28/03/2026
[ ذاتی اور عطائ قدرت کا فرق ]
حقیقی اور عطائ کی تعریف :
حقیقی قدرت : کوئ بھی طاقت یا قدرت جو اللہ کی صفت ھو تو اسے صفت حقیقی کہا جاتا ھے - یہ طاقت اللہ تعالی کی ذاتی ھے یعنی کسی نے عطا نہیں کی -
عطائ قدرت : اگر یہی صفت یا قدرت کسی انسان میں بھی پائی جاے تو اسے عطائ طاقت کہا جاتا ھے- یعنی یہ قدرت اللہ تعالیٰ کی عطا کی ھوئ ھے اس کی ذاتی نہیں -
{حقیقی خالق صرف اللہ ھی ھے }
القرآن : قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ o
ترجمہ : کہدو کہ اللہ ہی
ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے
اور وہ یکتا ہے بڑا زبردست ہے۔
(سورہ الرعد - 16)
اس طرح کی ایات سے یہ واضح عقیدہ بنتا ہے کہ
(ذاتی طور پہ )
@۔ ہر چیز کا پیدا کرنے والا
@۔ ھر چیز کی بنانے والا
صرف اور صرف اللہ تعالی ھی ہے - اس پہ ہمارا ایمان ہے اور اس میں کوئی شک نہیں -
{اللہ کی عطاء کردہ طاقت سے تخلیق }
اللہ تعالی کی عطا کردہ طاقت سے اللہ والے بھی مخلوق کو پیدا کرسکتے ہیں جیسا کہ قران میں ہے :
القرآن :
اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ
ترجمہ : میں (عیسی علیہ السلام)
تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا
(ایک پُتلا = STATUE)
بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے-
(سورہ ال عمران - 49)
تفسیر صحابہ :
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام نے
صرف ایک پرندہ چمگادڑ ہی بنایا تھا -
( تفسیر در منثور ج 1 ص 91)
تفسیر محدیثین :
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ
" اللہ تعالی نے اپ کو معجزہ عطا فرمایا تھا کہ اپ مٹی سے پرندے کی مورتی (statue) بناتے اور اس میں پھونک مارتے تو (اس میں روح آ جاتی تھی ) اور وہ پرندہ اڑنے لگ جاتا تھا -
(تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 522)
قرآن پاک کی یہ آیت واضح کرتی ہیں کہ
اللہ کی عطا کردہ طاقت سے اللہ والے بھی مخلوق بنا سکتے ہیں -
عقیدہ اہل سنت :
دونوں ایات پہ غور کرنے سے یہی عقیدہ بنتا ہے کہ
@۔ حقیقت قدرت :
مخلوق کو پیدا کرنا اللہ تعالی کا صفت ہے اور یہ اس کی ذاتی قدرت ہے کسی نے اللہ تعالی کو عطاء نہیں کی - اسے حقیقی قدرت کہا جاتا ھے -
عطائ قدرت :
اللہ جسے چاہے یہ طاقت عطا فرما سکتا ہے اور اللہ کی عطا کردہ طاقت سے اللہ والے بھی مخلوق پیدا کر سکتے ہیں -
مگر یہ طاقت ان کو عطا ہوئی ہے ان کی ذاتی نہیں ہے اور جب اللہ چاہے لے بھی سکتا ھے چنانچہ
اہل سنت و جماعت کا
ذاتی اور عطائ کا عقیدہ
عین قران کے مطابق ہے -
🌹 عقیدہ اہل سنت حق ھے 🌹