توحید قرآن

توحید قرآن Read Quran, Charge your Eman

22/07/2024

﴾ 42 : 10 ﴿
اور جس میں تم اختلاف کرتے ہو پھر اُسکا فیصلہ اللہ (قرآن) کے سپرد ہے۔ یہ مذکورہ فیصلہ کرنیوالا اللہ ہی میرا رب ہے۔

23/06/2023

یقینا اللہ اپنے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں کی اصلاح نہیں کرتا اور اسکے سوا وہ اُسکی اصلاح کرے گا جو اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہو..4/116

23/06/2023

Aslam_o "Alikum dear Friends ‼️
Let's Start
"Touheed Quran"
📖☝️

21/08/2021

"کیا پھر وہ جاہلیت ہی کے فیصلے چاہتے ہیں حالانکہ اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے اُس قوم کے لئے جو یقین رکھتی ہے۔ " (5:50)

﷽_____ ﴾ 9 : 129 ﴿ 🔵فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ   ۖ  لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ  ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌  ؕ و...
18/03/2021


_____

﴾ 9 : 129 ﴿
🔵فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ ۖ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ ؕ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ٥ ﴿۱۲۹﴾

ترجمہ: "پھر بھی اگر وہ ایمان سے پھر جائیں تو کہہ دو مجھے تو اللہ ہی کافی ہے۔ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میں اُسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہی عرشِ عظیم کا رب ہے۔"

#فَاِنْ_تَوَلَّوْا : یعنی ایسے مہربان نبی، اس کی مومنوں پر شفقت و رحمت و حرص اور اس مبارک دین کے باوجود اگر وہ منہ موڑیں، تو آپ یہ کہیں :
حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ...
صرف یہ عقیدہ ہی نہ رکھیں، بلکہ برملا اعلان کریں اور اللّٰه کے کافی ہونے پر اپنی خوشی اور فخر کا اظہار کریں۔

☝️توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

#حَسْبِيَ_اللّٰهُ : ”حَسْبِيَ“ پہلے آنے کی وجہ سے معنی میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی مجھے صرف اور صرف اللّٰه کافی ہے، خواہ سب لوگ مجھے چھوڑ جائیں۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؂

👈 کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے اگر ایک اللّٰه میرے لیے ہے

🚫 🔽

✍️____بے شک اللّٰه تعالیٰ نے دنیا میں اسباب بنائے ہیں، ساتھیوں کی مدد سے قوت ملتی ہے اور ایک دوسرے کی مدد کا حکم بھی ہے :

🔵وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى (المائدۃ : ٢)
”اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔“

مگر کافر اور مومن کا یہی فرق ہے کہ دنیاوی اسباب ختم ہونے پر کافر ناامید ہو جاتا ہے اور مشرک کو اپنے معبودوں پر اتنا اعتماد ہو ہی نہیں سکتا جتنا موحد کو ایک اللّٰه پر ہوتا ہے، اس لیے مومن کبھی ناامید ہو کر کفر کے مقابلے سے دستبردار نہیں ہوتا ؂

👈 کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔

✍️_______اس لیے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ اسباب و ضروریات مہیا کرنے کی پوری کوشش کرو، وہ جمع ہو جائیں تب بھی ان پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرو اور ایک بھی سبب مہیا نہ ہو سکے تب بھی صرف اللہ پر بھروسا رکھو جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ کوئی عام بادشاہ نہیں، عرش عظیم کا رب ہے، کوئی چیز اس کی سلطنت اور دسترس سے باہر نہیں۔

تمام اسباب ختم ہونے پر ایک اللّٰه پر اسی اعتماد اور اس کے مطابق اللّٰه تعالیٰ کی مدد کا مظاہرہ ایک غار میں بھی ہوا، فرمایا :

🔵 اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ (التوبۃ : ٤٠)

👈اسی کا مظاہرہ جنگ احد کے اختتام پر دشمن کے اجتماع کی خبر پر اہل ایمان کے قول کے وقت ہوا
👈 اور اسی کا مظاہرہ دنیا کا ہر سہارا ختم ہونے پر آگ میں پھینکے جانے کے ارادے کے وقت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ) کہنے اور اللّٰه کی طرف سے دشمنوں کی سازش ناکام کرنے کی صورت میں ہوا۔
دیکھیے سورة آل عمران (١٧٣، ١٧٤)۔

🟡اب بھی اگر کوئی اللہ پر قرآن کے ساتھ اعتماد کرنے والا یہ یقین رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اسی طرح آئے گی، خواہ ساری دنیا اس سے منہ موڑ جائے۔ اللّٰه تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن مجید میں ”قُلْ“ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا ہے، اس لیے ہمیں بھی اپنے عملوں کی درستگی کے ساتھ صبح و شام کے اذکار میں اسے شامل کرنا چاہیے۔
__________________








♥️♥️♥️

13/03/2021
11/03/2021

"اے میری قوم! اللّٰه کے غلام بنو۔ اُس کے سوا تمہارا کوئی حاکم نہیں ہے۔ بے شک میں تم پر بڑے دن کے عذا ب سے ڈرتا ہوں۔"
(7/59)

08/03/2021

"لوگوں میں سے جو اللّٰه کے بارے بغیر علم کے جھگڑتا ہے حالانکہ اُس کے پاس نہ کوئی ہدایت یعنی نہ کوئی روشن کتاب ہے۔"
(31/20)

 ٰی قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ‌ ؕ اَ يًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى ‌ۚ "کہہ دو، ...
08/03/2021

ٰی

قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ‌ ؕ اَ يًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى ‌ۚ
"کہہ دو، اللّٰه یا الرحمن کہہ کر پکارو۔ خاص جو تم دعوت دو پس اُس کیلیے بہترین تجویز شدہ تعارف و قوانین ہوں۔" (17/110)
🔽🔽🔽

اللہ تعالیٰ کا تعارف پیش کرنا قرآن مجید کے مقاصد نزول میں سے ایک بنیادی مقصد ہے۔ یہ تعارف سب سے بڑھ کر جس پہلو سے قرآن مجید میں کرایا گیا ہے وہ باری تعالیٰ کے یعنی ناموں کے حوالے سے ہے۔

قرآن میں اللّٰه سبحان تعالٰی کے جتنے بھی اسماء بطور تعارف پیش کئے گئے ہیں ان کا کوئی ثانی نہیں۔

⬅️ :
اگر ہم یہ مان لے کہ اللہ سمیع وبصیر اور غفور و رحیم ہے تو انسان بھی سمیع و بصیر اور غفور و رحیم ہے جو صفات اللہ کی ہے وہی انسان کے اندرر بھی پائی جاتیں ہیں جس طرح اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے اسطرح انسان بھی سننے اور دیکھنے والا ہے۔
👆 ایسا عقیدہ شرک کو جنم دیتا ہے کہ
انسان بھی اللہ جیسی صفات رکھتا ہے لہذا انسان کے اندر ہی اللہ موجود ہے۔
قرآن میں نبی علیہ السلام کے لئے “ روف رحیم” کے الفاظ ہیں۔سورہ التوبہ کی ایت 128
📖:——"بالمومنین روف رحیم٥"
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ” نبی مومنوں کے ساتھ شفیق اور مہربان ہے۔”
یہی الفاظ اللّٰه سبحان و تعالٰی کے ساتھ بھی آئے ہیں۔
📖:——ان اللّٰه بالناس لروف الرحیم٥ (22/65)

اگر کسی انسان میں بھی یہ صفات پائی جاتی ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اللّٰه کا ان صفات میں شریک ہے اور وہ ایک چھوٹا سا اللّٰه ہے یا اس کے اندر اللّٰه موجود ہے۔
✍️______

⭕اہم نقطہ:

#اللّٰه_کے_نام_میں_اس_کی_خصوصیت

اللّٰه اگر رحیم ہے تو وہ اس کا #خالق ہے اللّٰه #فـــاعـــل ہے انسان اس کا خالق نہیں اگر انسان کے اندر رحیمی کی خصوصیت اللّٰه نے رکھی ہے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اللّٰه بن گیا ہے یا اس کے اندر اللّٰه کی ذات کا کچھ حصہ موجود ہے۔بلکہ صیحح نظریہ یہ ہے کہ یہ صفت اللّٰه کے قانون کے ماتحت رہ کر اس نے استعمال کرنی ہے۔
جیسے ہر کسی کے ساتھ انسان رحیم نہیں رہ سکتا اگر اس کے بیوی اولاد بہن بھائی باپ چور یا قاتل ہے تو یہاں اس انسان کو ان کے ساتھ رحم کرنے کی اجازت نہیں ہے اس طرح جج نے اگر لوگوں کو انصاف دینا ہے تو اس کے اندر رحم کا عنصرظالموں کے لئےنہیں بلکہ مظلوموں کے لیے پایا جانا چاہئے۔مشاہداتی طور پر دیکھا جائے تو انسان اگر ہر کسی کے ساتھ رحیم ہے تو انصاف ناپید ہو جائے گا۔دنیا کا نظام نہیں چل سکے گا بلکہ دنیا ختم ہو جائے گی۔۔۔۔۔
لہذا صاف ظاہر ہے کہ انسان کے اندر رحیمی کی صفت اللّٰه کے قانون کی پابند ہے۔جہاں اپنی مرضی کریں گا تباہ برباد ہو جائے گا۔

⬅️ :
انسان کے اندر رحیمی کی صفت ہے وہ اللّٰه کے حکم کی پابند ہے۔وہ اس کا خالق نہیں ہے اللّٰه ہی ہے جو اس کو پیدا کرنے والا ہے۔

نـــوٹ:
✍️______ذات باری تعالیٰ انسانوں سے اس طرح مختلف اور منفرد ہے کہ ان کا فہم و ادراک اس کی ہستی کا احاطہ تو کیا ابتدائی تصور کرنے سے بھی عاجز ہے ۔چنانچہ اس ضمن میں قرآن مجید کا زیاد ہ زور ان غلط تصور ات کی اصلاح پر ہے جو انسانوں نے اس کے حوالے سے قائم کر لیے ہیں ۔لیکن مثبت طور پر قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کا تعارف ا س کے ناموں کے پہلو سے بھی کرایا ہے ۔

ان کو قرآن مجید میں اللّٰه تعالیٰ دو طریقوں سے بیان کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر قرآن مجید میں کہیں اللّٰه تعالیٰ کو الخالق کہہ دیا گیا ہے ۔ یہ پہلے طریقے کی مثال ہے ۔ کہیں پر کہا گیا ہے کہ خلق الانسان یعنی اس نے انسان کو پیدا کیا یا خالق کل شی یعنی وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔
یعنی اللّٰه کے اسماء اللّٰه کے افعال بھی ہے۔ اللّٰه کے ناموں میں اللّٰه کا کام بھی چھپا ہے۔

اب انشاءاللہ اللّٰه کے تعارف کے حوالے سے #اللّٰه_کے_ناموں کی سیریز شروع ہو رہی ہے۔
تمام ممبران غور سے پڑھے۔
_________________

07/03/2021

"پس آسمان و زمین کے رب کی شہادت ہے۔ یقینا یہ قرآن حق ہے اسی طرح جیسے تم خود باتیں کرتے ہو۔"
(51/23)

⁦                بسْــــــــــــــمِ ﷲِالـــرَّحْـــمَـــنِ الـــرَّحِـــيـم٥         ✍️_____  قرآن مجید میں متعدد مقاما...
07/03/2021

⁦ بسْــــــــــــــمِ ﷲِالـــرَّحْـــمَـــنِ الـــرَّحِـــيـم٥


✍️_____ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم اور شہنشاہِ مصر فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کے درمیان کش مکش اور معرکہ آرائی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس میں موجودہ حالات میں ہمارے لیے رہ نمائی اور عبرت پذیری کا بھرپور سامان موجود ہے۔ اس موقع پر میں سورۂ الشعراء کی چند آیات(52 تا 68) کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا۔

♂️سورۂ الشعراء میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک موقع پر وحی الٰہی کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ راتوں رات نکل کھڑے ہوئے۔ فرعون کو خبر ملی تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ فرعونی لشکر دیکھ کر بنی اسرائیل گھبرائے، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو تسلّی دی۔ وحی الٰہی کے مطابق وہ یعنی خشک سمندر کے راستے سے گزر گئے۔ چنانچہ بنی اسرائیل بہ حفاظت خشک دریا کے پار نکل گئے۔ پیچھے سے جب فرعونی لشکر خشک دریا میں داخل ہوا تو وہ اپنی سابقہ حالت میں آگیا اور پورا لشکر اس میں غرق ہوگیا۔

اس موقع پر اس سورہ کی درج ذیل دو آیات ہماری خصوصی توجہ چاہتی ہیں:

🌴فَلَمَّا تَرَآءَ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰبُ مُوۡسٰٓى اِنَّا لَمُدۡرَكُوۡنَ‌ۚ۞ قَالَ كَلَّا‌‌ ۚ اِنَّ مَعِىَ رَبِّىۡ سَيَهۡدِيۡنِ (الشعراء :61 _ 62)
" جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی کہنے لگے : "ہم تو پکڑے گئے۔ " موسیٰؑ نے کہا : "ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری رہ نمائی فرمائے گا۔"

👆: ان آیات میں دو رویّے بیان کیے گئے ہیں :
♦️ ایک اصحابِ موسیٰ کا رویّہ
♦️دوسرا خود موسیٰ علیہ السلام کا رویّہ

اصحابِ موسیٰ سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جو سیکڑوں برس کی غلامانہ زندگی کی وجہ سے پست ہمّت اور بزدل ہوگئے تھے۔ فرعون کے لشکر کو دیکھ کر ان پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، وہ ہمّت ہار بیٹھے اور بے ساختہ ان کی زبان پر یہ الفاظ آگئے :"ہم تو پکڑے گئے۔" ان حالات میں انھوں نے اللّٰه تعالیٰ سے رجوع نہیں کیا، اس سے مدد نہیں مانگی، اس سے صبر اور استقامت طلب نہیں کی۔ دوسری طرف موسیٰ علیہ السلام کا گہرا ایمان، تائیدِ غیبی پر زبردست یقین اور اللّٰه تعالٰی پر بھرپور توکّل تھا، جس نے ان کی زبان سے یہ الفاظ ادا کروائے:

"ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے۔"

بنی اسرائیل کے لہجے میں جتنی دہشت، گھبراہٹ اور بے چارگی تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انداز اتنا ہی زیادہ پُرسکون، پُر اعتماد اور عزمِ مصمّم سے لبریز تھا۔ "ہرگز نہیں" میں جتنا زور ہے اسے بہ خوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ “میرے ساتھ میرا رب ہے“،
پھر مجھے کس بات کا ڈر اور کس چیز کا اندیشہ؟!

!

ہمارے لیے ان آیات کا درس یہ ہے کہ حالات چاہے جتنے سخت ہوں، دشمنوں کے منصوبے چاہے جتنے ہمارے خلاف ہوں ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تمام تر تدابیر اختیار کریں، پھر اللّٰه تعالیٰ پر توکل کریں کہ وہ ان سے نجات دے گا اور ہماری حفاظت کرے گا۔ جب سب سے طاقت ور ہستی ہمارے ساتھ ہے، پھر ہمیں کیا ڈر؟ کیا اندیشہ؟

اے اللّٰه کے بندو!








♥️♥️♥️

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when توحید قرآن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share