Usman Ibn Ahmad

Usman Ibn Ahmad "Embarking on a Journey of Knowledge and Faith 📚🌙 | Aspiring Islamic Scholar | Seeking Wisdom | Student of Islam 🕌

انسان جس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے، وہی ماحول آہستہ آہستہ اس کی سوچ، ہمت اور حدیں متعین کر دیتا ہے۔ اس دائرے کو توڑنا آسا...
09/01/2026

انسان جس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے، وہی ماحول آہستہ آہستہ اس کی سوچ، ہمت اور حدیں متعین کر دیتا ہے۔ اس دائرے کو توڑنا آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔ اس قید سے نکلنے کا واحد راستہ اپنے موجودہ حالات کے خلاف شعوری بغاوت ہے۔ یہ بغاوت تخریب نہیں بلکہ تعمیر کا آغاز ہوتی ہے، جس کے لیے مضبوط اعصاب، صاف سمت اور فولادی ارادہ درکار ہوتا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہی لوگ آگے بڑھے جنہوں نے وقتی آسائش کو قربان کر کے مستقل فیصلے کیے، اور وہ پیچھے رہ گئے جو خواب تو دیکھتے رہے مگر خود کو بدلنے کی ہمت نہ کر سکے۔ کامیابی کسی ایک خوبی کا نام نہیں، بلکہ یہ شدید طلب، پختہ فیصلہ اور مسلسل ثابت قدمی کا مجموعہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی صحبت کا عکس ہوتا ہے۔ کمزور سوچ رکھنے والوں میں رہ کر بڑی منزلیں حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ اگر آپ واقعی اپنی زندگی کا رخ بدلنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اُن لوگوں سے فاصلہ پیدا کریں جو آپ کو جمود میں رکھنا چاہتے ہیں، اور خود کو اُن افراد کے قریب کریں جو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
جب انسان سچے دل سے فیصلہ کر لیتا ہے تو قدرت پہلے اسے آزمائش میں ڈالتی ہے، اور پھر اسی کے حق میں راستے ہموار کرتی ہے۔ مگر یاد رکھیں، یہ سفر آسان نہیں—یہاں سکون محنت کے بعد ہی ملتا ہے۔
کامیابی اور خوشحالی صرف خواہش سے حاصل نہیں ہوتیں، اس کے لیے نظم، واضح مقصد اور مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔ ہارنے والا خوف کے تحت فیصلے کرتا ہے، جبکہ جیتنے والا مقصد کے لیے خطرہ مول لیتا ہے۔ اس لیے اپنی سوچ کو مضبوط کریں، مشکلات کو چیلنج سمجھیں، اور آج ہی ایک مشکل مگر بامقصد ہدف منتخب کریں۔
ماحول کے دباؤ سے نکلیں، خود کو آزما کر ثابت کریں کہ آپ کی خواہش آپ کے خوف سے زیادہ طاقتور ہے، کیونکہ اوسط زندگی پر قناعت کرنا آپ کے اصل مقام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

Becoming a better version of myself every day 🌟
05/12/2025

Becoming a better version of myself every day 🌟

11/06/2025




19/12/2024
11/12/2024
عثمان ابن احمد
26/10/2024

عثمان ابن احمد

آج کی عورت نے بھٹکنا پسند کیا تو اسے بھٹکا دیا گیا ہے🌻بغداد کے ایک خلیفہ کو اپنے بیٹے کی شادی کرنا تھی... انہوں نے پورے ...
10/10/2024

آج کی عورت نے بھٹکنا پسند کیا تو اسے بھٹکا دیا گیا ہے🌻
بغداد کے ایک خلیفہ کو اپنے بیٹے کی شادی کرنا تھی... انہوں نے پورے شہر میں اعلان کروا دیا کہ جس گھر میں جوان لڑکی ہے اور قرآن کی حافظہ ہے. وہ اپنے گھر کی کھڑکی میں رات کو ایک شمع روشن کر دے. اس رات پورے شہر کی کھڑکیوں میں شمعیں روشن تھیں.
ان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا. اگلے دن اعلان کروایا کہ جس گھر میں موجود لڑکی حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ موطا امام مالک کی بھی حافظہ ہے. وہ رات کو اپنے گھر کی کھڑکی میں شمع روشن کرے.
اور اس رات بھی آدھے سے زیادہ شہر کی کھڑکیوں پہ شمعیں روشن تھیں.
کتنا حسین منظر ہو گا نا. ہر گھر میں کھڑکی پہ روشن شمع صرف روشنی کی نوید نہیں سنا رہی تھیں بلکہ بتا رہی تھیں کہ اسلام کا مستقبل بھی بہت روشن ہے. وہ شمعیں اس بات کی نوید تھیں کہ ایک بہترین نسل کو پروان چڑھانے کے لیے مناسب اور بہترین تعلیم دی جا چکی ہے. ان تمام جلنے والی روشنیوں کے لرزتے شعلوں میں ایک مضبوط اسلامی معاشرے کی جھلک نمایاں ہو رہی تھی.

آج اگر ایسا اعلان کر دیا جائے تو بہت کم گھروں میں شمع روشن ہو گی اور اگر دوسرے اعلان والی شرط ساتھ رکھ دی جائے تو یقینا پورا شہر ہی تاریک پڑا ہو گا.

پتا ہے ایسا کیوں ہوا ہے.؟
کیونکہ آج ہمیں فضول اور بے بنیاد تعلیم کے چکروں میں پھنسا دیا گیا ہے . آج کی عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے خواب دکھا کر اسے حساب کتاب کے بھنور میں دھنسا دیا گیا ہے.

آج کی عورت کو ایک مضبوط کردار کی حامل نسل کی تربیت اور ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد میں اہم کردار ادا کرنے
جیسے اہم مقاصد سے بھٹکا دیا گیا ہے.

آج کی عورت کو ٹی وی پہ بیٹھ کے مارننگ شوز میں فضول عنوانات پہ مباحث اور فضول اور بےمقصد کاموں کی طرف اپنی ہی جیسی عورتوں کو راغب کرنے پر لگا دیا گیا ہے.
آج کی عورت کو انعامی مقابلوں میں چھینا جھپٹی کر کے دو ٹکے کے تحفے حاصل کرنے پر لگا دیا گیا ہے.

آج کی عورت نے بھٹکنا پسند کیا تو اسے بھٹکا دیا گیا ہے

منقول

اس تحریر کا مقصد آج کی عورت کی حالت زار اور اس کے معاشرتی کردار پر روشنی ڈالنا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ماضی میں اسلامی تعلیمات اور مضبوط کردار کی حامل خواتین ہوا کرتی تھیں۔ خلیفہ کی مثال اس معاشرتی نظام کی عکاسی کرتی ہے جہاں علم، کردار اور تربیت کو اوّلین ترجیح دی جاتی تھی۔ بغداد کے اس خوبصورت منظر میں ہر گھر میں روشن شمعیں نہ صرف اسلامی علم کی روشنی تھیں بلکہ ایک مضبوط معاشرتی ڈھانچے کی ضمانت بھی تھیں، جو آج کے مقابلے میں ایک مثالی تصویر ہے۔آج کی عورت کو بھٹکانے کے مختلف عوامل میں سے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اسے فضول اور بے بنیاد تعلیمی اور معاشرتی نظام میں الجھا دیا گیا ہے۔ معاشرہ عورت کو اُس کے اصل اور بنیادی کردار، یعنی نسل کی تربیت اور اسلامی معاشرے کی تعمیر سے دور کر رہا ہے۔ جدید تعلیم اور معاشی سرگرمیوں کے نام پر عورت کو مرد کے ساتھ برابر کرنے کی کوششوں میں اس کے وہ اصل مقاصد پسِ پشت چلے گئے ہیں جن کے لیے اسے بنایا گیا تھا۔

"کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ دعوتی سلسلہ میں ایک قادیانی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک بڑی الماری نظر آئی جس میں مرزا...
08/10/2024

"کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ دعوتی سلسلہ میں ایک قادیانی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک بڑی الماری نظر آئی جس میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی تقریباً تمام کتابیں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے بے تکلف پوچھا کہ آپ نے ان کتابوں پر اتنا پیسہ خرچ کیا ہے، کیا ان کا مطالعہ بھی کیا ہے؟ قادیانی صاحب نے کہا، "دو چار چھوٹی کتابیں پڑھ لی ہیں، باقی کا مطالعہ کرنے کا وقت اور ذوق نہیں۔ البتہ یہ کتابیں میرے گھر کی زینت ہیں، اور میں نے انہیں اس لیے خریدا ہے تاکہ ان کی برکت میرے گھر پر ہو۔"

یہ سن کر مجھے شدید دکھ ہوا۔ اگر وہ واقعی ان کتابوں کا مطالعہ کرتے تو شاید انہیں مرزا قادیانی کی تحریروں سے کفر اور گمراہی کی بدبو محسوس ہو جاتی اور آج وہ قادیانی نہ ہوتے۔ مزید دکھ اس بات کا ہوا کہ ہم مسلمان، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں، ہمارے گھروں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت، ختم نبوت اور قادیانیت کے رد پر مبنی کتابیں اکثر نہیں ہوتیں۔ حالانکہ یہ کتابیں محض گھر کی زینت نہیں، بلکہ ایمان کی سلامتی اور فتنوں سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

یہاں ایک اور فرق بھی نمایاں ہوتا ہے۔ میں نے کبھی کوئی غریب قادیانی گھر بھی ایسا نہیں دیکھا جس میں قادیانی جماعت کے رسائل اور کتابیں موجود نہ ہوں۔ وہ اپنی گمراہ کن تعلیمات کی اشاعت پر محنت کرتے ہیں، جبکہ ہم مسلمانوں کے گھروں میں، جنہیں سچائی اور ہدایت ملی ہے، دین کے متعلق کتابیں نہ ہونے کا رجحان عام ہے۔

یہ بات ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے علم کو محدود نہ رکھیں بلکہ دین کی سمجھ بوجھ اور اس کا مطالعہ اپنے لیے لازم کریں۔ دینی کتب کا مطالعہ محض ایمان کی زینت نہیں، بلکہ انسان کو گمراہیوں سے بچانے کا ذریعہ بھی ہے۔"

منقول

مذاہب عالم کے علم سے موازنہ:

دیگر مذاہب میں علم کی تعریف اور اس کا مقصد زیادہ تر دنیاوی فائدے، فلسفیانہ مباحث، یا اخلاقی اصولوں تک محدود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، مغربی فلسفے میں علم کا زیادہ تر تعلق عقل و منطق پر مبنی ہے، جبکہ اسلام علم کو عقل کے ساتھ ساتھ وحی کی روشنی میں دیکھتا ہے۔ عیسائیت اور یہودیت میں بھی مذہبی کتابوں کا مطالعہ ایک محدود طبقے تک رہ گیا ہے جبکہ اسلام میں ہر مسلمان کے لیے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔

اسلام میں علم صرف مذہبی احکام تک محدود نہیں بلکہ سائنس، فلسفہ، تاریخ اور تمام دنیاوی علوم کو شامل کرتا ہے، لیکن اس کی بنیاد ہمیشہ ایمان اور آخرت کی تیاری پر ہوتی ہے۔ مسلمان کو حکم ہے کہ وہ دنیا میں جتنا بھی علم حاصل کرے، اس کا مقصد ہمیشہ اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہونا چاہیے۔

مطالعہ کی اہمیت:

مطالعہ ایمان کو مضبوط کرتا ہے، علم کو بڑھاتا ہے، اور گمراہیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے مطالعہ صرف ایک آپشن نہیں، بلکہ اس کی زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: *"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔"

ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں میں دینی کتابوں کو صرف زینت نہ بنائیں بلکہ ان کا مطالعہ کریں، ان پر غور و فکر کریں، اور اپنے بچوں کو بھی دین کی صحیح سمجھ بوجھ دیں تاکہ وہ مستقبل میں کسی بھی فتنے کا مقابلہ کر سکیں۔

اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور قادیانیت اور ہر وہ گروہ جس کی مذہبی شناخت اسلام کے اعلاوہ ہے ان کے باطل عقائد سے محفوظ رکھے، آمین۔

دینی کتب صرف ہمارے گھروں کی زینت نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ہمارے ذہنوں اور دلوں کا حصہ بننی چاہئیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علم کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں، تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو

"کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ دعوتی سلسلہ میں ایک قادیانی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک بڑی الماری نظر آئی جس میں مرزا...
08/10/2024

"کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ دعوتی سلسلہ میں ایک قادیانی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک بڑی الماری نظر آئی جس میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی تقریباً تمام کتابیں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے بے تکلف پوچھا کہ آپ نے ان کتابوں پر اتنا پیسہ خرچ کیا ہے، کیا ان کا مطالعہ بھی کیا ہے؟ قادیانی صاحب نے کہا، "دو چار چھوٹی کتابیں پڑھ لی ہیں، باقی کا مطالعہ کرنے کا وقت اور ذوق نہیں۔ البتہ یہ کتابیں میرے گھر کی زینت ہیں، اور میں نے انہیں اس لیے خریدا ہے تاکہ ان کی برکت میرے گھر پر ہو۔"

یہ سن کر مجھے شدید دکھ ہوا۔ اگر وہ واقعی ان کتابوں کا مطالعہ کرتے تو شاید انہیں مرزا قادیانی کی تحریروں سے کفر اور گمراہی کی بدبو محسوس ہو جاتی اور آج وہ قادیانی نہ ہوتے۔ مزید دکھ اس بات کا ہوا کہ ہم مسلمان، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں، ہمارے گھروں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت، ختم نبوت اور قادیانیت کے رد پر مبنی کتابیں اکثر نہیں ہوتیں۔ حالانکہ یہ کتابیں محض گھر کی زینت نہیں، بلکہ ایمان کی سلامتی اور فتنوں سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

یہاں ایک اور فرق بھی نمایاں ہوتا ہے۔ میں نے کبھی کوئی غریب قادیانی گھر بھی ایسا نہیں دیکھا جس میں قادیانی جماعت کے رسائل اور کتابیں موجود نہ ہوں۔ وہ اپنی گمراہ کن تعلیمات کی اشاعت پر محنت کرتے ہیں، جبکہ ہم مسلمانوں کے گھروں میں، جنہیں سچائی اور ہدایت ملی ہے، دین کے متعلق کتابیں نہ ہونے کا رجحان عام ہے۔

یہ بات ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے علم کو محدود نہ رکھیں بلکہ دین کی سمجھ بوجھ اور اس کا مطالعہ اپنے لیے لازم کریں۔ دینی کتب کا مطالعہ محض ایمان کی زینت نہیں، بلکہ انسان کو گمراہیوں سے بچانے کا ذریعہ بھی ہے۔"

منقول
بقیہ کمینٹ میں ۔۔۔

آج کے دور میں مغربی معاشرتی اثرات اور ان کے نظریات نے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مغرب کی دیکھا...
01/10/2024

آج کے دور میں مغربی معاشرتی اثرات اور ان کے نظریات نے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مغرب کی دیکھا دیکھی مخلوط تعلیم اور دیگر آزاد خیالات کو اسلامی معاشروں میں بھی فروغ دیا جا رہا ہے، اور اسے تعلیم کی ترقی اور حقوق نسواں کے فروغ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت میں، یہ اسلامی تعلیمات اور فقہ سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ اسلامی فقہ کی روشنی میں، عورت کے لئے مخصوص حدود اور عزت و عصمت کے تقاضے برقرار رکھنا لازمی ہے، جبکہ مخلوط تعلیم جیسے تصورات ان تقاضوں کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

وہ چیزیں جو مغربی اقوام سے مسلمانوں معاشروں میں سرایت کر چکی ہیں ۔ جو کہ شریعت کی احکام کے مخالف ہیں ۔

مغربی تہذیب نے عورت کو اسٹیج پر گانے اور نچانے کی آزادی دے دی، جبکہ شریعت نے عورت کی آواز کی نرمی اور اس کی فطری حیا کو محفوظ رکھنے کے لیے اس پر اذان اور اقامت کو فرض نہیں کیا
قرآن: "وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ" (الاحزاب: 33)
ترجمہ: "اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جاہلیت کے زمانے کی طرح بے پردہ نہ ہو۔"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے دیکھتا ہے۔" (ترمذی)

مغربی معاشرے نے عورت کو اداکاری اور دیگر عوامی سرگرمیوں میں شامل کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو باجماعت نماز اور جمعہ کی نماز سے مستثنیٰ قرار دیا تاکہ اس کی عزت و احترام کو محفوظ رکھا جا سکے۔

فقہ اسلامی میں عورتوں کے لیے جماعت سے نماز پڑھنا افضل نہیں بلکہ ان کے گھروں میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک عورت کا گھر میں نماز پڑھنا جماعت میں شامل ہونے سے بہتر ہے۔

مغرب نے عورت کو اولمپکس اور مقابلوں کا چیمپئن بنایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے سے روکا تاکہ اس کی عصمت و حیا محفوظ رہے۔

سنت:صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا مردوں کے لیے سنت ہے لیکن عورتوں کے لیے نہیں۔ عورتوں کو حیا اور شرم کی بنا پر اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
محرم کے بغیر سفر:
مغربی تہذیب نے عورت کو محافظ کے بغیر سفر کرنے اور تقریبات میں شرکت کی اجازت دی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے محرم کے بغیر عورت کو حج جیسے عظیم فریضے سے بھی مستثنیٰ کیا تاکہ اس کی عفت اور حفاظت برقرار رہے۔

مغربی معاشرے نے عورت کو اسٹیڈیمز میں کھیل دیکھنے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کھڑا کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو جہاد میں شرکت سے منع کیا تاکہ اس کی نسوانیت اور عفت کو محفوظ رکھا جا سکے۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "ہم عورتوں نے نبی ﷺ سے جہاد کی اجازت مانگی، آپ ﷺ نے فرمایا: عورتوں کا جہاد حج ہے۔" (ابن ماجہ)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کی ذمہ داریوں میں عبادت اور عفت کی حفاظت شامل ہے نہ کہ میدان جنگ میں شریک ہونا۔

مغربی تہذیب نے عورت کو میک اپ اور آرائش کے ساتھ عوام میں ظاہر کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو پازیب کی آواز سے بھی منع کیا تاکہ اس کے حسن کا تصور تک بھی غیر محرم کے ذہن میں نہ آئے۔

"وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ" (النور: 31)
ترجمہ: "اور اپنے پاؤں زمین پر مار کر نہ چلیں کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہو جائے۔"

اسلام عورت کی عزت، عفت اور نسوانیت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے متعدد احکام نازل کیے ہیں۔ مغربی تہذیب نے عورت کو آزادی کے نام پر اس کی فطری حیثیت سے ہٹایا ہے اور اسے صرف جسمانی آزادی کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ان تمام فتنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسی حدود مقرر کی ہیں جن کا مقصد اس کی عزت اور عفت کی حفاظت ہے۔

اسلامی تعلیمات اور فقہ کی روشنی میں مخلوط تعلیم (Co-education) کا تصور ایک ناپسندیدہ اور غیر شرعی عمل ہے جس کے اثرات نہ صرف دین پر، بلکہ طلبہ کی اخلاقیات، تربیت اور معاشرتی زندگی پر بھی منفی طور پر پڑتے ہیں۔ اسلامی معاشرت میں حیا، عزت اور پردے کے اصولوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اور مخلوط تعلیم ان اصولوں کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

مخلوط تعلیم اور اسلامی تعلیمات کا ٹکراؤ
اسلامی فقہ، خصوصاً فقہ حنفی میں، مرد و عورت کے درمیان حدود کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ حیا اور پردہ کے اصولوں کی حفاظت کے لیے، غیر محرم مردوں اور عورتوں کا بے جا میل جول، بے ضرورت ایک جگہ بیٹھنا، یا تعلیم حاصل کرنا غیر مناسب سمجھا جاتا ہے۔

فقہ حنفی میں مرد و عورت کے اختلاط کی ممانعت:
امام ابو حنیفہؒ کی تعلیمات میں عورت کی عزت و عصمت کو محفوظ رکھنے کے لیے مرد و عورت کے اختلاط کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اس ضمن میں فقہا نے واضح طور پر لکھا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان غیر ضروری میل جول، گفتگو، یا اختلاط فتنہ کا سبب بن سکتا ہے، جو اسلامی معاشرت میں ایک سنگین خطرہ ہے۔

جہاں تک ممکن ہو، مرد و عورت کا اختلاط کم سے کم ہونا چاہیے تاکہ معاشرتی فتنوں اور اخلاقی بگاڑ سے بچا جا سکے۔ مثال کے طور پر، عورتوں کے لیے مساجد میں باجماعت نماز کا حکم عمومی طور پر نہیں ہے، کیونکہ اس سے مردوں کے ساتھ میل جول اور فتنے کا امکان بڑھتا ہے۔ یہ اصول عمومی زندگی اور معاشرت میں بھی لاگو ہوتا ہے۔

امام محمدؒ، جو امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں، نے اپنی کتاب *المبسوط* میں لکھا ہے کہ عورتوں کے لیے غیر ضروری اختلاط کا ماحول فساد اور بے حیائی کا باعث بنتا ہے، اور اسی وجہ سے عورتوں کو ایسے کاموں سے دور رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جن میں مردوں کے ساتھ براہ راست میل جول ہو۔

مخلوط تعلیم کا اسلامی اصولوں کے ساتھ تضاد

مخلوط تعلیم ایک ایسا نظام ہے جس میں مرد و عورت اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور اس میں عموماً مرد و عورت کے درمیان بے پردگی، غیر ضروری میل جول، اور فتنہ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان ایسے ماحول کی مخالفت کی ہے جہاں دونوں کے درمیان بلا ضرورت اختلاط ہو۔

مخلوط تعلیم کی وجہ سے پیدا ہونے والے فتنہ کا خطرہ:
مخلوط تعلیم میں لڑکے اور لڑکیوں کا ایک ہی کلاس میں بیٹھنا، ایک ہی ماحول میں وقت گزارنا، غیر شرعی تعلقات کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ فقہ حنفی میں ایسے تمام اعمال کو "سد الذرائع" (وسائل کو بند کرنا) کے اصول کے تحت منع کیا گیا ہے تاکہ فتنہ کا کوئی بھی ذریعہ پیدا نہ ہو۔

مخلوط تعلیم کے نقصانات:
اخلاقی بگاڑ:
مخلوط تعلیم میں اکثر طلبہ و طالبات بے پردگی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں حیا اور شرم کا عنصر کم ہوتا جاتا ہے۔ فقہ اسلامی کی روشنی میں، حیا ایمان کا حصہ ہے، اور مخلوط تعلیم اس حیا کے اصول کو ختم کرنے میں معاون ہے۔

تعلیمی کارکردگی پر اثرات:
مخلوط تعلیم میں طالبات اور طلبہ کے درمیان غیر ضروری تعلقات اور جذباتی وابستگی پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، جس کا براہ راست اثر ان کی تعلیم پر پڑتا ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق، انسان کو غیر ضروری میل جول اور مشغولیت سے بچنا چاہیے تاکہ اس کی توجہ عبادت اور علم کے حصول پر مرکوز رہے۔

ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل:
مخلوط تعلیم کی وجہ سے نوجوان ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مختلف تحقیقی مطالعات کے مطابق، جب لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں، تو ان کے درمیان جذباتی اور نفسیاتی تناؤ پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جو ان کی ذاتی اور تعلیمی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔

فقہ اسلامی روشنی میں متبادل تعلیمی نظام

فقہ حنفی اور دیگر اسلامی فقہاء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا عورت اور مرد دونوں کا حق ہے، لیکن اسلامی اصولوں کے مطابق۔ عورتوں کے لیے علیحدہ تعلیم کا نظام ہونا چاہیے، جہاں ان کی عزت، عصمت اور پردے کا خاص خیال رکھا جائے۔
امام ابو یوسفؒ، جو امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں، نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ عورتوں کی تعلیم کے لیے علیحدہ انتظام ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کرتے ہوئے علم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے تعلیم کے دوران بھی عورت کے پردے اور حیا کو اہمیت دی ہے۔

فقہ کی دیگر کتب:الھدایہ* اور *فتح القدیر* جیسی مشہور فقہی کتابوں میں بھی مرد و عورت کے اختلاط کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، اور عورتوں کے لیے علیحدہ تعلیمی نظام کو زیادہ مناسب سمجھا گیا ہے۔

دورِ حاضر کے مسلمان اور مغربی اثرات

آج کل کے مسلمان، مغربی تہذیب اور ان کے تعلیمی نظام سے متاثر ہو کر مخلوط تعلیم کو اپنا رہے ہیں۔ وہ اسے ترقی اور آزادی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ اسلامی تعلیمات اور فقہ کے اصولوں کے منافی ہے۔

مغربی تعلیم کا اسلامی معاشرت پر اثر:
مغرب نے حقوق نسواں کے نام پر عورتوں کو مردوں کے برابر لا کھڑا کیا، لیکن اس عمل میں عورت کی عزت و عصمت کو نظر انداز کر دیا گیا۔ مسلمانوں نے بھی مغربی تعلیم اور مخلوط نظام کو اپنا کر اپنے معاشرتی اور دینی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

مخلوط تعلیم اسلامی معاشرتی اصولوں، فقہ کی تعلیمات، اور حیا و عزت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ فقہ حنفی کی روشنی میں، مرد و عورت کے اختلاط کو فتنہ کا ذریعہ سمجھا گیا ہے، اور اسی لیے مخلوط تعلیم کو ناپسندیدہ اور غیر شرعی قرار دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنی تعلیم کو اسلامی اصولوں کے مطابق ترتیب دینا چاہیے تاکہ معاشرہ فتنہ اور بے حیائی سے محفوظ رہ سکے۔

پانچ سو روپے طبعی معائنے پر خرچ کریں اور یہ معلوم کریں کہ بچہ پیدا ہونے والا ہے یا بچی ۔ یعنی پیدائش سے قبل ہی بچے کی جن...
29/09/2024

پانچ سو روپے طبعی معائنے پر خرچ کریں اور یہ معلوم کریں کہ بچہ پیدا ہونے والا ہے یا بچی ۔ یعنی پیدائش سے قبل ہی بچے کی جنس معلوم کرلیں۔ اگر ماں کے پیٹ میں بچی پرورش پارہی ہوتو حمل ضائع کروا دیں اور یوں بچی کی پرورش اور بعد ازاں جہیز کی صورت میں خرچ ہونے والے لاکھوں روپے بچائیں ۔
ہمارے معاشرے میں جہیز ایک ایسی لعنت بن چکا ہے جس نے نہ صرف والدین کی زندگیوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے بلکہ خاندانوں کے درمیان تنازعات اور لڑکیوں کی زندگیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ اسلام میں رشتے محبت، خلوص اور دین کی بنیاد پر استوار کیے گئے ہیں، مگر آج ہم نے مادیت پرستی اور سماجی دباؤ کے تحت ان پاکیزہ رشتوں کو بگاڑ دیا ہے۔ ایک معروف اسلامی قول ہے کہ نکاح کو آسان کرو، مگر افسوس کہ جہیز کی رسم نے نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ لڑکیوں کے والدین اپنی ساری زندگی کی کمائی لٹا کر بھی مطمئن نہیں ہو پاتے۔

جہیز کے ضمن میں ایک عام جملہ سننے کو ملتا ہے: "پانچ سو خرچ کرو اور پانچ لاکھ بچاؤ"۔ اس جملے میں واضح طور پر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ معاشرتی رواجوں کو برقرار رکھنے کے لیے والدین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر مہنگا جہیز دیں تاکہ وہ بعد میں بدنامی یا ناچاقی سے بچ سکیں۔ حالانکہ یہ صرف ایک دِکھاوا اور سماجی بوجھ ہے جو لڑکیوں کے والدین کو دباؤ میں رکھتا ہے۔

جہیز کا اسلامی نقطہ نظر:
اسلامی تعلیمات میں کہیں بھی جہیز کی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیٹیوں کی شادی میں سادگی اور اخلاص کو ترجیح دی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی اس بات کی مثال ہے کہ نکاح میں مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ تقویٰ اور نیک نیتی ہی بنیاد ہے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی شادی میں دنیاوی مال و دولت کو معیار نہیں بنایا۔

جہیز کی لعنت کے نتائج:
والدین پر مالی دباؤ : بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے قرضے لینے پر مجبور ہوتے ہیں جس کا بوجھ انہیں سالوں تک اٹھانا پڑتا ہے۔
-لڑکیوں کی عزت نفس پر ضرب : شادی کے بعد لڑکیوں کو سسرال میں جہیز کے حوالے سے طعنے اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سماجی تفریق : جہیز کی روایت نے معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان مزید تفریق پیدا کی ہے۔

اس لعنت کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

تعلیمی اور شعوری مہم: سماجی اور مذہبی رہنما جہیز کے خلاف شعور بیدار کریں اور نکاح میں سادگی کو فروغ دیں۔
قانونی اقدامات: حکومت کو ایسے قوانین بنانے چاہئیں جو جہیز لینے اور دینے کو جرم قرار دیں۔
خاندانی سطح پر عزم: والدین اور لڑکے لڑکی کے خاندان کو اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ وہ اس رسم کا حصہ نہیں بنیں گے اور سادگی سے نکاح کریں گے۔

جہیز نہ صرف ایک مالی بوجھ ہے بلکہ یہ ایک سماجی اور دینی بگاڑ کا بھی سبب بن چکا ہے۔ ہمیں اسلام کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور نکاح کو اس طرح آسان بنانا ہوگا کہ ہر فرد اس رشتے کو خوشی اور محبت کے ساتھ قبول کرے۔ نکاح ایک مقدس رشتہ ہے اور اسے دنیاوی مال و متاع کی نذر کرنے کے بجائے دین و تقویٰ کی بنیاد پر قائم کرنا چاہیے۔

ائیے مسکرائیے .. 🥱يقول أحدهم: دخلت إحدى المكتبات الكبرى فلم أعلم كيف أخرج منها، فسألت فتاة تقلب كتابًا ومنشغلة به فردت ع...
18/09/2024

ائیے مسکرائیے .. 🥱

يقول أحدهم:
دخلت إحدى المكتبات الكبرى فلم أعلم كيف أخرج منها، فسألت فتاة تقلب كتابًا ومنشغلة به فردت علي بقولها:
أنظر في الصفحة الخامسة والعشرين، السطر الرابع عشر، الكلمة الأخيرة في الكتاب الفلاني.
فبحثت بكُل جديّة، رغبة في حل هذا اللغز!
فوجدت أنها كلمة "لا أعلم " .


ایک شخص کہتا ہے:
" میں ایک بہت بڑے مکتبہ میں داخل ہوا ، تو واپسی کا راستہ نہیں مل رہا تھا ، میں نے ایک لڑکی سے پوچھا جو ایک کتاب کے صفحات پلٹنے میں مشغول تھی ،
اس نے مجھے یہ جواب دیا :
"فلان ۔۔۔۔۔کتاب میں۔۔۔۔پچیسویں صفحہ پر ۔۔۔۔چودھویں لائن کا آخری
لفظ پڑھ لیجئے۔۔۔۔۔
وہ کہتا ہے : میں پوری تندہی اور رغبت کیساتھ اس پہیلی کاحل تلاش کرنے میں لگ گیا
وہاں لکھا ہوا تھا " میں نہیں جانتی
[عربی سے ترجمہ ]

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Usman Ibn Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Usman Ibn Ahmad:

Share