31/07/2020
حضرت سیِّدَہ رابِعہ بصریہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا
آپ کی پیدائش 95 سے 99ھ کے دوران بصرہ، عراق میں ہوئی۔ آپ کی ابتدائی زندگی کی زیادہ تر تفصیلات شیخ فریدالدین عطار کے حوالے سے ملتی ہیں ۔ سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا سے جڑی بے شمار روحانی کرامات کے واقعات بھی ملتے ہیں ،جن میں اگرچہ کچھ سچے ہیں لیکن کچھ خود ساختہ اختراعات بھی ہیں ۔ تاہم رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا سے متعلق زیادہ تر معلومات و حوالہ جات وہ مستند مانے جاتے ہیں جوکہ شیخ فریدالدین عطار نے بیان کئے ہیں جوکہ سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے بعد کے زمانے کے ولی اور صوفی شاعر ہیں کیونکہ سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا نے خود کوئی تحریری کام نہ کیا۔
حالات زندگی
رابعہ بصری اپنے والدین کی چوتھی بیٹی تھیں ،اسی لئے آپ کا نام رابعہ یعنی ”چوتھی“ رکھاگیا۔ وہ ایک انتہائی غریب لیکن معززگھرانے میں پیداہوئیں ۔ رابعہ بصری کے والدین کی غربت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جس شب رابعہ بصری پیداہوئیں ،آپ کے والدین کے پاس نہ تو دیاجلانے کے لئے تیل تھا اور نہ آپ کو لپیٹنے کے لئے کوئی کپڑا۔ آپ کی والدہ نے اپنے شوہر یعنی آپ کے والد سے درخواست کی کہ پڑوس سے تھوڑا تیل ہی لے آئیں تاکہ دیاجلایاجاسکے لیکن آپ کے والد نے پوری زندگی اپنے خالقِ حقیقی کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا، لہٰذا وہ پڑوسی کے دروازے تک تو گئے لیکن خالی ہاتھ واپس آگئے۔
رات کو رابعہ بصری کے والد کو خواب میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت ہوئی اوراُنہوں نے رابعہ کے والد کو بتایاکہ ”تمہاری نومولودبیٹی ،خداکی برگزیدہ بندی بنے گی اور مسلمانوں کو صحیح راہ پر لے کر آئے گی۔ تم امیرِ بصرہ کے پاس جاؤ اوراُس کو ہماراپیغام دوکہ تم ہر روز رات کو سو(100)دفعہ اورجمعرات کو چار سو (400) مرتبہ درود کا نذرانہ بھیجتے ہو لیکن پچھلی جمعرات کو تم نے درودشریف نہیں پڑھا،لہذٰااس کے کفارہ کے طورپر چارسو (400) دینار بطور کفارہ یہ پیغام پہنچانے والے کو دےدے۔
سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد اُٹھے اور امیرِ بصرہ کے پاس پہنچے اس حال میں کہ خوشی کے آنسو آپ کی آنکھوں سے جاری تھے۔ جب امیرِ بصرہ کو رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد کے ذریعے حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاپیغام ملا تو یہ جان کر انتہائی خوش ہواکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ اہمیت دی ہے۔ اُس کے شکرانے کے طورپر فوراً ایک ہزار (1,000) دینارغرباء میں تقسیم کرائے اور چارسو (400)دینار رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد کو اداکئے اوراُن سے درخواست کے جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوبلاجھجھک تشریف لائیں ۔
کچھ عرصے بعد رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد انتقال کرگئے اوربصرہ کو سخت قحط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،اس قحط کے دوران آپ (رابعہ بصری )اپنی بہنوں سے بچھڑگئیں ۔ ایک دفعہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا ایک قافلے میں جارہی تھیں کہ قافلے کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور ڈاکوؤں کے سرغنہ نے رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کو اپنی تحویل میں لے لیا اور آپ کو لوٹ کے مال کی طرح بازارمیں لونڈی بنا کر بیچ دیا۔ آپ کا آقا،آپ سے انتہائی سخت محنت و مشقت کا کام لیتاتھا۔
اس کے باوجود آپ دن میں کام کرتیں اور رات بھر عبادت کرتی رہتیں اور دن میں بھی زیادہ تر روزے رکھتیں ۔ اتفاقاً ایک دفعہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کا آقا آدھی رات کو جاگ گیااورکسی کی گریہ وزاری کی آوازسُن کر دیکھنے چلاکہ رات کے اس پہرکون اس طرح گریہ وزاری کررہا ہے۔ وہ یہ دیکھ کرحیران رہ گیاکہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا اللہ کے حضورسربسجودہیں اورنہایت عاجزی کے ساتھ کہہ رہی ہیں :
”اے اللہ! تو میری مجبوریوں سے خوب واقف ہے۔ گھر کا کام کاج مجھے تیری طرف آنے سے روکتا ہے۔ تو مجھے اپنی عبادت کیلئے پکارتا ہے مگر میں جب تک تیری بارگاہ میں حاضر ہوتی ہوں ، نمازوں کا وقت گزر جاتا ہے۔ اس لئے میری معذرت قبول فرما لے اورمیرے گناہوں کو معاف کردے۔ “
اپنی کنیزکایہ کلام اورعبادت کا یہ منظردیکھ کر حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کامالک خوفِ خدا سے لرزگیااوریہ فیصلہ کیاکہ بجائے اس کے کہ ایسی اللہ والی کنیزسے خدمت کرائی جائے بہتر یہ ہوگاکہ اس کی خدمت کی جائے ۔ صبح ہوتے ہی وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اوراپنے فیصلے سے آپ کو آگاہ کیااورکہاکہ آج سے آپ میری طرف سے آزادہیں ، اگر آپ اسی گھر میں قیام کریں تومیری خوش نصیبی ہوگی وگرنہ آپ اپنی مرضی کی مالک ہیں لیکن اگرآپ یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ آپ یہاں نہ رہیں گی تومیری بس ایک درخواست ہے کہ میری طرف سے کی جانیوالی تمام زیادتیوں کواُس ذات کے صدقے معاف کردیں ،جس کی آپ راتوں کو جاگ جاگ کر عبادت کرتی ہیں۔
گوشہ نشینی
حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا نے کچھ عرصہ کے لئے حضور قلب اور اللہ کا قرب پانے کے لئے گوشہ نشینی اختیار کی اور صحراؤں کارخ کیا۔ وہ دن رات معبودِ حقیقی کی یاد میں محو ہوگئیں۔ تاریخ میں یہ بھی ملتا ہے کہ خواجہ حسن بصری، حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے مرشد تھے۔ غربت، نفی اورعشقِ الٰہی اُن کے ساتھی تھے۔ اُن کی کل متاع حیات ایک ٹوٹاہوا برتن، ایک پرانی دری اورایک اینٹ تھی،جس سے وہ تکیہ کا کام بھی لیتی تھیں ۔ وہ تمام رات عبادت و ریاضت میں گزار دیتی تھیں اوراس خوف سے نہیں سوتی تھیں کہ کہیں عشق الٰہی سے دور نہ ہوجائیں ۔
جیسے جیسے حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کی شہرت بڑھتی گئی ،آپ کے معتقدین کی تعدادمیں بھی ااضافہ ہوتاگیا۔ آپ نے اپنے وقت کے جید علماء ،محدثین و فقہا سے مباحثوں میں حصہ لیا۔ حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کی بارگاہ میں بڑے بڑے علماء نیازمندی کے ساتھ حاضر ہواکرتے تھے ۔ ان بزرگوں اورعلماءمیں سرفہرست حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں جوکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کے ہم عصر تھے اورجنہیں امیرالمومنین فی الحدیث کے لقب سے بھی یادکیاجاتاہے۔ گواُنہیں شادی کے لئے کئی پیغامات آئے ،جن میں سے ایک پیغام امیرِ بصرہ کا بھی تھالیکن آپ نے تمام پیغامات کو رد کردیاکیونکہ آپ کے پاس سوائے اپنے پروردگارکے اورکسی چیزکے لئے نہ تو وقت تھا اورنہ ہی طلب ۔ رابعہ بصری کوکثرت رنج و الم اورحزن و ملال نے دنیا اوراس کی دلفریبیوں سے بیگانہ کردیا۔حضرت سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے مسلک کی بنیاد”عشقِ الٰہی “ پر ہے۔
کچھ ارشاداتِ رابعہ بصری
ایک مرتبہ رابعہ بصری سے پوچھاگیاکہ کیا آپ شیطان سے نفرت کرتی ہیں؟ رابعہ بصری نے جواب دیاکہ خدا کی محبت نے میرے دل میں اتنی جگہ بھی نہیں چھوڑی کہ اس میں کسی اورکی نفرت یامحبت سماسکے۔
حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا نے ننگے پاؤں پیدل بیت اللہ شریف کا حج کیا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ان کو جو بھی کھانا عطا فرماتا اس کو ایثار کر دیتیں۔ کعبہ مشرَّفہ پہنچتے ہی بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ہوش میں آنے کے بعد اپنے رخسار کو بیت اللہ شریف پر رکھ کرعرض کی: ''یہ تیرے بندوں کی پناہ گاہ ہے اور تو ان سے محبت کرتا ہے اب تو آنکھوں میں آنسو ختم ہوگئے ہیں۔'' پھرطواف کیا ، سعی کرنے کے بعدجب وقوفِ عرفہ کا ارادہ کیا تو حائضہ ہو گئیں۔ روتے ہوئے عرض گزار ہوئیں:''اے میرے مالک و مولیٰ عزَّوَجَلَّ ! اگر یہ معاملہ تیرے غیر کی طرف سے ہوتاتو میں ضرور تیری بارگاہ میں شکایت کرتی اب جبکہ یہ سب کچھ تیری مشیئت سے ہوا ہے تو اب کیسے شکایت کرسکتی ہوں ؟'' پس انہوں نے ہاتف ِ غیبی کو یہ کہتے سنا: ''اے رابعہ! ہم نے تیرے سبب تمام حاجیوں کا حج قبو ل کرلیا اور تیری ا س کمی کی وجہ سے ان کے نقائص بھی پورے کر دیئے ۔''
منقول ہے کہ آپ عشاء کی نماز پڑھ کر مکان کی چھت پر کھڑی ہو جاتیں اور اپنے دوپٹے اورچادر کو اچھی طرح اوڑھ کر بارگاہِ ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ میں یوں عرض گزار ہوتیں: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ستارے چمک رہے ہیں ، سب کی آنکھیں سوئی ہوئی ہیں،بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کر لئے ہیں،ہر محب اپنے محبوب کے ساتھ تنہائی میں ہے اور میں تیری بارگاہ میں تنہا کھڑی ہوں۔''پھر آپ نماز ادا کرتی رہتیں، جب سحری کا وقت ہوتا اور فجر طلوع ہو جاتی تو بارگاہِ ربُّ العزَّت میں عرض کرتیں: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! یہ رات گزر گئی،دن خوب روشن ہو گیا۔کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ کیا میری رات کی عبادت قبول ہوئی تو مجھے مبارک باد دی جائے، یا اگر مردود ہوئی تو میری ڈھارس بندھائی جائے، تیری عزت کی قسم! جب تک تو مجھے زندہ رکھے گا اور میری مدد کرتا رہے گا میں اسی عادت پر قائم رہوں گی، اور تیری عزت کی قسم! اگر تو مجھے اپنی بارگاہ سے مردود کر دیتا پھر بھی میں اس سے دور نہ ہوتی کیونکہ میرے دل میں تیری محبت بس چکی ہے۔''
وفات
رابعہ بصری نے تقریباً اٹھاسی (88) سال کی عمر پائی لیکن آخری سانس تک آپ نے عشق الٰہی کی لذت و سرشاری کو اپن اشعاربنائے رکھا۔ یہاں تک کہ اپنی آخری سانس تک معبودِ حقیقی کی محبت کادم بھرتی رہیں ۔ آخری وقت آپ نے اپنے ولی اور صوفی ساتھیوں کو بتایا کہ ”میرا محبوب و معبود ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے۔
اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے طفیل ہماری مغفرت۔ آمین
نوٹ:۔ کچھ دوستوں کے ذہن میں خیال آسکتا ہے کہ اسلام تو رہبانیت سے منع کرتا ہےلیکن انہوں نے ترک دنیا کیوں کی۔ ذہن میں رہے کہ اہل تصوف و صوفیا اور بزرگان دین کا اللہ کا قرب پانے اورکے لئے کچھ عرصہ الگ رہ کر عبادت کرنے کو آپ رہبانیت سے تعبیر نہیں کرسکتے۔ سب سے پہلے آپ کو جاننا چاہئے کہ کس رہبانیت سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں منع فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: و رھبانیۃ ن ابتدعوھا۔ ما کتبنٰھا علیھم الّا ابتغاء رضوان اللّٰہ ۔ (الحدید57:27) ’’رہبانیت تو انہوں نے خود ہی ایجاد کر لی تھی۔ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا۔ انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (اسے ایجاد تو کرلیا ۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کااور گناہوں کی سزا کا تذکرہ کیا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی رہبانیت اختیار کرنے کی کوشش کی اور یہ ارادہ کیا کہ وہ رات بھر نمازیں پڑھا کریں گے، ہمیشہ روزہ رکھیں گے اور ہمیشہ اپنی بیویوں سے دور رہیں گے۔نہ خوشبو استعمال کریں گے۔ہمیشہ کھدر کا موٹا ایک ہی لباس زیب تن کریں گے۔ نہ ہی لوگوں سے میل جول رکھیں گے ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے حدود کا پاس رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بیاہ بھی کرتا ہوں۔ جس نے میرے طریقے سے انحراف کیا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘ (بخاری، کتاب النکاح)
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تصوف رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے؟
جی نہیں! ایسا ہر گز نہیں، اگرچہ کم علمی کی بنا پر عام لوگوں کے نزدیک تصوف کا مفہوم کچھ ایسا ہی ہے کہ یہ محض جنگلوں اور غاروں میں چلے جانے اور کاروبار دنیا سے جان چھڑا کر کسی گوشۂ تنہائی میں اللہ اللہ کرنے کا نام ہے گویا ان کی نظر میں تصوف تعطل اور جمود کی تعلیم دیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تصوف نہ تو جمود و تعطل پر مبنی رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے، نہ تصوف محض کسی سلسلہ طریقت سے منسلک ہو جانے تک موقوف ہے۔ تصوف کو غاروں اور جنگلوں میں ذکر و فکر تک محدود کر دینا اس فلسفہ روحانیت کی غلط خود ساختہ تعبیر ہے۔ بزرگان دین کا الگ رہ کر عبادت الہی کرنا رہبانیت نہیں۔ پرانے زمانے کے راہب پہاڑوں جنگلوں میں رہ کرعبادت کرتے تھے اور کئی کئی سال کسی انسان کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہ کرتے تھے۔ جبکہ ہمارے بزرگان دین ایسے نہ تھے۔وہ کچھ عرصہ کے لئے لوگوں سے الگ رہ کر قرب الہی پانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب مقصود الہی پا لیتے تولوٹ آتے۔ آپ امام غزالی کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ رابعہ بصری علیہ رحمہ کی مثال لے لیں۔ جب ان سے کوئی ملنے آتا تو ضرور اس کو ملتی تھیں اور اللہ کے احکامات کے مطابق حق معاشرت ادا کرتیں تھیں۔ اس کو اللہ کے دین کی طرف گامزن کرنے کی ضرور کوشش کرتی تھیں۔ آپ نے رہبانہ زندگی نہیں گزاری ۔بلکہ بڑے بڑے علماء کے مباحثوں میں بھی شرکت کرتی تھیں۔ اور ۔ رابعہ بصری کی بارگاہ میں بڑے بڑے علماء نیازمندی کے ساتھ حاضر بھی ہواکرتے تھے ۔اور آپ سب کی حق کی طرف رہنمائی فرمایا کرتی تھیں۔
ایک اور بات ذہن میں رہے حضرت رابعہ بصری علیہ رحمہ نے ہمیشہ جوانی میں پردہ کیا۔ اور ان کے مالک اور خاوند کے علاوہ شائد ہی کسی نے ان کا چہرہ جوانی میں دیکھا ہو۔ کچھ اسلامی کتب میں موجود ہے کہ حضرت رابعہ بصری کی شادی بھی ہوئی تھی لیکن ان کے خاوند کی وفات کے بعد انہوں نے دوبارہ شادی نہیں کی۔ ہاں ان کے بڑھاپے میں لوگوں نے ان سے ملاقات کی ۔ اور اکثر باتیں جو لوگوں سے ملاقات کی ہیں ان کے بڑھاپے کی ہیں ۔ بڑھاپے میں چہرے کے پردے کے بہرحال وہ احکامات لاگو نہیں ہوتے جو کسی عورت کی جوانی میں ہوتے ہیں۔ احادیث میں کئی بوڑھی عورتوں کے صحابہ سے ملاقات کے واقعات موجود ہوں۔
بہرحال اہل فکرو تصوف کا الگ رہ کر کچھ عرصہ کے لئے یاد الہی میں کھو جانے کو آپ پرانے زمانے کی رہبانیت سے تعبیر نہیں کرسکتے۔ کیونکہ رہبانیت اور تصوف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔یہ باتیں میں نے ظمناً آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں۔ تاکہ آپ ان جیسی برگزیدہ ہستیوں کے بارے اپنا ذہن صاف رکھیں۔ہمیں ان کے بارے اچھا گمان ہی رکھنا چاہئے۔ اللہ کی ان برگزیدہ ہستیوں پرکروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔ آمین