Dr hafeez ur rehmam bughdadadi

Dr hafeez ur rehmam bughdadadi Dr hafeez ur rehmam bughdadadi

12/08/2026

سورج گرہن 12 اگست 2026ء

ضروری احتیاطی تدابیر، نماز، دعا اور استغفار

12 اگست 2026ء کو سورج گرہن واقع ہونے والا ہے۔ سورج اور چاند کا گرہن اللہ کریم کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے ہے۔ اسلام نے گرہن کے بارے میں پائے جانے والے توہمات اور بدشگونی کی واضح تردید فرمائی ہے۔

رسولِ کریم ﷺ کے زمانۂ مبارک میں آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے وصال کے موقع پر سورج گرہن ہوا تو بعض لوگوں نے اسے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات سے منسوب کیا۔ اس موقع پر رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:

"بے شک سورج اور چاند اللہ کریم کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کریم کو یاد کرو، نماز پڑھو اور دعا کرو۔"

نمازِ کسوف

سورج گرہن کے وقت نمازِ کسوف ادا کرنا رسولِ کریم ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ اس موقع پر نماز، دعا، ذکر، تلاوتِ قرآنِ کریم، صدقہ اور استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔

احادیثِ مبارکہ میں نمازِ کسوف کی خاص کیفیت بھی بیان ہوئی ہے، جس میں طویل قیام، قراءت، رکوع اور سجود کا ذکر ملتا ہے۔

اگر کسی شخص کو طویل سورتیں یاد نہ ہوں تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق قرآنِ کریم کی جو سورتیں یاد ہوں، ان کی تلاوت کرے جیسے۔ سورۂ اعلیٰ، سورۂ غاشیہ، سورۂ کوثر یا سورۂ اخلاص پڑھنا -

حاملہ خواتین کے بارے میں

ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے دوران حاملہ خواتین کو خاص احتیاط کرنی چاہیے اور ایسا نہ کرنے سے بچے پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس تصور کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں اور نہ ہی شریعت نے اسے لازم قرار دیا ہے۔

تاہم اگر کوئی حاملہ خاتون گرہن کے دوران گھر میں رہ کر نماز، تلاوتِ قرآنِ کریم، ذکر، تسبیح، دعا اور استغفار میں مشغول رہتی ہے تو یہ ایک نہایت اچھی اور باعثِ اجر مصروفیت ہے۔ اسے گرہن کے کسی جسمانی اثر سے بچنے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اللہ کریم کی عبادت اور ذکر سمجھ کر کیا جائے۔

پاکستان اور عرب ممالک میں گرہن

12 اگست 2026ء کا یہ سورج گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔ اسی طرح سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بیشتر عرب ممالک میں بھی یہ گرہن قابلِ رؤیت نہیں ہوگا۔

البتہ دنیا کے بعض علاقوں، خصوصاً اسپین، آئس لینڈ اور گرین لینڈ کے بعض حصوں میں مکمل سورج گرہن دیکھا جائے گا، جبکہ شمالی افریقہ اور یورپ کے بعض علاقوں میں جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔

لہٰذا جہاں جہاں گرہن نظر آئے، وہاں مسلمان اس موقع پر نمازِ کسوف، دعا، ذکر، تلاوتِ قرآنِ کریم اور استغفار کا اہتمام کریں۔

سورج گرہن کسی انسان کی پیدائش، موت، خوش بختی یا بدبختی کی علامت نہیں۔ یہ اللہ کریم کی قدرت کی ایک نشانی ہے۔ ایسے مواقع ہمیں کائنات کے خالق کی عظمت یاد دلاتے ہیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

آئیے گرہن کے موقع پر توہمات اور خوف کے بجائے نماز، دعا، تلاوتِ قرآنِ کریم، ذکر اور استغفار کو اپنا شعار بنائیں۔

اللہ کریم ہمیں اپنی قدرت کی نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے اور ہر حال میں اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

حوالہ جات:صحیح البخاری، کتاب الکسوف، حدیث 1044، 1058صحیح مسلم، کتاب الکسوف، حدیث 901، 910

العبد العدیم
پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن بغدادی.

#12اگست2026


#استغفار
#دعا


ٰہی

12/08/2026

.














12/08/2026

For Daily Hadith, contact on the number below.
روزانہ حدیثِ مبارکہ اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔

+92 335 5070537















#حديث

07/08/2026

.

07/08/2026

یکم اگست: عالمی ہفتۂ ماں کے دودھ کا آغاز
(World Breastfeeding Week)

یکم اگست سے دنیا بھر میں عالمی ہفتۂ ماں کے دودھ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس مہم کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ ماں کا دودھ نومولود بچے کے لیے اللہ کریم کی عطا کردہ بہترین غذا ہے۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق زندگی کے ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ بچے کی جسمانی، ذہنی اور مدافعتی نشوونما کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت اور دیگر بین الاقوامی ادارے ماؤں کو بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں پاکستان میں بھی ہر سال اس ہفتے کے دوران آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں، کیونکہ کئی مائیں معلومات کی کمی، معاشرتی دباؤ یا دیگر وجوہات کی بنا پر بچوں کو ماں کا دودھ نہیں پلا پاتیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں میں غذائی کمی، کمزور قوتِ مدافعت اور مختلف بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ خاندان، معاشرہ اور طبی ادارے ماؤں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ ہر نومولود کو اس کا فطری حق، یعنی ماں کا دودھ، میسر آ سکے۔
اسلام کی تعلیمات
اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی ماں کے دودھ کی اہمیت کو واضح کر دیا تھا۔ اللہ کریم قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
"اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، یہ اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔" (سورۃ البقرۃ: 233)
اسی طرح سورۂ لقمان میں بھی دو سال کی مدت کا ذکر موجود ہے۔
یہ تعلیم اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ انسان کی جسمانی، ذہنی اور خاندانی فلاح کا بھی مکمل نظام پیش کرتا ہے۔ ماں کا دودھ نہ صرف بچے کی صحت بلکہ ماں اور بچے کے درمیان محبت، شفقت اور جذباتی تعلق کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
رسولِ کریم ﷺ نے بچوں پر شفقت، ماؤں کے احترام اور خاندان کی ذمہ داریوں کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ اس لیے ماں کا دودھ پلانا صرف طبی عمل نہیں بلکہ ایک عظیم انسانی اور اسلامی ذمہ داری بھی ہے۔
ہمارا پیغام
یکم اگست ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم صحت مند نسل چاہتے ہیں تو ہمیں ماؤں کی عزت، ان کی صحت اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہر خاندان کو چاہیے کہ وہ نومولود بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی اہمیت کو سمجھے اور اس سلسلے میں ماؤں کی مکمل معاونت کرے۔
اللہ کریم ہمیں اپنی اولاد کی بہترین اسلامی اور جسمانی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ماؤں کو صحت و عافیت عطا فرمائے، اور ہمارے بچوں کو صحت مند، بااخلاق اور دینِ اسلام کا سچا خادم بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
العبد العدیم ؛
ڈاکٹر حفیظ الرحمن بغدادی
چیئرمین ادارہ فیضان القرآن، لاہور، پاکستان


07/08/2026

Address

Wapda Town
Lahore

Telephone

+923334213638

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr hafeez ur rehmam bughdadadi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share