26/04/2026
جب رات اترتی ہے تو ایک خاموش دنیا حرکت میں آتی ہے۔ مچھر، مکھی، پتنگے نکلتے ہیں؛ ان کے پیچھے چھپکلی، مینڈک اور مکڑے سرگرم ہوتے ہیں؛ پھر چوہے آتے ہیں اور ان کے تعاقب میں سانپ اور الو دیگر شکاری وغیرہ ۔ بظاہر یہ صرف شکار اور شکاری کی کہانی ہے—مگر حقیقت اس سے کہیں گہری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا
“اور زمین میں چلنے والا کوئی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے”
(سورۃ ہود 11:6)
یعنی ہر مخلوق اس اندھی دوڑ میں نہیں، بلکہ ایک طے شدہ رزق اور نظام کے تحت چل رہی ہے۔
اگر یہ توازن ختم ہو جائے تو دنیا بگڑ جائے۔ اسی حقیقت کو قرآن یوں بیان کرتا ہے:
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
“بے شک ہم نے ہر چیز ایک اندازے (تقدیر) کے ساتھ پیدا کی ہے”
(سورۃ القمر 54:49)
یہی وجہ ہے کہ یہاں طاقتور بھی ہمیشہ محفوظ نہیں۔ شکاری بھی ایک دن شکار بن سکتا ہے:
وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
“اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں”
(سورۃ آل عمران 3:140)
مگر یہ نظام صرف لڑائی نہیں۔ اس میں ہم آہنگی بھی ہے، ترتیب بھی ہے، اور حیران کن توازن بھی:
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ
“جس نے سات آسمان تہہ بہ تہہ بنائے، تم رحمان کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھو گے”
(سورۃ الملک 67:3)
اور مزید غور کرنے کی دعوت دی گئی:
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ
“کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے پیدا کیا گیا؟”
(سورۃ الغاشیہ 88:17)
یعنی دیکھو، سوچو، اور سمجھو—یہ سب محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔
یہ سارا نظام، رات کی یہ سرگرمیاں، شکار اور شکاری کا یہ سلسلہ—سب ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ... لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
“اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین بھی انہی کی مانند... تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے”
(سورۃ الطلاق 65:12)
یہ دنیا صرف شکار اور شکاری کا کھیل نہیں، بلکہ ایک مکمل، متوازن اور باحکمت نظام ہے—جس کا ہر ذرہ ایک خالق کی قدرت کی گواہی دے رہا ہے۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ
“بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں”
(سورۃ آل عمران 3:190)
جو شخص صرف یہ دیکھتا ہے کہ کون کس کو کھا رہا ہے، وہ آدھی حقیقت دیکھتا ہے۔
اور جو اس توازن، ترتیب اور حکمت کو پہچان لیتا ہے—وہ اپنے ربّ کو پہچان لیتا ہے۔
اور یہی اصل کامیابی ہے۔