Muhammad Jameel Golravi Naseervi

Muhammad Jameel Golravi Naseervi چراغِ گولڑہ حضرت علامہ پیر سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے علمی، ادبی، فکری ذوق سے لبریز سحرانگیز خطابات

24/05/2026
روداد غم بیاں کیے جا رہا ہوں میںوہ سن رہے ہیں میرے دل بےزباں کی بات
17/05/2026

روداد غم بیاں کیے جا رہا ہوں میں
وہ سن رہے ہیں میرے دل بےزباں کی بات

17/05/2026

یارب! کرم بہ حالِ نصیرِ حزیں کہ اُو
ادنٰی گدائے کوچہء آلِ محمدؐ است

17/05/2026

***نعتِ رسول ﷺ***

چھڑ جاۓ جس گھڑی شہِ کون و مکاں کی بات
پڑھیے درود،چھوڑیے سود و زیاں کی بات

آتی ھے یُوں لبوں پہ شہِ انس و جاں کی بات
جیسے کے منہ زمیں کا ہو،اور آسماں کی بات

رودادِ غم بیان کئے جا رہا ہوں میں
وہ سُن رھے ہیں میرے دلِ بے زباں کی بات

باضابطہ نمودِ سحر روک دی گئ
جب تک کہ طے ہوئ نہ بلالی آذاں کی بات

بادِ صبا ،نہ چھیڑ مجھے ان کی یاد میں
کیسی بہار،کس کا چمن،کیا خزاں کی بات

ہر اشک ایک رمز ھے،ہر آہ ایک راز
پوچھے نہ کوئی اُن کے مرے درمیاں کی بات

نعت اُن کے آستاں پہ پڑھوں جھوم جھوم کر
یا رب،،وہیں پہ جا کے کہوں،ھے جہاں کی بات

ہیں یوں تو کج کلاہوں کے دربار بھی بہت
اُن میں کہاں سے آۓ ترے آستاں کی بات

شہرِ نبی کی یاد نے تڑپا دیا ہمیں
تُم نے نصیر ،،آج سنادی کہاں کی بات،





17/05/2026

الفت کا تب مزا ہے کہ ہوں وہ بھی بیقرار
دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی






16/05/2026

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهٝ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ
ہرگز ایسا نہیں چاہیے، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔پیشانی جھوٹی خطا کار۔پس وہ اپنے مجلس والوں کو بلا لے۔ہم بھی مؤکلین دوزخ کو بلا لیں گے۔

یہ چادر شان کھینچ لوں گا تیری
ہر عضو سے جان کھینچ لوں گا تیری
بہتر ہے روک لے زباں کو ورنہ
ہر عضو سے جان کھینچ لوں گا تیری





عظ نفسک او لا ثم عظ نفس غیرک(فرموده حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی) ترجمہ۔۔۔پہلے اپنی ذات کو نصیحت کر پھر کسی دوسر...
16/05/2026

عظ نفسک او لا ثم عظ نفس غیرک

(فرموده حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی)
ترجمہ۔۔۔پہلے اپنی ذات کو نصیحت کر پھر کسی دوسرے کو۔

میرا مند نہ کھلوا

معلوم ہے ، باریاب جتنا تو ہے
یا ڈیخ فلک جناب جتنا تو ہے
بہروپ کی آڑ میں چھپا ہے ورنہ
اتنا نہیں میں خراب ، جتنا تو ہے




16/05/2026

تو کریمِ مطلق و من گدا،چہ کنی جز این کہ نہ خوانیم
در ِ دیگرم بنما کہ من ، بپ کجا روم کہ برانیم

اے میرے کریم اللہ تو کریم مطلق ھے (نرا کریم ھے) اور میں تیرے در کا منگتا ھوں تو مجھے اپنے در پہ نہ بلائے تو کیوں نہ بلائے
یا پھر مجھے کوئی اور دروازہ دیکھا کہ تو
مجھے اپنے درسے تھکار دے تو میں اس پر چلا جاوں
ایسا دروازہ ھے ہی نہیں تو میرے حال پہ کرم کر دے نا
اے میرے کریم اللہ
(سخی کے در پہ سائل آے گا تو اس کی سخاوت چلے گی
سائل ہی نہیں تو سخاوت کیسی)

16/05/2026

لہجے میں اگر رس ہو تو دو بول بہت ہیں
انسان کو رہتی ہے محبت کی زباں یاد

.

15/05/2026

اٹھا کر لوگ پہنچاتے ہیں اس کو اس کی چوکھٹ تک
وہ ہے زندہ جنازہ جو تیری محفل سے اٹھتا ہے

❣️حق نصیرؒ یا نصیرؒ❣️

15/05/2026

مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے مِرے آقا! کرنا
حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضہ کرنا

میں کہ ذرہ ہُوں مجھے وسعتِ صحرا دےدے
کہ ترے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا

میں ہوں بےکس ، تیرا شیوہ ہے سہارا دینا
میں ہوں بیمار ، تیرا کام ہے اچھا کرنا

تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے
کہ تری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا

تیرے صدقے ، وہ اُسی رنگ میں خود ہی ڈوبا
جس نے ،جس رنگ میں چاہا مجھے رُسوا کرنا

یہ ترا کام ہے اے آمنہ کے درِ یتیم!
ساری امت کی شفاعت، تنِ تنہا کرنا

کثرتِ شوق سے اوسان مدینے میں ہیں گم
نہیں کُھلتا کہ مجھے چاہیے کیا کیا کرنا

یہ تمنائے محبت ہے کہ اے داورِ حشر!
فیصلہ میرا سپردِ شہِ بطحا کرنا

آل و اصحاب کی سنت ، مرا معیارِ وفا
تری چاہت کے عوض ، جان کا سودا کرنا

شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا
بزمِ عالم کو سجا کر تیرا چرچا کرنا

یہ صراحت ورفعنالک ذکرک میں ہے
تیری تعریف کرانا ،تجھے اُونچا کرنا

تیرے آگے وہ ہر اک منظرِ فطرت کا ادب
چاند سورج کا وہ پہروں تجھے دیکھا کرنا

طبعِ اقدس کے مطابق وہ ہواؤں کا خرام
دھوپ میں دوڑ کے وہ ابر کا سایہ کرنا

دشمن آجائے تو اٹھ کر وہ بچھانا چادر
حُسنِ اخلاق سے غیروں کو وہ اپنا کرنا

کوئی فاروق سے پوچھے کہ کسے آتا ہے
دل کی دنیا کو نظر سے تہہ وبالا کرنا

اُن صحابہ کی خوش اطو ار نگاہوں کو سلام
جن کا مسلک تھا، طوافِ رخِ زیبا کرنا​

کنکروں کا تیرے اعجاز سے وہ بول اٹھنا
وہ درختوں کا تیری دید پہ جھوما کرنا​

وہ تیرا درس کہ جھکنا تو خدا کے آگے
وہ تیرا حکم کہ خالق کو ہی سجدہ کرنا​

چاند کی طرح تیرے گرد وہ تاروں کا ہجوم
وہ تیرا حلقہ اصحاب میں بیٹھا کرنا​

قاب قوسین کی منزل پہ یکایک وہ طلب
شبِ اسرا وہ بلانا ، تجھے دیکھا کرنا​

مجھ پہ محشر میں نصیر اُن کی نظر پڑ ہی گئی
کہنے والے اسے کہتے ہیں "خدا کا کرنا"

Address

Chak 599
Kot Addu

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Jameel Golravi Naseervi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Muhammad Jameel Golravi Naseervi:

Share