Church Of Christ, Lahore

Church Of Christ, Lahore Church of Christ is built upon the standards of God.We speak where the bible speaks and we are silent where the Bible is silent

24/05/2026
جانئے اور جانتے رہیے!
20/05/2026

جانئے اور جانتے رہیے!

17/05/2026

Sunday Description dated 17th May, 2026

Dear brothers and sisters, greetings to you all in the blessed name of our Lord Jesus Christ. I pray that today’s message may be a source of blessing for me and for all of you.

Today, I would like us to learn an important lesson from the life of a very wise and beautiful woman mentioned in the Old Testament. Her name was Abigail, and her story is found in 1 Samuel chapter 25. Abigail’s husband, Nabal, was a wealthy but foolish and rude man.

The background of this event is that David had previously shown kindness to Nabal and his servants. Later, during a journey, David and his men needed food and supplies, so he sent messengers to request help from Nabal. However, Nabal responded arrogantly and disrespectfully, saying:
“Who is David? And who is the son of Jesse? Shall I take my bread and my water and give it to men whom I do not know?”

David became very angry at this response and set out with his men to attack Nabal’s household. When one of the servants informed Abigail about the danger, she immediately acted with wisdom and understanding. She quickly prepared food and gifts and went to meet David in order to plead with him to overlook her husband’s foolishness.

As soon as Abigail met David, she bowed herself to the ground in humility and presented the offering. Because of her wisdom, humility, and gentle words, David turned back and did not destroy the household.

From this story we learn that uncontrolled anger is foolish, as written in Proverbs 14:17:
“A quick-tempered person does foolish things.”

17/05/2026

Sunday Description dated 17th May, 2026

عزیزو خداوند یسوع المسیح کے نام میں آپ سب کی سلامتی چاہتے ہوئے دعا ہے کہ آج کی نصیحیت میرے اور آپ سب کے لئے باعث برکت ہو!
آج میں پرانے عہد نامے کی ایک عورت جو کہ انتہائی دانشمند اور خوبصورت تھی، کی کہانی سے سب کے لیے نصیحیت حاصل کرنے کو ہوں۔ اسکا نام ابیجعیل تھا اور اسکا ذکر 1 سیموئیل اسکے 25 باب میں ملتا ہے۔ ابیجعیل کا شوہر نابال تھا جو ایک امیراورنادان اور بے ادب آدمی تھا۔ یاد رہے کہ اس واقعے کا پس منظر یوں ہے کہ داود نے نابال کے ساتھ نیکی کی تھی۔ مگر اس واقعے میں داود کو نابال کی ضرورت پیش آئی کہ سفر میں کچھ خورد و نوش کا سامان درکار تھا۔ نابال نے اپنی خود سری میں کہا کہ کون داود اور کون یسی کا بیٹا؟ کیا میں اپنے ساتھیوں کی خوراک ان میں بانٹ دوں؟ داود اس جواب سے قہر انگیز ہوا اور اپنے لشکر کے ساتھ اس پر حملہ کے لیے روانہ ہوا۔ ایک ملازم نے ابیجعیل کو اس حملہ کی خبر دی اور یہ عورت انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے خوراک کا تحفہ لے کر داود سے ملنے کو دوڑی تاکہ اس کو واسطہ دے کہ اس کے شوہر کی حماقت کو درگزر کردے۔ جونہی اس کا سامنا داود سے ہوتا ہے وہ اوندھے منہ زمین پر گر پڑتی ہے اور نزرانہ پیش کرتی ہے۔ اس کی منت سماجت کے نتیجے میں داود واپسی کا قصد کرتا ہے۔ اس کہانی سے ہم سیکھتے ہیں کہ بے جا غصہ احمق کا کام ہے، امثال 14 باب اسکی 17 آیت۔ مذید یہ کہ عورت اپنی حاضر دماغی اور دانشمندی سے اپنے گھرانے پر آئی بلا کو ٹال سکتی ہے۔ نابال کی بیوی اس کے نادان ہونے کے باوجود اس کی تابعدار تھی اور اس کی خیر چاہتی تھی اور حلیم مزاج بھی تھی۔ آج ہماری قوم کو ایسی بیٹیوں اور ایسی بیویوں کی ضرورت ہے۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو!

17/05/2026

Sunday Service 17th May 2026
Sermon by (Obed Arthur)

10/05/2026

آج کے واعظ کی تفصیل، بتاریخ 10 مئی 2026

1۔ نحمیاہ ایک عظیم مسئلہ حل کرنے والے شخص تھے، اور ان کی یہ خصوصیت آج کاروباری مضامین میں بھی پڑھائی جاتی ہے۔ نحمیاہ یروشلم کی ٹوٹی ہوئی دیواروں اور جلے ہوئے دروازوں کی خراب حالت پر بہت فکرمند تھے، جو اس وقت پیش آئی جب یروشلم بابل کی اسیری سے واپس آیا۔ وہ یروشلم کی اس صورتحال پر گہری تشویش رکھتے تھے۔

2۔ نحمیاہ کی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کے اہم پہلو:
انہوں نے اس صورتحال پر گہری فکر کا اظہار کیا اور یروشلم کی بربادی کی خبر سن کر جذباتی طور پر ٹوٹ گئے۔

3۔ دعا اور روزہ:
انہوں نے اس مسئلے کو خدا کے حضور پیش کیا، روحانی وابستگی اور عملی منصوبہ بندی کو یکجا کرتے ہوئے۔ (نحمیاہ 1:2)

4۔ صورتحال کا مکمل جائزہ:
انہوں نے خود جا کر نقصان کا حقیقی اندازہ لگایا۔ (نحمیاہ 2:11-15)

5۔ ابلاغ اور حوصلہ افزائی:
انہوں نے لوگوں کے سامنے دیوار کی دوبارہ تعمیر کے لیے واضح وژن اور مقصد پیش کیا۔ (نحمیاہ 2:17-18)

6۔ منظم عملی اقدام:
انہوں نے ذمہ داریوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے کاموں کی مناسب تنظیم کی۔ (نحمیاہ باب 3)

7۔ تنقید کے باوجود فعال قیادت:
انہوں نے مختلف گروہوں کی مخالفت اور دھمکیوں کا سامنا کیا۔ سنبلط، طوبیاہ اور جیشم جیسے لوگوں نے اس منصوبے کو روکنے کی کوشش کی اور نحمیاہ پر غداری اور بغاوت جیسے سنگین الزامات لگائے۔ (نحمیاہ باب 4 اور 6)

8۔ نحمیاہ کی کامیابی:
نحمیاہ کا یقین تھا کہ خدا کا کام صرف 52 دنوں میں مکمل ہوا، اور یہی ان کی کامیابی کی نمایاں وجہ تھی۔

9۔ اب ہم دوسرے نکتے کی طرف آتے ہیں کہ نحمیاہ نے نہ صرف بیرونی لوگوں کی مخالفت اور تنقید کا سامنا کیا بلکہ اپنے ہی لوگوں کی طرف سے بھی مشکلات برداشت کیں۔

10۔ چیلنجز:
نحمیاہ کو چار بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
لوگ خوراک کی کمی کا شکار تھے۔ (نحمیاہ 5:2)
دیواروں کی تعمیرِ نو کے کام نے ان کی روزگار کی ذمہ داریوں کو متاثر کیا، جس سے مقامی قحط پیدا ہوا۔ (آیت 3)
کچھ لوگوں کو اپنے ہی امیر لوگوں سے قرض لینا پڑا، جنہوں نے نامناسب طریقے سے قرض دیا۔ (آیت 4)
زیادہ سود کی وجہ سے لوگوں کو اپنی بیٹیوں کو غلامی کے لیے فروخت کرنا پڑا۔

11۔ ابتدائی ردِعمل:
اس صورتحال کو سن کر نحمیاہ غصے میں آئے، لیکن انہوں نے حکمت کے ساتھ اس مسئلے کو سنبھالا۔ انہوں نے امراء اور حکام سے بات کی تاکہ سود خوری کو روکا جائے اور لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ (نحمیاہ 5:6-7)

12۔ نحمیاہ کا عملی اقدام:
انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں: یا تو حالات کو بدلا جائے یا خود کو حالات کے مطابق بدلا جائے۔
نحمیاہ نے خود کو بدلنے پر زور دیا، سود خوری بند کرنے کا مطالبہ کیا، اور دوٹوک انداز میں کہا کہ لوگوں کو ان کے کھیت واپس کیے جائیں۔ (نحمیاہ 5:7-13)

10/05/2026

Today's Sermon Description, dated 10th May, 2026.

1. Nehmiah a great problem solver and his.this Characteristic is being taught to business subjects. Nehmiah was very much worried about the deteriorating conditions of Jerusalem's broken walls and burnt doors which happened when Jerusalem came out of the captivity of Babylon. He was deeply worried about this situation in Jerusalem.

2. Key Aspects of Nehmias problem solving.
He had deep concern for this situation as he broke down emotionally over the report of Jerusalem ruins.

3. Prayer and fasting . He took the problem to God combining spirtual dedication and practical planning. Nehemiah 1.2

4. Complete assessment of the situation. He physically went to ascertain the actual damage. Nehemiah 2.11-15.

5. Communication and motivation. He presented a clear vision and purpose to the people for rebuilding the wall. Nehemiah 2.17-18.

6. He organized action with proper delegation of duties in smaller tasks with different groups. Nehemiah 3:00

7. Active management despite criticism by different groups. He dealt with threats of various people such as Sanballat, Tobiah and Geshem who wanted to stop this project and levelled various serious allegations on Nehemiah such as betrayal and Treason. Nehemiah chapter 4 and 6.

8. Nehmiahs success was noted in his conviction that the work of God was completd in just 52 days.

9. Now we come to our second point that Nehemiah not only faced conflict and criticism from external people but from his own people as well.

10. The Challenges. Nehemiah met four challenges People faced food shortage Nehemiah 5.2 The work on rebuilding the walls hindered their job responsibilities which created local famine V3 Some had to borrow money from their own rich people who loaned in not appropriate manner v4. This high interest rate to borrow money caused them to sell their daughters for slavery.

11. His initial response after listening this situation he was angry. However he smartly handled the situation by talking to Nobles and officials to tackle this problem by not charging usury on interest to help people. Nehmiah 5.6-7.

12. Action by Nehmiah He told them that there are two ways to handle this problem either to alter the challenge or alter ourselves to meet the challenge. Nehmiah demanda to alter ourselves by stopping usury he bluntly confronts them to give their fields. Nehmiah 5.7-13.

10/05/2026

Church Service 10/5/26

06/05/2026

جانیے اور جانتے رہیے!

• اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ مسیح کی کلیسیا کے رکن دوران عبادت سازوں کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟؟؟مسئلہ استطاعت کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔
• ابتدائی مسیحی عبادت میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، نہ ہی کلیسیا کے قیام کے بعد صدیوں تک اس کا استعمال ہوا۔
• تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ ابتدائی دور میں، جب کلیسیا براہِ راست الٰہی رہنمائی کے تحت تھی، موسیقی کے آلات استعمال نہیں ہوتے تھے۔
• ہر دور کے بائبل کے علماء خصوصا ماضی کے اور مختلف مذہبی گروہوں کے بانی اسے کلامِ مقدس کے خلاف سمجھتے رہے ہیں۔
مذید یہ کہ حکم ہے کہ پاک کلام میں کمی بیشی منع ہے۔
استثنا 2:4 — “تم میرے حکم میں نہ کچھ بڑھانا اور نہ کچھ گھٹانا…”
امثال 30:6 — “اس کے کلام میں اضافہ نہ کرو…”
مکاشفہ 22:18-19 — جو کوئی اس میں اضافہ کرے گا یا کمی کرے گا، اس کے لیے سخت انجام بتایا گیا ہے۔
کیا کلیسیاوں میں شروع سے ہی سازوں کا استعمال رائج تھا؟
امریکن انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، تقریباً 670ء میں پہلی بار گرجا گھروں میں آرگن متعارف ہوا۔
کلیسیا کے قیام کے بعد 650 سال تک کوئی ساز استعمال نہیں ہوا۔
ابتدائی مسیحیوں کے نزدیک آلات موسیقی بت پرستی سے منسلک تھے۔
موسیقی کے آلات انسان بناتا ہے، لیکن دل خدا بناتا ہے۔
ابتدائی مذہبی رہنماؤں کی رائے!
John Wesley, John Calvin, Joseph Bingham, Adam Clark, Charles Spurgeon, Martin Luther, Dr. Curt Sachs, Richard Wagner,
.Lyman Coleman and J.N Brownہر دور کے بائبل کے علماء خصوصا ماضی کے اور مختلف مذہبی گروہوں کے بانی اسے کلامِ مقدس کے خلاف سمجھتے رہے ہیں۔
جاری ہے۔

04/05/2026

Sunday Sermon – Dated May 3, 2026

Dear Church,
Praying for your peace, I ask that today’s exhortation from the Word of God may be a blessing for both you and me.

My dear church, today’s message is taken from the Book of Revelation, chapter 2, verse 18. This passage is addressed to the church in Thyatira. We also find a reference to this place in Acts 16:14, where Lydia, a seller of purple cloth, is described as a resident of Thyatira. This city was famous for its dyeing industry, and its inhabitants were worshippers of the god Apollo, whom they considered divine.

Jesus Christ, who speaks to this church, is described as having eyes like blazing fire (Hebrews 4:13), meaning He sees everything, and feet like burnished bronze, symbolizing judgment. Through John the Revelator, the good deeds of this church are acknowledged, but at the same time, their weaknesses are pointed out and they are warned.

The fault of this church was that they did not separate themselves from people like the immoral woman Jezebel (1 Kings 16:29–31; 1 Kings 19:1–2). There is a clear instruction (1 Corinthians 5:2) that such a person should be removed, and (2 Thessalonians 3:6) that believers should keep away from those who walk disorderly.

Today, we too tolerate many such teachings among us from which we should distance ourselves. Human beings are weak, and Satan prevents them from obeying the truth (Galatians 5:7). But remember, “a little leaven leavens the whole lump” (verse 9). Those who tolerate evil are awaiting severe punishment.

As stated in 2 Corinthians 5:10, we must all appear before the judgment seat of Christ, where each person will be rewarded for what they have done, whether good or bad.

Similarly, in Revelation chapter 3, in the letter to the church in Sardis, we find this exhortation: there are indeed a few who have not defiled themselves with the world’s impurities, but the majority consider themselves believers while in reality they are spiritually dead. According to 1 Timothy 5:6, such people are dead even while they live.

Therefore, those who are strong ought to bear with the weaknesses of the weak (Romans 15:1). And according to Ephesians 4:14 and 1 Thessalonians 5:21, we must remain firm in righteousness and avoid evil.

Only then can we reach the standard that our names may be written in the Book of Life, and we may be counted worthy of the Morning Star—that is, be declared victorious.

04/05/2026

اتوار کا وعظ بتاریخ 3 مئی 26
عزیز کلیسیا آپ کی سلامتی چاہتے ہوئے دعا ہے کہ خدا کے کلام سے آج کی نصیحیت میرے لئے اور آپ کے لیے باعث برکت ہو!
میری عزیز کلیسیا میری آج کی نصیحیت مکاشفہ کی کتاب اسکے دوسرے باب اسکی 18 آیت سے ہے۔ یہ حصہ تھواتیرہ کی کلیسیا کے نام ہے ااور اس کا ذکر ہمیں اعمال 16 باب اسکی 14 آیت میں ملتا ہے کہ لدیہ قرمز بیچنے والی تھواتیرہ کی رہائشی تھی ۔ یہ شہر اپنی رنگ سازی کی وجہ سے مشہور تھا اور یہاں کے رہنے والے اپالو دیوتا کے پجاری تھے، جس کو وہ الہٰ مانتے تھے۔ یسوع المسیح جو اس کلیسیا سے ہم کلام ہے اسکی انکھیں آگ کے شعلہ کی مانند ہیں، (عبرانیوں 4اسکی 13آیت) مراد ہر طرف دیکھ سکتی ہیں اور اسکے پاوں پیتل کے سے ہیں ، جو عدالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ بزریعہ یوحنا عارف اس کلیسیا کی بھلی باتوں کو سراہتے ہوئے ان کو ان کی کمزوری سے آگاہ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ تنبیہہ بھی کی گئی ہے۔ اس کلیسیا کی غلطی کچھ یوں تھی کہ انہوں نے بدکار عورت ایزبل (1 سلاطین 16 باب اسکی 29 تا 31 آیت اور 1 سلاطین 19 باب پہلی دو آیات) جیسے لوگوں کو اپنے سے علیحدہ نہ کیا، جبکہ واضع ہدایت ہے کہ(1 کرنتھیوں 5 باب 2آیت) ایسے شخص کو باہر نکالا جائے اور (2 تھیسلینیکیوں 3 باب اسکی 6 آیت) بے قاعدہ چلنے والے بھائیوں سے کنارہ کیا جائے۔ آج ہم بھی بہت سی ایسی تعلیموں کو اپنے درمیان برداشت کرتے ہیں جن سے ہمیں لاتعلقی اختیار کرنی چاہئے۔ کیونکہ انسان بہر حال کمزور ہے اور شیطان انسان کو حق کے ماننے سے روک دیتا ہے (گلتیوں 5 باب 7 آیت) مگر یاد رہے کہ تھوڑا سا خمیر سارے گندھے ہوئے آٹے کوخراب کر دیتا ہے(آیت 9) برائی کو برداشت کرنے والوں کے لیے سخت سزا انتظار کر رہی ہے۔ 2 کرنتھیوں 5 باب اسکی 10 آیت کہ مسیح کے تخت عدالت کے سامنے ہر شخص کا حال ظاہر کیا جائے گا اور بھلے اور برے کاموں کا بدلہ دیا جائے گا۔ ایسے ہی نصیحیت مکاشفہ 3باب میں ہمیں سردیس کی کلیسیا کو لکھے گئے خط میں ملتی ہے کہ بلا شبہ تم میں چند ایسے ہیں جنہوں نے اپنے کو دنیا کی آلائشوں سے ناپاک نہیں کیا۔ مگر اکثریت ایسوں کی ہے جو اپنے کو ایمانداروں میں شامل سمجھتے ہیں مگر در حقیقت ان کی حالت مردہ ہے۔ 1 تمیتھیس 5 باب 6 آیت کے مطابق ایسے لوگ جیتے جی مر جاتے ہیں۔ سو جو مضبوط ہیں ان پر بھی لازم ہے کہ کمزوروں کی فکر کریں (رومیوں 15 باب اسکی 1 آیت) اور بمطابق افسیوں 4 باب 14 آیت اور 1 تھیسلینیکیوں 5 باب اسکی 21 آیت، بدی سے بچے رہیں اور راستی کو تھامیں رہیں۔ تب ہی جاکر ہم اس معیار کو چھو سکتے ہیں کہ ہمارا نام کتاب حیات میں داخل ہو۔ اور ہم صبح کے ستارے کے اہل یعنی فتح مند قرار پائیں۔

Address

Lahore Church Of Christ, John Street, Bahar Colony
Lahore
54600

Opening Hours

09:30 - 13:00

Telephone

03004554904

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Church Of Christ, Lahore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share