Mufti ishfaq Khattak madni Official

Mufti ishfaq Khattak madni Official ایمان کو تازہ کرنے والے مستند احادیث واثار صحابہ اور اسلامی مسائل سیکھنے کے لئے پیج کو لائک کریں اور آگے شیئر کریں... جزاک اللہ خیرا

16/11/2021
استثناء اور اس کی صورتیں..
07/10/2021

استثناء اور اس کی صورتیں..

14/09/2021

کیا ہر آسمان کی اپنی زمین ہے؟

ایک سکالر لکھتا ہے کہ قرآن میں ہر آسمان کی علیحدہ زمین کا ذکر ہے ۔ یعنی جس طرح ہماری اس زمیں کے اوپر آسمان ہے اسی طرح ساتوں آسمانوں سے ملحقہ زمینیں ہیں۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ قرآن پاک میں اکثر ایک ہی زمین کا ذکر ہے جبکہ آسمان کے لئے اکثر جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ کیا ہر آسمان کے ساتھ ایک زمین ہے اور اگر ہے تو قرآن پاک کی کس آیت سے ثابت ہے۔ جلدی جواب سے نوازیں ۔

جواب..

بسم الله الرحمن الرحيم

قرآن میں اس کی صراحت موجود ہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں اسی طرح زمینیں بھی سات ہیں، اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ الذي خلق سبع سمٰوات ومن الأرض مثلَہُن (الطلاق: ۱۲) (اللہ ایسا ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ان ہی کی طرح زمین بھی سات پیدا کی) نیز روایاتِ حدیث میں بھی اس کی صراحت ہے؛ البتہ یہ کہنا کہ ہر آسمان کے ساتھ ایک زمین ملی ہوئی ہے اس کی صراحت ہمیں کتب حدیث وغیرہ میں نہیں ملی، چنانچہ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ سات زمینیں کہاں کہاں اور کس وضع و صورت میں ہیں اوپر نیچے طبقات کی صورت میں ہیں یا ہر زمین کا مقام الگ الگ ہے، یا ہر دو زمین میں فاصلہ ہے جس طرح سات آسمانوں میں سے ہر دو آسمان میں فاصلہ ہے، اس کے علاوہ دیگر زمین کے حالات قرآن مجید اس سے ساکت ہے اور جو روایاتِ حدیث اس بارے میں آئی ہیں ان میں سے اکثر احادیث میں ائمہ حدیث کا اختلاف ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ہم اس پر یقین رکھیں کہ زمینیں بھی آسمانوں کی طرح سات ہیں (معارف القرآن: ۸/۴۹۵، ط: نعیمیہ دیوبند)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

21/08/2021

‏جوشخص مسافتِ سفریعنی48میل یا77٫24 یعنی تقریباً سواستترکلومیٹر کی مسافت تک سفرکے ارادے سے نکلا ہو اور کسی ایک شہر یا بستی میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو تو ایساشخص اپنے شہرکی آبادی اورحدودختم ہونے کے بعد یعنی اپنے شہرسے نکلتے ہی قصرنمازاداکرے گا۔‏اورجب سفرسے واپسی پراپنے شہرکی حدودمیں داخل ہوگیاتواب مکمل نمازاداکرے گا۔

15/08/2021

مقتدی کے وضو میں کمی کے امام پر اثرات....

12/08/2021

سوال:میں نے ایک واقعہ سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کسی بیٹے نے شراب پی تھی جس پر آپ نے اسے اتنے کوڑے مارے کہ وہ مر گیا۔ اس واقعہ کی۔۔۔تفصیلات سے آگاہ کر دیجیے ۔
جواب
مجہول سند سے بعض کتب میں غلط امور شامل کرکے مبالغہ آرائی کے ساتھ بڑھا چڑھاکر بیان کردیا گیا ورنہ اصل واقعہ تو بس اتنا منقول ہے کہ حضرت عبدالرحمن اوسط سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے تھے جن کی کنیت ابوشحمہ تھی وہ بہ سلسلہٴ جہاد مصر تشریف لے گئے تھے ایک رات انھوں نے نبیذ پی لی کہ جس کا پینا فی نفسہ تو جائز ہے البتہ اگر اس میں نشہ پیدا ہوجائے تو پینا جائز نہیں ہوتا جو نبیذ حضرت ابوشحمہ نے پی اتفاقاً اس میں نشہ پیدا ہوگیا تھا (نشہ پیدا ہوجانے کا ان کو احساس پینے سے پہلے نہ ہوا) جب پینے کے بعد نشہ ہوگیا (تو خوف آخرت اور اللہ پاک سے ڈر اور تقوی پرہیزگاری کی وجہ سے) امیر مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر خود درخواست کی کہ میرے اوپر نشہ آور نبیذ پینے کی حد جاری کردیجیے انھوں نے معذرت کردی مگر حضرت ابوشحمہ نے فرمایا کہ اگر حد جاری نہ کروگے تو میں آپ کی شکایت اپنے باپ حضرت امیرالموٴمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کردوں گا تب انھوں نے اپنے گھر میں ان پر حد جاری کی یہ بات جب امیرالموٴمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انھوں نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ملامت کی کہ آپ نے گھر میں حد کیوں جاری کی یہ حد تو جہاں عامہٴ مسلمین پر جاری کی جاتی ہے اسی جگہ اور میدان میں ابوشحمہ پر جاری کرنا چاہیے تھا، کچھ عرصہ بعد جب ابوشحمہ حاضر خدمت ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر حد جاری فرمائی اور اس کے بعد اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے اور اسی بیماری میں ان کی وفات ہوگئی علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ اپنی کتاب اللآلی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعہ میں فرماتے ہیں: موضوع فیہ مجاہیل قال الدارقطني حدیث مجاہد عن ابن عباس في حدیث أبي شحمہ لیس بصحیح․․․ والذی ورد فی ہذا ما ذکرہ الزبیر بن بکار وابن سعد فی الطبقات وغیرہما أن عبد الرحمن الأوسط من أولاد عمر ویکنی أبا شحمة کان بمصر غازیا فشرب لیلة نبیذا فخرج إلی السکر فجاء إلی عمرو بن العاص فقال أقم علي الحد فامتنع فقال لہ أخبر أبی إذا قدمت علیہ فضربہ الحد فی دارہ ولم یخرجہ فکتب إلیہ عمر یلومہ ویقول ألا فعلت بہ ما تفعل بجمیع المسلمین فلما قدم علی عمر ضربہ واتفق أنہ مرض فمات․ (کتاب الأحکام والحدود ج۲ ص۱۹۸، مطبوعہ دار المعرفة بیروت)

واللہ تعالیٰ اعلم

10/08/2021

جنازہ پڑھنے کی فضیلت

سوال

جنازہ پڑھنے کی فضیلت کیا ہے؟

جواب

کسی مسلمان کا جنازہ پڑھنے کی ایک فضیلت یہ ہے کہ جنازہ پڑھنے والے کو ایک قیراط کے بقدر اجر ملتا ہے اور ایک قیراط کی مراد خود احادیثِ مبارکہ میں ہے کہ وہ ’’اُحد‘‘ پہاڑ کے بقدر ہوگا۔ نیز جس میت کا جنازہ پڑھا جارہا ہے، تو اگر جنازہ پڑھنے والے چالیس یا اس سے زائد افراد ہوں تو اللہ اس میت کے حق میں ان جنازہ پڑھنے والوں کی سفارش کو قبول فرما لیتے ہیں!

احادیثِ مبارکہ بمع ترجمہ ملاحظہ ہوں :

"وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَ لَهُ ابْنٌ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ؟ قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: تَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَايُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ»". ( مشكاة المصابيح، ۱/۵۲۳، المكتب الإسلامي)

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام حضرت کریب حضرت عبداللہ بن عباس کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ مقام قدید یا مقام عسفان میں (کہ جو مکہ کے قریب جگہیں ہیں) ان کے صاحب زادے کا انتقال ہوا (اور جنازہ تیار ہوا) تو انہوں نے کہا: " کریب! جا کر دیکھو کہ نماز جنازہ کے لیے کتنے آدمی جمع ہو گئے ہیں؟ حضرت کریب کہتے ہیں کہ میں (یہ دیکھنے کے لیے) نکلا تو میں نے یہ دیکھا کہ کافی لوگ جمع ہو چکے ہیں، میں نے واپس آ کر حضرت عبداللہ بن عباس کو بتایا (کہ بہت کافی لوگ جمع ہو گئے ہیں) حضرت ابن عباس نے فرمایا : تمہارے خیال میں ان لوگوں کی تعداد چالیس ہو گی؟ میں نے عرض کیا :" ہاں!" حضرت ابن عباس نے فرمایا : تو پھر جنازہ (نماز کے لیے ) باہر نکالو، کیوں کہ میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی مسلمان مرے اور اس کے جنازہ کی نماز ایسے چالیس آدمی پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ میت کے حق میں ان لوگوں کی شفاعت قبول کرتا ہے۔

"عن أبي هريرة، يرويه، قال: «من تبع جنازةً فصلّى عليها، فله قيراط، ومن تبعها حتى يفرغ منها فله قيراطان، أصغرهما مثل أحد -أو أحدهما مثل أحد-»". (سنن أبي داود ، ۳/۲۰۲، المكتبة العصرية)

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ چلا اور اس پر نماز پڑھی تو اس کو ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص میت کی تدفین تک جنازہ کے ساتھ رہا تو اس کو دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا۔ اور یہ قیراط ایسے ہیں کہ ان میں سے چھوٹا قیراط بھی احد پہاڑ جیسا ہے۔

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من شهد الجنازة حتى يصلى عليها فله قيراط، ومن شهدها حتى تدفن فله قيراطان»، قيل: وما القيراطان؟ قال: «مثل الجبلين العظيمين»". (صحيح مسلم، ۲/۶۵۲، دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی جنازہ میں حاضر ہوا یہاں تک کہ جنازہ پر نماز ادا کی تو اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جو اس کے دفن تک موجود رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔ عرض کیا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کی مانند۔ فقط واللہ اعلم

03/08/2021

کیا کوئی ایسا شخص جو اپنے والد صاحب کی نماز جنازہ پڑھانا چاہتا ہو اور اس کی داڑھی بھی ہو، لیکن وہ نمازہ جنازہ کی مغفرت والی دعا زبانی نہ پڑھ سکتا ہو تو اس صورت میں کیا وہ شخص دیکھ کر دعا پڑھ سکتا ہے امامت کے دوران؟

جواب

واضح رہے کہ جنازہ کی نماز پڑھانے کے لیے امامت کا سب سے زیادہ حق دار مسلمانوں کا مسلمان خلیفہ بادشاہ اور حاکم اعلی ہے، اس کے بعد شہر کا مسلمان قاضی، اس کے بعد محلہ کی مسجد کا امام، کیوں کہ زندگی میں اس کے پیچھے نمازیں پڑھتا تھا، اس کے بعد ولی کا نمبر ہے جو میت کا قریبی رشتہ دار ہو یعنی بیٹا پھر باپ پھر حقیقی بھائی پھر علاتی بھائی وغیرہ، اور جس طرح نماز میں دیکھ کر تلاوت کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اسی طرح نماز جنازہ میں بھی دیکھ کر دعا پڑھنے سے نماز جنازہ فاسد ہو جاتی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جنازہ پڑھانے والے کو چاہیے کہ امامت کے لیے پہلے مذکورہ ترتیب کے مطابق جو موجود ہوں اس کو مقدم رکھے اور اگر ان میں سے کوئی موجود نہیں ہے اور میت کا ولی خود امامت کرنا چاہتا ہے تو جو دعا اسے یاد ہو وہی دعا پڑھ لے، نماز جنازہ میں دیکھ کر دعا پڑھنے سے نماز فاسد ہو جائے گی اور نماز جنازہ ادا نہ ہوگی۔ (ماخوذ از میت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 316):

"(فصل): وأما بيان ما تفسد به صلاة الجنازة فنقول: إنها تفسد بما تفسد به سائر الصلوات وهو ما ذكرنا من الحدث العمد، والكلام، والقهقهة، وغيرها من نواقض الصلاة إلا المحاذاة فإنها غير مفسدة في هذه الصلاة."

الفتاوى الهندية (1/ 163):

"أولى الناس بالصلاة عليه السلطان إن حضر فإن لم يحضر فالقاضي ثم إمام الحي ثم الوالي، هكذا في أكثر المتون."

مفتی اشفاق احمد خٹک غفر لہ

03/08/2021

السلام علیکم
نمازی کے سامنے سے مسجد میں ہو یا کہیں بھی کتنی دوری پر سے گذر سکتے ہیں؟بغیر ستره کے۔
مجیب الرحمٰن

الجواب حامداومصلیا!

صورت مذکورہ قتل خطاء شمار ہوگی.جس کی وجہ سے اس پر توبہ اور استغفار بھی ضروری ہے.اور ساتھ میں اس پر شریعت کی جانب سے تین سزائیں بھی مقرر ہیں.
۱:اگر وہ اس مرنے والے کا قریبی رشتدار ہو تو اس کو میراث نہیں ملیگی.
۲:اس پر مسلسل دو ماہ روزے بطور کفارہ رکھنے ہونگے.
۳:اوراس پرخون بہاکی ادائیگی ہےتاکہ انسان کاخون ضائع نہ ہو.قتلِ خطاکی صورت میں یہ خون بہادس ہزاردراہم ہیں جودوہزارنوسوسولہ تولہ آٹھ ماشہ( ۲۹۱۶ تولہ،۸ماشہ)چاندی کےمساوی ہےلہٰذااتنی مقدارمیں چاند ی کی مروجہ قیمت دیت شمارہوگی.
البتہ اگر خاندان والے معاف کردے یا کسی دوسری بات پر صلح ہوجائے تب وہ بھی جائز ہوگا.فقط

واعلم أن توبۃ القاتل لا تکون بالاستغفار والندامۃ فقط؛ بل یتوقف علی إرضاء أولیاء المقتول … فإن عفوا عنہ کفتہ التوبۃ۔ (شامي / کتاب الجنایات ۶؍۵۴۹ کراچی، ۱۰؍۱۹۵ زکریا)
وکفارتہا أي الخطاء وشبہ العمد عتق قن مؤمن؛ فإن عجز عنہ صام شہرین ولاء، ولا إطعام فیہما۔ (الدر المختار مع الشامي / أول کتاب الدیات ۶؍۵۷۴ کراچی، ۱۰؍۲۳۱-۲۳۲ زکریا، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱۹؍۱۰-۱۱ زکریا)

واللہ سبحانہ وتعالی أعلم بالصواب

01/08/2021

نماز چاشت کی فضیلت....

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہین کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
جس نے چاشت کی دورکعت پڑھیں اس کا نام غافلین میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے چار رکعات پڑھیں اس کا نام عابدین میں لکھا جائے گا اور جس نے چھ رکعات پڑھیں اس دن اسکی کفایت کی جائے گی اور جس نے آٹھ رکعات پڑھیں اسکا نام اطاعت شعاروں میں لکھا جائے گا اور جس نے بارہ رکعات پڑھیں اس کے لیے جنت مین گھر بنادیا جائے گا

( مجمع الزوائد للھیثمی جلد نمبر 2 صفحہ 494حدیث نمبر 3419)

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہین کہ جب صبح ہوتی ہے تو انسان کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ واجب ہوتا ہے ہر بار سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے ہر بار الحمدللہ کہنا صدقہ ہے ہر بار لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے ہر بار اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے اچھی بات کا حکم کرنا صدقہ ہے بری بات سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب کی طرف سے چاشت کی دورکعتین کافی ہین جو انسان پڑھ لیتا ہے...

( صحیح مسلم صفحہ 250)

تعداد رکعات

چاشت کی کم ازکم دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعات ہیں اور عام معمول اپ علیہ السلام کا 4 رکعت پڑھنے کا تھا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ رسول اللہﷺ چاشت کی چار رکعت پڑھتے تھے کبھی اس سے زیادہ بھی پڑھتے جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا

( صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 249)

وقت چاشت

سورج طلوع ہونے کے بعد شروع ہوجاتا ہے اور زوال تلک رہتا ہے البتہ افضل یہ ہے کہ دن کا چوتھائی حصہ گزرنے کے بعد پڑھے......

30/07/2021

سوال ۔
جس کی داڑھی کٹی ہو اس کی امامت کیسی ہے....

الجواب وباللہ التوفیق

داڑھی منڈوانا یا کٹواکر ایک مشت سے کم رکھنا گناہ ہے،ایسا شخص فاسق ہے، اس کو امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے، اگرتوبہ کرلے تو پھر جب تک داڑھی ایک مشت نہ ہو جائے اس وقت وہ شخص امامت کا اہل نہیں ہے۔

"و أما الأخذ منها وهي دون ذلك كما فعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه أحد، و أخذ كلها فعل يهود الهند و مجوس الأعاجم". (٢/ ٤١٨، ط: سعيد( و أیضاً: "صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة". و في الشامية: "(قوله: نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لاينال كما ينال خلف تقي ورع".(شامی 1/562)

30/07/2021

دعاء،. ... کتابیں... آداب..

(۱)۔۔۔دعا کے حوالے سے چند اہم کتابوں کے نام درج ذیل ہیں
(الف) مناجات مقبول۔ مرتبہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ۔
(ب) احکام ِدعا۔ مؤلفہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ۔
(ج) پُرنوردعائیں۔ مؤلفہ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ۔
(د) مسنون دعائیں ۔ مؤلفہ حضرت مولانا عاشق الہٰی صاحب بلند شہری رحمہ اللہ تعالیٰ۔

(۲)۔۔۔دُعامانگنے کیلئے نہ کوئی خاص الفاظ متعین ہیں ،نہ کوئی خاص وقت،
بلکہ جب بندہ چاہے ،براہ ِراست اپنی ضرورت اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے الفاظ میں پیش کر سکتا ہے۔اس کیلئے نہ وضو ضروری ہے نہ غسل،نہ قبلہ رخ ہونا ضروری ہے نہ ہاتھ اٹھانا،کسی بھی حالت میں اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت مانگ سکتا ہے،
البتہ دعا کے آداب میں سے یہ ہے کہ آدمی با وضو ہو ، اورقبلہ کی طرف رُخ کرکے بیٹھ جائےاوردونوں ہاتھوں کو اپنے سینے تک اٹھائے ،سب سے پہلےاللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرےپھر حضور ﷺ پر درور بھیجے، اس کے بعدعاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنی حاجتوں کے واسطے دعا کرے، یہ گمان رکھتےہوئے کہ اللہ تعالیٰ میری اس دعا کو ضرور قبول فرمائیں گے،
آخر میں درود شریف پڑھ کراپنے ہاتھوں کو چہرے پر ملے۔

(۳)۔۔۔دعا میں ہاتھ اٹھانے کا قاعدہ یہ ہےکہ عام حالات میں مطلق دعا یعنی جو وقتی حاجت کیلئے مانگی جائے اور شریعت نے کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہ کی ہو اور نہ ہی مخصوص الفاظ کے ساتھ اس دعا کی تعلیم دی ہو،تو ایسی دعا میں ہاتھ اٹھاناآداب ِدعا میں سے ہے،
مگر جہاں شریعت نے خاص مواقع میں خاص الفاظ کے ساتھ دعا کی تعلیم دی ہو ، مثلاً مسجد میں داخل ہونے یا نکلنے کی دعا،سونے اور سو کر اٹھنے کی دعا،بیت الخلاء میں جانے اور باہر آنے کی دعا وغیرہ، ان مواقع میں دعا کے وقت ہاتھ اٹھانا شرعا ً ثابت نہیں ،
لہٰذا ایسی دعاؤں میں ہاتھ نہ اٹھائے۔

(۴)۔۔۔۔میت کو دفن کرنے کے بعدقبرپرقبلہ رُخ ہوکردُعا مانگنا جائز ہے خواہ ہاتھ اٹھا کر ہو یا بغیر ہاتھ اٹھائے.....

Address

Karak

Telephone

+923459797217

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti ishfaq Khattak madni Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share