحفظ ناموس رسالت محاذ)، علامہ پیر محمد اصغر نورانی، علامہ پیر ذوالفقار مصطفی ہاشمی قادری، صاحبزادہ پیر محمد حفیظ اظہر، صاحبزادہ پیر بشیر احمد یوسفی، علامہ پیر محمد اعظم علی نعیمی، صاحبزادہ مفتی محمد طاہر شہزاد سیالوی، صاحبزادہ پیر معاذالمصطفی القادری (چیف آرگنائزر جماعت اہل سنت پاکستان صوبہ پنجاب)، ڈاکٹر مفتی محمد حسیب قادری، مولانا محمد احسان الحق صدیقی، مولانا قاری مختار احمد سیالوی، علامہ مولانا عمران الحسن فاروقی، علامہ مولانا محمد نعیم جاوید نوری، علامہ مفتی محمد انوار طارق، سردار محمد طاہر ڈوگر، مولانا پیر محمد ارشد نعیمی، علامہ پروفیسر ممتاز احمد ربانی (ناظم اعلی جماعت اہل سنت پاکستان لاہور ڈویزن)، علامہ مفتی قیصر شہزاد نعیمی، علامہ مفتی محمد عمران حنفی، علامہ مفتی مسعود الرحمن، علامہ صاحبزادہ محمد عبداللہ ثاقب قادری و دیگر شامل تھے

جب کہ دیگر علماء و مشائخ میں علامہ محمد رمضان شاد، علامہ مفتی محمد طارق سراجوی، علامہ مولانا ثناء اللہ سیالوی، علامہ مفتی عارف ستار القادری، علامہ مفتی محمد کاشف جمیل قادری، مولانا قاری ریاض احمد ہزاروی، مولانا محمد اسلم حیات سلطانی، مولانا رب نواز حقانی، مولانا عبداللطیف سیالوی، علامہ مفتی محمد سلیم نقشبندی، مولانا حافظ محمد یونس قادری، مولانا پیر محمد نصراللہ قادری، صاحبزادہ عبدالمصطفی چشتی سیالوی، مولانا غلام فرید فریدی، مولانا محمد اشرف علی سعیدی، مولانا اطیب شاکر، مولانا ساجد گولڑوی، مفتی صداقت اعوان، مولانا محمد اشرف اعوان، مولانا غلام محی الدین، مولانا نعیم اختر، مولانا فضل کریم چشتی، مولانا گلزار احمد کمال، مولانا زیشان شاہ، مولانا حافظ محمد عبدالقادر، علامہ ڈاکٹر مفتی عمران انور نظامی، صاحبزادہ پیر جنید علوی، مولانا حافظ محمد عثمان، محمد احمد قادری، مولانا عرفان صدیقی، مولانا افتخار احمد چشتی و دیگر شامل تھے۔
جاری کنندہ:
میڈیا سیل
تحفظ ناموس رسالت محاذ

چلو! چلو! الحمرا ہال لاہور چلو!اولیاء کا ہے فیضان… پاکستان، پاکستان!پاکستان بنایا تھا… پاکستان بچائیں گے!تحریکِ پاکستان ...
30/04/2026

چلو! چلو! الحمرا ہال لاہور چلو!
اولیاء کا ہے فیضان… پاکستان، پاکستان!
پاکستان بنایا تھا… پاکستان بچائیں گے!
تحریکِ پاکستان کے عظیم مجاہدین، علماء و مشائخِ اہلِ سنت کی بے مثال جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے،
پاکستان کی نظریاتی اساس کے تحفظ اور مملکتِ خداداد کو ایک کامیاب اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے عزم کے ساتھ،
عالمی سامراج کی بڑھتی ہوئی مداخلت و جارحیت کے سدِّباب کے لیے،
اور اپنی قومی و ملی ذمہ داریوں کے احساس اور تجدیدِ عہد کے لیے…
عشقِ رسول ﷺ کی حرارت، اولیاءِ کرام کے فیضان اور وطنِ عزیز کی سلامتی کے عزم کے ساتھ
آئیے! ایک ولولہ انگیز اجتماع میں شریک ہوں…
عظیم الشان، فقید المثال
استحکامِ پاکستان کانفرنس
📅 30 اپریل، بروز جمعرات
🕐 دوپہر 1 بجے
📍 الحمرا ہال نمبر 1، مال روڈ لاہور
یہ محض ایک کانفرنس نہیں…
یہ نظریۂ پاکستان کی تجدید،
ملکی استحکام کا عہد،
اور ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کا اعلان ہے!
آئیں! اپنی بھرپور شرکت سے اس پیغام کو قوت دیں،
اپنے جذبوں سے اس محفل کو گرما دیں،
اور دنیا کو بتا دیں کہ
اہلِ سنت بیدار ہیں… اور پاکستان کے محافظ ہیں!
جوق در جوق شرکت فرمائیں!!!
زیرِ اہتمام: تحفظ ناموسِ رسالت محاذ، لاہور

29/04/2026

چلو! چلو! الحمرا ہال لاہور چلو!
اولیاء کا ہے فیضان… پاکستان، پاکستان!
پاکستان بنایا تھا… پاکستان بچائیں گے!
تحریکِ پاکستان کے عظیم مجاہدین، علماء و مشائخِ اہلِ سنت کی بے مثال جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے،
پاکستان کی نظریاتی اساس کے تحفظ اور مملکتِ خداداد کو ایک کامیاب اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے عزم کے ساتھ،
عالمی سامراج کی بڑھتی ہوئی مداخلت و جارحیت کے سدِّباب کے لیے،
اور اپنی قومی و ملی ذمہ داریوں کے احساس اور تجدیدِ عہد کے لیے…
عشقِ رسول ﷺ کی حرارت، اولیاءِ کرام کے فیضان اور وطنِ عزیز کی سلامتی کے عزم کے ساتھ
آئیے! ایک ولولہ انگیز اجتماع میں شریک ہوں…
عظیم الشان، فقید المثال
استحکامِ پاکستان کانفرنس
📅 30 اپریل، بروز جمعرات
🕐 دوپہر 1 بجے
📍 الحمرا ہال نمبر 1، مال روڈ لاہور
یہ محض ایک کانفرنس نہیں…
یہ نظریۂ پاکستان کی تجدید،
ملکی استحکام کا عہد،
اور ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کا اعلان ہے!
آئیں! اپنی بھرپور شرکت سے اس پیغام کو قوت دیں،
اپنے جذبوں سے اس محفل کو گرما دیں،
اور دنیا کو بتا دیں کہ
اہلِ سنت بیدار ہیں… اور پاکستان کے محافظ ہیں!
جوق در جوق شرکت فرمائیں!!!

زیرِ اہتمام: تحفظ ناموسِ رسالت محاذ، لاہور

اولیاء کا ہے فیضان۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان پاکستانپاکستان بنایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان بچائیں گےچلو چلوالحمراء ہال، لاہور چلوعظی...
29/04/2026

اولیاء کا ہے فیضان۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان پاکستان
پاکستان بنایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان بچائیں گے
چلو چلو
الحمراء ہال، لاہور چلو
عظیم الشان استحکام پاکستان کانفرنس۔۔۔!!!
30 اپریل، بروز جمعرات بوقت 01 بجے دوپہر

26/04/2026
پریس ریلیزلاہور:حکومتِ پاکستان کی جانب سے 15 مارچ کو یومِ ناموسِ رسالت ﷺ سرکاری سطح پر منانے کے اعلان کے سلسلہ میں تحفظ ...
16/03/2026

پریس ریلیز

لاہور:
حکومتِ پاکستان کی جانب سے 15 مارچ کو یومِ ناموسِ رسالت ﷺ سرکاری سطح پر منانے کے اعلان کے سلسلہ میں تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیرِ اہتمام ایک اہم "تحفظ ناموس رسالت سیمینار" کا انعقاد جامعہ رسولیہ شیرازیہ، بلال گنج لاہور میں کیا گیا۔

سیمینار کی صدارت شیخ الحدیث حضرت علامہ صاحبزادہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی صاحب نے فرمائی، جبکہ تحفظ ناموس رسالت محاذ کے قائدین اور مختلف دینی و سماجی شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔

مقررین نے اپنے خطابات میں ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کی اہمیت، امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں اور موجودہ دور میں درپیش چیلنجز پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ناموس کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے اور اس حوالے سے امتِ مسلمہ کو ہر سطح پر بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

مقررین نے حکومتِ پاکستان کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یومِ ناموس رسالت ﷺ کو سرکاری سطح پر منانا ایک خوش آئند قدم ہے جو امتِ مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔

اس موقع پر مقررین نے ملکی و عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور گستاخانہ رویّوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ او آئی سی (OIC) اور مسلم دنیا کے حکمران اس معاملہ میں مؤثر اور فعال کردار ادا کریں اور عالمی فورمز پر اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی، قانون سازی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

مقررین نے عالمی سامراجی قوتوں اور دشمنانِ اسلام کی جانب سے مختلف اسلامی ممالک پر جاری جارحیت، جنگی مداخلت اور ظلم و ستم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے خلاف ہونے والی جارحیت نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تعلیم، میڈیا اور بین الاقوامی مکالمہ کے ذریعے اسلام کے حقیقی پیغامِ امن، اخوت اور انسانیت کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا جائے تاکہ اسلام کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں اور تعصبات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

سیمینار کے اختتام پر ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ، ملک کی سلامتی، عالمِ اسلام کے اتحاد اور مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

بخدمت جناب صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان ہم ایک حساس دینی و قانونی مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔ ح...
28/02/2026

بخدمت جناب صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان
ہم ایک حساس دینی و قانونی مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔
حکومت پاکستان نے چاروں مکاتب فکر کے 5000 علماء و مشائخ کی تائید و توثیق سے متفقہ ضابطہ اخلاق بنام ’’پیغام پاکستان‘‘ شائع کیا۔ جس کے صفحہ نمبر 30 اور 31 میں یہ بات درج ہے :
(شق نمبر11)کہ ہر ’’مکتبہ فکر اور مسلک‘‘ کو مثبت اَنداز میں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے اِجازت ہے لیکن اِسلامی تعلیمات اور ملکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص مسلک یا ادارے کے خلاف اہانت نفرت انگیزی اور اتہام بازی پر مبنی تحریر و تقریر کی اِجازت نہیں۔
(شق نمبر 12)صراحت کنایہ اشارہ تعریض اور توریہ کے ذریعے کسی بھی صورت میں نبی کریم ﷺ اَنبیاء کرام و رسل عظام علیہم السلام‘ امہات المومنین‘ اہل بیت اطہار‘ صحابہ کرام‘ شعائر اسلام کی اہانت کے حوالے سے ضابطہ فوجداری کے ارٹیکل 295-298 کی تمام دفعات کو ریاستی اداروں کے ذریعے لفظاً اور معناً نافذ کیا جائے اور اگر ان قوانین کا کہیں غلط اِستعمال ہوا ہے تو اس کے ازالے کی احسن تدبیر ضروری ہے مگر قانون کو کسی صورت میں کوئی فرد یا گروہ اپنے ہاتھ میں لینے اور متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کا مجاز نہیں۔
مذکورہ دونوں شقوں کی روشنی میں استدعا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت کی روک تھام کے لئے حکومت‘ ریاستی اداروں اور علماء کرام نے اتفاق رائے سے ’’پیغام پاکستان‘‘ کے نام سے ضابطہ اخلاق تیار کیا۔ چاروں مکاتب فکر کے ذمہ داران اِس پر عمل کر رہے ہیں ’’لیکن ایک شخص جس کا نام ’’مرزا محمد علی جہلمی‘‘ ہے وہ اعلانیہ اِس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہا ہے حالانکہ یہ شخص ’’295C توہین رسالت‘‘ کا نامزد ملزم ہے۔ اور اِس کے علاوہ صحابہ کرام‘ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم اور اِسلام کی دیگر مسلمہ شخصیات کی توہین کا بھی ارتکاب کر چکا ہے۔
اس کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔بنیادی طور پر یہ ایک جاہل شخص ہے اور اِسلام کی من مانی تشریح کر کے فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے اور مسالک کے عقائد و نظریات کے خلاف سوشل میڈیا اور چند ایک چینلز پر رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر پروگرام کر رہا ہے۔
ہماری حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں سے درخواست ہے کہ مرزا محمد علی جہلمی کی اکیڈمی‘ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور چینل پر رمضان ٹرانسمیشن کے نام سے ہونے والے پروگرامز فوری بند کئے جائیں۔ تاکہ ملک پاکستان فرقہ واریت کی لعنت سے محفوظ ہو سکے۔

کاپی برائے
وزیر اعظم پاکستان ‘ فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز پاکستان
ڈائریکٹر جنرل آئی۔ ایس۔ آئی پاکستان ‘ ہوم سیکرٹری پنجاب منجانب: تحفظ ناموس رسالت محاذ لاہور
گورنرپنجاب ‘ وزیر اعلیٰ پنجاب جماعت اہلسنت پنجاب
ڈپٹی کمشنر جہلم ‘ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم پاکستان سنی تحریک
آر پی او راولپنڈی ‘ کمشنر راولپنڈی

Address

Jamia Rasoolia Sherazia, Bilal Gunj
Lahore

Telephone

+923004800692

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahafuz E Namoos E Risalat Mahaaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share