05/11/2025
⚠️ ذکر و عزا کو ذریعۂِ معاش بنانے والوں کے لیے تنبیہ...
ایک اہلِ سنت نعت خواں نعت پڑھ رہے تھے، مجمع میں ایک شخص نے عقیدت کے جوش میں انہیں پیسے دینے چاہے، تو نعت خواں نے ہاتھ روک دیا اور کہا.....:
مجھے پیسے نہیں چاہئیں، کوئی بندہ یہاں پیسے نہیں دے گا، میں اپنے گھر میں بیٹھ کر نعت پڑھ رہا ہوں۔ اگر کبھی دُور دراز جانا پڑے، تو گاڑی یا پیٹرول کے پیسے ڈرائیور لیتا ہے، میرا اُن پیسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نعت کا معاوضہ نہیں لیتا، اور نہ ہی لینا چاہیے۔
جو لوگ نعتیں پڑھنے کے ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ لیتے ہیں، کیا انہیں ذرا سی بھی حیا نہیں آتی؟ کل اگر رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حساب مانگ لیا، تو کیا جواب دو گے؟ تم نے لوگوں کے عشق و محبت کو پیسوں میں تول دیا ہے۔
نعت ذریعۂِ معاش نہیں، ذریعہِ نجات ہے۔ قیامت کے دن جب حساب ہوگا، کیا فرشتوں کو پیسے دے کر نجات خرید لو گے؟ کیا جنت خرید لو گے؟ اگر یہاں آتے ہو تو یہاں صرف آنسو بہاؤ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔