29/10/2025
آج غیر شیعہ (وھابی ) جو عیسائی ، یہودیوں سے مناظرہ کرتے ہوئے توارت سے حضرت محمد ﷺکی نبوت پر جو آیات پیش کرتے ہے
امام علی رضا ؑ نے 1200 سو سال پہلے وہ دلائل پیش کئے تھے ۔۔
مگر افسوس ہمارے علماء پر جو مجالس میں اس مناظرے کا ذکر تو کرتے ہے لیکن کبھی زندگی میں تورات کھل کر وہ آیات نہیں نکالے۔۔۔
دَرْبار مامون الرشید میں امام رضا ؑ کا یہودی عالم رأس الجالوت سے مناظرہ
امام ؑ نے فرمایا کیا تم توارت کے ان جملوں کا انکار کر سکتے ہو...
کہ طورسینا سے نور چمکا ،جبل ساعیر کوروشن کیا اور کوہ فاران سے بلند ہوا......
way·yō·mar Yah·weh mis·sî·nay bā wə·zā·raḥ miś·śê·‘îr...
lā-mōw, hō·w·p̄î·a. mê·har pā·rān..
2And he said, The LORD came from Sinai, and rose up from Seir unto them; he shined forth from mount Paran,
خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا، فاران کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا...
تورات استثنا باب 33 آیت 2
Torah Deuteronomy 33:2..
یہودی نے کہا: یہ الفاظ تورات میں ہیں لیکن مجھے ان کی تشریح کاعلم نہیں ہے۔ امام نے فرمایا: ” میں تجھے ان الفاظ کا مدعا بتا تا ہوں ۔ طورسینا سے نور آنے کا مقصد یہ کہ اللهﷻ نے موسی ؑ پرطور سینا پر وحی نازل کی ۔ ”
جبل ساعیر کو روشن کیا‘ ساعیر وہ پہاڑ ہے جس پر اللهﷻ نے عیسی ؑ ابن مريم ؑ پر وحی نازل کی ۔
اور کوہ فاران‘ سے بلند ہوا۔ فاران مکہ کے قریب ایک پہاڑ ہے اور اس کا اشارہ محمد مصطفی ﷺ کی وحی اور کتاب کی طرف ہے۔...
And also of the son of the bondwoman will I make a nation, because he is thy seed.
اور اَس کنیز ( بی بی ھاجرہ ؑ) کے بیٹے سے بھی مَیں ایک قوم پیدا کرونگا اِسلئے کہ وہ تیری نسل ہے۔
تورات پیدائش باب 21 آیت 13
Torah Genesis 21 :13
God opened Hagar's eyes and she saw a well of water, which she used to give her son a drink
پِھر خُدانے اُسکی آنکھیں کھو لیں اور اُس نے پانی کا ایک کُنواں (زم زم) دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لِیا اور لڑکے کو پِلایا
Genesis 21:19
And he dwelt in the wilderness of Paran: and his mother took him a wife out of the land of Egypt.
اور وہ(اسماعیل ؑ) فاؔران کے بیا بان میں رہتا تھا اور اُسکی ماں نے مُلکِ مصؔر سے اُسکے لِئے بیوی لی۔
توارت باب 21 آیت 21
Torah Genesis 21 :21..
عيون أخبار الرضا (ع) - الشيخ الصدوق - ج ٢ - الصفحة ١٤٨
ʿUyūn akhbār al-Riḍā - Volume 1 > A Session of al-Ridha (s)’s Debate With the Prominent Theologians From Among the Rhetoricians and the Various Religions..