Anjuman Sarfroshan-e-Islam Sindh

Anjuman Sarfroshan-e-Islam Sindh FOUNDER OF:HAZRAT SYEDNA RIAZ AHMED GOHAR SHAHI

جمعہ مبارک
23/04/2026

جمعہ مبارک

22/04/2026

الریاض زون ملیر کے سینئرز ترین ذاکر
کراچی ڈویژن کی مشہور معروف آواز
محترم یوسف قادری حاجی ماما مرحوم کی
یادگاری وڈیو سامعین کی نظر
اللہ کریم مرحوم کے درجات بلند فرمائے آمین

22/04/2026

21/04/2026
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
انتقالِ پُر ملال اور تدفین
الریاض زون ملیر کے سنئیر ترین ذاکر اور کراچی ڈویژن کے مشہور و معروف نعت خواں محترم یوسف قادری المعروف حاجی ماما کی نمازِ جنازہ بروز منگل 21 اپریل بعد نمازِ ظہر جامع چشتیہ لال مسجد ملیر میں ادا فرمائی گئی اور تدفین معین آباد قبرستان بلمقابل
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں کی گئی
جناب عامر انصارقادری
جناب عبدالسلیم گوھر نے
کراچی ڈویژن سے وفد کے ہمراہ شرکت فرمائی
جناب مبین الدین قریشی جناب ڈاکٹرانوراقبال قادری
جناب عبدالستار قادری جناب ڈاکٹر سلیم قادری
جناب ناصر قادری جناب جمیل قادری
جناب عزیز قادری جناب خالد قادری
جناب احمد رضاقادری امیر الریاض زون ملیر
نے اپنی کیبنیٹ کے ہمراہ اور
کراچی کے دیگر علاقوں سے زاکرین نے بھرپور شرکت فرمائی
محترمہ جناب مسرت باجی صاحبہ نے
عدیل گوھر کے ہمراہ شرکت فرمائی
کلمہ طیبہ کے ورد میں میت کو قبرستان لایاگیا اور
محفل منعقد کیگئی حمد نعتؐ مناقب و قصائد کے نظرانہ عقیدت پیش فرمائے گئے آخرمیں
حلقہ ذکر منعقد فرمایا گیا اور
فاتحہ خوانی و دعا فرمائی گئی
اللہ کریم نبی کریمؐ کے صدقے وسیلے سے مرشدکریم کے طفیل محترم یوسف قادری(حاجی ماما) کے درجات بلند فرمائے انکی قبر کو روشن منور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور تمام ہمارے سرفروش مرحومین شہداءِ و عزیز و اقارب مرحومین کے درجات بلند فرمائے آمین

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام(رجسٹرً)پاکستان کراچی ڈویژن

21/04/2026اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنالریاض زون ملیر کے سنئیر ترین ذاکر اور کراچی ڈویژن کے مشہور و معروف ن...
21/04/2026

21/04/2026
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
الریاض زون ملیر کے سنئیر ترین ذاکر اور کراچی ڈویژن کے مشہور و معروف نعت خواں محترم یوسف قادری المعروف حاجی ماما کی نمازِ جنازہ آج بروز منگل 21 اپریل بعد نمازِ ظہر جامع چشتیہ لال مسجد ملیر میں ادا فرمائی گئی اور تدفین معین آباد قبرستان بلمقابل جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں کی گئی
جناب عامر انصارقادری
جناب عبدالسلیم گوھر نے کراچی ڈویژن سے وفد کے ہمراہ شرکت فرمائی
جناب مبین الدین قریشی
جناب ڈاکٹرانوراقبال قادری
جناب عبدالستار قادری
جناب ڈاکٹر سلیم قادری
جناب ناصر قادری
جناب جمیل قادری
جناب عزیز قادری جناب خالد قادری جناب احمد رضاقادری امیر الریاض زون ملیر نے اپنی کیبنیٹ کے ہمراہ اور کراچی کے دیگر علاقوں سے زاکرین نے بھرپور شرکت فرمائی
محترمہ جناب مسرت باجی نے عدیل گوھر کے ہمراہ شرکت فرمائی
کلمہ طیبہ کے ورد میں میت کو قبرستان لایاگیا اور محفل منعقد کیگئی حمد نعتؐ مناقب و قصائد کے نظرانہ عقیدت پیش فرمائے گئے آخرمیں حلقہ ذکر منعقد فرمایا گیا اور فاتحہ خوانی و دعا فرمائی گئی
اللہ کریم نبی کریمؐ کے صدقے وسیلے سے مرشدکریم کے طفیل محترم یوسف قادری(حاجی ماما) کے درجات بلند فرمائے انکی قبر کو روشن منور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور تمام ہمارے سرفروش مرحومین شہداءِ و عزیز و اقارب مرحومین کے درجات بلند فرمائے آمین
نوٹ فاتحہ سوئم
کل بروز بدھ صبح گیارہ بجے مرحوم کے سوئم کا اہتمام جامع چشتیہ لال مسجد میں مردوں کے لئے کیاجائیگا اور خواتین کیلئے گھر میں اہتمام کیاجائیگا آپ حضرات شرکت فرمائیں

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام(رجسٹرً)پاکستان کراچی ڈویژن

20/04/2026




تمام ذاکرین ذاکرات مومنوں مومنات کو
بہت بہت مبارک ھو


 ُصطفٰیﷺ #نگہبانِ_رسالتﷺثناخواں_مُحٙمّدمُصطفٰیﷺ ؑ_بن_مطلبؑبیدم یہی تو  پانچ ہیں مقصودِ کائناتخیرالنساءؑ،حسینؑ و حسنؑ، مص...
18/04/2026

ُصطفٰیﷺ
#نگہبانِ_رسالتﷺثناخواں_مُحٙمّدمُصطفٰیﷺ
ؑ_بن_مطلبؑ

بیدم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات
خیرالنساءؑ،حسینؑ و حسنؑ، مصطفٰی ﷺ، علیؑ

اِک بھتیجاؐ ایک بیٹاؑ اک بہوؑ دونورِعینؑ
چادرِ تطہیر میں کنبہ ابو طالبؑ کا ہے

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام(رجسٹرڈ)پاکستان

دربارگوھرشاھی مدظلہ العالٰیاللّہ ھو پہاڑی خداکی بستی جامشورو کوٹری سندھپر بیپٹسٹ بریدرن چرچ، امریکہ سے ڈاکٹر جم اور اسٹی...
16/04/2026

دربارگوھرشاھی مدظلہ العالٰی
اللّہ ھو پہاڑی خداکی بستی جامشورو کوٹری سندھ
پر بیپٹسٹ بریدرن چرچ، امریکہ سے ڈاکٹر جم اور اسٹیسی نے صاحبزادہ موحترم جناب حماد ریاض احمد گوہر شاہی سے ملاقات کی ۔ملاقات میں مذاہب، اسلام میں روحانیت کے کردار اور دنیا میں بڑھتے اسلاموفوبیا پر گفتگو کی۔ ساتھ ہی صوفیائے کرام کی تعلیمات مرشد کی تعلیمات کے ذریعے اسلام کے اصل پیغام محبت، امن اور برداشت کو اجاگر کرنے پر بھی بات ہوئی۔

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ)پاکستان

صوفیانہ کیف و مستی اور قابلِ رجوع اقوال، ایک معتدل جائزہریاض احمد گوہر شاہی صاحب سے منسوب بیانات کے تناظر میں ایک علمی و...
11/04/2026

صوفیانہ کیف و مستی اور قابلِ رجوع اقوال، ایک معتدل جائزہ
ریاض احمد گوہر شاہی صاحب سے منسوب بیانات کے تناظر میں ایک علمی و متوازن گفتگو۔
نورالوھاب بونیروی ۔

برصغیر پاک و ہند کی دینی و روحانی تاریخ میں تصوف ایک ایسا باب ہے جس میں عشق، معرفت، مجاہدہ اور احوالِ باطنی کی گہرائیاں سمٹ آئی ہیں۔ اس میدان میں جہاں اکابر اولیاء نے قرآن و سنت کے نور سے قلوب کو منور کیا، وہیں بعض ادوار میں ایسی شخصیات بھی سامنے آئیں جن کے گرد مختلف النوع آراء اور اختلافات نے جنم لیا۔ انہی میں ایک نام ریاض احمد گوہر شاہی کا بھی لیا جاتا ہے، جن کے بارے میں افراط و تفریط پر مبنی بیانیے بیک وقت موجود ہیں۔
زیرِ نظر سطور میں اس امر کی کوشش کی جاتی ہے کہ نہ تو غیر محتاط مدح سرائی کی جائے اور نہ ہی غیر ثابت شدہ الزامات کی بنیاد پر سخت احکام صادر کیے جائیں، بلکہ ایک ایسا معتدل، سنجیدہ اور علمی انداز اختیار کیا جائے جو تحقیق، دیانت اور اصولِ اہلِ سنت کے قریب تر ہو۔
سب سے پہلے اصولی بات یہ ہے کہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لئے اس کے مستند مآخذ، اصل تصانیف اور براہِ راست اقوال کی طرف رجوع کیا جائے۔ یہ ایک بدیہی علمی قاعدہ ہے کہ “النقل فرع الثبوت” یعنی نقل کی بنیاد ثبوت پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی عبارت اپنی اصل کتاب میں اسی صورت میں موجود نہ ہو جس طرح نقل کی جا رہی ہے، تو اس پر حکم لگانا علمی دیانت کے خلاف شمار ہوگا۔
ریاض احمد گوہر شاہی صاحب کے حوالے سے جن کتب کا بکثرت ذکر کیا جاتا ہے، ان میں روشناس، مینارہ نور اور روحانی سفر سرفہرست ہیں۔ ان کتب سے متعلق بعض حلقوں کی جانب سے جو اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں، ان میں نہایت سنگین نوعیت کے اعتقادی الزامات شامل ہوتے ہیں، مثلاً عباداتِ اسلامیہ کی تنقیص، انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں نامناسب تعبیرات، ذاتِ باری تعالیٰ کے متعلق غیر محتاط اقوال، یا بعض غیر شرعی امور کی توجیہ۔
تاہم جب ان کتب کا براہِ راست، وسیع اور دقیق مطالعہ کیا جاتا ہے تو ایک قابلِ توجہ پہلو سامنے آتا ہے کہ ان میں سے بہت سی عبارات یا تو بعینہٖ اس طرح موجود نہیں ہوتیں جس طرح بیان کی جاتی ہیں، یا ان کا سیاق و سباق اس انداز سے مختلف ہوتا ہے کہ ان پر قائم کیا جانے والا مفہوم یکسر بدل جاتا ہے۔ اس سے یہ احتمال قوی ہوتا ہے کہ نقل در نقل کے عمل میں یا تو اختصار، تحریف یا تاویلِ فاسد کے ذریعے اصل مفہوم کو تبدیل کر دیا گیا ہو۔
یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ برصغیر کے مذہبی ماحول میں مسلکی حساسیت بعض اوقات اس نہج تک پہنچ جاتی ہے کہ مخالف فریق کے اقوال کو بدترین معنی پہنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے میں تحقیق کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دین کے نام پر کسی پر افتراء باندھنا بذاتِ خود ایک سنگین امر ہے۔
دوسری طرف تصوف کے باب میں ایک قدیم اور معروف حقیقت “شطحات” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ وہ اقوال ہوتے ہیں جو کسی صوفی پر غلبۂ حال، شدتِ وجد یا کیفیتِ استغراق کے عالم میں صادر ہو جاتے ہیں۔ تاریخِ تصوف میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں، جہاں بعض بزرگوں کے کلمات بظاہر شریعت کے ظاہر سے مختلف محسوس ہوتے ہیں، لیکن اہلِ علم نے ان کے ساتھ نہایت محتاط اور معتدل طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔
اس ضمن میں اہلِ سنت کے اکابر نے چند اصولی ضوابط بیان فرمائے ہیں۔ اول یہ کہ اگر کوئی قول قطعیاتِ دین کے خلاف ہو تو اسے بلا تاویل قبول نہیں کیا جائے گا۔ دوم یہ کہ اگر اس میں تاویل کی گنجائش ہو تو حسنِ ظن کے ساتھ اس کی ایسی تعبیر کی جائے گی جو شریعت کے موافق ہو۔ سوم یہ کہ اگر قول صریح خطا پر مبنی ہو تو اسے صاحبِ قول کی لغزش قرار دے کر اس سے رجوع کو اصل معیار مانا جائے گا، نہ کہ اس کی بنیاد پر کلی حکم صادر کیا جائے۔
یہی وہ معتدل راستہ ہے جس نے امت کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھا۔ نہ ہر شطح کو عقیدہ بنا لیا گیا، اور نہ ہر لغزش پر کفر و ضلالت کا فتویٰ صادر کیا گیا۔
ریاض احمد گوہر شاہی کے حوالے سے بھی اگر کوئی عبارت واقعی محلِ اشکال ہو تو اس پر یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے یہ لازم ہے کہ عبارت کا ثبوت یقینی ہو، اس کا سیاق واضح ہو، اور اس کی نسبت درست ہو۔ اگر یہ امور ثابت نہ ہوں تو محض سنی سنائی باتوں یا ثانوی حوالوں کی بنیاد پر حکم لگانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔
مزید برآں، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان سے منسوب حلقوں میں بعد کے ادوار میں بعض امور کی وضاحت، تشریح یا بعض بیانات سے بیزاری کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔ اگر یہ امر مستند طور پر ثابت ہو تو اسے بھی اسی اصول کے تحت دیکھا جانا چاہیے کہ رجوع اور اصلاح، انسانی کمال کا حصہ ہیں، نہ کہ نقص۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ کسی شخصیت کے چند منسوب اقوال کو بنیاد بنا کر اس کے پورے فکری اور روحانی سفر کو رد کر دینا بھی اعتدال کے خلاف ہے، اور اسی طرح ہر قول کو بلا تحقیق درست قرار دینا بھی علمی رویہ نہیں۔ اصل معیار ہمیشہ قرآن، سنت اور اجماعِ امت رہے گا، اور اسی کے مطابق ہر چیز کو پرکھا جائے گا۔
اب علی الاختصار روشناس پر الزامات اور نا ملنے والے کچھ لائنوں کا ذکر بحث کا حصہ بناتے ہیں۔۔۔۔۔
ریاض احمد گوہر شاہی کے حوالے سے جو اختلافی مباحث سامنے آئے، ان میں سب سے زیادہ حوالہ جس کتاب کا دیا جاتا ہے وہ “روشناس” ہے۔ اس کتاب کے متعلق مختلف حلقوں کی جانب سے متعدد اعتراضات نقل کیے جاتے ہیں، جن میں نہایت سنگین نوعیت کے دعوے شامل ہوتے ہیں، مثلاً عباداتِ اسلامیہ کو وقتی قرار دینا، ذکر کو نماز پر فوقیت دینا، انبیاء علیہم السلام کے متعلق نامناسب عبارات، اور بعض ایسے نظریات جنہیں صریح انحراف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
لیکن جب اس کتاب کا سنجیدہ، تفصیلی اور براہِ راست مطالعہ کیا جاتا ہے، تو ایک نہایت اہم اور قابلِ توجہ حقیقت سامنے آتی ہے، اور وہ یہ کہ ان میں سے بہت سی عبارات بعینہٖ اس اسلوب اور مفہوم کے ساتھ موجود نہیں ہوتیں جس طرح انہیں عام طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر تو سرے سے وہ جملے ہی موجود نہیں ہوتے جنہیں بطور دلیل نقل کیا جاتا ہے، اور بعض جگہوں پر عبارت کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے ایسا مفہوم اخذ کیا جاتا ہے جو اصل متن کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔
مثلاً یہ دعویٰ کہ “نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کو وقتی ارکان قرار دیا گیا ہے اور ذکر کے بغیر نماز بے فائدہ ہے”، اس انداز اور صراحت کے ساتھ موجودہ مطبوعہ نسخوں میں اس طرح نہیں ملتا۔ جہاں ذکرِ قلبی یا ذکر کی اہمیت بیان کی گئی ہے، وہاں اس کو روحانیت کے ایک پہلو کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، نہ کہ شریعت کے فرائض کے انکار یا تنقیص کے طور پر۔ تصوف کی کتب میں ذکر کی فضیلت اور اس کے اثرات کا بیان ایک معروف اسلوب ہے، جسے اگر اس کے روایتی پس منظر سے کاٹ دیا جائے تو غلط فہمی پیدا ہونا بعید نہیں۔
اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کے حوالے سے بعض عبارات کو جس انداز سے پیش کیا جاتا ہے، وہ بھی براہِ راست مطالعہ میں اس شدت اور صراحت کے ساتھ نہیں ملتیں۔ بعض مقامات پر تمثیلی یا حکایتی انداز میں بیان کردہ مضامین کو عقیدہ قرار دے کر پیش کیا گیا، حالانکہ تصوف کی روایت میں تمثیل، اشارہ اور رمز ایک معروف اسلوب ہے جسے بغیر سیاق کے سمجھنا دشوار ہوتا ہے۔
اسی طرح یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق معاذ اللہ “خیال پیدا ہونے” یا “عکس بننے” جیسے تصورات کو عقیدہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، موجودہ کتب کے مطالعہ میں اس طرح واضح اور قطعی صورت میں نہیں ملتا جس طرح اسے منسوب کیا جاتا ہے۔ بعض اہلِ تحقیق کے نزدیک یہ یا تو ناقص نقل ہے، یا کسی تمثیلی بیان کو literal معنی میں لے لیا گیا ہے، جو کہ صوفیانہ اسلوب کے فہم کے خلاف ہے۔
“روشناس” کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں ذکر کو نماز پر فضیلت دی گئی ہے، لیکن براہِ راست مطالعہ میں یہ بات بطور عقیدہ اور اصولِ دین اس شدت کے ساتھ موجود نہیں پائی جاتی۔ تصوف میں ذکر کی کثرت اور اس کی تاثیر کا بیان ایک الگ دائرہ ہے، جبکہ نماز کی فرضیت اور اس کی حیثیت شریعت کے قطعی احکام میں سے ہے۔ ان دونوں کو خلط ملط کر کے پیش کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔
یہ تمام امور اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ “روشناس” کے حوالے سے پیش کیے جانے والے اعتراضات میں ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے براہِ راست متن کے ساتھ ملا کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی عبارت واقعی موجود ہو تو اس کا سیاق، اسلوب اور مراد متعین کیے بغیر اس پر حکم لگانا درست نہیں، اور اگر عبارت سرے سے اس صورت میں موجود ہی نہ ہو تو اس کی نسبت کرنا بذاتِ خود ایک محلِ نظر امر ہے۔
یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ برصغیر میں مسلکی اختلافات کے باعث بعض اوقات ایسی فضا پیدا ہو جاتی ہے جس میں مخالف فریق کے اقوال کو سخت ترین رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں تحقیق کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دینی معاملات میں افتراء اور مبالغہ دونوں ہی نقصان دہ ہیں۔
تصوف کی تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اگر کسی صوفی سے کوئی ایسا قول صادر ہو جائے جو بظاہر محلِ اشکال ہو، تو اہلِ علم نے اس کے ساتھ نہایت محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ “شطحات” کا تصور اسی حقیقت کی تعبیر ہے، جہاں غلبۂ حال میں ادا ہونے والے کلمات کو نہ تو فوری طور پر عقیدہ بنایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی بنیاد پر کلی حکم صادر کیا جاتا ہے، بلکہ انہیں یا تو تاویل کے ساتھ سمجھا جاتا ہے یا صاحبِ حال کی لغزش قرار دے کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اسی اصول کے تحت اگر ریاض احمد گوہر شاہی سے منسوب کسی قول میں واقعی اشکال ہو، تو اس کے لیے بھی یہی معتدل راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے یہ لازم ہے کہ قول کا ثبوت یقینی ہو، اس کی نسبت درست ہو، اور اس کا مفہوم سیاق کے ساتھ سمجھا جائے۔
مزید برآں، یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ بعد کے ادوار میں ان سے منسوب حلقوں کی جانب سے بعض امور کی وضاحت یا بعض بیانات سے بیزاری کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔ اگر یہ بات مستند ہو تو اسے اسی اصول کے تحت دیکھا جائے گا کہ رجوع اور اصلاح انسانی کمال کا حصہ ہیں، اور یہی طرزِ عمل اکابر کی سنت رہا ہے۔
خلاصہ یہ کہ “روشناس” اور دیگر کتب کے حوالے سے جو اعتراضات پیش کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسی ہے جس کی براہِ راست تحقیق ضروری ہے۔ بغیر تحقیق کے ان کو قبول کر لینا بھی درست نہیں، اور بغیر دلیل کے انکار کر دینا بھی علمی طریقہ نہیں۔ اصل راستہ وہی ہے جو اہلِ سنت کے اکابر نے دکھایا ہے
یعنی تحقیق کے ساتھ احتیاط
احتیاط کے ساتھ انصاف
اور انصاف کے ساتھ اعتدال
اسی میں دین کی حفاظت ہے اور اسی میں علمی دیانت کی بقا۔

خلاصہ یہ کہ اس پورے معاملے میں ایک منصفانہ طرزِ فکر یہی ہو سکتا ہے کہ
نہ غیر ثابت شدہ الزامات کو بنیاد بنا کر سخت فیصلے کیے جائیں
نہ تحقیق کے بغیر کسی بھی قول کو تسلیم کیا جائے
بلکہ ہر بات کو اصولِ شریعت اور علمی دیانت کے ساتھ جانچا جائے
اسی اعتدال میں امت کی سلامتی ہے، اور اسی میں دین کی صحیح نمائندگی بھی مضمر ہے۔
نورالوھاب بونیروی

 ِ_شہادت_سعیدصدّیقیؒ_شہیدشہداءِسرفروش سالارِسرفروش منظورِ نظر نورِ نظرمرشدکریم شمشیرِ گوھر شعلہ بیاں مقرر محبانِ گوھرشاھ...
08/04/2026

ِ_شہادت_سعیدصدّیقیؒ_شہید
شہداءِسرفروش سالارِسرفروش منظورِ نظر نورِ نظرمرشدکریم شمشیرِ گوھر شعلہ بیاں مقرر محبانِ گوھرشاھی کے دِلوں کی دھڑکن
#فرمانِ_سلطان_الفقر
ّدناریاض_احمدگوھرشاھی_مدظلہ_العالٰی

سوچاکے تیری سادگی پہ لکھوں اک غزل پرافسوس تیرے معیار کے الفاظ نہ ملے

بچھڑا اس ادا سے کے رتُ ہی بدل گٸ
وہ اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

محترم جناب سالارِسرفروش سعید صدیقی شہید رحمت اللّہ علیہ کی زندگی کامقصد تعلیماتِ مرشدی اور ذاتِ مرشدی کے لۓ دِن کو دِن اور رات کو رات نہیں سمجھتے تھے بس مشن کے کاموں میں اپنے آپ کو مگن رکھتے تھے سرکار مرشد کریم کی فیضانِ نظر سے آپ جب بھی اسٹیج پر تقریر کرنے آتے اک عجیب سا سما ٕ بن جاتا ہر شخص خواں اپنا ہو یابیگانا آپ کی تقریر سننے کیلۓ دور سے چلتا ہوا اس مقام تک ضرور پہنچتا اور آپ کے والہانہ اندازِ بیاں سے ضرور متاثر ہوتا اکثر اوقات تو بڑے بڑے علما ٕ اکرام کو آپ کی تقریر کے بعد جب انکو تقریر کرنے کا کہا جاتا تو اتنا کہ کر اکتفا کرلیتے کے اس نوجوان نے تو کچھ کہنے کیلۓ باقی چھوڑا ہی نہیں آفرین ہے اس پراور اس کے مرشد پر یہ ہوتی ہے نظرِ مرشدی اللّہ سے دُعا ہے سرکار مرشد کریم کے صدقے میں سرفروشوں کو جزبہ سعیدصدیقی شہید رح عطا فرماۓ اور سعید بھاٸی کے درجات میں بلندی عطافرماۓ آمین

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ)پاکستان

فرمانِ سلطان الفقرحضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالیمیں ان لوگوں کو حلفیہ خوشخبری سناتا ہوں جو ناحق جیلوں میں ب...
08/04/2026

فرمانِ سلطان الفقرحضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی
میں ان لوگوں کو حلفیہ خوشخبری سناتا ہوں جو ناحق جیلوں میں بند ہیں یا وہ لوگ جو ناحق مقدموں کی وجہ سے مفرور ہوکر ڈاکوں بن گئے یا سیاسی انتقام کی بنا پر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ۔۔۔کہ عنقریب وقت آنے والا ہے کہ اس ملک پاکستان میں کسی درویش کی حکومت ہوگی بکری اور شیر ایک ہی جگہ پانی پیئیں گے ۔سکون ہوگا امن ہوگا اور انصاف ہوگا اور ہر کوئی خوش حال ہوگا۔ذمہ دار کرسیوں پرخدا تر س اور درویش ہی بیٹھیں گے ۔اتنا میرے علم میں ہےکہ یہ انگریز قانون اور جیلیں ختم کردی جائیںگی ۔تاوان،قصاص اور جرمانے یا غلامی کے بعد تمام قیدی رہا کردیئے جائیں گے اور یا تو کوڑے مار کر فارغ ،یا ہاتھ کاٹ کر فارغ ، یا پھر سنگسار کر دیئے جائیں گے ۔جیلوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
یہ سخت قانون امن کا باعث بنے گا۔

04/4/2026  المرکز روحانی آستانہ عالیہ کوٹری شریف میں محفلِ پاک کا اہتمام کیا گیا  صاحبزادہ مزمل طلعت گوھرشاھی نے فرمائی ...
06/04/2026

04/4/2026


المرکز روحانی آستانہ عالیہ کوٹری شریف میں
محفلِ پاک کا اہتمام کیا گیا

صاحبزادہ مزمل طلعت گوھرشاھی
نے فرمائی علاوہ ازیں نگراں مرکزی امیر
جناب حاجی یونس جمال قادری و مرکزی کابینہ
اور ذاکرین نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی
آخر میں لنگرِ عام کا اہتمام کیاگیا

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام(رجسٹرڈ)پاکستان

Address

Kotri

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anjuman Sarfroshan-e-Islam Sindh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Anjuman Sarfroshan-e-Islam Sindh:

Share