AAJIZ TV

AAJIZ TV Always do good work which leads you to a happiness and peace of heart and mind and also others make happy.

07/07/2024

ایک اہل تشیع اپنے مسلک کے اعتبار سے بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے پاس کافی معلومات بھی تھیں۔ اس کے بقول میرے ان سوالات کا جواب کسی مولوی کے پاس نہیں ہے۔

میں نے اس سے جب ملاقات کی تو اس کی ہر ہر ادا سے گویا علماء سے حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی نفرت و حقارت کی جھلک واضح تھی۔

میں نے میزبان ہونے کی حیثیت سے بڑے اخلاق سے بٹھایا۔تھوڑی دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔

اس کا پہلا سوال ہی بزعم خود بڑا جاندار تھا اور وہ یہ کہ تم ابوبکر کو نبی کا خلیفہ کیوں مانتے ہو؟۔ ہم تو ابوبکر کو خلیفہ رسول اسلیئے نہیں مانتے کہ انہوں نے سیَّدہ کائنات، خاتون جنت کو ان کاحق نہیں دیا تھا۔بلکہ ان کا حق غصب کر لیا تھا۔

میں نے کہا ذرا کھل کر بولیں جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا؟۔

کہنے لگا وہ، باغ فدک؛ جو حضور ﷺ نے وراثت میں چھوڑا تھا۔ وہ حضور ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ کو ملنا تھا۔لیکن وہ باغ انہیں ابوبکر نے نہیں دیا تھا۔
یہ صرف میرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے ہر مسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا۔
یہ بات اس نے بڑے پر اعتماد اور مضبوط انداز میں کہی۔

مزید اس نے کہا کہ میری بات کے ثبوت کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ باغ فدک؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیر تصرف ہے۔ اور وہ حکومتی مصارف کیلئے وقف ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج تک آل رسول کو ان کا حق نہیں ملا ہے۔

اب آپ ہی بتائیں جنہوں نے آل رسول کے ساتھ یہ کیا ہو ہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کر لیں؟

میں نے اس کی گفتگو بڑے تحمل سے سنی۔ اور اس کا اعتراض سن کر میں نے پوچھا کہ آپ کا سوال مکمل ہو گیا یا کچھ باقی ہے؟
وہ کہنے لگا میرا سوال مکمل ہو گیا ہے اب آپ جواب دیں۔

میں نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے بعد پہلا خلیفہ کن کو مانتے ہو؟

وہ کہنے لگا ہم مولیٰ علی کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں۔

میں نے کہا کہ عوام و خواص کے جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ خلیفة المسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کسی اور کی نہیں۔مجھے آپ پر تعجب ہو رہا ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تو سیَّدنا علی رضی اللہ عنہ کو مان رہے ہیں اور اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کر رہے ہیں۔ یا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مانو پھر آپ کا ان پر اعتراض کرنے کا کسی حد تک جواز بھی بنتا ہے ورنہ جن کو آپ پہلا خلیفہ مانتے ہو یہ اعتراض بھی انہی پر کر سکتے ہو کہ آپ کی خلافت کے زمانے میں خاتون جنت رضی اللہ عنہا کا حق کیوں مارا گیا؟

میری بات سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا مگر ساتھ ہی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں مولیٰ علی کی خلافت ظاہری آپ کے خلفاء ثلاثہ کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے تو ہم ان کی خلافت کو غصب مانتے ہیں یعنی آپ کے خلفائے ثلاثہ نے مولیٰ علی کی خلافت کو ظاہری طور پر غصب کیا ہوا تھا۔ اسلیئے مولیٰ علی تو اس وقت مجبور تھے وہ یہ حق کیسے دے سکتے تھے؟۔

اس کی یہ تاویل سن کر میں نے کہا عزیزم ! میرے تعجب میں آپ نے مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مولیٰ علی مشکل کشا ہیں۔ عجیب بات ہے کہ انہیں کے گھر کی ایک کے بعد دوسری مشکل آپ نے ذکر کر دی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق مارا گیا لیکن وہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونے کے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کر سکے۔ پھر ان کا اپنا حق (خلافت) غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کر سکے۔ یا تو ان کی مشکل کشائی کا انکار کر دو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہو تو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ طاقتوروں نے ان کے حقوق غصب کر لیئے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض و المحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ اصحاب ثلاثہ نے ان کی خلافت غصب کر لی تھی، اب سوال یہ ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد جب أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلافت مل گئی اور ان کی شہادت کے بعد انہی کے صاحبزادے سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کیا اس وقت انہوں نے باغ فدک لے لیا تھا؟

جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا، اب تو انہی کی حکومت تھی جن کا حق غصب کیا گیا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکومت ہونے کے باوجود اس حق کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟۔ آج بھی آپ کے بقول وہ سعودی حکومت کے زیر اثر ہے تو بھائی وہ باغ جن کا حق تھا جب انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کر کے ان قِصُّوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ہے کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟ تو یہی اعتراض آپ کا أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہو گا کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟

میری بات سن کہ وہ کچھ سوچنے لگا مگر میں نے اسی لمحہ اس پر ایک اور سوال کر دیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولاد کو ہی ملتی ہے یا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے؟
کہنے لگا۔۔۔ بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے۔

میں نے کہا پھر آپ کا اعتراض صرف سیَّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے کیوں ہے؟ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے آپ نے کیوں نہیں کہا کہ انہیں بھی وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ازواج مطہرات میں سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور أمیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ نے خلفاء رسول پر یہ الزام دھرنے سے پہلے کبھی نہیں سوچا کہ اگر انہوں نے نبی ﷺ کی صاحبزادی کو حضور ﷺ کی وراثت نہیں دی تو اپنی صاحبزادیوں کو بھی تو اس سے محروم رکھا ہے۔

میری گفتگو سن کر اب وہ مکمل خاموش تھا۔ ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا بھی معلوم ہوا۔

میں نے اسے پھر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عزیزم ! کب تک ان پاک ہستیوں کے بارے بدگمانی پیدا کرنے والی بے سر و پا جھوٹی باتوں کی وجہ سے حقائق سے آنکھیں بند کر کے رکھو گے؟۔
اب میں تمہیں وہ حقیقت ہی بتا دوں جس کی وجہ سے حضور اقدس ﷺ کی وراثت آپ ﷺ کے کسی وارث کو نہیں دی گئی۔ وہ خود جناب رسالت مآب ﷺ کا فرمان ہے؛ *{نحن معشر الانبیاء لانرث ولا نورث، ما ترکنا صدقة؛}* یعنی ہم انبیاء دنیا کی وراثت میں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے۔ ہم جو مال و جائیداد چھوڑتے ہیں وہ امت پر صدقہ ہوتا ہے۔

میں نے اسے کہا عزیزم! یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے أمیر المؤمنین ابوبکر سے لے کر سیَّدنا علی اور سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہم تک کسی بھی خلیفہ نے؛ باغ فدک؛ آل رسول کاحق نہیں سمجھا جسے لے کر آج آپ ان کےدرمیان نفرتیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نوجوان اب میری گفتگو سن کر پریشان اور نادم محسوس ہونے لگا۔ پھر انتہائی عاجزی سے اس نے مجھے دیکھا اور گویا ہوا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ آج سے میں اس طرح کے اعتراضات کرنے سے توبہ کرتا ہوں۔ اب میں رب تعالیٰ سے بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں اپنی سوچ کو مثبت بناوں گا۔

میں نے اس نوجوان کو مبارک دی اور ایک محبت سے بھرپور معانقہ و مصافحہ ہوا۔
پھر وہ نوجوان شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔
والسلام ۔۔۔۔
یہ جو تحریر آپ نے پڑھ لی ہے میرے دوستو اور بہن بھاٸیوں، یہ ایک لاجواب اور ہزاروں کتابوں سے زیادہ پُر مغز مدلل مضمون ہے براہ کرم اس کو اتنا پھیلا دیجٸے کہ حق وسچ ہر ایرے غیرے پر بھی واضح ہو جاٸیں۔ لہذا آپ کی ایک کوشش دوسرے کی رہنمائی کا باعث بن سکتی ہے!!
اسلام اور معاشرہ کے ساتھ منسلک رہیں.

03/12/2023
14/08/2020

*کیاقانون ہاتھ میں لینا جائز ہے*

"سوال سے پہلے سوال کاسماجی تناظراور مکمل تفصیل بتائیں ادھورے سوال پر پورےجواب کی امید حد سےبڑی ہوئ سادگی ہے۔

سوال یہ ہےکہ عام آدمی کے لیے قانون ہاتھ میں لینا جائز ہے یا نہیں ؟
مجھے نہیں معلوم کہ کسی مکتبہ فکر کے ذمہ دار دارالافتاء نے یا کسی ایسی ذمہ دار شخصیت نے جو اپنے طبقے میں مرجع اور ذمہ دارشمار کی جاتی ہو اس نے کسی دینی یا دنیاوی معاملہ میں قانون ہاتھ میں لینے کو جائز کہاہو ،
عام حالات میں یہی مسئلہ بتایا جائےگا ، لیکن جب کوئی قومی سطح کا وقوعہ ہوجائے وہاں اجمالی سوال اور اجمالی جواب ناکافی ہوتا ہے ، لوگ جب اسے وقوعہ کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو جواب ناکافی محسوس کرکے مایوس ہوتے ہیں اور ایسا جواب واقعہ سے بھی عموماً مطابقت نہیں رکھتا ،
بے موقع صحیح مسئلہ کا اثر بھی بسا اوقات غلط ہوتا ہے ،
جیسے حدود آرڈیننس میں اصلاح کی گنجائش ہوسکتی ہے ، لیکن جب پرویز مشرف نے اس آرڈیننس میں ترمیم کی بات کی تو بعض دانشوروں نے اس موقع پر ضرورت اصلاح پر بات شروع کردی جس سے اس قانون میں ضروری اصلاح تو نہ ہونی تھی اور نہ ہوئی ، ہاں البتہ پرویز مشرف کے منفی مقاصد کو ضرور تقویت پہنچی ، اور یہ دانشور یہی کہتے رہے کہ
"ان أريد الا الاصلاح مااستطعت "
بات ہو رہی تھی کہ لمبے واقعہ میں سارا واقعہ چھوڑ کر آخری حصہ سے متعلق مجمل سوال کرنا بے انصافی ہوتی ہے۔
مثلاً پشاور میں طاہر نسیم کذاب کے بارہ میں چھ سالہ جھوٹے دعاوی اور ان کی تبلیغ کا سر عام تسلسل ہے اور ریاست کوئی نوٹس نہیں لیتی ، مسلمانوں نے دلائل کے ساتھ افہام و تفہیم کا سالہا سال سلسلہ جاری رکھا ، یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے کسی مسلمان نے مشتعل ہوکر اس کو قتل تو دور کی بات ہے ، اسے زد و کوب تک نہیں کیا ، مسلمانوں کی آبادی میں آزادانہ گھومتا رہا ، دوسال قبل اسے قانون کے حوالے کیاگیا لیکن اس کے ڈھٹائی کے ساتھ واضح دعاوی کے باوجود عدلیہ ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ۔اور اتنے اہم معاملے کوغیراہم فائلز کے بوجھ تلے دبانے کی کوشش کی جاتی رہی۔آخرایسا کیوں ہوتارہا؟
اس لیے کہ اس وقت
عالمی دباؤ بھی نعوذباللہ ناموس رسالت کے قانون کے خاتمہ کا ہے ، اور جب تک اس قانون کا خاتمہ نہیں ہوتا تو اسے معطل رکھے جانے کا دباؤ ہے اس لیے
حکومت اور اعلی عدلیہ ایک عرصہ سے عالمی تقاضے پورے کرنے کے راستہ پر گامزن ہے ، پہلے چھوٹی عدالتیں ناموس رسالت کے مسئلہ پر سنگین مجرموں کو سزائیں سناتی تھیں اور ہائی کورٹس اسے بر قرار رکھ رہی تھیں لیکن ہائی کورٹ سے اوپر کی سطح پر جا کر مجرموں کوعالمی ریلیف مل جاتا تھا لیکن ،اب اس مقدمہ میں جب نچلی عدالت بھی ٹال مٹول کے راستہ پر چل رہی تھی، ایسے واضح کیس میں کیس کو التواء میں ڈالے رکھنے کا حاصل یہ ہےکہ ہم ایسی ریاست میں رہتے ہیں جہاں تحفظ ناموس رسالت کا قانون عملاً ختم ہے،
اب سوال یہ ہے کہ ایک باغیرت نوجوان جو سالہاسال کی ارتدادی سرگرمیوں سے کوئی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے دیگر مسلمانوں کی طرح مایوس تھا اور ملزم کے بیان سے وقتی اشتعال میں آکر غیرت ایمانی میں اسے قتل کردیا تو اس کا حکم شرعی کیا ہے؟
تویہ بات واضح رہے کہ

*قانون ہاتھ میں لینا ہرجگہ ناجائز نہیں ہوتا*

اسلام کا قرآنی اصول ہے کہ کوئی شخص کسی کو اپنی آنکھوں سے زنا کرتادیکھے تو زانی پر دعویٰ کرنے کے لیے چار گواہ پیش کرنا ضروری ہیں ،
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللّٰہ عنہ نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر میں (بالفرض )اپنی بیوی کے ساتھ کسی (اجنبی)مرد کو پالوں تو کیا میں اس کو اس وقت ہاتھ تک نہ لگاؤں اور چار گواہ لیکر آؤں ، تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں (دعوائے زنا چار گواہوں کی بنیاد پر ہی سنا جائے گا یہ آیات لعان کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہوگا) ،
حضرت سعد ابن عبادہ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دےکر بھیجا ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا( کہ میں چار گواہ مہیا کرتا پھروں بلکہ) میں اسی وقت تلوار سے اس کا کام تمام کردوں گا ،
تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے سردار کی بات توجہ سے سنو ، بیشک یہ ( تمہارا سردار) بہت غیرت مند ہے ، اور میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں ، اور اللّٰہ تعالٰی مجھ سے زیادہ غیرت والے ہیں
حدیث شریف کا عربی متن یہ ہے

عن أبي هريرة قال: قالَ سَعْدُ بنُ عُبادَةَ: يا رَسولَ اللهِ، لو وَجَدْتُ مع أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حتّى آتِيَ بأَرْبَعَةِ شُهَداءَ؟ قالَ رَسولُ اللهِ ﷺ: نَعَمْ، قالَ: كَلّا والَّذِي بَعَثَكَ بالحَقِّ، إنْ كُنْتُ لأُعاجِلُهُ بالسَّيْفِ قَبْلَ ذلكَ، قالَ رَسولُ اللهِ ﷺ: اسْمَعُوا إلى ما يقولُ سَيِّدُكُمْ، إنَّه لَغَيُورٌ، وَأَنا أَغْيَرُ منه، واللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي.
( صحيح مسلم ١٤٩٨ )

حضرت سعد ابن عبادہ رضی اللّٰہ عنہ قسم کھاکر قانونی تقاضے پورے نہ ہوسکنے کی صورت میں مجرم سے تلوار کے ساتھ خود نمٹنے کا کہہ رہے ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کی کئی طرح سے تعریف فرمارہے ہیں ،
1: انہیں سردار فرمارہے ہیں،
2: مسلمانوں کو ان کی بات کی طرف متوجہ فرمارہے ہیں ،
3:ان کی بات کا منشا غیرت محمودہ بتارہے ہیں ،
4:ان کی غیرت کو اپنی اور اللّٰہ تعالٰی کی غیرت کے ساتھ ملا کر بیان فرمارہے ہیں ،
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ذرہ برابر بھی حضرت سعد کے جذبہ کی حوصلہ شکنی نہیں فرمائی

آج بھی کوئی شخص گھر میں آنے والے ڈاکو کو فائر کرکے قتل کر دے یا بینک ڈیوٹی کےدوران بینک کا پرائیویٹ کمپنی کا گارڈ ڈاکوؤں کو مار کر بینک کو ڈکیتی سے محفوظ کرلے تو اسے ریاستی اداروں کی نظر میں بھی قابل تعریف سمجھا جاتا ہے ،بلکہ کچھ عرصہ قبل کراچی میں ایک خود کش حملہ آور کوروکنے والے طالب علم جس کانام غالبامعاذ تھا ہیرو بناکر پیش کیا جاتا رہا کہ اس نے اپنی جان پر کھیل کر ہزاروں جانوں کوتحفظ فراہم کیاھے تو کیاایمان سےجان زیادہ قیمتی ہے کہ جانیں بچانے والے کوتوہیرو کہاجائے اور ایمان پر حملہ آور کوختم کرنے والے کو قانون ہاتھ میں لینے کاطعنہ دیاجائے؟
کچھ عوامی اقدامات کو پوری انسانیت بھی نظر استحسان سے دیکھتی ہے ،
ایک خدشہ ہے کہ اس سےفرقہ وارانہ فسادات بڑھک اٹھیں گے

*فرقہ وارانہ قتل بڑھنے کا اندیشہ*

کہا جاتا ہے کہ ناموس رسالت کے مسئلے میں قانون ہاتھ میں لینے کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو اللّہ نہ کرے فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل عام شروع ہوسکتاہے
جن کا یہ خیال ہے ان کا مقصد بھی مسلمانوں کی خیر خواہی ہے ، لیکن یہ اندیشہ زمینی حقائق کی روشنی میں چنداں وزن نہیں رکھتا ،
ہر جائز کام کے کچھ منفی اثرات ہوتے ہیں ، جیسے اپنی جان یا مال ، عزت اور آبرو کے دفاع میں مقابلہ میں مجرم کو عام آدمی کا قتل کر نا جائز ہے لیکن اس عنوان سے کوئی بے گناہ کو بھی قتل کرسکتا ہے،
فرقہ وارانہ تکفیر جیسے عوام میں مقبول نہیں ہے ایسے ہی اس بنیاد پر قتل کو بھی عوام استحسان کی نظر سے نہیں دیکھتے اکادکا واقعات اگر ہوئے ہیں تو کسی مکتبہ فکر نے ایسے شخص کو ہیرو نہیں بنایا جیسے فیصل خالد اور حضرت ممتاز قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ کو بلا تفریق مسلک علماء سے زیادہ عوام میں پذیرائی ملی ہے ،
قومی ہیروز اور مجرم ایک جیسے کیسےہوسکتےہیں؟
افنجعل المسلمين كالمجرمين مالكم كيف تحكمون
سب سے زیادہ فرقہ وارانہ دوری شیعہ سُنی میں ہے ، جید علماء کی طرف سے کفر کے فتوے بھی آئے لیکن خطے کے مخصوص حالات سے قبل کوئی ایسا دیوانہ نہیں اٹھا جس نے غازی علم دین کی طرح قتل کرکے اس پر اعلانیہ فخر کیا ہو
فرقہ وارانہ قتل عام تو دور کی کی بات ہے ، ہمارے ہاں آئینی طور پر طے شدہ کافر قادیانی بھی ملک میں امن وامان کے ساتھ مسلمانوں کی آبادیوں میں رہ رہے ہیں یہ اکادکا اٹھنے والے غازی تو تنگ آمد بجنگ آمد والی بات ہے
غازی ممتاز قادری شہید رحمۃ اللّٰہ علیہ کے اقدام نے جو کام کیا وہ بڑی بڑی تحریکیں نہیں کرسکتی تھیں ،
تحفظ ناموس رسالت کے خاتمے کے عالمی ایجنڈے کو لیکر پیپلز پارٹی کے سلمان تاثیر پوری قوت سے اٹھے تھے ، اپنے عہدے کی وجہ سے انہیں قانون کی گرفت سے استثنیٰ بھی حاصل تھا ، اس کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کے لیے روک تھام ناممکن تو نہیں تھی لیکن انتہائی مشکل ضرور تھی ، اس حالت میں قادری شہید کے اقدام نے بڑھتے قدموں کو روک لیا ،اس طرح عالمی ایجنڈا بہت پیچھے چلا گیا، قادری شہید نے تو امت مسلمہ کی طرف سے فرض اداء کیا ہم اس کے اقدام کی ایک محتمل اندیشے کی بناپر حوصلہ شکنی کریں کیسی بے انصافی ہوگی
پھر مسلم لیگ ن کی حکومت نے سینکڑوں سزائے موت کے قیدیوں کو چھوڑ کر ممتاز قادری کو جلد بازی میں پھانسی دی ، اپنے زعم کے مطابق انہوں نے سیاست دانوں اور لا دین عناصر کو تحفظ فراہم کردیا کہ آئندہ کوئی عاشق رسول قادری جیسا اقدام نہیں کرےگا ، لیکن موجودہ واقعہ نے ثابت کر دیا کہ ناموس رسالت کے پروانے ہر وقت موجود رہتے ہیں اور رہیں گے ،
*علمائے کرام کو وقوعہ سے پہلے انتہائی اقدام کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے* *نوجوانوں کو مکالمہ اور افہام و تفہیم کی راہ دیکھانی چاہیے*
*لیکن صحیح موقع پر صحیح اقدام کے بعد فرض کفایہ کی ادائیگی کی حوصلہ شکنی بھی نہیں کرنی چاہیے* ، اگر اہل علم کی طرف سے ایسے دل گردے والےغازیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی رہیں تو یہ زمین درندوں سےبھرجائےگی حد سے بڑھے ہوئے ظلم جس کامداوا قانون نہ کر سکتا ہو اس میں قانون کامعاون بنناچاہیے عالمی دباؤں قاضیوں کےلیے ہوتاہےغازیوں کیلیے نہین اور *ایسےغازی قاضیوں کیلیے آسانی پیدا کر دیتے ہیں*

محمد طیب
جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد
14ذوالحجہ1441ھ 5اگست2020ء

29/07/2020

🌸کاپی پیسٹ کیجیۓ اجازت عام ہے🌺

الحمدللہ میں کھلم کھلا اعلان کرتا ہوں کہ میری فرینڈز لسٹ میں موجود ہر وہ شخص جس کو پہلے صحابی حضرت ابوبکرؓ سے لیکر روئے زمین سے جانے والے آخری صحابیؓ حضرت ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ تک کسی ایک صحابی رسولﷺ پر یا نبی کریم ﷺ کے تمام اہلبیت رضی اللہ عنہم میں سے کسی اہلبیت رضی اللہ عنہ پر بھی بد اعتمادی ہے یا ان کے جنتی ہونے سے پیٹ میں مروڑ دماغ میں شیطانیت دل میں مسلمان ہونے پر ملال ہے تو بلا روک ٹوک ،قیل و قال عذر و وضاحت کے مجھے انفرینڈ کرے اور میری وال سے تشریف لے جاۓ
جسے روضہ نبی ﷺ یعنی سبز گنبد میں مکین حضور ﷺ کے سفر وحضر دکھ سکھ جنگ و امن کے ساتھی ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ امہات المٶمنین رضی اللہ عنہم حسن رضی اللہ عنہ وحسین رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے اختلاف یا تکلیف ہے تو مجھے اس سے تعلق کی بالکل کوئی ضرورت نہیں
اسی طرح جو منکر ختم نبوت ہو اور نبی کریم ﷺ کے بعد بھی کسی کذاب کو نبی مانتا ہو یا کسی بھی طرح انبیا کے علاوہ کسی کو معصوم عن الخطا مانتا ہو وہ بھی میری فرینڈ لسٹ سے چلا جاۓ جو نبیﷺ کا نہیں جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ کا نہیں...جو اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کا نہیں۔۔۔۔جو یار غار کا نہیں۔۔۔جو فاروق وعثمان اور حیدر وحسنین رضی اللہ عنہم اجمعین کا نہیں وہ میرے نبی ﷺ کا بھی نہیں جو میرےنبی ﷺ کا نہیں وہ میرا بھی نہیں وہ کسی کا بھی نہیں
Abdul Latif Aajiz:-

18/07/2020

*تین فطری قوانین جو کڑوے ہیں لیکن حق ہیں*

*پہلا قانون فطرت*
اگر کھیت میں دانہ نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے گھاس پھوس سے بھر دیتی ہے. اسی طرح اگر دماغ کو اچھی فکروں سے نہ بھرا جاۓ تو کج فکری اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے.

*دوسرا قانون فطرت*
جس کے پاس جوکچھ ہوتا ہے وہی بانٹتا ہے. خوش انسان خوشی بانٹتا ہے
غمزدہ انسان غم بانٹتا ہے.
عالم علم بانٹتا ہے
مذہبی اور دیندار انسان دین بانٹتا ہے.
*خوف زدہ انسان* خوف بانٹتا ہے.
حسد میں مبتلا انسان نفرت کی آگ میں جلتا ہے اور دوسروں میں بھی نفرتیں ہی بانٹتا ہے۔

*تیسرا قانون فطرت*
آپ کو زندگی سے جو کچھ بھی حاصل ہو اسے ہضم کرنا سیکھیں!
اس لیے کہ کھانا ہضم نہ ہونے پر بیماریاں پیدا ہوتی اور بڑھتی ہیں
اسی طرح مال وثروت نہ ہضم ہونے کی صورت میں ریاکاری بڑھتی ہے.
بات نہ ہضم ہونے پر چغلی بڑھتی ہے.
تعریف نہ ہضم ہونے کی صورت میں غرور میں اضافہ ہوتا ہے.
مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے دشمنی بڑھتی ہے.
غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں مایوسی بڑھتی ہے ۔
اقتدار اور طاقت نہ ہضم ہونے کی صورت میں خطرات میں اضافہ ہوتا ہے.
آرام نہ ہضم ہونے کی صورت میں گناہوں میں اضافہ ہوتا ہے.

*بات تلخ ضرور ہے مگر حقیقت اور سچائی پر مبنی ہے.*

Address

Kasur
55050

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AAJIZ TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to AAJIZ TV:

Share