Hazrat Khawaja Sufi Muhammad Azmat Ullah Shah Naqeebi

Hazrat Khawaja Sufi Muhammad Azmat Ullah Shah Naqeebi 'Naqeebi' Spiritual Chain (Qadri, Suherwardi, Abu Al Alai, Naqshbandi Mujdadi, Chishti Sabri, Nizami, Jahangeeri, Hasni)
(1)

لبیک اللھم لبیک مناسک حج کا آغاز ہوگیا، لاکھوں عازمین خیموں کے شہر منیٰ پہنچنا شروع سال 2012ء کا تاریخی ریکارڈسال 2012ء...
25/05/2026

لبیک اللھم لبیک مناسک حج کا آغاز ہوگیا، لاکھوں عازمین خیموں کے شہر منیٰ پہنچنا شروع
سال 2012ء کا تاریخی ریکارڈ
سال 2012ء (ہجری سال 1433ھ) حالیہ تاریخ کا وہ یادگار ترین سال تھا جس نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ اس سال حج کرنے والے کل عازمین کی آفیشل تعداد 3,161,573 (31 لاکھ 61 ہزار 5 سو 73) تک پہنچ گئی تھی، جو کہ تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری طور پر رجسٹرڈ زائرین کا اجتماع تھا،
گزشتہ دو دہائیوں (2000ء سے 2019ء) کے دوران، ہر سال حج کرنے والے حاجیوں کی اوسط تعداد 2,269,145 (تقریباً 22 لاکھ 69 ہزار) رہی ہے۔ یعنی اگر ان بیس سالوں کے تمام حاجیوں کو جمع کر کے بیس پر تقسیم کیا جائے، تو سالانہ اتنے لاکھ لوگ حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
بین الاقوامی یا بیرونی حاجی (Foreign Pilgrims): اوسطاً 1,564,710 (تقریباً 15 لاکھ 64 ہزار) حاجی ہر سال دنیا بھر کے دیگر ممالک (جیسے پاکستان، انڈیا، انڈونیشیا، مصر وغیرہ) سے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں۔ یہ کل تعداد کا بہت بڑا حصہ بنتا ہے۔

مقامی یا اندرونی حاجی (Domestic Pilgrims): اوسطاً 671,983 (تقریباً 6 لاکھ 71 ہزار) حاجی وہ ہوتے ہیں جو خود سعودی عرب کے اندر سے (سعودی شہری اور وہاں مقیم غیر ملکی ملازمین) حج کی نیت کرتے ہیں۔

حج کرنے کے فضائل حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سےروایت ہے ، اللہ کے آخری  نبی ، رسولِ ہاشمی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ ...
24/05/2026

حج کرنے کے فضائل
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سےروایت ہے ، اللہ کے آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جو بندہ کعبہ شریف کا حج کرے ، اس دوران نہ فُحْش باتیں کرے ، نہ ہی گناہ کاکام کرے تو رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ اُمُّهٗ وہ ایسے لوٹ جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا ہے۔ : بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے : اَلْعُمْرَةُ اِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِّمَا بَيْنَهُمَا ایک عمرہ دوسرے عمرے تک درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے ، وَالحَجُّ المَبْرُورُ لَيْسَ لَهٗ جَزَاءٌ اِلَّا الْجَنَّةُ اور مقبول حج کی جزا صرف و صرف جنّت ہے۔ ( مسلم شریف کی حدیث پاک ہے ، نبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اِنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهٗ بے شک حج پہلے کے گناہوں کو معاف کروا دیتا ہے

15 لاکھ سے زائد فرزندانِ اسلام کا ایک ہی میدان میں جمع ہونا واقعی ایمان افروز منظر ہے۔میدانِ عرفات میں دنیا بھر سے آئے ہ...
24/05/2026

15 لاکھ سے زائد فرزندانِ اسلام کا ایک ہی میدان میں جمع ہونا واقعی ایمان افروز منظر ہے۔
میدانِ عرفات میں دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کرام کا اجتماع اُمتِ مسلمہ کی وحدت، محبت اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔
اللہ پاک تمام حجاج کا حج قبول فرمائے، ان کی دعائیں قبول کرے اور پوری اُمتِ مسلمہ پر اپنا خاص کرم فرمائے۔ آمین 🤍

ماہِ ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں میں عبادت کی فضیلتماہِ ذی الحج کی ابتدائی دس راتیں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں، برکتوں اور ر...
23/05/2026

ماہِ ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں میں عبادت کی فضیلت
ماہِ ذی الحج کی ابتدائی دس راتیں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں، برکتوں اور روحانی انوار سے معمور مقدس ساعتیں ہیں۔ اِن بابرکت راتوں کی عظمت کا اندازہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ اِن میں کی جانے والی عبادت کو غیر معمولی فضیلت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جن دنوں میں الله رب العزت کی عبادت کی جاتی ہے اُن میں سے کوئی دن عشرۂ ذی الحجہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نہیں۔ ان میں سے ہر دن کا روزہ سال کے روزوں اور ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہوتا ہے۔

10 واں جشنِ عظمت الاولیاء حضرت خواجہ خواجگان سیدنا صوفی محمد عظمت اللہ شاہ نقیبی اولیاء کرام و صوفیاء عظام کا عظیم الشان...
23/05/2026

10 واں جشنِ عظمت الاولیاء
حضرت خواجہ خواجگان سیدنا صوفی محمد عظمت اللہ شاہ نقیبی
اولیاء کرام و صوفیاء عظام کا عظیم الشان اجتماع
25:26:27 ذوالحج 1448ھ
زیرِ سایہ سجادگان حضور درگاہِ نقیب الاولیاء
آستانہ عالیہ نقیب آباد شریف قصور

فنا فی الشیخ، فنا فی الرسول، فنا فی اللہ یہ تینوں تصوف و روحانیت کے نہایت بلند اور نازک مقامات ہیں۔ اِنہیں مکمل طور پر س...
23/05/2026

فنا فی الشیخ، فنا فی الرسول، فنا فی اللہ
یہ تینوں تصوف و روحانیت کے نہایت بلند اور نازک مقامات ہیں۔ اِنہیں مکمل طور پر سمجھنے کے لیے سالک (طالب) کو علمِ معرفت، سلوک، عشق اور مقامِ فنا و بقا کے مختلف مراتب کو سمجھنا ضروری ہے۔ آئیں ہم انہیں تفصیل سے سمجھتے ہیں، قرآن، حدیث، اور صوفی اقوال کی روشنی میں، ساتھ ساتھ آسان مثالوں سے۔

1. فنا فی الشیخ (شیخ میں فنا ہونا):
تعریف:
فنا فی الشیخ کا مطلب ہے کہ مرید (طالب) اپنے مرشد (شیخ) کے اندر اس قدر جذب ہو جائے کہ اس کی مرضی، سوچ، ارادہ اور عمل سب مرشد کے تابع ہو جائے۔ اس میں طالب کی انا، خودی اور خواہشات فنا ہو جاتی ہیں، اور وہ شیخ کی رضا میں راضی رہتا ہے۔

مثال:
جیسے ایک قطرہ سمندر میں گر جائے تو وہ قطرہ خود کچھ نہیں رہتا، بلکہ سمندر بن جاتا ہے۔ اسی طرح مرید مرشد کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔

قرآنی اشارہ:

> "یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ"
(التوبہ: 119)
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔"
مرشدِ کامل وہ صادق ہوتا ہے جو اللہ کی طرف سے سچائی کا وارث ہو۔ اس کے ساتھ رہنے اور اس میں فنا ہونے کا مطلب ہے اس کے ذریعے حق تک پہنچنا۔

صوفی اقوال:

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

> "مرشد کی رضا، اللہ کی رضا ہے، اور مرشد کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی۔"
2. فنا فی الرسول (رسول میں فنا ہونا):
تعریف:
اس مقام پر سالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق، سنت، محبت اور فرمانبرداری میں ایسا جذب ہو جاتا ہے کہ اس کی ہر بات، ہر حرکت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی جھلک ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات کو رسول اللہؐ کی اتباع میں مٹا دیتا ہے۔

مثال:

جیسے ایک آئینہ ہو جس میں صرف محبوبؐ کی تصویر ہو، اپنا کچھ نہ دکھے۔ اسی طرح فنا فی الرسول میں سالک اپنے آپ کو اس طرح مٹا دیتا ہے کہ اس کے وجود سے صرف سنتِ رسولؐ ظاہر ہو۔

قرآنی دلیل:

> "قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْكُمُ اللَّهُ"
(آل عمران: 31)
"کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔"
حدیث:

> "من أحبنی فقد أحب الله، ومن أطاعنی فقد أطاع الله"
(ترمذی)
"جس نے مجھ سے محبت کی، اس نے اللہ سے محبت کی، اور جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔"
فنا فی الرسول کا عملی مظاہرہ:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فنا فی الرسول کے عملی مظہر تھے، جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، جو ہر لمحہ حضورؐ کے تابع رہے۔
3. فنا فی اللہ (اللہ میں فنا ہونا):

تعریف:
یہ تصوف و روحانیت کا سب سے بلند مقام ہے، جب سالک اپنی ذات، ارادہ، اور وجود کو مکمل طور پر مٹا کر اللہ کی ذات میں فنا ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر بندہ "انا الحق" (میں حق ہوں) کی حقیقت کو سمجھتا ہے (جیسے حضرت منصور حلاجؒ نے کہا)، کیونکہ وہ اپنے وجود کو باقی نہیں سمجھتا، صرف اللہ کو دیکھتا ہے۔

مثال:
جیسے ایک شمع کے سامنے پروانہ جل کر فنا ہو جاتا ہے، صرف روشنی باقی رہتی ہے، ویسے ہی سالک اپنے آپ کو فنا کر دیتا ہے اور صرف نورِ الٰہی میں باقی رہتا ہے۔

قرآن:

> "كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ * وَیَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ"
(الرحمٰن: 26-27)
"جو کچھ زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے، اور صرف تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا۔"
حدیثِ قدسی:

> "فإذا أحببته، كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به..."
"جب میں اپنے بندے سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے..."
(بخاری)
تینوں فنا کا ربط:

1. فنا فی الشیخ — راستہ ہے
2. فنا فی الرسول — ذریعہ ہے
3. فنا فی اللہ — منزل ہے
یعنی: مرشد کے وسیلہ سے، رسول کے طریقہ سے، بندہ اللہ کی ذات میں فنا ہو جاتا ہے۔
اگر اسان الفاظ میں بیان کروں
فنا فی الشیخ بارے میں
تو اپنے مرشد کے لیے ایسے ہو جاؤ جیسے ایک مردہ غسل دینے والے کے سامنے پڑا ہوتا ہے تو غسل دینے والا جدھر چاہے منہ کر دے جدھر چاہے ٹانگ کر دے جدھر چاہے ہاتھ کر دے تو اس مردے کی کوئی مرضی نہیں ہوتی جیسے اس کا مرشد کرے وہ راضی ہوتا ہے🔥

اور حج اور عمرہ (کے مناسک) اللہ کے لئے مکمل کرو(سورۃ البقرۃ،آیت 196)
22/05/2026

اور حج اور عمرہ (کے مناسک) اللہ کے لئے مکمل کرو
(سورۃ البقرۃ،آیت 196)

یومِ عرفہ مسلمانوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں؛ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِي...
22/05/2026

یومِ عرفہ مسلمانوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں؛
ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَـٰمَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کر دیا۔

(سورۃ المائدہ: آیت 3)

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے...
21/05/2026

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔" انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔" (سنن ابن ماجہ: 3127 / بعض نسخوں میں 3117)

ذکر کی حلاوت اور اخلاص کی خوشبوجب ذکر میں سرور پیدا ہو، آنکھیں بے سبب نم ہونے لگیں، تنہائی محبوب ہو جائے، اور دل دنیا کے...
20/05/2026

ذکر کی حلاوت اور اخلاص کی خوشبو
جب ذکر میں سرور پیدا ہو، آنکھیں بے سبب نم ہونے لگیں، تنہائی محبوب ہو جائے، اور دل دنیا کے ہنگاموں سے ہٹ کر خاموشی میں اپنے رب کو پکارنے لگے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ذکر نے محض زبان سے سفر کرتے ہوئے قلب کے دروازے پر دستک دے دی ہے۔

قرآنِ کریم اسی باطنی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے

الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
"جو لوگ ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ یاد رکھو! دلوں کا حقیقی سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔"
(سورۃ الرعد: 28)

یہ اطمینان دنیا کی کسی نعمت، شہرت یا آسائش سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ وہ نورانی کیفیت ہے جو صرف اس دل کو نصیب ہوتی ہے جس پر ذکرِ الٰہی کی بارش ہونے لگے۔

اخلاص کی مہر اور قبولیت کی خوشخبری

ذکر کی اصل لذت اس وقت نصیب ہوتی ہے جب عمل ریا، دکھاوے اور رسمی عادت سے نکل کر اخلاص کے سمندر میں داخل ہو جائے۔
کیونکہ جو ذکر صرف زبان پر ہو، وہ تھکن پیدا کرتا ہے؛ لیکن جو ذکر دل میں اتر جائے، وہ سکون اور سرور عطا کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب سالک کو "یا حی یا قیوم" کے ذکر میں مٹھاس محسوس ہونے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ بارگاہِ الٰہی سے قبولیت کی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
"اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت خالص اسی کے لیے کریں۔"
(سورۃ البینہ: 5)

اخلاص وہ چراغ ہے جو معمولی عمل کو بھی آسمانوں تک پہنچا دیتا ہے۔
اور جب اخلاص ذکر کے ساتھ جمع ہو جائے تو دل پر انوارِ الٰہی کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔

حجابات کا اٹھنا اور قلب کی بیداری
اس مرحلے پر سالک محسوس کرتا ہے کہ ذکر اب محض الفاظ نہیں رہا، بلکہ ایک زندہ کیفیت بن چکا ہے۔
دل کے اندر ایک خاموش نور اترنے لگتا ہے۔
باطن کے اندھیرے کم ہونے لگتے ہیں۔
روح کو اپنے اصل وطن کی خوشبو آنے لگتی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں لطیفۂ قلب بیدار ہونا شروع ہوتا ہے اور بندہ کبھی سجدے میں، کبھی خاموش مراقبے میں، اور کبھی تنہائی میں اپنے رب کی قربت کو محسوس کرنے لگتا ہے۔

تھکن کا مٹ جانا اور روح کی پیاس کا بڑھ جانا
جب ذکر روح کی غذا بن جائے تو پھر وقت کا احساس باقی نہیں رہتا۔
سالک گھنٹوں ذکر میں بیٹھا رہے، تب بھی اس کا دل نہیں بھرتا۔
بلکہ جوں جوں ذکر بڑھتا ہے، دل کی طلب اور روح کی پیاس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

یہ کیفیت اس بات کی دلیل ہے کہ روح اب دنیا کی کثافتوں سے نکل کر انوارِ الٰہی کی طرف سفر کر رہی ہے۔

اے سالکِ راہِ محبت!
اگر تیرے دل میں ذکر کی مٹھاس اترنے لگے، آنکھیں نرم ہو جائیں، اور تنہائی میں "یا حی یا قیوم" تیرے وجود کی صدا بن جائے، تو اس نعمت پر عاجزی اختیار کر۔

یہ تیرا کمال نہیں، بلکہ اس ربِّ کریم کا فضل ہے جس نے تجھے اپنے ذکر کے دروازے پر بٹھا لیا۔
غرور، عُجب اور خود پسندی سے اپنے دل کی حفاظت کر، کیونکہ بعض اوقات ایک لمحے کا تکبر برسوں کی روحانی محنت کو جلا دیتا ہے۔

یاد رکھ!
یہ لذت منزل نہیں، بلکہ منزل کی طرف بڑھنے کے لیے ایک نورانی اشارہ ہے۔
اصل کامیابی استقامت میں ہے۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ
"اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کو یقین (یعنی آخری سانس) آ جائے۔"
(سورۃ الحجر: 99

Address

Firozpur Road
Kasur
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hazrat Khawaja Sufi Muhammad Azmat Ullah Shah Naqeebi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share