21/02/2023
یہ تحریر اطمینان سے پڑھئے گا ۔
ریڑھی پرچھولے لگانے والا املی آلو بخارے کی جگہ ٹاٹری استعمال کرتا ہے,
چھوٹے چنے سوڈے سے پُھلا کرموٹا کر دیتا ہے,
شربت والا چائنہ کے فلیور لے کر پھلوں کا جوس بیچتا ہے,
چینی کی جگہ شکرین استعمال کرتا ہے.
دکان والا قیمت پر نئی قیمتوں کے سٹیکرز لگاتا ہے.
ایکسپائر اشیاء کی تاریخ ناقابل شناخت کر کے بیچتا ہے. ٹھیکیدار سستے میٹیریل سےعمارتیں بناتا ہے,
گوشت والا حرام کھلاتا ہے, مصالحے والا
رنگ بیچتا ہے,
مزدور مالک کی آنکھ دیکھ کر کام کرتا ہے.
مالک اپنے مال میں ملاوٹ میں مشغول ہوتا ہے.
سبزی والا پانی چھڑک کر وزن بڑھاتا ہے,
مرغی والا بیمار مرغیاں کم وزن باٹوں پر بیچتا ہے.
سرکار کے کارندے وردی پہن کر سڑک پر رشوت لیتے ہیں,
رشوت دینے والے دھویں کا ذہر اگل کر زائد کرایہ لیتے ہیں.
جج وکیل سے رشوت لیتا ہے.
وکیل مجرم سے,
جس طرف جاؤ یہی داستان ہے.
شائد آپ اسے ہزاروں صفحوں میں بھی نہ سمیٹ پائیں.
کہ دھوکہ دہی, جھوٹ فریب ، مسجد کی محراب انتظامیہ بے ایمان تجارتی لوگوں سے عدل کی ایوان تک ہر جگہ دستیاب ہے .
الاماشاءاللہ
سوال مگر یہ ہے.
ہم یہ سب کس کے ساتھ کرتے ہیں.
جواب بہت سادہ ہے.
یہ ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں جو کئی گنا سروں کا عفریت بن کر واپس ہماری طرف ہی پلٹتا ہے.
آج وہ دور ہے کہ شکائتِ معاشرہ سے قبل اپنی ذات کی اصلاح اہم ہے کہ معاشرے میں ایک فرد بھی بہتر ہوگیا تو کم از کم ایک چکر کا دائرہ تو ٹوٹ ہی جائے گا.
خود میں جھانکو اور دیکھو برائی کیا ہے جب انسان خود سے انصاف کرے گا تو
معاشرہ خودبخود بہتر ہو جاۓ گا ۔
ایک دفعہ یہ تحریر فھر پڑھئیے کیفیت کچھ اور ہو گی ۔
✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️