09/06/2026
رو پڑا آج قلم، اشک بہا تیرے بعد
لفظ بیٹھے ہیں سرِ زانو، خفا تیرے بعد
جس نے افکار کے صحرا میں گلستاں بوئے
سو گیا خاک میں وہ مردِ خدا تیرے بعد
کون اب عقدۂ ایّام کشائی کرے
کون سمجھے گا زمانے کی صدا تیرے بعد
تیری آواز میں اک عہد کی دھڑکن تھی نہاں
گونجتی رہتی ہے وہ آج بھی کیا تیرے بعد
جس طرف دیکھو وہاں درد کی چادر پھیلی
کیسی ویران ہوئی بزمِ وفا تیرے بعد
قم کے ایواں ہوں کہ نجف کے در و بامِ ادب
سب نے محسوس کیا اپنا خلا تیرے بعد
منبرِ حق پہ وہ اندازِ تکلّم نہ رہا
بجھ گیا جیسے کوئی مہرِ ضیا تیرے بعد
تُو فقط شخص نہ تھا، علم کا اک عہد تھا
عہد بھی دفن ہوا زیرِ لحد تیرے بعد
کون اب فکرِ ولایت کو جِلا بخشے گا
کون ہو گا علم و عرفاں کی ردا تیرے بعد
ہم نے دیکھے ہیں بہت لوگ سخن کے وارث
کوئی پایا نہ تری طرز کا تھا تیرے بعد