22/04/2026
علم یا محض آواز؟ — ایک لمحۂ فکریہ❗️
آج ہم ایک عجیب دور سے گزر رہے ہیں…
جہاں آواز کو علم پر، اور جذبات کو حقیقت پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
محافلِ نعت، قوالی اور مذہبی اجتماعات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سوال یہ ہے:
کیا ہم نے دین کی اصل بنیاد—علمِ قرآن و حدیث—کو وہ مقام دیا جو اس کا حق ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ" (فاطر: 28)
یعنی اللہ سے حقیقی ڈر رکھنے والے وہی ہیں جو علم والے ہیں۔
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"العلماء ورثة الأنبياء" علماء انبیاء کے وارث ہیں
آج کا المیہ دیکھیے:
پروفیشنل نعت خواں اور قوال بڑے اسٹیجز، اعزازات اور مالی تعاون حاصل کرتے ہیں،
جبکہ مدارس، مساجد اور اساتذۂ دین اکثر بنیادی سہولیات سے بھی محروم رہتے ہیں۔
یہ کسی ایک فرد کی بات نہیں…
یہ ہماری اجتماعی ترجیحات کا مسئلہ ہے۔
⚖️ مقصد ہرگز یہ نہیں کہ نعت یا قوالی کو کم تر سمجھا جائے،
بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ:
دین میں ہر چیز اپنی جگہ ہو، مگر علم کو اس کا اصل مقام ضرور ملے۔
👈خود سے ایک سوال کریں:
کیا ہم نے کبھی اُن لوگوں کی فکر کی
جو دن رات قرآن و حدیث پڑھا کر نسلیں تیار کر رہے ہیں؟
🌱ہمارے لئے اصلاح کا یہ راستہ واضح ہےکہ علماءِ حق کی عزت کریں، ان کی کفالت کریں اور دین کو صرف جذبات نہیں بلکہ علم کی بنیاد پر سمجھیں۔
✨ یاد رکھیں:
"جس قوم میں علم کی قدر کم اور نمود و نمائش زیادہ ہو جائے،
وہاں زوال خاموشی سے داخل ہو جاتا ہے۔"
🤲 اے اللہ! ہمیں علماءِ حق کی قدر کرنے والا دل عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
محمد وقاص جعفر