12/08/2026
سورج گرہن 12 اگست 2026ء
ضروری احتیاطی تدابیر، نماز، دعا اور استغفار
12 اگست 2026ء کو سورج گرہن واقع ہونے والا ہے۔ سورج اور چاند کا گرہن اللہ کریم کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے ہے۔ اسلام نے گرہن کے بارے میں پائے جانے والے توہمات اور بدشگونی کی واضح تردید فرمائی ہے۔
رسولِ کریم ﷺ کے زمانۂ مبارک میں آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے وصال کے موقع پر سورج گرہن ہوا تو بعض لوگوں نے اسے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات سے منسوب کیا۔ اس موقع پر رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:
"بے شک سورج اور چاند اللہ کریم کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کریم کو یاد کرو، نماز پڑھو اور دعا کرو۔"
نمازِ کسوف
سورج گرہن کے وقت نمازِ کسوف ادا کرنا رسولِ کریم ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ اس موقع پر نماز، دعا، ذکر، تلاوتِ قرآنِ کریم، صدقہ اور استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔
احادیثِ مبارکہ میں نمازِ کسوف کی خاص کیفیت بھی بیان ہوئی ہے، جس میں طویل قیام، قراءت، رکوع اور سجود کا ذکر ملتا ہے۔
اگر کسی شخص کو طویل سورتیں یاد نہ ہوں تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق قرآنِ کریم کی جو سورتیں یاد ہوں، ان کی تلاوت کرے جیسے۔ سورۂ اعلیٰ، سورۂ غاشیہ، سورۂ کوثر یا سورۂ اخلاص پڑھنا -
حاملہ خواتین کے بارے میں
ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے دوران حاملہ خواتین کو خاص احتیاط کرنی چاہیے اور ایسا نہ کرنے سے بچے پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس تصور کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں اور نہ ہی شریعت نے اسے لازم قرار دیا ہے۔
تاہم اگر کوئی حاملہ خاتون گرہن کے دوران گھر میں رہ کر نماز، تلاوتِ قرآنِ کریم، ذکر، تسبیح، دعا اور استغفار میں مشغول رہتی ہے تو یہ ایک نہایت اچھی اور باعثِ اجر مصروفیت ہے۔ اسے گرہن کے کسی جسمانی اثر سے بچنے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اللہ کریم کی عبادت اور ذکر سمجھ کر کیا جائے۔
پاکستان اور عرب ممالک میں گرہن
12 اگست 2026ء کا یہ سورج گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔ اسی طرح سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بیشتر عرب ممالک میں بھی یہ گرہن قابلِ رؤیت نہیں ہوگا۔
البتہ دنیا کے بعض علاقوں، خصوصاً اسپین، آئس لینڈ اور گرین لینڈ کے بعض حصوں میں مکمل سورج گرہن دیکھا جائے گا، جبکہ شمالی افریقہ اور یورپ کے بعض علاقوں میں جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔
لہٰذا جہاں جہاں گرہن نظر آئے، وہاں مسلمان اس موقع پر نمازِ کسوف، دعا، ذکر، تلاوتِ قرآنِ کریم اور استغفار کا اہتمام کریں۔
سورج گرہن کسی انسان کی پیدائش، موت، خوش بختی یا بدبختی کی علامت نہیں۔ یہ اللہ کریم کی قدرت کی ایک نشانی ہے۔ ایسے مواقع ہمیں کائنات کے خالق کی عظمت یاد دلاتے ہیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
آئیے گرہن کے موقع پر توہمات اور خوف کے بجائے نماز، دعا، تلاوتِ قرآنِ کریم، ذکر اور استغفار کو اپنا شعار بنائیں۔
اللہ کریم ہمیں اپنی قدرت کی نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے اور ہر حال میں اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حوالہ جات:صحیح البخاری، کتاب الکسوف، حدیث 1044، 1058صحیح مسلم، کتاب الکسوف، حدیث 901، 910
العبد العدیم
پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن بغدادی.
#12اگست2026
ﷺ
#استغفار
#دعا
ٰہی