Hashmi Tonsvi 110

Hashmi Tonsvi 110 visit Youtube Channel : Hashmi Tonsvi 110
subscribe and share link;
https://youtube.com/?si=UVZZKW-hVvp6xrU-

24 فروری حیدر آباد دکن انڈیا    #انڈیا     Hashmi Tonsvi 110
22/02/2026

24 فروری حیدر آباد دکن انڈیا

#انڈیا Hashmi Tonsvi 110

06/02/2026

*اسلام آباد خودکش حملہ میں آئی۔جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن جواں سالہ ماتمی بھی شہید*
علامہ بشارت حسین امامی آئی۔جی اسلام آباد کے ہمراہ ابتدائی ردعمل دیتے ہوئے

Follow Hashmi Tonsvi 110
04/02/2026

Follow Hashmi Tonsvi 110

35 عشرے باعنوان صاحبؐ العصر والزمان (عج) پر پڑھے ، اور ان مجالس کا کوئی حساب نہیں جو علیحدہ سے سرکارؐ پر پڑھی گئیں جن می...
03/02/2026

35 عشرے باعنوان صاحبؐ العصر والزمان (عج) پر پڑھے ، اور ان مجالس کا کوئی حساب نہیں جو علیحدہ سے سرکارؐ پر پڑھی گئیں جن میں ( الغیب ، غیبت کبریٰ ، رجعت ) اور بہت سے عنوانات شامل تھے ۔

*عارفِ امامؐ زمانہ(عج) غضنفر عباس ہاشمی تونسوی اعلیٰ اللّٰہ مقامہ کے درجات ہمیشہ بلند رہیں*

تیری طلب ہے اس دل کو ، اسے بس تو ہی چاہیے
تیری کمی تیرے لفظوں کی فراوانی سے نہیں جائے گی

26/01/2026
وہ خود دعا ہے دعاؤں کی مستجابی ہے حسین ؐ خالقِ کُن ہے  دعا حسین ؐ سے مانگ     *میرے کریم مولاؐ کا ظہور مبارک ❤️🙏🏻*
22/01/2026

وہ خود دعا ہے دعاؤں کی مستجابی ہے
حسین ؐ خالقِ کُن ہے دعا حسین ؐ سے مانگ
*میرے کریم مولاؐ کا ظہور مبارک ❤️🙏🏻*

*یکم شعبان المعظم جشن ظہور پرنور*   *عقیلہؐ بنی ھاشم ، زینتِ شیرِ خداؐ ،ثانیِ فاطمۃ زھراؐ ، عالمہِ غیر مُعلِّمہ ، فخرِ س...
20/01/2026

*یکم شعبان المعظم جشن ظہور پرنور*

*عقیلہؐ بنی ھاشم ، زینتِ شیرِ خداؐ ،ثانیِ فاطمۃ زھراؐ ، عالمہِ غیر مُعلِّمہ ، فخرِ سادات ، فاتحِ کوفہ و شام ، اُمّ المصائبؐ ، اُمِّ کربلا ،شہزادی جنابِ سیدہ زینبِ کبریٰ صلوٰۃ اللّٰہ علیہ مبارک*❤️🙇🏻‍♂️🫀

14/01/2026

25 Rajab Shadat Imam Musa Kazim as 😭

07/01/2026

فقط استفادہء خواص کے لیے

جو تجلیات حقائق کی جانب متوجہ ہیں

علامہ غضنفر عباس اعلی اللہ معالیہ کی کتاب حروف مقطعات پر شائع شدہ دیباچہ جو ون ٹین بکس لاہور سے 2014 میں نشر ہوئی

باب علم کی بکھیری ہوئی تجلی کو سمیٹنے کے لیے عقل بشری اگر اصول وضع کر لے تو اسے با ضابطہ طور پر علم کی ایک شاخ کی حیثیت سے تسلیم کر لیا جاتا ہےاور اصولوں کی وضعداری اصل تک رسائی کی خاطر ہی کی جاتی ہےلیکن اگر کوئی عالم ہونے کی حیثیت سے انہیں وضع کیے گئے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اصل سے روگردانی کر رہا ہے تو یا تو وہ اصول سے واقف نہیں یا اصل سے اور بفرض محال اگر اصول اصل تک رسائی نہیں دلا رہا تو اس علم کی وضعداری میں نیتا تناقض رکھا گیا ہے فالھمھا فجورھا و تقواھا

علوم کو اگر دائرہء علم کے ارکان کے طور پر تقسیم کیا جائے تو ایک طرف سے تدوینی تاریخ بشریت میں مختلف قدیمی تہذیبوں کے اندر، ہزاروں سال پہلے میسوپوٹیمیا یا ایلام کی تہذیب (جسے ارض الرافدین اور بعد میں عراق کا نام سے جانا گیا) سے سومیریوں کے یہاں حروف کے معرض وجود میں آنے سے لے کر؛ علوم لغت اور آج کے زمانے میں علم کی لاکھوں شاخیں دائرہء علم کی ایک قوس ہیں جو کہ علوم ظاہریہ ہیں

دائرہء علم کی دوسری قوس علوم خفیہ کی ہے جس میں رمل، جفر، تکسیر، اوفاق، ریمیا اور سیمیا سے شروع ہو کر (جو کہ علم الحروف ہی کی شاخیں ہیں) مطلق مجرد حقیقت حروف و اصوات پر ختم ہو جاتی ہے اصولوں پر مبنی علم کا یہ دائرہ اصلِ نقطہ تک رسائی دلاتا ہےجہاں بات حرف سے شروع ہو کر حرف پر ختم ہو جاتی ہےمگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی، حقیقت حرف میں عوالم کا وجود بذاتہ حروف کا رہین منت ہے اور لغیرہ خارج میں عوالم کا عرفان اسرار حروف میں مخفی ہے اور ان عوالم کا علم بھی خواہ وہ مکتوبی وجدانی صورت میں ہو یا عقلی الھامی صورت میں حروف ہی کا مرہون منت ہے

اسرار حروف اعداد میں ہیں اور تجلیات اعداد حروف میں، اعداد علویہ روحانیات کے لیے ہیں اور حروف دوائر جسمانیہ ملکوتیہ کے لیے، دوسرے لفظوں میں اعداد کی قوت عقلیہ عالَم روحانی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور حروف عالَم جسمانی کی طرف، اعداد سر الاقوال ہیں اور حروف سر الافعال، عالَم عرش اعداد ہے اور عالَم کرسی حروف، حروف کی اعداد کے لیے نسبت کرسی کی عرش کے لیے نسبت ہے اور آل محمد علیھم السلام سر اعداد میں سر عقل ہیں اور سر حروف میں سر روح، اور مرتبہء عقل مرتبہء نفس علویہ ہی فیض اول ہے پس علم حروف علوم نافعہ میں سے ہی نہیں علوم عالیہ سامیہ میں سے ہے

دائرہء علم کی تکمیل پر حروف کے اسرار مطلقہ کی افخاذ کے بطون سے اٹھنے والے تمام حجابات پر ظہوریت کا حکم لگ جاتا ہےاگر علم حروف کی نسبت حروف مقطعات سے ہو جائے، علم حروف اپنے پورے عالم کی لامحدود وسعتوں سمیت عالَم حروف مقطعات کا باب ہے، اس نسبت سے اگر اعداد سر الاقوال ہیں اور حروف سر الافعال؛ اعداد عالَم عرش ہیں اور حروف عالَم کرسی تو حروف مقطعات کی نسبت میں یہ تکوینی تعینات اعتباری میں بدل جاتے ہیں کہ حروف مقطعات سر الاقوال کے مقام پر ظاہر ہوتے ہیں ؛ اعداد سر الافعال پر اور حروف سر الوجود پر، حروف مقطعات عالَم عرش کے مرتبہ پر ظہور کرتے ہیں اعداد عالم کرسی پر اور حروف افلاک علویہ پر کیونکہ حروف و اعداد کا سر حقیقت صوت میں نہاں ہے اور حروف مقطعات کا مشیت مطلقہ میں۔ حروف اعداد اور حروف مقطعات کے باہمی مدارج میں صوت برزخ ہے جو وجوب و امکان کے مابین لزوم سے عبارت ہے ان کے مابین تفاوت وجوب و لزوم کا سا تفاوت ہے جو ان کے مدارج کے اعتبار سے ہے البتہ معرفت نقطہ میں ان کے ما بین کوئی تفاوت نہیں کیونکہ یہ اولین خلق رحمن ہیں و ما تری فی خلق الرحمن من تفاوت

علامہ غضنفر عباس ہاشمی صاحب جیسی ہمہ جہت محیط علم شخصیت کا حروف مقطعات جیسے وسیع ترین موضوع پر پڑھے گئے عشرے پر دیباچہ لکھنا کاری دارد، اس عشرے میں انہوں نے اسرار حروف مقطعات کو اس کے باب یعنی علم حروف ہی کے ذریعے کھولا ہے ان کے اسلوب پر کچھ عرض کرنے سے پہلے مناسب ہو گا کہ علماء حروف کے اسالیب کو سامنے رکھا جائے

ابن خلدون نے اپنے مقدمے میں اپنے ہی زمانے میں رائج اصولوں کے مطابق اسرار حروف کو بیان کیا ہےجو آج کے علماء حروف کے مطابق تفہیم و تطبیق کے اعتبار سے مشکل ہیں اس نے زائرجہ السبتی کے عنوان سے ایک منظومہ نقل کیا ہے جس کے اڑتالیس اشعار میں اسرار حروف کو استخراج الاجوبہ، انفعال روحانی و انقیاد ربانی، مطاریح الشعاعات، انفعال طبیعی اور طب روحانی وغیرہ کے حوالے سے بیان کیا ہے

اہل تصوف میں سے ابن عربی نے فتوحات میں معرفت حروف کے حوالے سے اشعار و نثر میں دو فصول قائم کی ہیں اور ان کے مراتب قرار دیتے ہوئے ان کی جنس، ان میں رسل، امتیں اور ان کی نسبت سے معرفت اسماء کو بیان کیا ہے اور حرکات کو بھی حروف صغار قرار دیتے ہوئے عالَم الفاظ و کلمات میں حروف کی نشاة اخری کے اعتبار سے ان کے مزاج و مواد کی علمی تحلیل پیش کی ہے

داؤد انطاکی نے تذکرہ میں حروف پر ان کے مادہ، ترکیب، طبائع، صورت، مزاج، تقسیم اور ان کے کم و کیف پر بات کی ہے جس سے عزائم اور متصرف اور غایت تصرف کا استخراج کیا ہے اور اقسام حروف کو فلکیہ، علویہ، طبیعیہ، روحانیہ، حقیقیہ اور پھر سفلیہ، جسدیہ اور رقمیہ خطیہ لفظیہ میں تقسیم کیا ہے

رجب علی برسی نے مشارق میں علم حروف کو اللہ کے ودیعت کردہ اسرار کا خزانہ قرار دیا ہے جو کتاب مکنون میں علم مخزون ہے جسے مطہرین کے سوا کوئی مس نہیں کر سکتا مقربین کے سوا کوئی پا نہیں سکتا اور انہوں نے جس اسلوب سے اسرار حروف سے حجاب اٹھایا ہے سالک حروف مشاہدہ کر سکتا ہے کہ یہ دعویء صادقہ ہے علماء متقدمین میں سے توحید بالحروف کا اثبات رجب علی برسی کی کلی انفرادیت ہے کہ حروف کے معانی عقل میں ہیں، لطائف روح میں، صور نفس میں، انتقاش قلب میں، قوہء ناطقہ لسان میں، سرّ مشکّل سماعتوں میں۔۔ مخاطب اول مخترع اول ہے جو عقل نورانی ہے اور اس کا خطاب حق معنی حروف سے ہے اور سر مجموعہء حروف الف میں ہے جو اپنی قوہ حقیقیہ میں تمام حروف سے عبارت ہے اور پھر انہوں نے معارف حروف کو امزجہ و طبائع و اعداد و ملائکہء حروف سے آگے بڑھتے ہوئے خلقت آدم کے مرحلے تک بیان کیا ہے اور ہر حرف کے مخلوقات علویہ و سفلیہ سے تعلق کو بیان کرتے ہوئے حروف مقطعات کے اسرار کو انہی اصولوں سے کھولا ہے

علماء حروف میں بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے علم حروف کی کسی ذیلی شاخ یا صفت کو کلی طور پر علم حروف قرار دیتے ہوئے تحلیل و تدریب کو پیش کیا ہےجن میں سے صاحب دائرة المعارف اور البوني بھی ہیں انہوں نے اس کی دوسری افخاذ کو غلاة و مفوضة کی اختراعات قرار دیا ہے مگر اس کے باوجود حروف کے کواکب سے تعلق اور ان کی طلسماتی حیثیت کو تسلیم کیا ہے مگر ایسے مفروضات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی جبکہ اسرار و معارف و مفاہیم حروف خود اھل البیت علیھم السلام سے متعدد مقامات پر ملتے ہیں جن میں سے اس عنوان پر صرف ذیلی طور پر کی گئی گفتگو ہی نہیں بلکہ صفات حروف کے عنوان سے معصومین کے باقاعدہ خطبات موجود ہیں اور اگر ان سب میں سے کوئی بھی چیز موجود نہ ہوتی تب بھی باب علم کا انا نقطة تحت الباء کہنا علم حروف کی صبح ازل کی حیثیت سے کافی ہے

علماء حروف کے پیش کردہ ان اسالیب کے پیش نظر اگر ہم علامہ غضنفر عباس ہاشمی کے بیان کردہ اسرار کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم حروف نے اپنا صدیوں کا سفر طے کر کے اس صدی میں غضنفر کو ایسا سنگ میل قرار دیا ہے جس میں علم حروف اپنے اصولوں کی تدریبات سے نکل کر عریاں حقائق کے عالم میں داخل ہو چکا ہے حقیقتِ حرف پر گزشتہ علماء میں سے واحد برسی ہیں جنہوں نے اسرار حروف کو اصولوں کے افہام سے آگے بڑھ کر اس کی حقیقی تطبیقات کی بلا تفاوت تجلیاں دکھائی ہیں جن کا مشاہدہ وہی کر سکتا ہے جو اصل تک رسائی کا سفر مکمل کر چکا ہو مگر علامہ ہاشمی نے ان چیزوں کو مکتوبی و ملفوظی کی بنیاد ہر کھڑا کرنے سے لے کر اسرار تک کو جملوں میں کھولا ہے جنہیں پانے کے لیے علماء نے زندگیاں صرف کی ہیں مثلا یہ کہ حروف کے اٹھائیس ہونے کی غایت کیا ہے؟ یہ کہ اہل تکسیر حساب میں صحیح استخراج کیوں نہیں کر پاتے؟ یہ کہ خط اور نقطہ کے ما بین کیا اسرار پوشیدہ ہیں؟ کیفیت عبادت میں حرکت سے بننے والی صور کا اشکال حروف سے کیا تعلق ہے؟ نقطے کا حرف سے کیا تعلق ہے اور حقیقت نقطہ کیا ہے؟ امتداد نقطہ کیا ہے اور وجود کے ساتھ امتزاج نقطہ کیا ہے؟ اصولوں کے افہام کے بعد جب تطبیق پر معارف کے جو حجاب اٹھائے ہیں، اللہ اکبر! حروف کے زبر بینات میں علی کی تجلی، اعداد کی حقیقت پر مشتمل ادعیہء معصومین اور صرف یہی نہیں؛ حاملین اروح، باعثین ارواح، واحد و احد کے امتیاز میں علی کی تجلی، صراط

علی حق نمسکہ کی حقیقی عرفانی حرفی تحلیل۔۔۔
علامہ کے عشرہ پڑھنے سے لے کر جب تک یہ کتاب باقی ہے اگر کوئی پہنچنے والا رسائی حاصل کر سکے تو وہ مشاہدہ کرے گا کہ اگر حرفِ اسمی تجلیء ولایت علی ہے تو حرفِ کونی تجلیء علی، اگر حرفِ کونی تجلیء ولایت علی ہے تو حرفِ عینی تجلیء علی، اگر حرفِ عینی تجلیء ولایت علی ہے تو حرفِ مطلق تجلیء علی، اگر حرف مطلق تجلیء ولایت علی ہے تو حرف غیر متصوت علی، اگر حرف غیر متصوت تجلیء ولایت علی ہے تو صوت میں مخفی بھی علی صوت کو چھپانے والا بھی علی اور صوت کو اپنی مشیت سے غیر منطق و منطق کی صورت میں ظاہر کرنے والا بھی علی اور اگر صوت کی ہر جہت میں علی ہے تو صوت کی حقیقت عظمی علیا مطلقہ سے پھوٹنے والی حقیقت پر پڑنے والا حجاب ولایت علی۔۔۔
قادر مطلق سے دعا ہے کہ بارالہا! تیرے فضل کے جاری کردہ چشمے سے خضر ع نے پی کر حیات پا لی اپنے علم کے جاری کیے ہوئے چشمہء غضنفر کو عمر خضر عطا فرما اور دعا ہے کہ رب قدیر فرقان حیدری صاحب کی جانب سے اشاعت کے اس سلسلے کا جاری رہنا ان کے لیے مبارک قرار دے فیض کا یہ سلسلہ مسبب الاسباب کے فیض سے جاری رہے

*احقر العباد علی رضا السابقی
جامع الثقلین*


Hashmi Tonsvi 110

Follow Hashmi Tonsvi 110
04/01/2026

Follow Hashmi Tonsvi 110

Address

358 E JOHAR TOWN
Lahore
54782

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hashmi Tonsvi 110 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Hashmi Tonsvi 110:

Share