Tassawaf

Tassawaf تصوف اور راہِ حق

13/08/2022
خاموش سپاہی… گمنام مجاہد( ڈاکٹر اظہر وحید ) دو دن قبل مجھے اطلاع دی گئی کہ قاری صاحب جنرل ہسپتال میں داخل ہیں، میں نے سو...
10/09/2020

خاموش سپاہی… گمنام مجاہد
( ڈاکٹر اظہر وحید )
دو دن قبل مجھے اطلاع دی گئی کہ قاری صاحب جنرل ہسپتال میں داخل ہیں، میں نے سوچا ٗ فرصت کے اوقات میں چکر لگاؤں گا … لیکن … بس ہماری اتنی ہی اوقات ہے …کہ فرصت نہ ملی …اور ان کی رحلت کی اطلاع مل گئی۔ ہماری مصروفیت ٗہماری فرصت کھا گئی۔ ہم بیمار پرسی پر نہیں جاتے ، تعزیت پر چلے آتے ہیں۔ قاری صاحب ہم سب بہن بھائیوں کے استاد تھے،الم سے والناس تک سب نے قران مجید قاری صاحب سے پڑھا تھا۔ سچ پوچھیں تو مجھے قاری صاحب کی قدر و منزلت کا احساس اس وقت ہوا جب میں نے مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ سے یہ سبق لیا کہ اپنے پرائمری کے استاد کی اتنی قدر کیا کرو جتنی قدر آپ اپنے پی ایچ ڈی استاد کی کرتے ہو۔ مجھ سمیت قاری صاحب کے اکثر شاگردوں نے اپنے رب کی دیگر نعمتوں کی طرح جو مفت میں میسر آ جاتی ہیں ٗانہیں Taken for grated لے رکھا تھا۔ ہم سمجھتے تھے جس طرح ہماری مجبوری پڑھنا ہے ، شاید ان کی مجبوری پڑھانا ہے… لیکن یہ عقدہ بہت دیر کے بعد کھلا کہ قرآن پڑھانا ان کی معاشی مجبوری ہرگز نہ تھی۔ وہ اگر چاہتے تو اپنے باقی خاندان کے لوگوں کی طرح کاروبار میں یا پھر سرکاری ملازمت میں کہیں فٹ اور بقول شخصے سیٹ ہو جاتے۔ وہ اَن پڑھ نہ تھے، میرا کالم شوق سے پڑھتے اور کبھی کبھی فون کر کے مجھے داد و تحسین سے بھی نوازتے۔ وہ ایک نفیس ذوق اور نستعلیق زندگی کے مالک تھے۔ ان کی سفید پوش زندگی میں کسی مالی طلب یا جلب کا داغ نہ تھا۔ دو نسلوں کو قرآن پڑھانے والے کی ساری زندگی ایک کمرے کے کوارٹر میں بسر ہوئی۔ ہمارے قاری صاحب کی ہمت کی داد دیجئے کہ انتہائی نامساعد معاشی حالات کے باوجود انہوں نے اپنی چاروں بیٹیوں کو خوب سے خوب تعلیم دلوائی، بڑی بیٹی پنجاب یونیورسٹی سے (کسی سائینس سبجیکٹ میں) پی ایچ ڈی ہے، ایک ماسٹر ڈگری ہولڈر ہے ، ایک گریجویٹ ہے ، سب سے چھوٹی بیٹی انٹر میں زیرِ تعلیم ہے۔ اولادِ نرینہ نہ تھی لیکن ہزاروں طلبا کے معنوی باپ تھے۔
میرے استاد قاری سید عبداللہ شاہ نجیب الطرفین سادات میں سے تھے۔ جنازے پر اسلام آباد سے آئے ہوئے ان کے بڑے بھائی رحمان شاہ صاحب سے بات ہوئی، ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں، وہ بتا رہے تھے کہ ان کے ددھیال ہمدانی تھے اور ننھیال بخاری۔ قاری صاحب نے بالا کوٹ کے ایک نواحی گاؤں کانشیاں سے یہاں لاہور کے اس دور افتادہ علاقے میں 1972ء میں ہجرت کی۔ ہجرت اور نقلِ مکانی میں فرق ہے۔ قاری صاحب نے ہجرت کی تھی ٗ نقلِ مکانی نہیں۔ وہ پیروں کی اولاد تھے ، ان کے دادا گاؤں میں پیر تھے، میں سوچ رہا تھا ٗ اگر ہمارے قاری صاحب بھی چاہتے تو خاندانی گدی سنبھال سکتے تھے، لیکن انہوں نے خود کواِس علاقے میں قرآن کی تعلیم کیلئے وقف کر دیا تھا۔ وہ نصف صدی تک ہم ایسے ناشناس لوگوں میں رہے، اور وادی ملامت ے گزرتے رہے۔ وہ جس عزت و تکریم کے لائق تھے ٗ اس سے بہت کم پر راضی رہے، یہ بھی ایک درجۂ ملامت ہے۔ ان کے بیشتر شاگرد اِس سید زادے کی عظمت سے مطلق بے خبر تھے۔ قاری صاحب زیادہ گفتگو نہیں کیا کرتے تھے، اس لیے ہمیں ان کے فقہی مسلک سے زیادہ آگاہی نہ تھی، ہمیں بالکل خبر نہ تھی کہ قاری صاحب کس فرقے یا مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اوائل میں ایک مدرسے میں معلم رہے ، کچھ ہی عرصہ بعد دیکھا کہ روایتی مولویوں کے ساتھ نہیں چل سکتے تو اپنے گھر میں بچوں کو ناظرہ اور حفظ کی تعلیم دینا شروع کردی۔ مجھے یاد ہے ٗاُن کے شاگردان کی فوج ظفر موج نے انہیں بہت ترغیب دی کہ اس مدرسے کے مقابلے میں وہ ایک مدرسہ کھول لیں، اہلِ محلہ ان کے ساتھ تھے، لیکن وہ اہلِ مدرسہ میں سے تھے ٗنہ اہلِ محلہ میں سے!! ایک شاگرد نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا‘ قاری صاحب !آپ فکر نہ کریں‘ آپ کا مدرسہ اِ س مدرسے سے بڑا ہو جائے گا۔ کہنے لگے‘ میرا ایسا کوئی پروگرام نہیں، میں خود کو صرف قرآن حفظ اور ناظرہ تک محدود رکھوں گا۔ یہ خود کو محدود رکھنا دراصل خود کو محفوظ رکھنا ہے، یہ قربانی کی داستان ہوتی ہے۔ اپنا چیک کیش نہ کروانا ٗراہِ حق کے مسافروں کی شان ہوتی ہے۔ میرے قاری صاحب… اگر ایک باصلاحیت شاگرد استاد کا فخر ہوتا ہے تو ایک باکردار استاد اپنے شاگردوں کا فخر ہوتا ہے …دیکھو! میں آج کتنے فخر سے کہہ رہا ہوں‘ میرے قاری صاحب …اور یہ تحریر قلم بند کرتے ہوئے میری آنکھیں ڈبڈبا رہی ہیں… دراز قد اور سرخ و سفید چہرے کے ایک وجیہ صورت نوجوان تھے، جب ہم بچے تھے تو وہ عنفوانِ شباب میں تھے، ابھی اُن کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ بچپن میں ہماری امی ہمیں بتایا کرتی ٗ بچو! چائے زیادہ نہیں پیتے، رنگ کالا ہو جاتا ہے، ہم حیران ہوتے کہ قاری صاحب تو بہت چائے پیتے ہیں، لیکن اُن کا رنگ گورا ہے۔ قاری صاحب بہت مہمان نواز تھے، جب بھی کوئی شاگرد ملنے جاتا ، قربیی ہوٹل پر فوراً ہاف سیٹ چائے کا آرڈر ہو جاتا۔ جب میری کالج لائف شروع ہوئی اور میرے دوستوں کی فہرست میں سادات کا اضافہ ہوا تو مجھ پر یہ کھلا کہ سخاوت اور مہمان نوازی سادات گھرانے کی خاص پہچان ہے۔ قاری صاحب انتہائی خود دار آدمی تھے، کبھی ہوم ٹیوشن نہیں پڑھائی، حالانکہ ہوم ٹیوشن اکثر قاری صاحبان کیلئے معاشی اور معاشرتی ترقی کی ایک سیڑھی ہوتی ہے۔ قاری صاحب کے شاگردوں کی فہرست میں ڈاکٹر، ججز اور پروفیسرز تک شامل تھے، لیکن انہوں نے کسی شاگرد کے سامنے کبھی اپنی خود داری کو جھکنے نہیں دیا۔ سچ پوچھیں تو میںا کثر حیران ہوتا کہ قاری صاحب کا گزارہ کیسے ہوتا ہے۔ اللہ ہمیں معاف کرے ، مجھ سمیت سب شاگرد صرف حیران ہی ہوتے رہے ، کبھی ان کیلئے پریشان نہیں ہوئے…تھوڑا سا پریشان بھی ہو جاتے تو ان کی کئی پریشانیاں دور ہو جاتیں۔ معاشی پریشانی دور کرنا تو دنیا کا سب سے آسان کام ہوتا ہے۔ کام آنا ، ساتھ چلنا ، ساتھ لے کر چلنا مشکل ہوتا ہے، چیک کاٹنا سب سے آسان کام ہے، ہم آسان کام کرتے ہوئے کتنی مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ قدرتِ کاملہ نے سادات کی تکریم کا خیال اس طرح بھی رکھا ہے کہ سادات گھرانوں کو مال کی میل یعنی زکٰوۃ اور صدقات سے حکماً دُور رکھا۔ سادات کی خدمت کیلئے خمس کے تصور کو عام کرنے کی بجائے ہم نے اسے صرف ایک فرقے تک محدود کردیا ہے۔ ہم یہ حدیث سنتے اور سناتے رہتے ہیں کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے بھی ملے‘ وہ اسے لے لیتا ہے۔ اس حدیث اور حکمت کا اطلاق ہم دوسرے مکاتبِ فکر اور فقہ پر کیوں نہیں کرتے۔ اکثر لوگ خمس کے تصور سے آگاہ نہیں ۔آگاہی کی غرض سے عرض ہے کہ خمس زکٰوۃ کا متبادل نہیں ہوتا ٗبلکہ اس سے مراد اپنے اس مال کا پانچواں حصہ مستحق سادات کو بطورہدیہ پیش کرنا ہے ٗ جو مال ہمیں بغیر محنت کے کسی خزینے ، دفینے یا ورثے کی صورت میں میسر آتا ہے۔
قاری صاحب کے ایک خدمت گزار شاگرد پروفیسرآف اینستھیزیا ڈاکٹر مقصود بتا رہے تھے کہ مسلسل بیٹھنے کی وجہ سے ان کے گردن کے مہروں میں خم اور خلل واقع ہو چکا تھا۔ سینتالیس برس جائے نماز پر مسلسل بیٹھنے کا نتیجہ تھا کہ گردن کمر سمیت دہری ہو گئی۔ گھر سے آپریشن کیلئے ہسپتال گئے تھے کہ جان سے چلے گئے۔ میں اس گمنام سپاہی کو شہیدِ وفا لکھوں یا کشتۂ جفا۔ قاری صاحب ایسے گمنام مجاہد ‘ دین کا اثاثہ ہیں۔ ایسے بے لوث سپاہی دین کی صفوں میں شامل نہ ہوں تو دُور افتادہ بستیوں میں اشاعت ِ دین کیسے ممکن ہو۔ قاری
صاحب نے ساری عمر کسی کو تکلیف نہ دی، وصال کے بعد بھی اپنے شاگردوں کو زیادہ تکلیف نہیں دی۔ رمضان میں روزے کے ساتھ آئے ہوئے شاگردوں کو دھوپ میں چلنے کی زحمت نہیں ہوئی۔ گھر سے چند قدم کے فاصلے پر جناز گاہ تھی، جہاں شاگردوں کی دو نسلیں کئی صفیں باندھے کھڑی تھیں …نمازِ جنازہ سے قبل پیش امام ان کی قرآن دوستی اور درویشی کی بابت بیان کر رہے تھے، لوگ وضو کر رہے تھے اور ان کا یہ ناشناس شاگرد اپنی آنکھوں کا وضو تازہ کر رہا تھا۔ مدرسے کے ساتھ ہی اُن کا کوارٹر تھا اور کوارٹر کی دیوار کے ساتھ ہی چند ایک قبروں پر مشتمل ایک پرائیویٹ قبرستان تھا۔ یہ قبرستان ایک خاندان کیلئے مخصوص تھا، اس خاندان کی درخواست پر اس قطعہ زمین کو ایک سید زادے کے خاکی وجود نے عطر بیز کر دیا۔گویا ساری عمر جہاں بسر کی ٗ قیامت تک اب یہیں قیام رہے گا… دو گز کی زمین ملنے تک اُن کی تمام عمریہیں دو سو گز کے دائرے میں بسر ہو گئی۔ نصف صدی قبل قاری صاحب کی جاندار شخصیت نے اس علاقے کی قسمت بدلی تھی ٗ اب اُن کے بے جان وجود نے اِس بے آباد قبرستان کی قسمت بدل دی۔ اتنی دُور کا مسافر ہمارے اتنے قریب سے گزر گیا… ہمیں اس کی خبر تب ہوئی جب وہ ایک خبر بن چکا تھا۔ چند الفاظ کا یہ ہدیہ تحسین و سپاس اس شاگرد کے قلم پر قرض اور فرض تھا۔ سو اَدا ہوا…اس دعا کے ساتھ کہ بھولے ہوئے کو پرانا سبق یاد ہو جائے … حروفِ تہجی کا وہ سبق جو قاری سید عبداللہ شاہ ہمدانیؒ نے پڑھایا تھا ‘ ایک عبارت کی صورت اختیار کرلے اور اُن کے جد امجدؐ کے حضور شفاعت کا عنوان بن سکے… اُن کا پڑھائے ہوئے نورانی قاعدے کے حروفِ مقطعات کسی طور دل و نگاہ میں نور بن کر رچ بس جائیں۔ پہلی سے پہلے الف بے پے اتنی ہی اہم تھی‘ جتنی ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی ہوتی ہے۔ نورانی قاعدے کی الف ب پ ابھی تک یاد نہیں ہو پائی، میٹرک تک پہنچنے میں کتنے عشرے درکار ہوں گے… رمضان کے عشروں سمیت!!
(روزنامہ "نئی بات" میں ہفتہ وار کالم "عکسِ خیال" )
#واصفـ۔علی۔واصف #واصف۔خیال #عکس۔خٰال

حضرت سیِّدَہ رابِعہ بصریہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا آپ کی پیدائش 95 سے 99ھ کے دوران بصرہ، عراق میں ہوئی۔ آپ کی ابتدائی زندگی...
31/07/2020

حضرت سیِّدَہ رابِعہ بصریہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا

آپ کی پیدائش 95 سے 99ھ کے دوران بصرہ، عراق میں ہوئی۔ آپ کی ابتدائی زندگی کی زیادہ تر تفصیلات شیخ فریدالدین عطار کے حوالے سے ملتی ہیں ۔ سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا سے جڑی بے شمار روحانی کرامات کے واقعات بھی ملتے ہیں ،جن میں اگرچہ کچھ سچے ہیں لیکن کچھ خود ساختہ اختراعات بھی ہیں ۔ تاہم رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا سے متعلق زیادہ تر معلومات و حوالہ جات وہ مستند مانے جاتے ہیں جوکہ شیخ فریدالدین عطار نے بیان کئے ہیں جوکہ سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے بعد کے زمانے کے ولی اور صوفی شاعر ہیں کیونکہ سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا نے خود کوئی تحریری کام نہ کیا۔
حالات زندگی
رابعہ بصری اپنے والدین کی چوتھی بیٹی تھیں ،اسی لئے آپ کا نام رابعہ یعنی ”چوتھی“ رکھاگیا۔ وہ ایک انتہائی غریب لیکن معززگھرانے میں پیداہوئیں ۔ رابعہ بصری کے والدین کی غربت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جس شب رابعہ بصری پیداہوئیں ،آپ کے والدین کے پاس نہ تو دیاجلانے کے لئے تیل تھا اور نہ آپ کو لپیٹنے کے لئے کوئی کپڑا۔ آپ کی والدہ نے اپنے شوہر یعنی آپ کے والد سے درخواست کی کہ پڑوس سے تھوڑا تیل ہی لے آئیں تاکہ دیاجلایاجاسکے لیکن آپ کے والد نے پوری زندگی اپنے خالقِ حقیقی کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا، لہٰذا وہ پڑوسی کے دروازے تک تو گئے لیکن خالی ہاتھ واپس آگئے۔
رات کو رابعہ بصری کے والد کو خواب میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت ہوئی اوراُنہوں نے رابعہ کے والد کو بتایاکہ ”تمہاری نومولودبیٹی ،خداکی برگزیدہ بندی بنے گی اور مسلمانوں کو صحیح راہ پر لے کر آئے گی۔ تم امیرِ بصرہ کے پاس جاؤ اوراُس کو ہماراپیغام دوکہ تم ہر روز رات کو سو(100)دفعہ اورجمعرات کو چار سو (400) مرتبہ درود کا نذرانہ بھیجتے ہو لیکن پچھلی جمعرات کو تم نے درودشریف نہیں پڑھا،لہذٰااس کے کفارہ کے طورپر چارسو (400) دینار بطور کفارہ یہ پیغام پہنچانے والے کو دےدے۔
سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد اُٹھے اور امیرِ بصرہ کے پاس پہنچے اس حال میں کہ خوشی کے آنسو آپ کی آنکھوں سے جاری تھے۔ جب امیرِ بصرہ کو رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد کے ذریعے حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاپیغام ملا تو یہ جان کر انتہائی خوش ہواکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ اہمیت دی ہے۔ اُس کے شکرانے کے طورپر فوراً ایک ہزار (1,000) دینارغرباء میں تقسیم کرائے اور چارسو (400)دینار رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد کو اداکئے اوراُن سے درخواست کے جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوبلاجھجھک تشریف لائیں ۔
کچھ عرصے بعد رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد انتقال کرگئے اوربصرہ کو سخت قحط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،اس قحط کے دوران آپ (رابعہ بصری )اپنی بہنوں سے بچھڑگئیں ۔ ایک دفعہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا ایک قافلے میں جارہی تھیں کہ قافلے کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور ڈاکوؤں کے سرغنہ نے رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کو اپنی تحویل میں لے لیا اور آپ کو لوٹ کے مال کی طرح بازارمیں لونڈی بنا کر بیچ دیا۔ آپ کا آقا،آپ سے انتہائی سخت محنت و مشقت کا کام لیتاتھا۔
اس کے باوجود آپ دن میں کام کرتیں اور رات بھر عبادت کرتی رہتیں اور دن میں بھی زیادہ تر روزے رکھتیں ۔ اتفاقاً ایک دفعہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کا آقا آدھی رات کو جاگ گیااورکسی کی گریہ وزاری کی آوازسُن کر دیکھنے چلاکہ رات کے اس پہرکون اس طرح گریہ وزاری کررہا ہے۔ وہ یہ دیکھ کرحیران رہ گیاکہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا اللہ کے حضورسربسجودہیں اورنہایت عاجزی کے ساتھ کہہ رہی ہیں :
”اے اللہ! تو میری مجبوریوں سے خوب واقف ہے۔ گھر کا کام کاج مجھے تیری طرف آنے سے روکتا ہے۔ تو مجھے اپنی عبادت کیلئے پکارتا ہے مگر میں جب تک تیری بارگاہ میں حاضر ہوتی ہوں ، نمازوں کا وقت گزر جاتا ہے۔ اس لئے میری معذرت قبول فرما لے اورمیرے گناہوں کو معاف کردے۔ “
اپنی کنیزکایہ کلام اورعبادت کا یہ منظردیکھ کر حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کامالک خوفِ خدا سے لرزگیااوریہ فیصلہ کیاکہ بجائے اس کے کہ ایسی اللہ والی کنیزسے خدمت کرائی جائے بہتر یہ ہوگاکہ اس کی خدمت کی جائے ۔ صبح ہوتے ہی وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اوراپنے فیصلے سے آپ کو آگاہ کیااورکہاکہ آج سے آپ میری طرف سے آزادہیں ، اگر آپ اسی گھر میں قیام کریں تومیری خوش نصیبی ہوگی وگرنہ آپ اپنی مرضی کی مالک ہیں لیکن اگرآپ یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ آپ یہاں نہ رہیں گی تومیری بس ایک درخواست ہے کہ میری طرف سے کی جانیوالی تمام زیادتیوں کواُس ذات کے صدقے معاف کردیں ،جس کی آپ راتوں کو جاگ جاگ کر عبادت کرتی ہیں۔
گوشہ نشینی
حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا نے کچھ عرصہ کے لئے حضور قلب اور اللہ کا قرب پانے کے لئے گوشہ نشینی اختیار کی اور صحراؤں کارخ کیا۔ وہ دن رات معبودِ حقیقی کی یاد میں محو ہوگئیں۔ تاریخ میں یہ بھی ملتا ہے کہ خواجہ حسن بصری، حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے مرشد تھے۔ غربت، نفی اورعشقِ الٰہی اُن کے ساتھی تھے۔ اُن کی کل متاع حیات ایک ٹوٹاہوا برتن، ایک پرانی دری اورایک اینٹ تھی،جس سے وہ تکیہ کا کام بھی لیتی تھیں ۔ وہ تمام رات عبادت و ریاضت میں گزار دیتی تھیں اوراس خوف سے نہیں سوتی تھیں کہ کہیں عشق الٰہی سے دور نہ ہوجائیں ۔
جیسے جیسے حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کی شہرت بڑھتی گئی ،آپ کے معتقدین کی تعدادمیں بھی ااضافہ ہوتاگیا۔ آپ نے اپنے وقت کے جید علماء ،محدثین و فقہا سے مباحثوں میں حصہ لیا۔ حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کی بارگاہ میں بڑے بڑے علماء نیازمندی کے ساتھ حاضر ہواکرتے تھے ۔ ان بزرگوں اورعلماءمیں سرفہرست حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں جوکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کے ہم عصر تھے اورجنہیں امیرالمومنین فی الحدیث کے لقب سے بھی یادکیاجاتاہے۔ گواُنہیں شادی کے لئے کئی پیغامات آئے ،جن میں سے ایک پیغام امیرِ بصرہ کا بھی تھالیکن آپ نے تمام پیغامات کو رد کردیاکیونکہ آپ کے پاس سوائے اپنے پروردگارکے اورکسی چیزکے لئے نہ تو وقت تھا اورنہ ہی طلب ۔ رابعہ بصری کوکثرت رنج و الم اورحزن و ملال نے دنیا اوراس کی دلفریبیوں سے بیگانہ کردیا۔حضرت سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے مسلک کی بنیاد”عشقِ الٰہی “ پر ہے۔
کچھ ارشاداتِ رابعہ بصری
ایک مرتبہ رابعہ بصری سے پوچھاگیاکہ کیا آپ شیطان سے نفرت کرتی ہیں؟ رابعہ بصری نے جواب دیاکہ خدا کی محبت نے میرے دل میں اتنی جگہ بھی نہیں چھوڑی کہ اس میں کسی اورکی نفرت یامحبت سماسکے۔
حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا نے ننگے پاؤں پیدل بیت اللہ شریف کا حج کیا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ان کو جو بھی کھانا عطا فرماتا اس کو ایثار کر دیتیں۔ کعبہ مشرَّفہ پہنچتے ہی بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ہوش میں آنے کے بعد اپنے رخسار کو بیت اللہ شریف پر رکھ کرعرض کی: ''یہ تیرے بندوں کی پناہ گاہ ہے اور تو ان سے محبت کرتا ہے اب تو آنکھوں میں آنسو ختم ہوگئے ہیں۔'' پھرطواف کیا ، سعی کرنے کے بعدجب وقوفِ عرفہ کا ارادہ کیا تو حائضہ ہو گئیں۔ روتے ہوئے عرض گزار ہوئیں:''اے میرے مالک و مولیٰ عزَّوَجَلَّ ! اگر یہ معاملہ تیرے غیر کی طرف سے ہوتاتو میں ضرور تیری بارگاہ میں شکایت کرتی اب جبکہ یہ سب کچھ تیری مشیئت سے ہوا ہے تو اب کیسے شکایت کرسکتی ہوں ؟'' پس انہوں نے ہاتف ِ غیبی کو یہ کہتے سنا: ''اے رابعہ! ہم نے تیرے سبب تمام حاجیوں کا حج قبو ل کرلیا اور تیری ا س کمی کی وجہ سے ان کے نقائص بھی پورے کر دیئے ۔''
منقول ہے کہ آپ عشاء کی نماز پڑھ کر مکان کی چھت پر کھڑی ہو جاتیں اور اپنے دوپٹے اورچادر کو اچھی طرح اوڑھ کر بارگاہِ ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ میں یوں عرض گزار ہوتیں: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ستارے چمک رہے ہیں ، سب کی آنکھیں سوئی ہوئی ہیں،بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کر لئے ہیں،ہر محب اپنے محبوب کے ساتھ تنہائی میں ہے اور میں تیری بارگاہ میں تنہا کھڑی ہوں۔''پھر آپ نماز ادا کرتی رہتیں، جب سحری کا وقت ہوتا اور فجر طلوع ہو جاتی تو بارگاہِ ربُّ العزَّت میں عرض کرتیں: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! یہ رات گزر گئی،دن خوب روشن ہو گیا۔کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ کیا میری رات کی عبادت قبول ہوئی تو مجھے مبارک باد دی جائے، یا اگر مردود ہوئی تو میری ڈھارس بندھائی جائے، تیری عزت کی قسم! جب تک تو مجھے زندہ رکھے گا اور میری مدد کرتا رہے گا میں اسی عادت پر قائم رہوں گی، اور تیری عزت کی قسم! اگر تو مجھے اپنی بارگاہ سے مردود کر دیتا پھر بھی میں اس سے دور نہ ہوتی کیونکہ میرے دل میں تیری محبت بس چکی ہے۔''
وفات
رابعہ بصری نے تقریباً اٹھاسی (88) سال کی عمر پائی لیکن آخری سانس تک آپ نے عشق الٰہی کی لذت و سرشاری کو اپن اشعاربنائے رکھا۔ یہاں تک کہ اپنی آخری سانس تک معبودِ حقیقی کی محبت کادم بھرتی رہیں ۔ آخری وقت آپ نے اپنے ولی اور صوفی ساتھیوں کو بتایا کہ ”میرا محبوب و معبود ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے۔
اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے طفیل ہماری مغفرت۔ آمین
نوٹ:۔ کچھ دوستوں کے ذہن میں خیال آسکتا ہے کہ اسلام تو رہبانیت سے منع کرتا ہےلیکن انہوں نے ترک دنیا کیوں کی۔ ذہن میں رہے کہ اہل تصوف و صوفیا اور بزرگان دین کا اللہ کا قرب پانے اورکے لئے کچھ عرصہ الگ رہ کر عبادت کرنے کو آپ رہبانیت سے تعبیر نہیں کرسکتے۔ سب سے پہلے آپ کو جاننا چاہئے کہ کس رہبانیت سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں منع فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: و رھبانیۃ ن ابتدعوھا۔ ما کتبنٰھا علیھم الّا ابتغاء رضوان اللّٰہ ۔ (الحدید57:27) ’’رہبانیت تو انہوں نے خود ہی ایجاد کر لی تھی۔ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا۔ انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (اسے ایجاد تو کرلیا ۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کااور گناہوں کی سزا کا تذکرہ کیا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی رہبانیت اختیار کرنے کی کوشش کی اور یہ ارادہ کیا کہ وہ رات بھر نمازیں پڑھا کریں گے، ہمیشہ روزہ رکھیں گے اور ہمیشہ اپنی بیویوں سے دور رہیں گے۔نہ خوشبو استعمال کریں گے۔ہمیشہ کھدر کا موٹا ایک ہی لباس زیب تن کریں گے۔ نہ ہی لوگوں سے میل جول رکھیں گے ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے حدود کا پاس رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بیاہ بھی کرتا ہوں۔ جس نے میرے طریقے سے انحراف کیا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘ (بخاری، کتاب النکاح)
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تصوف رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے؟
جی نہیں! ایسا ہر گز نہیں، اگرچہ کم علمی کی بنا پر عام لوگوں کے نزدیک تصوف کا مفہوم کچھ ایسا ہی ہے کہ یہ محض جنگلوں اور غاروں میں چلے جانے اور کاروبار دنیا سے جان چھڑا کر کسی گوشۂ تنہائی میں اللہ اللہ کرنے کا نام ہے گویا ان کی نظر میں تصوف تعطل اور جمود کی تعلیم دیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تصوف نہ تو جمود و تعطل پر مبنی رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے، نہ تصوف محض کسی سلسلہ طریقت سے منسلک ہو جانے تک موقوف ہے۔ تصوف کو غاروں اور جنگلوں میں ذکر و فکر تک محدود کر دینا اس فلسفہ روحانیت کی غلط خود ساختہ تعبیر ہے۔ بزرگان دین کا الگ رہ کر عبادت الہی کرنا رہبانیت نہیں۔ پرانے زمانے کے راہب پہاڑوں جنگلوں میں رہ کرعبادت کرتے تھے اور کئی کئی سال کسی انسان کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہ کرتے تھے۔ جبکہ ہمارے بزرگان دین ایسے نہ تھے۔وہ کچھ عرصہ کے لئے لوگوں سے الگ رہ کر قرب الہی پانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب مقصود الہی پا لیتے تولوٹ آتے۔ آپ امام غزالی کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ رابعہ بصری علیہ رحمہ کی مثال لے لیں۔ جب ان سے کوئی ملنے آتا تو ضرور اس کو ملتی تھیں اور اللہ کے احکامات کے مطابق حق معاشرت ادا کرتیں تھیں۔ اس کو اللہ کے دین کی طرف گامزن کرنے کی ضرور کوشش کرتی تھیں۔ آپ نے رہبانہ زندگی نہیں گزاری ۔بلکہ بڑے بڑے علماء کے مباحثوں میں بھی شرکت کرتی تھیں۔ اور ۔ رابعہ بصری کی بارگاہ میں بڑے بڑے علماء نیازمندی کے ساتھ حاضر بھی ہواکرتے تھے ۔اور آپ سب کی حق کی طرف رہنمائی فرمایا کرتی تھیں۔
ایک اور بات ذہن میں رہے حضرت رابعہ بصری علیہ رحمہ نے ہمیشہ جوانی میں پردہ کیا۔ اور ان کے مالک اور خاوند کے علاوہ شائد ہی کسی نے ان کا چہرہ جوانی میں دیکھا ہو۔ کچھ اسلامی کتب میں موجود ہے کہ حضرت رابعہ بصری کی شادی بھی ہوئی تھی لیکن ان کے خاوند کی وفات کے بعد انہوں نے دوبارہ شادی نہیں کی۔ ہاں ان کے بڑھاپے میں لوگوں نے ان سے ملاقات کی ۔ اور اکثر باتیں جو لوگوں سے ملاقات کی ہیں ان کے بڑھاپے کی ہیں ۔ بڑھاپے میں چہرے کے پردے کے بہرحال وہ احکامات لاگو نہیں ہوتے جو کسی عورت کی جوانی میں ہوتے ہیں۔ احادیث میں کئی بوڑھی عورتوں کے صحابہ سے ملاقات کے واقعات موجود ہوں۔
بہرحال اہل فکرو تصوف کا الگ رہ کر کچھ عرصہ کے لئے یاد الہی میں کھو جانے کو آپ پرانے زمانے کی رہبانیت سے تعبیر نہیں کرسکتے۔ کیونکہ رہبانیت اور تصوف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔یہ باتیں میں نے ظمناً آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں۔ تاکہ آپ ان جیسی برگزیدہ ہستیوں کے بارے اپنا ذہن صاف رکھیں۔ہمیں ان کے بارے اچھا گمان ہی رکھنا چاہئے۔ اللہ کی ان برگزیدہ ہستیوں پرکروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔ آمین

*👈 شہد کا پیالہ _._ ایک سبق آموز واقعہ __!!*آپؐ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار گپ شپ اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔ یو...
26/07/2020

*👈 شہد کا پیالہ _._ ایک سبق آموز واقعہ __!!*

آپؐ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار گپ شپ اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ مجلس مستقل ایک واقعہ اور قصہ بن جایا کرتی۔
ایک مرتبہ نبی کریمؐ اپنے رفقاء سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمانؓ کی معیت میں علیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔
سیدنا علیؓ کی اہلیہ سیدہ فاطمہؓ نے شہد کا ایک پیالہ ان حضرات کی مہمان داری کی خاطر پیش کیا۔ شہد اور خوبصورت چمکدار پیالہ۔۔۔ اتفاق سے اس پیالے میں اک بال گرگیا۔
آپؐ نے وہ پیالہ خلفائے راشدین کے سامنے رکھا اور فرمایا: آپ میں سے ہر ایک اس پیالے کے متعلق اپنی رائے پیش کرے۔
ابوبکر صدیقؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک مومن کا دل اس پیالے کی طرح چمکدار ہے، اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے، لیکن اس ایمان کو موت تک باحفاظت لے جانا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عمرؓ فرمانے لگے کہ حکومت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور حکمرانی شہد سے زیادہ شیریں ہے لیکن حکومت میں عدل وانصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عثمانؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک علم دین، اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے، اور علم دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
علیؓ نے فرمایا: میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اس کی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
سیدہ فاطمہؓ فرمانے لگیں کہ یارسول اللہ، اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں؟ آپؐ کے اجازت دینے پر فرمانے لگیں کہ عورت کے حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے۔ اور اس کے چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے ۔
کیا خوب ہی محفل تھی، جب خلفائے راشدین اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے۔
ادھر سرکار دو عالمؐ کے لب مبارک ہے تو زبان نبوت سے یہ الفاظ مبارک نکلے کہ معرفت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور معرفت الٰہی کا حاصل ہونا اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور معرفت الٰہی کے بعد اس پر عمل کرنا، بال سے زیادہ باریک ہے۔
ادھر زمین پر یہ مبارک محفل سجی تھی ادھر رب ذوالجلال سے جبریلؑ بھی اجازت لے کر آپہنچے اور فرمانے لگے کہ ’’میرے نزدیک راہ خدا چمکدار سے زیادہ روشن ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنا مال و اپنی جان قربان کرنا شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر استقامت بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘
جب زمین پر سجی اس محفل میں سب اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو جبریل امین فرمانے لگے کہ یارسول! اللہ تعالیٰ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں، فرمایا کہ جنت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور جنت کی نعمتیں اس شہد سے زیادہ شیریں ہیں، لیکن جنت تک پہنچنے کے لیے پل صراط سے گزرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
بلاشبہ یہ مجلس بھی مبارک اور ہر ایک کی گفتگو بھی مبارک، اس مجلس میں جہاں آقا نامدارؐ تھے وہیں صحابہ بھی تھے، آپ کی یہ مجلس اور اس میں ہونے والی گفتگو ہم سب کیلیے مشعل راہ ہے۔
(بکھرے موتی ص 938)
------------ایڈمن نورسحر💥

27/03/2020

وبا میں اذان کی شرعی حیثیت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

"اِذَا اَذَّنَ فِیْ قَرِیَةٍ اٰمَنَھَا اللہُ مِنْ عَذَابِهٖ فِیْ ذٰلِكَ الْیَوْمِ"

جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہےـ

[المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك، جلد 1، صفحہ257، حدیث:746، مطبوعہ المکتبة الفیصلیه بیروت]
[فتاوی رضویہ ، جلد 5 ، صفحہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور]

وبا کے زمانہ میں اذان دینا ایک مستحب امر ہے کہ فقیہِ اجَلّ ، محققِ بےبدل ، صاحب العلم وبالفضل ، امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں کہ:

”وبا کے زمانے میں اذان دینا مستحب ہے“

[فتاویٰ رضویہ ، جلد 5 ، صفحہ 370، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاجور]
[بہارِ شریعت ، جلد اول ، حصہ سوم، صفحہ 466، مطبوعہ مکتبة المدینہ کراچی]

کیونکہ اس وبا کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے جسکی وجہ سے عوام بھی پریشان ہے۔ اور گھبراہٹ کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان حالات میں بھی اذان سکونِ قلب اور خوف و ہراس دور کرنے کا سبب ہے۔

ابونعیم و ابن عساکر حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راویت کرتے ہیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

نَزَلَ آدَمُ بِالْھِندِ فَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْه الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فَنَادیٰ بِالْاَذَاَنِ

یعنی: جب آدم علیہ الصلاۃ والسلام جنت سے ھندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔

[حلیة الاولیاء مرویات عمرو بن قیس الملائی ، جلد 2، صفحہ 107، رقم:299 ، مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت]

مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرُ المومنین مولٰی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے:
قَالَ رَایٰ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم حُزِیْناً فَقَالَ یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنِّیْ اَرَاكَ حُزِیْناً فَمُرْ بَعْضَ اَھْلِكَ یُؤَذِّنُ فِیْ اُذُنِكَ فَاِنَّهٗ دَرْءُ الْھَّمِ

یعنی: مولا علی کہتے ہیں مجھے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔

[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوہ المصابیح باب الاذان ، جلد 2، صفحہ 149، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان]

لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاں دیگر تدابیر اختیار کر رہے ہیں وہاں اپنے اپنے گھروں میں ضرور اذانیں دیں ، گھر میں جب چاہیں اذان دے سکتے ہیں اب جبکہ علماء و مشائخ کی جانب سے اپیل کی گئی ہے تو بتاۓ وقت کیمطابق اسپر عمل کیا جاۓ اللہ کی رحمت پر پختہ یقین رکھیں ، ان شاءاللہ ہر قسم کی وبا سے حفاظت ہو گی اور خوف و گبھراہٹ دور ہونگے۔ اور اللہ کریم ﷻ امان نصیب فرمائے گا۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے مسلمانوں کو ہر قسم کی بلا و آفت سے محفوظ رکھے آمین۔

دلچسپ اور سبق آموز واقعہ ۔۔۔۔۔۔     ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر ...
27/03/2020

دلچسپ اور سبق آموز واقعہ ۔۔۔۔۔۔

ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے حکم جاری کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔

ایک رات ہارون الرشید شدید پریشانی میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کااستاد بھی تھا۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالد مسکرایا اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی داستان مقدر‘ قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔
آپ اگراجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں“بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا”یا استاد فوراً فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘ بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا۔

شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندر کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے غوطہ لگایا شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“یحییٰ خالد رکا‘ اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔
شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے“شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا
”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘ اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے۔

یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللہ تعالیٰ روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی۔

دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘
آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔
آسمانی آفت سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاﺅ کیلئے انسانوں کامتحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔
یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا

>>>>آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ
آپ فقیر بن جائیے۔
اللہ کے حضور گر جائیے
اس سے توبہ کیجئے‘
اس سے مدد مانگیے۔
دنیا کے تمام مسائل اوران کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے
جتنا ماتھے اور جائے نماز میں ہوتا ہے
لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیں لیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے....

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tassawaf posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share