Dr hafeez ur rehmam bughdadadi

Dr hafeez ur rehmam bughdadadi Dr hafeez ur rehmam bughdadadi

27/05/2026

عیدُ الاضحیٰ — قربانی، اطاعت اور امتِ مسلمہ کی عظیم عید-------

آج عیدُ الاضحیٰ کا مبارک دن ہم پر سایہ فگن ہے۔ یہ دن صرف خوشی، لباس اور کھانے کا نام نہیں بلکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی بے مثال اطاعت، صبر اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کامل تسلیم و رضا کی یاد تازہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
“فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ”
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
— سورۃ الکوثر
ایک اور مقام پر فرمایا:
“لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ”
“اللہ تک نہ ان قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
— سورۃ الحج
عیدُ الاضحیٰ دراصل ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مسلمان اپنی خواہشات، انا، غرور اور دنیاوی محبتوں کو اللہ کے حکم کے تابع کر دے۔ یہی قربانی کی اصل روح ہے۔ جانور ذبح کرنا ایک عبادت ہے مگر اس عبادت کا حقیقی مقصد دلوں میں تقویٰ، اخلاص، ایثار اور اللہ کی اطاعت پیدا کرنا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“یوم النحر کے دن اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل قربانی کا خون بہانا ہے۔”
— ترمذی
آج کے اس مبارک موقع پر ہمیں چاہیے کہ:
اپنی قربانی میں اخلاص پیدا کریں،
غریبوں، یتیموں اور محتاجوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں،
امتِ مسلمہ کی وحدت، سلامتی اور استحکام کے لیے دعا کریں،
فلسطین، کشمیر اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں،
اور اپنے گھروں میں محبت، صلہ رحمی اور اسلامی اخوت کو فروغ دیے
پاکستان کے تمام مسلمانوں، عالمِ اسلام اور پوری ملتِ اسلامیہ کو عیدُ الاضحیٰ دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو۔
اللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول فرمائے، ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے، امتِ مسلمہ کو اتحاد عطا فرمائے اور اس مبارک دن کو رحمت، برکت اور امن کا ذریعہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
عید مبارک

العبد العدیم
محقق العصر،مفسرقرآن
پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن بغدادی



















27/05/2026




















16/05/2026

Behaviour in islamBehaviour in islam, Prof Dr Hafeez ur Rehman Bugjd, quran, islamic motivation, hadith, muslim etiquette, islamic ethics, adab islam, muslim...

15/04/2026

2 اپریل – آٹزم آگاہی کا عالمی دن
(ورلڈ آٹزم اویئرنس ڈے)
محترم قارئین کرام
دنیا میں ہر سال 2 اپریل کو ایک اہم دن منایا جاتا ہے جسے کہا جاتا ہے
ورلڈ آٹزم اویئرنس ڈے
یعنی
آٹزم کے بارے میں عالمی آگاہی کا دن۔
آٹزم کو انگریزی میں کہا جاتا ہے
Autism Spectrum Disorder
یعنی
آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر
سادہ الفاظ میں یہ دماغی نشوونما کا ایک مختلف انداز ہے۔
یہ کوئی گناہ نہیں، کوئی سزا نہیں، بلکہ قدرت کی ایک خاص ترتیب ہے۔
ایسے بچوں میں عموماً یہ علامات دیکھی جاتی ہیں:
دیر سے بولنا
لوگوں سے کم میل جول رکھنا
بعض اوقات ایک ہی حرکت بار بار دہرانا
لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ
بہت سے آٹزم والے بچوں میں غیر معمولی ذہانت، یادداشت اور تخلیقی صلاحیت بھ
ی ہوتی ہے۔
اسلام کا تصور: ہر انسان قابلِ احترام
اسلام انسان کو صرف طاقت یا صحت کی بنیاد پر نہیں دیکھتا۔
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر انسان اللہ کریم کی مخلوق اور قابلِ احترام ہے۔
قرآن کریم میں ایک اہم واقعہ بیان ہوا۔
جب نابینا صحابی
حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ
رسول کریم ﷺ کی مجلس میں آئے
تو سورہ عبس نازل ہوئی۔
اللہ کریم نے اپنے نبی کو یہ تعلیم دی کہ
جو شخص ظاہری طور پر کمزور نظر آتا ہے
وہ اللہ کے نزدیک بہت بلند مقام رکھ سکتا ہے۔
یہ اسلام کا پیغام ہے۔
رسول کريم ﷺ نے فرمایا:
خَيرُ الناسِ من يَنفعُ الناس
ترجمہ:
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔
اب سوچئے
اگر کوئی بچہ آٹزم کا شکار ہے
یا کسی جسمانی یا ذہنی کمزوری کے ساتھ پیدا ہوا ہے
تو کیا ہم اسے کمتر سمجھ سکتے ہیں؟
ہرگز نہیں۔
کیا انہیں "معذور" کہنا چاہیے؟
یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔
اسلامی فقہ میں ایسے لوگوں کے لیے لفظ آتا ہے:
ذوی الاعذار
یعنی
وہ لوگ جن کے پاس کوئی عذر یا کمزوری ہو۔
آج کی دنیا میں ایک بہتر اصطلاح استعمال ہوتی ہے:
Persons with Disabilities
یعنی
خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد
اسی لیے بہتر یہ ہے کہ ہم کہیں:
خصوصی بچے
یا
خصوصی افراد
کیونکہ بعض اوقات "معذور" کا لفظ والدین کے دل کو تکلیف دیتا ہے۔
والدین کی آزمائش
ذرا تصور کریں۔
ایک ماں اور باپ جب اپنے بچے کو دنیا میں لاتے ہیں
تو ان کے دل میں ہزاروں خواب ہوتے ہیں۔
لیکن جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ
ان کا بچہ آٹزم کا شکار ہے
تو ان کے دل میں کتنی فکر، کتنی پریشانی اور کتنی آزمائش ہوتی ہے۔
ایسے والدین کو
ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے
نہ کہ طنز اور غیر ضروری سوالوں کی۔
بعض لوگ پوچھ لیتے ہیں:
"یہ بچہ ایسا کیوں ہے؟"
یہ سوال
والدین کے دل کو زخمی کر دیتا ہے۔
ہمیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
اگر آپ کے سامنے آٹزم والا بچہ ہو
تو تین باتیں یاد رکھیں۔
پہلی بات — احترام
اس بچے کو عجیب نظروں سے مت دیکھیں۔
دوسری بات — صبر
اگر وہ مختلف انداز میں بات کرے یا حرکت کرے
تو اسے برداشت کریں۔
تیسری بات — محبت
محبت وہ زبان ہے
جو ہر انسان سمجھتا ہے۔
انسانیت کا امتحان
کسی معاشرے کی اصل عظمت یہ نہیں
کہ وہ طاقتور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے
بلکہ یہ ہے
کہ وہ کمزور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
ایک مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے
جو اپنے
یتیموں
بیماروں
بوڑھوں
اور خصوصی بچوں
کا خیال رکھے۔
پاکستان میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟؟؟؟؟؟

تو چند عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔
۔ آگاہی پیدا کرنا
والدین کو آٹزم کی علامات کے بارے میں بتایا جائے۔
۔ ابتدائی تشخیص
بچوں کی جلد تشخیص کی جائے
جسے انگریزی میں کہتے ہیں
Early Diagnosis
یعنی
ابتدائی تشخیص
۔ خصوصی تعلیم
آٹزم بچوں کے لیے خصوصی اسکول اور تھراپی مراکز قائم کیے جائیں۔
۔ معاشرتی قبولیت
ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
ایک اہم حقیقت
آٹزم والے بچے معاشرے کا بوجھ نہیں ہوتے۔
اگر انہیں صحیح تربیت ملے
تو یہی بچے مستقبل میں
بہترین پروگرامر
بہترین فنکار
بہترین سائنس دان
بن سکتے ہیں۔
دنیا میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
طاقتور اختتامی پیغام

2 اپریل ہمیں یہ یاد دلاتا ہے
کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بچے بھی ہیں
جو تھوڑی سی توجہ
تھوڑی سی محبت
اور تھوڑا سا صبر چاہتے ہیں۔

ہم کسی بچے کو
اس کی کمزوری کی وجہ سے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
کیونکہ
انسانیت کا اصل حسن یہی ہے
کہ ہم کمزور کا سہارا بن جائیں۔
اور یاد رکھیے
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
خیر الناس من ينفع الناس
تم میں سب سے بہتر وہ ہے
جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔

آٹزم بیماری نہیں بلکہ دماغی نشوونما کا ایک مختلف انداز ہے۔
ایسے بچے کمزور نہیں ہوتے بلکہ اکثر غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔
ہمیں انہیں "معذور" نہیں بلکہ خصوصی بچے سمجھنا چاہیے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ کمزور اور ضرورت مند افراد کا سہارا بنیں۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
خیر الناس من ينفع الناس
تم میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔
آئیے عہد کریں کہ ہم آٹزم کے شکار بچوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ انہیں محبت، احترام اور قبولیت دیں گے۔

العبد العدیم
پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن بغدادی
بانی و چئیرمین
ادارہ فیضان القرآن لاہور پاکستان

💙










15/04/2026

دنیا ایک خوفناک موڑ پر کھڑی تھی… جہاں ایک چنگاری پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی تھی!
طاقتور ممالک آمنے سامنے تھے، جنگی بیانات اپنے عروج پر تھے، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ انسانیت ایک بڑی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
مگر اسی نازک گھڑی میں…
ایک ذمہ دار، باشعور اور امن پسند ملک میدان میں آیا — اور وہ تھا پاکستان ------
پاکستان---- نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی کردار ادا کیا۔ نہایت دانشمندی اور بروقت حکمتِ عملی کے ساتھ ایک ایسی سفارتی تجویز پیش کی گئی جس نے حالات کا رخ موڑ دیا۔

امریکہ-- نے بھی اس تجویز کو قبول کیا…
ایران--- نے بھی مثبت جواب دیا…
اور یوں دو ہفتوں کی جنگ بندی (Ceasefire) طے پا گئی۔
یہ محض ایک معاہدہ نہیں…
یہ انسانیت کے لیے ایک نئی امید ہے، ایک مہلت ہے، ایک موقع ہے کہ دنیا تباہی سے بچ سکے۔
آج دنیا بھر میں پاکستان کے اس کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر اسے ایک ذمہ دار اور امن دوست ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ لمحہ ہمیں ایک سبق دیتا ہے:
اصل طاقت صرف اسلحہ نہیں ہوتی،
بلکہ اصل قوت بصیرت، تدبر اور امن کی سوچ میں ہوتی ہے۔
پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف اپنی سرحدوں کا محافظ ہے، بلکہ عالمی امن کا بھی ایک مضبوط علمبردار ہے۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ یہ کوششیں مستقل امن کا پیش خیمہ بنیں اور دنیا کو ہر قسم کی جنگ و فساد سے محفوظ رکھیں۔امین

العبد العدیم
پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن بغدادی
بانی وچئیرمین
ادارہ فیضان القرآن لاہور،پاکستان














🤝🕊️

15/04/2026

For Daily Hadith, contact on the number below.
روزانہ حدیثِ مبارکہ اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔

+92 335 5070537

























#حديث

15/04/2026

یومِ مادر نجم النساء
رحمتہ اللہ علییھا -----------
آج 11 اپریل کا دن ہمارے دلوں کو ایک عظیم ہستی کی یاد سے منور کر دیتا ہے—
وہ ہستی جنہوں نے ہمیں محبت، شفقت، صبر اور ایثار کا درس دیا۔
میری پیاری والدہ نجم النساء-----------
جن کا وصال 11 اپریل 1993 کو ہوا،
آج 11 اپریل 2026ھے اور ان کی جدائی کو 33 برس بیت چکے ہیں،--
مگر ان کی یادیں، ان کی دعائیں اور ان کی تربیت آج بھی ہماری زندگی کا سرمایہ ہیں۔
ماں کے بارے میں چند اشعار:
ماں کی محبت کا کوئی بدل نہیں ہوتا،
یہ وہ خزانہ ہے جو کبھی کم نہیں ہوتا۔
ماں کی دعا وقت کو بھی بدل دیتی ہے،
تقدیر کے لکھے کو سنور دیتی ہے۔
وہ سایہ جو دھوپ میں ٹھنڈک بن جائے،
وہ ماں ہی ہے جو ہر دکھ میں ڈھال بن جائے۔
ماں وہ روشنی ہے جو کبھی مدھم نہیں پڑتی،
وہ دنیا سے رخصت ہو جائے تو بھی اس کی دعا اور محبت نسلوں تک اثر انداز رہتی ہے۔
اسی نسبت سے، میں نے اپنی والدہ مرحومہ مغفورہ کے نام کو زندہ رکھنے اور ان کے لیے صدقۂ جاریہ کے طور پر ایک عظیم علمی و دعوتی کام کیا:
“نجم النساء”
یہ کتاب خواتین کے لیے رہنمائی اور روشنی کا ایک جامع خزانہ ہے،
جس میں خواتین کے دینی، معاشرتی اور عملی مسائل کو نہایت آسان، مدلل اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک عظیم علمی کاوش:
“تفسیر النجم النساء”
یہ اکیسویں صدی کی ایک منفرد اور جامع تفسیر ہے،
جس میں بالخصوص اُن موضوعات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جن کا تعلق خواتین کی زندگی سے ہے۔
اس تفسیر میں درج ذیل اہم مسائل کو خصوصی طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے:
وراثت کے مسائل
طلاق اور خلع کے احکام
حیض و نفاس کے مسائل
عدت کے احکام
رضاعت (دودھ پلانے) کے مسائل
شہادت (گواہی) کے اصول
دیت اور دیگر معاشرتی و شرعی معاملات
اس علمی سلسلے کے تحت تقریباً 365 لیکچرز ترتیب دیے گئے ہیں،
جن میں قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں خواتین کے حقوق، مقام، ذمہ داریاں اور ان کے مسائل کا جامع حل پیش کیا گیا ہے۔
یہ تفسیر نہ صرف علمی اعتبار سے مضبوط ہے بلکہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ایک رہنما حیثیت بھی رکھتی ہے،
اور خواتین کے لیے قرآنِ کریم کی روشنی میں ایک مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتی ہے۔
یہ تمام کاوشیں دراصل ایک بیٹے کی اپنی ماں سے محبت، عقیدت اور ایصالِ ثواب کا عملی اظہار ہیں،
کہ ان کے نام سے علم کی روشنی پھیلے اور یہ ان کے لیے ہمیشہ جاری رہنے والا صدقۂ جاریہ بن جائے۔

اللہ کریم میری والدہ نجم النساء رحمتہ اللہ علیہا کی کامل مغفرت فرمائے،امین
ان کی قبر کو نور سے بھر دے، امین
اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
تمام احباب سے فاتحہ اور ایصالِ ثواب کی درخواست
العبد العدیم
پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمان بغدادی



Address

Wapda Town
Lahore

Telephone

+923334213638

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr hafeez ur rehmam bughdadadi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share