18/03/2021
﷽
_____
﴾ 9 : 129 ﴿
🔵فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ ۖ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ ؕ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ٥ ﴿۱۲۹﴾
ترجمہ: "پھر بھی اگر وہ ایمان سے پھر جائیں تو کہہ دو مجھے تو اللہ ہی کافی ہے۔ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میں اُسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہی عرشِ عظیم کا رب ہے۔"
#فَاِنْ_تَوَلَّوْا : یعنی ایسے مہربان نبی، اس کی مومنوں پر شفقت و رحمت و حرص اور اس مبارک دین کے باوجود اگر وہ منہ موڑیں، تو آپ یہ کہیں :
حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ...
صرف یہ عقیدہ ہی نہ رکھیں، بلکہ برملا اعلان کریں اور اللّٰه کے کافی ہونے پر اپنی خوشی اور فخر کا اظہار کریں۔
☝️توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
#حَسْبِيَ_اللّٰهُ : ”حَسْبِيَ“ پہلے آنے کی وجہ سے معنی میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی مجھے صرف اور صرف اللّٰه کافی ہے، خواہ سب لوگ مجھے چھوڑ جائیں۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے
👈 کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے اگر ایک اللّٰه میرے لیے ہے
🚫 🔽
✍️____بے شک اللّٰه تعالیٰ نے دنیا میں اسباب بنائے ہیں، ساتھیوں کی مدد سے قوت ملتی ہے اور ایک دوسرے کی مدد کا حکم بھی ہے :
🔵وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى (المائدۃ : ٢)
”اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔“
مگر کافر اور مومن کا یہی فرق ہے کہ دنیاوی اسباب ختم ہونے پر کافر ناامید ہو جاتا ہے اور مشرک کو اپنے معبودوں پر اتنا اعتماد ہو ہی نہیں سکتا جتنا موحد کو ایک اللّٰه پر ہوتا ہے، اس لیے مومن کبھی ناامید ہو کر کفر کے مقابلے سے دستبردار نہیں ہوتا
👈 کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔
✍️_______اس لیے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ اسباب و ضروریات مہیا کرنے کی پوری کوشش کرو، وہ جمع ہو جائیں تب بھی ان پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرو اور ایک بھی سبب مہیا نہ ہو سکے تب بھی صرف اللہ پر بھروسا رکھو جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ کوئی عام بادشاہ نہیں، عرش عظیم کا رب ہے، کوئی چیز اس کی سلطنت اور دسترس سے باہر نہیں۔
تمام اسباب ختم ہونے پر ایک اللّٰه پر اسی اعتماد اور اس کے مطابق اللّٰه تعالیٰ کی مدد کا مظاہرہ ایک غار میں بھی ہوا، فرمایا :
🔵 اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ (التوبۃ : ٤٠)
👈اسی کا مظاہرہ جنگ احد کے اختتام پر دشمن کے اجتماع کی خبر پر اہل ایمان کے قول کے وقت ہوا
👈 اور اسی کا مظاہرہ دنیا کا ہر سہارا ختم ہونے پر آگ میں پھینکے جانے کے ارادے کے وقت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ) کہنے اور اللّٰه کی طرف سے دشمنوں کی سازش ناکام کرنے کی صورت میں ہوا۔
دیکھیے سورة آل عمران (١٧٣، ١٧٤)۔
🟡اب بھی اگر کوئی اللہ پر قرآن کے ساتھ اعتماد کرنے والا یہ یقین رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اسی طرح آئے گی، خواہ ساری دنیا اس سے منہ موڑ جائے۔ اللّٰه تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن مجید میں ”قُلْ“ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا ہے، اس لیے ہمیں بھی اپنے عملوں کی درستگی کے ساتھ صبح و شام کے اذکار میں اسے شامل کرنا چاہیے۔
__________________
♥️♥️♥️