09/07/2025
"ریاست مخالف بیانیہ بند، لیکن اسلام مخالف بیانیہ کھلا کیوں؟"
تحریر : عبدالمتین
عدالت نے حال ہی میں ستائیس یوٹیوب چینلز کو پاکستان اور دنیا بھر میں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ چینلز ریاست مخالف بیانیہ پھیلا رہے تھے۔
لیکن سوال یہ ہے…
اگر ریاست مخالف بیانیے پر یوٹیوب چینلز بند کیے جا سکتے ہیں،
تو اسلام مخالف، اخلاق مخالف، کردار مخالف بیانیے پر کون حرکت میں آئے گا؟
وہ چینلز جو دن رات بے حیائی، فحاشی، جنسی مواد، کو عام کر رہے ہیں،
وہ کون سی ریاستی یا عدالتی حدود سے آزاد ہیں؟
کیا معاشرہ صرف ریاست سے خطرے میں ہے؟
یا ایمان، حیا، اور نسلوں کی پاکیزگی کو لاحق خطرات کہیں زیادہ گہرے ہیں؟
یہ سوشل میڈیا پر پر کھلے عام رقص ، انتہائی بولڈ لباس ، زو معنی جملے، بے ہودگی کو فیشن کے طور پر دکھاتی ویڈیوز،
غیر اسلامی تعلقات کو نارملائز کرتی شارٹ فلمز،
یہ سب کس ایجنڈے کے تحت پھیلائے جا رہے ہیں؟
یہ کس ذہن کی تخلیق ہے کہ نوجوان نسل کو مادر پدر آزادی، بے حیائی، اور بے راہ روی کی دلدل میں دھکیلا جائے؟
کیا ان چینلز کی بندش پر کوئی عدالت، کوئی ادارہ، کوئی نگران قدم اٹھائے گا؟
یا صرف وہ آوازیں دبیں گی جو ریاست کی سیاست پر سوال اٹھائیں؟
کیا "اسلامی جمہوریہ پاکستان" صرف نام کا اسلامی ہے؟
کیا ریاست مدینہ کا خواب صرف تقاریر میں بولا جانے والا نعرہ ہے؟
"اسلام مخالف پراپیگنڈا"،
"بے حیائی کو فروغ دینے والا مواد"،
"نوجوان نسل کو تباہ کرنے والا کلچر"
بھی بند ہونا چاہیے!
یہ آواز کون اٹھائے گا؟
علماء؟ والدین؟ نوجوان؟
یا ہم سب؟
اگر ہم نے آج نہ روکا تو کل ہم اپنی نسلوں کو گناہوں میں ڈوبا، ایمان سے خالی، اور اخلاق سے عاری پائیں گے۔
ریاست بچانی ہے تو کردار بھی بچانا ہوگا،
معاشرہ سنوارنا ہے تو ایمان کا چراغ بھی جلانا ہوگا۔