Turn to Allah

Turn to Allah Life changing secrets

17/10/2023

اصل ورلڈ کپ کہیں اور چل رہا ہے. وقت اور دعا کا رخ موڑ دیجیے....یا اللہ بیت المقدس کو کوئ صلاح الدین ایوبی عطا فرما۔ آمین

10/05/2023

🤝ذرا نہیں پورا سوچیے

*بعض غلطیاں کتنی اچھی ہوتی ہیں نا* ❗ہمیں اچھے اور برے کی پہچان کروا دیتی ہیں ،ہمیں یہ بتانے آتیں ہیں کہ رک جاؤ ،تھم جاؤ ،اور اپنے آپ کو نئے سرے سے سنوارؤ ،نئے سرے سے شروعات کرو ،اللہ کے آگے شرمندہ ہو کہ غلطی ہوئی ،تو یہ تو اور اچھی بات ہے کہ غلطی پر نادم ہو ڈٹے نہیں رہے ، *زبان کو استغفار کا اور دل کو خوف خدا کا تڑکا لگاتے رہو یہ جو دلوں کے جالے ہیں نا اسی سے اترتے ہیں۔*

*لوگـوں کــو خـوش کــرنا ایک ایسی ہی غلطی ہے. جس کــو کبھی حاصــل نہیــں کیا جـا سکــتا.... کیونکہ لوگ کبھی خوش ہو نہیں سکتے خواہ آپ الٹے لٹک جایں..... اس لیے بہتر یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک... اللہ کی. خوشی کی خاطر کیجئے.... لوگ خوش نہ بھی ہوے تو اللہ آپکی قدر ضرور کرے گا*

🫀♥️

👍👍
22/04/2021

👍👍

21/01/2021

💫 _*زندگی کی سب سے بڑی سچائی، زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ، زندگی کی سب سے بڑی کمزوری*_ 💫

بادشاہ کا موڈ اچھا تھا وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا؛ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے
وزیر شرما گیا اس نے منہ نیچے کر لیا۔ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا کہ تم گھبراؤ مت، بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاؤ۔ وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں
میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا۔ وزیر خاموش ہو گیا۔
بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟
وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا، بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے؟ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں؟
بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے دو احکامات لکھنے کا حکم دیا۔ بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا۔ دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا۔ وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا۔ بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا، تمہارے پاس تیس دن ہیں۔ تم نے ان تیس دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں۔ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا اور تمہیں آدھی سلطنت مل جائے گی اور اگر تم ناکام ہو گئے تو پہلا حکم خارج سمجھا جائے گا اور دوسرے حکم کے مطابق تمہارا سر اتار دیا جائے گا۔
وزیر کی حیرت پریشانی میں بدل گئی۔ بادشاہ نے اس کے بعد فرمایا؛ میرے تین سوال لکھ لو۔ وزیر نے لکھنا شروع کر دیا۔
بادشاہ نے کہا، پہلا سوال یہ ہے کہ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
وہ رکا اور بولا دوسرا سوال یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے۔ وہ رکا اور پھر بولا، تیسرا سوال یہ ہے کہ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے۔
بادشاہ نے اس کے بعد نقارے پر چوٹ لگوائی اور بآواز بلند فرمایا، تمہارا وقت شروع ہوتا ہے اب۔

وزیر نے دونوں پروانے اٹھائے اور دربار سے دوڑ لگا دی۔ اس نے اس شام ملک بھر کے دانشور، ادیب، مفکر اور ذہین لوگ جمع کئے اور سوال ان کے سامنے رکھ دیئے۔ ملک بھر کے دانشور ساری رات بحث کرتے رہے لیکن وہ پہلے سوال کے جواب پر ہی کوئی حتمی اتفاقِ رائے قائم نہ کر سکے۔ وزیر نے دوسرے دن دانشور بڑھا دیئے لیکن نتیجہ وہی نکلا۔ وہ آنے والے دنوں میں لوگ بڑھاتا رہا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر دارالحکومت سے باہر نکل گیا۔ وہ سوال اٹھا کر پورے ملک میں پھرا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ وہ مارا مارا پھرتا رہا، شہر شہر، گاؤں گاؤں کی خاک چھانتا رہا۔ شاہی لباس پھٹ گیا۔ پگڑی ڈھیلی ہو کر گردن میں لٹک گئی، جوتے پھٹ گئے اور پاؤں میں چھالے پڑ گئے۔ یہاں تک کہ شرط کا آخری دن آ گیا۔ اگلے دن اس نے دربار میں پیش ہونا تھا۔ وزیر کو یقین تھا یہ اس کی زندگی کا آخری دن ہے۔ کل اس کی گردن کاٹ دی جائے گی اور جسم شہر کے مرکزی پُل پر لٹکا دیا جائے گا۔ وہ مایوسی کے عالم میں دارالحکومت کی کچی آبادی میں پہنچ گیا۔ آبادی کے سرے پر ایک فقیر کی جھونپڑی تھی، وہ گرتا پڑتا اس کٹیا تک پہنچ گیا۔

فقیر سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کر کھا رہا تھا۔ ساتھ ہی دودھ کا پیالہ پڑا تھا اور فقیر کا کتا شڑاپ شڑاپ کی آوازوں کے ساتھ دودھ پی رہا تھا۔ فقیر نے وزیر کی حالت دیکھی، قہقہہ لگایا اور بولا، جنابِ عالی! آپ صحیح جگہ پہنچے ہیں۔ آپ کے تینوں سوالوں کے جواب میرے پاس ہیں۔ وزیر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا، آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا۔ میں کون ہوں اور میرا مسئلہ کیا ہے؟ فقیر نے سوکھی روٹی کے ٹکڑے چھابے میں رکھے، مسکرایا، اپنا بوریا اٹھایا اور وزیر سے کہا، یہ دیکھئے، آپ کو بات سمجھ آ جائے گی۔ وزیر نے جھک کر دیکھا، بوریئے کے نیچے شاہی خلعت بچھی تھی۔ یہ وہ لباس تھا جو بادشاہ اپنے قریب ترین وزراء کو عنایت کرتا تھا۔ فقیر نے کہا، جنابِ عالی! میں بھی اس سلطنت کا وزیر ہوتا تھا۔ میں نے بھی ایک بار آپ کی طرح بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کر لی تھی۔ نتیجہ آپ خود دیکھ لیجیئے ۔ فقیر نے اس کے بعد سوکھی روٹی کا ٹکڑا اٹھایا اور دوبارہ پانی میں ڈبو کر کھانے لگا۔ وزیر نے دکھی دل سے پوچھا، کیا آپ بھی جواب تلاش نہیں کر سکے تھے؟
فقیر نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا، میرا کیس آپ سے مختلف تھا۔ میں نے جواب ڈھونڈ لئے تھے۔ میں نے بادشاہ کو جواب بتائے، آدھی سلطنت کا پروانہ پھاڑا، بادشاہ کو سلام کیا اور اس کٹیا میں آ کر بیٹھ گیا۔ میں اور میرا کتا دونوں مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ وزیر کی حیرت بڑھ گئی۔ لیکن یہ سابق وزیر کی حماقت کے تجزیئے کا وقت نہیں تھا۔ جواب معلوم کرنے کی گھڑی تھی، چنانچہ وزیر اینکر پرسن بننے کی بجائے فریادی بن گیا اور اس نے فقیر سے پوچھا، کیا آپ مجھے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں؟
فقیر نے ہاں میں گردن ہلا کر جواب دیا، میں پہلے دو سوالوں کا جواب مفت دوں گا لیکن تیسرے جواب کے لئے تمہیں قیمت ادا کرنا ہو گی۔ وزیر کے پاس شرط ماننے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔ اس نے فوراً ہاں میں گردن ہلا دی۔
▪️فقیر بولا، دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے۔ انسان کوئی بھی ہو، کچھ بھی ہو، وہ اس سچائی سے نہیں بچ سکتا۔ وہ رکا اور بولا
▪️”انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی کو دائمی سمجھ کر اس کے دھوکے میں آ جاتا ہے۔“
فقیر کے دونوں جواب ناقابل تردید تھے۔ وزیر سرشار ہو گیا۔ اس نے اب تیسرے جواب کے لئے فقیر سے شرط پوچھی۔

فقیر نے قہقہہ لگایا، کتے کے سامنے سے دودھ کا پیالہ اٹھایا، وزیر کے ہاتھ میں دیا اور کہا، میں آپ کو تیسرے سوال کا جواب اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک آپ یہ دودھ نہیں پیتے۔ وزیر کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ اس نے نفرت سے پیالہ زمین پر رکھ دیا۔ وہ کسی قیمت پر کتے کا جوٹھا دودھ نہیں پینا چاہتا تھا۔ فقیر نے کندھے اچکائے اور کہا، ٹھیک ہے، تمہارے پاس اب دو راستے ہیں، تم انکار کر دو اور شاہی جلاد کل تمہارا سر اتار دے یا پھر تم یہ آدھ پاؤ دودھ پی جاؤ اور تمہاری جان بھی بچ جائے اور تم آدھی سلطنت کے مالک بھی بن جاؤ۔ فیصلہ بہرحال تم نے کرنا ہے۔“ وزیر مخمصے میں پھنس گیا۔ ایک طرف زندگی اور آدھی سلطنت تھی اور دوسری طرف کتے کا جوٹھا دودھ تھا۔ وہ سوچتا رہا، سوچتا رہا یہاں تک کہ جان اور مال جیت گیا اور عزتِ نفس ہار گئی۔ وزیر نے پیالہ اٹھایا اور ایک ہی سانس میں دودھ پی گیا۔
فقیر نے قہقہہ لگایا اور بولا،
▪️میرے بچے! انسان کی سب سے بڑی کمزوری غرض ہوتی ہے۔ یہ اسے کتے کا جوٹھا دودھ تک پینے پر مجبور کر دیتی ہے اور یہ وہ سچ ہے جس نے مجھے سلطنت کا پروانہ پھاڑ کر اس کٹیا میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ میں جان گیا تھا، میں جوں جوں زندگی کے دھوکے میں آؤں گا، میں موت کی سچائی کو فراموش کرتا جاؤں گا اور میں موت کو جتنا فراموش کرتا رہوں گا، میں اتنا ہی غرض کی دلدل میں دھنستا جاؤں گا اور مجھے روز اس دلدل میں سانس لینے کے لئے غرض کا غلیظ دودھ پینا پڑے گا۔ لہٰذا میرا مشورہ ہے، زندگی کی ان تینوں حقیقتوں کو جان لو، تمہاری زندگی اچھی گزرے گی۔“

وزیر خجالت، شرمندگی اور خود ترسی کا تحفہ لے کر فقیر کی کٹیا سے نکلا اور محل کی طرف چل پڑا۔ وہ جوں جوں محل کے قریب پہنچ رہا تھا، اس کے احساسِ شرمندگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اس کے اندر ذلت کا احساس بڑھ رہا تھا۔ وہ اس احساس کے ساتھ محل کے دروازے پر پہنچا۔ اس کے سینے میں خوفناک ٹیس اٹھی، وہ گھوڑے سے گرا، لمبی ہچکی لی اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

محترم دوستوں اس کہانی سے ہمیں ضرور سبق حاصل کرنا چاہیئے۔ فرمان رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے کہ" دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم مسافر ہو۔" یعنی مسافر کی ایک منزل ہوتی ہے اور ہماری منزل جنت ہے نہ کہ دنیا۔
لیکن ہمارا نفس ہمیں لمبی لمبی امیدوں کے چکر میں ڈال کر اللّٰہ سے غافل کر دیتا ہے۔ نہ ہم موت کے بارے میں سوچتے ہیں اور نہ ہی زندگی کے دھوکے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کبھی سوچ بھی لیں تو غفلت سے سوچ کر جھٹلا دیتے ہیں کہ ابھی بڑی لمبی عمر پڑی ہے۔ بڑھاپے میں نمازیں اور نیک اعمال شروع کر دیں گے اور اللّٰہ کی طرف لوٹ جائیں گے۔ لیکن ہو سکتا ہے موت ہمیں موقع ہی نہ دے۔ اس لئے دوستو! لمبی زندگی کے دھوکے سے بچ کر اچھے اعمال کی طرف ہمیں فوراً راغب ہو جانا چاہیئے۔ اللہ ہمیں زندگی کی حقیقت سمجھنے کی توفیق دے۔
آمین

🍃💚🍃💛

14/01/2021

" مرد کا پردہ "

بھائی!! وہ لڑکی تو دیکھ.. کیا لگ رہی ہے..
کیوں بھائی میں کیوں دیکھوں؟ کیا وہ دیکھنے کی چیز ہے جسے دیکھا جائے؟؟
یار دیکھ تو سہی بڑی بن ٹھن کے تیاری کے ساتھ نکلی ہے نمائش کرنے کا ہی انداز ہے، دیکھ تو سہی یار..
سوری بھائی میں پردہ کرتا ہوں..
ہیں...!! کیا کہا تو نے پردہ؟؟ دماغ تو ٹھیک ہے تیرا پردہ تو لڑکیاں کرتی ہیں..

میرے بھائی مجھے پتا ہے کہ لڑکیوں کے لیے پردے کا حکم ہے پر بھائی لڑکوں کے لیے بھی پردے کا حکم ہے.. جہاں عورت کے لیے پردے کا حکم ہے وہاں مرد کے لیے بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے اور یہ پردے کا حکم لڑکوں کو پہلے اور لڑکیوں کو بعد میں دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہمیں لڑکیوں کے پردے کا پتا ہے پر اپنے پردے کا پتا ہی نہیں..

مرد کا پردہ کیا ہوتا ہے؟؟
بھائی اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور آیت 30 میں کہا ہے :
مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں..
پھر آیت 31 میں عورت کو پردہ کا حکم ہے..
میرے بھائی ہمیں 31 نمبر آیت کا تو پتا ہوتا ہے لیکن ہمیں 30 آیت کا سرے سے پتا ہی نہیں ہوتا..

عورت اگر پردہ نہیں کر رہی تو وہ اپنے اوپر سراسر ظلم کر رہی ہے، نامہ اعمال تو سیاہ ہو رہا ہے پر کوئی اوباش اس کی عزت پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے.. اس کی بے پردگی آخرت میں رسوائی کا سامان تو ہے پر دنیا میں بھی رسوا ہو سکتی ہے..

لہذاٰ..!! اس کا عمل اس کے ساتھ ہے تمہارے سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ فلاں پردہ کرتی تھی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تم نے نظر جھکائی تھی؟؟ کیا اپنا پردہ کیا تھا..؟؟

ہم عورتوں کے بے پردگی پر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ حکم تو ہمارے لیے بھی ہے کہ نامحرم عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکا لیا کرو.. بے پردہ عورت کو دیکھنے کی اجازت آپ کو کس نے دی؟؟ اگر عورت نے بے پردہ ہوکر اللہ کا حکم توڑا تو آپ نے بھی اس عورت کو دیکھ کر اللہ کا حکم توڑا..

جب مجھے کوئی بتاتا ہے کہ باہر اتنی بے حیائی یا بے پردگی ہے تو میں پوچھتا ہوں
مجھے نہ بتاؤ کہ باہر کیا ہے ؟ بس یہ بتاؤ کہ تم نے کتنیوں کو دیکھ کہ اپنی نظر جھکائی ؟
کتنی حوروں سے نکاح کروایا آج ؟انگلیوں پہ گن کہ بتاؤ ۔
کیونکہ حدیث میں ہے کہ جو شخص باہر عورت کو دیکھ کہ نظر جھکا لیتا ہے اسکا نکاح فورا جنت میں موجود حور سے نکاح کردیا جاتا ہے ۔
تو وہ حیران ہوکہ شکل دیکھتے ہیں
ہائیں یہ کیا باتیں بتا رہی ہیں آپ ؟ ایسا تو علم و گمان تک نہیں

یاد رکھیں کسی نامحرم عورت کو پردہ کروانا ہم پر فرض نہیں ہے لیکن اپنی نگاہیں نیچی رکھنا اور نامحرم کو نہ دیکھنا فرض ہے.. مرد سارا الزام عورت پر لگا کر خود کو بری الزمہ سمجھتا ہے.. افسوس کہ ہماری ساری نصیحتیں صرف دوسروں کے لیے ہی ہوتی ہیں..
(امید ہے میرے بھائی اسے پردے والی پوسٹ کی طرح نصیحت سمجھ کر قبول کریں گے)
اللہ پاک آپ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے آمین جزاکم اللہ خیرا..

09/01/2021

بڑی بڑی مشکلات والی دنیا میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہر طرف بکھری ہوتی ہیں۔

روتے تو سب ہی رہتے ہیں۔ اور رلانے والوں کی بھی کمی نہیں۔

پریشان تو سب ہی رہتے ہیں ۔ اور پریشان کر کے رکھنے والے بھی کم نہیں۔

ناشکری تو اکثر ہی کرتے ہیں اور مرضی کی زندگی نہ ہونے کا رونا سب ہی کا ہے۔

*ہاں البتہ رب کے سامنے رونے والوں کی اشد کمی ہے۔*

♥️ *رب کے ولی ہونے کا سوچ کر پریشان نہ ہونے والے قلیل ہو گۓ۔*♥️

اور شکر گزاری دنیا سے جیسے مٹنے سی لگی ہو۔

ایسے میں جو قرآن سے جڑے ہوۓ ہیں کم سے کم وہ تو گلے شکوؤں،

غیبت ، جھوٹ ، بدگمانی اور گناہوں کو چھوڑنے کی طرف آئیں۔

وہ تو زبان کو تھامنے والے بنیں۔

*🌹ہمت کریں اور رب والا بنیں۔*🌹

09/01/2021

جو ہمارے حصے میں لکھ دیا گیا ہے۔ہماری قسمت میں اللہ نے لکھا ہے وہ ہمارے تک پہنچنا ہی پہنچنا ہے۔۔ہم خوش دلی سے قبول کریں یا ناخوشی سے وہ ہماری مرضی۔۔اگر ہم قرآن میں دیکھیں تو لفظ ہے مصیبتہ۔۔جس کا روٹ ہے "صوب" ۔
صوب عربی زبان میں تیر کو کہتے ہیں ۔۔ایسا تیر جو ٹھیک اپنے نشانے پہ لگے۔۔جو کبھی خطا نہ ہو۔جی یعنی کہ اللہ جب قرآن میں مصیبت کے بارے میں بات کرتے تو یہی مراد ہوتا کہ میرے بندے جو تیری زندگی میں مصیبت آئے کوئی پریشانی آئے ۔
۔وہ سب پریشانیوں کےتیر تیرے ہی تھے انہوں نے تجھ تک ہی پہنچنا تھا تو کہیں بھی چلا جا وہ تجھ تک پہنچ کر ہی دم لیں گے ۔۔
ان کے نشانے خطا نہ ہونگے ۔اب یہ تم پر ہے اے انسان تو ان سب کو کیسے قبول کرتا۔۔اللہ کا کوئی پریشانی یا تکلیف دے کر انسان سے کچھ چھیننا مقصود نہیں ہوتا۔۔بلکہ۔اللہ تو دیکھتے کہ یہ جو میرا بندا یا بندی مجھ سے اتنے محبت کے دعوے کرتے۔۔اس پر پورا بھی اترتے کہ نہیں۔۔یہ اس تیر کے لگنے پر واویلہ مچاتے اور اپنا اجر گنوا دیتے یا صبر کر کے اپنے درجات بلند کرتے۔۔۔

اللہ اپنے خاص بندوں کو دوسروں سے الگ کر لیتا ہے۔۔۔کچھ الگ ہو جاتے ہیں۔۔۔۔اور کچھ کو وہ خود کھینچ کر الگ کر لیتا ہے۔۔۔۔۔۔...
09/01/2021

اللہ اپنے خاص بندوں کو دوسروں سے الگ کر لیتا ہے۔۔۔کچھ الگ ہو جاتے ہیں۔۔۔۔اور کچھ کو وہ خود کھینچ کر الگ کر لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جانتے ہو کہ جنہیں اللہ خود کھینچ لے پھر ان کو کوئی اللہ سے جدا نہیں کر سکتا۔۔۔۔اللہ ان کو گمراہ نہیں ہونے دیتا۔۔۔۔۔۔۔پھر وہ اللہ کے خاص بندے بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔!
مگر زیادہ خوش قسمت جانتے ہیں کون ہوتے ہیں۔۔۔؟
کوشش کرنے والے،،،وہ جو خود الگ ہو جاتے ہیں ،،،، خود کو الگ کر لیتے ہیں کیونکہ ان کو ہدایت کی تلاش ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہدایت پر آنے سے پہلے جانے کتنی ہی دفعہ وہ شیطان کے جال سے بچ کر گزرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی ہی دفعہ وہ گرتے ہیں اور سنبھالتے ہیں خود کو صرف اور صرف اللّٰہ کے خاص لوگوں میں شامل ہونے کے لیے ۔۔۔۔۔اور پھر اللہ تعالیٰ کو انکی کوششیں , محنت اور اللہ سے محبت و عقیدت اتنی پسند آتی ہے کہ اللہ ان کو اپنے قریب ترین لوگوں میں شامل کر لیتا ہے،،،اور ان سے بڑھ کر اُن سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!
خود کو دوسروں سے الگ کرنے کی کوشش میں لگے رہیں ، ایک نہ ایک دن آپ اپنے رب کی محبت کو پا لیں گے اور بےشک آپ کے اللہ کی محبت لازوال ہے ،،!

17/12/2020

کیا آج سے 1400 سال پہلے موبائل یا میسج ہوتے تھے❗ اگر ہاں تو ثبوت پیش کریں

اگر نہیں تو بتاؤ یہ کس حدیث سے پڑھ آئے ہو کہ ایک میسج 10 لوگوں کو سینڈ کرنے سے جنت واجب ہوتی ہے

یہ کہاں سے سُن لیا کہ 15 لوگوں کو میسج بھیجنے سے مراد پوری ہوتی ہےیہ کس کتاب سے پڑھ لیا کہ مہینے کی خبر دینے سے دوزخ کی آگ حرام ہوتی ہے❗

یہ کس نے کہا کہ کمنٹ میں اللّہ لکھنے سے ثواب ملتا ہے

جتنی ٹیکنالوجی بڑھتی جا رہی ہے اُتنی ہی جہالت زیادہ ہوتی جا رہی ہے❗

آج کل لوگ روزہ نماز حج قرآن کو چھوڑ کر میسج بھیج کر جنت واجب کروا رہے ہیں اور دوزخ کی آگ حرام کروا رہے ہیں

کبھی گھروں میں پرچہ بھیج دیتے ہیں کہ یہ پرچہ 10 گھروں میں فوٹو کاپی کرکے بھجوا دو آپ کو بہت بڑی خوشی ملے گی اگر نہ کیا تو غم ملے گا

تو کبھی گھروں میں چینی والی روٹی بھجوا کر کہتے ہیں اس کو 2 کرو. ایک خود رکھو ایک آگے بھیج دو. آپ کی مشکلیں دور ہونگی❗

یا میرے خُدا یہ کیسے پڑھے لکھے لوگ ہیں جو جہالت کی انتہا سے بھی آگے گزر گئے ہیں

کیا فرشتے آپ کے مرنے کے بعد آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے جاؤ جنت میں آپ سب سے زیادہ میسج بھیجتے تھے اور مہینے کی خوش خبری دیتے تھے. کیا قبر میں سانپ اور بچھو کے سامنے آپ کے میسج دیوار بن کر کھڑے ہونگے

آپ سے مٶدبانہ گزارش ھے کہ جس گناہ کو آپ کر رہے ہو اُس کو آگے نہ بھیجو❗

پاکستان میں ایک یا 2 نہیں بلکہ ہزاروں قادیانی موجود ہیں. جن کو ہم روز آس پاس دیکھتے ہیں مگر سمجھ نہیں سکتے. کیوں کہ اُن لوگوں نے اپنے چہروں پر مسلمانوں کا عکس لگا رکھا ہے

یہ سب قادیانیوں کی چالیں ہیں جو روز بروز مسلمانوں کو ایسی جھوٹی باتوں سے اُلجھاتے رہتے ہیں. مگر آپ تو پڑھے لکھے ہو. کیا آپ نے اسلامیات کی کتابیں نہیں پڑھی. کیا آپ نے کبھی قرآن پاک کا ترجمہ نہیں پڑھا. کیا آپ نے کبھی کوئی حدیث پڑھی یا سُنی نہیں. جو آپ قادیانیوں کے بہکاوے میں آرہے ہو❗

نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی قسم ڈال کر میسج آگے سینڈ کرنے والا قادیانی کا سب سے بڑا ہتھیار بڑی تیزی سے سفر کر رہا ہے.

جس کا نشانہ 80 پرسینٹ پاکستانی مسلمان بن چکے ہیں.. اگر سینڈ نہ کروگے تو پاک ہستی کی قسم کا سوال ہے. اور اگر سینڈ کر دوگے تو گناہ کبیرہ کا حصہ بن جاوگے. کیوں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا نام لے کر کوئی جھوٹی بات پھیلانا گناہ کبیرہ ہے.. اور بے شک اُس میسج کو وہیں دیکھ کر ڈلیٹ کر دو. مگر گناہ جاریہ کا حصہ نہ بنو

اگر جنت واجب کروانے کا سچ میں شوق ہے تو 5 وقت کی نماز اس کا آسان حل ہے. اور قرآن پاک جنت میں پہنچانے کا واحد ذریعہ ہے🌹

ﷲ پاک دنیا کے سبھی مسلمانوں کو ہدایت عطاء فرمائے. اور اتنی سمجھ عطا فرمائے کہ وہ قادیانیوں کے بہکاوے میں نہ آ سکیں آمین ثم آمین 🤲
ثواب کے نیت سے آگے شئیر کریں

Global Search Engine Google is showing Qadyani Leader Mirza Masroor Ahmed as Current Caliph of Islam which is published ...
14/12/2020

Global Search Engine Google is showing Qadyani Leader Mirza Masroor Ahmed as Current Caliph of Islam which is published on Global Encyclopedia Site Wikipedia.
The Islamic Caliphate had ended with the demise of 5th Caliphate of Islam Imam Hassan RA, now there's no Khilafa till the arrival of Imam Mehdi AS.
Request all to follow the mentioned given steps:
1) Search - Who is the current caliphate of Islam
2) Go to Feedback
3) Report the Reason

11/12/2020

Jumma Mubarak

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Turn to Allah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Turn to Allah:

Share