26/11/2025
ہمارے سر میں خاک ! کہ ہم نہ سمجھ پائے کہ
کیا ہوا تھا !
[ امیرالمومنین ] پر کیا بیتی تھی !
حدیث میں دقت کیجیئے !
حدیث یہ ہے کہ امام جعفر صادق فرماتے ہیں :
لما حضرت فاطمة الوفاة بكت
جب فاطمہ کی وفات کا وقت آیا تو رونے لگیں۔۔۔۔۔۔
امیرالمومنین کون ہیں ؟
سید الاوصیاء !
شیث سے لے کر صاحب الزمان تک
امیرالمومنین نے فرمایا :
یا سیِّدتي !
اے میری پیشوا !
سید نے سیدہ سے کہا " اے میری پیشوا ! "
آپ کیوں گریہ کناں ہیں ؟
گویا فرما رہے تھے کہ آپ خاتم الانبیاء کے پاس عرشِ اعلی کو سدھار رہی ہیں
یہ رونے کا وقت نہیں ہے
سیدہ نے فرمایا : ابکی لما تلقی من بعدی
میں رو رہی ہوں ان مصائب کی وجہ سے جو میرے بعد آپ کو لاحق ہونگے
یعنی [ اے علی ] میں آپ کی ڈھال تھی آپ کی محافظہ تھی اور اب جب میں نہیں ہوؤں ہوگی ۔۔۔۔ آقای وحید گریا فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔
اے اہل علم ! غور کرو ، لوگوں کو اس حقیقت سے رو شناس کراو!
فرمایا :
" و اللہ ان ذلك لصغير عندي في ذات الله "
سیدہ کے جواب میں کیا فرمایا ؟
فرمایا ؛ جو کچھ بھی دیکھوں گا جن مصائب کا بھی سامنہ کروں گا۔۔۔۔۔
کیا دیکھا ؟
پچیس سال
کیا کیفیت رہی ؟
اگرایک لحظہ کے لیئے آپ کی آنکھ میں کوئی شئ چلی جائے
یا کوئی ہڈی حلق میں پھنس جائے !
آپ کی کیفیت کیا ہوگی ؟۔۔۔۔۔۔
یہ اس شخص کے جملہ ہیں کہ خدا اس کی سچائی کا گواہ ہے !
کہا :
صبرت و في العين قذى و في الحلق شجى
میں نے صبر کیا اس کیفیت میں کہ میری آنکھ میں تنکا تھا اور حلق میں ہڈی تھی۔
پچیس سال!
ایسا شخص قسم کھا کر کہہ رہا ہے :
و اللہِ
اللہ کی قسم یہ سب کچھ حقیر ترین ہے کم ترین ہے ۔
ایسا شخص کہ جب ابن ملجم اس کے پاس لایا گیا
ابن ملجم نے کہا :
ہزار درہم دے کر یہ تلوار خریدی ہے اور ہزار درہم دیئے تاکہ زہر آلود ہو۔۔
پھر تمھاری فرقت پر ضربت لگائی ہے۔۔۔
یہ ابن ملجم کی کا جملہ ہے۔۔۔۔
جبریل زمین و آسماں کے مابین پکار اٹھے :
تھدمت و اللہ ارکان الھدی
لیکن خود [ علی ] اس نے سر کو جنبش تک نہ دی اور پکارا :
فزت و رب اللکعبة
لیکن
ایک دفعہ دو بچے مسجد میں داخل ہوئے اور پکارے :
ہمارے ماں رحلت فرما گئیں !
اب جب اس شخص نے یہ سنا
اس پر غشی طاری ہوئی اور وہ زمیں پر گر پڑا !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آقای وحید خراسانی کی مجلس کا ایک اقتباس
مترجم : الاحقر عبد من عبید الزھراء