مختصر تعارف
دربارِ فیض عالم آستانہ عالیہ ایوبیہ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑامہربان، ہمیشہ رحمت فرمانے والاہے تعلیم اور تربیت کا سلسلہ تو ازل سے ہی چلتا آرہا ہے ۔ انبیائے کرام علیھم ا لسلام سب سے بڑے اساتذہ کی حیثیت رکھتے ہیںجن میں ہمارے نبی کریم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ استاذ الانبیاء ہیں جنہوں نےبندوں کو اپنے رب کریم کے نزدیک کیا۔ انبیائے کرام انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار بھی رہے ہیں۔جن میں اما
م الانبیاء نے سب سے زیادہ انسانیت کی خدمت پہ زور دیا۔ اس لیے دین اسلام میں اللہ کے ذکراور حضور سے محبت کے بعد انسانیت کی ہی تعلیم دی گئی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ ہمیں اولیاء اللہ کی خانقاہوں اور آستانوں سے اور ان کی صحبت سے مل رہا ہے ، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انبیائے کرام کے حقیقی وارث اولیاء اللہ ہی ہیں۔ اولیاء اللہ نے خانقاہوں سے دفاعِ اسلام و فروغ عشقِ رسول ﷺ کا فریضہ بڑے احسن طر یقہ سےسر انجام دیا ۔
اس کی بہترین مثال ہمارے پیر و مرشدامام العاشقین حضرت خواجہ سخی سلطان اعظم بادشاہ فیض گنج الشاہ پیر محمد ایوب جہانگیری قادری چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ پاک ہے ۔آپ کی ذات نے افکار رسول ﷺ کو اپنا کر عوام الناس کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سیراب کیا ۔ قوم مسلم کی اصلاح ، سربلندی اور غلبہ کے لیے درگاہوں کو آباد کیا جاتا ہے۔ اولیاء اللہ کی درگاہوں اور خانقاہوں کے دروازے ہر انسان کے لیے کُھلے ہوتے ہیں ۔ جہاں کوئی مذہب ، مسلک ،رنگ ونسل یا ذات پات کو نہیں بلکہ ان کی عقیدت اور محبت کو سراہا جاتا ہے۔ اسی طرح کوٹ رادھا کشن میںایک ایسی ہی خانقاہ دربارِ فیض عالم آستانہ عالیہ ایوبیہ کی بنیاد رکھی گئی۔ جہاں پر لوگ اپنے اللہ اور اس کے نبی کریم ﷺ کی محبت کی پیاس بجھانے ہزاروں کی تعداد میں حاضری دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں ۔ لوگ دور دور سے آستانہ عالیہ ایوبیہ میں حاضر ہو تے ہیں ۔جہاں انھیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور بزرگانِ دین کی دی گئی تعلیمات کا درس دیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں کثرت سے محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔جس میں محفلِ ذکر و نعتﷺ اور محفل سماع شامل ہے۔جو پاکستان کے مختلف صوبوں ،شہروں ،دیہاتوں ، قصبوںبالخصوص دربارِ فیضِ عالم آستانہ عالیہ ابوبیہ کو ٹ رادھاکشن ضلع قصور میں انعقاد پذیر ہوتی ہیں۔
میرے پیرسیدی مرشدی بادشاہ فیضِ گنج الشاہ پیر محمد ایوب جہانگیری قادری چشتی رحمہ اللہ سے لاتعداد کرا ما ت و مکا شفا ت کا صدور ہو تا رہا ہے ۔جن کا ذکر آپ کی تصا نیف میں کیا گیا ہے ۔ آپ مخلوقِ خُدا سے بے پناہ محبت اور شفقت فر ما تے بیوا ئو ں ، یتیمو ں، غر با ء اور محتا ج لوگوں کی حا جت روائی میں آپ اس دور میں اپنا ثا نی نہیں ر کھتےتھے ۔ رمضا ن المبا رک کے علاوہ بھی آپ سارا سال را شن حا جت مندوں میں تقسیم فرما تے رہتے ۔ دربارِ فیض عالم میں اگر کوئی سوالی آجاتا تو اپنے دامن کو اللہ کی رحمت اور برکتوں سے بھر کر لے کر جاتا۔دربارِ فیض عالم سے ملحق ایک خوبصورت مسجد کی تعمیر بھی کی گئی ہے جس میں کم از کم 1000 افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے اور دربارِ شریف کے ساتھ ایک سماع ہال بھی ہے جس میں کم از کم7000 سے زیادہ افراد کی بیٹھنے کی جگہ ہے۔ آستا نہ عا لیہ ایوبیہ میں لنگر شریف کاخصوصی اور ا علیٰ ا نتظا م ہو تا ہے ۔جس میں کسی بھی مذہب و مسلک کے لوگوں کی قید نہیں ہر خاص و عام سے تعلق رکھنے والاہر شخص لنگر تناول کرتا ہےاورتمام زائرین کی عمدہ طر یقےاور محبت سے ضیا فت کی جا تی ہے ۔آپ سرکاررحمہ اللہ خصوصی طور پر ہر اتوارکو صبح اور جمعرات کو شام مغرب تا عشاء محا فلِ ذکر وفکر اور تعلیم و تر بیت کا خصوصی اہتمام فرماتے ۔ اور سالانہ محافل میںمحفلِ سما ع کاخصو صی اہتما م کیا جا تا ہے ۔
دربارِ فیضِ عالم سلسلہ عالیہ ایوبیہ کا فیض تو پچھلی نصف صدی سے زائدعرصہ سے چلتا آرہا ہے۔ جس میںذکر و فکر ، پاس انفاس،یاران شریعت تا معرفت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے وجود کو معرفت کے علم سے مطلع کرنے پاسبانِ انوارِ نبوتﷺ بننے متلاشانے و شیدایان عشقِ حضرت محمدمصطفیٰ ﷺمیں داخل ہونے اوردنیاوی ،دینی و روحانی تربیت کے لیےہزاروں لوگ دربارِ فیض عالم حاضر ہوتے ہیںتاکہ وہ اپنےاخلاق اورکردار کو سنوار سکے۔ سلسلہ عالیہ ایوبیہ میںاب روزانہ کی بنیاد پر بھی خصوصی لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس میں ہر خاص و عام، غرباء مساکین اوربہت سارے ایسے لوگ جو خود کھانا نہیں کھا سکتے۔ دربارِ فیض عالم آستانہ عالیہ ایوبیہ کے لنگر شریف سے مستفید ہوتے ہیں ۔
جب آپ کا جسم مُبا رک بیما ری کے با عث بہت کمزور ہو چکا تھا۔ اس لیے آپ سرکار نے سلسلہ عا لیہ ایوبیہ کا انتظام و انصرام اور سلسلۂ ر شدو ہدا یت کو آگے بڑھا نے کے لیے اپنے صا حبزادہ صا حب فخرِ سلسلہ سلطا ن السا لکین محترم جناب خواجہ خواجگاںپیر صوفی سخی سلطان بہا ول ایوب جہانگیری قا در ی چشتی دامت برکا تہم العا لیہ کو سجا دہ نشین مقرر فر ما دیاتھا۔
آپ نے ان کے بارے میں فر ما یا کہ سلطان میری ہی صو رت ہے۔ آج سے میرے سارے مرید سلطان کے مرید ہیں اور سلسلۂ عالیہ ایوبیہ کے تمام فیصلے اب (سلطان) کرے گا۔صا حبزادہ صا حب پیر صوفی سلطان بہاؤل ایوب جہانگیری قادری چشتی مدظلہ العالی پر آپ سرکاربادشاہِ فیض گنج کی خصو صی نظرِ عنا یت اورتوجہ تھی اور آپ صاحبزادہ صاحب سلسلہ عالیہ ایوبیہ کو اپنے پیر و مر شدکے کرم سے نہا یت عمدہ طریقے سے آگے بڑ ھا رہے ہیںاور لوگوں کے دلوں کواللہ کے ذکر اور ذکر و محبت رسول ﷺ سے رو شن اور منَور فر ما ر ہے ہیں۔
دُعا ہے کہ دربارِ فیض عالم آستا نہ عا لیہ ایوبیہ کو تا قیا مت قا ئم و دائم رکھے تا کہ طا لبا نِ حق شریعت تا معرفت آپ کے فیضا ن سے اپنے دلوں کو رو شن اور منور فر ما تے رہیں ۔
آمین بجا ہ ِ ا لنبی الکریم ﷺ ۔
زہِ نصیب گر قبول اُ قتد :
خادم آستانہ عالیہ ایوبیہ صوفی رضوان ایوبی جہانگیری قادری چشتی