20/11/2024
Effective communication between parents and children builds trust, understanding, and strong relationships. Take time to listen, empathise, and nurture your bond.
والدین اور بچوں کے درمیان مؤثر رابطہ
ابو صالح مدنی رضا عطاری
تصور کریں کہ ایک والد صاحب دن بھر کی تھکن کے بعد گھر لوٹتے ہیں۔ بچے ان کی توجہ کے منتظر ہیں۔ والد صاحب کے ذہن میں مختلف الجھنیں ہیں۔ دفتری مسائل، مالی معاملات، یا ذاتی پریشانیاں! جیسے ہی بچے قریب آتے ہیں، وہ ان پر غصہ کرتے ہیں، یا انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بچے خاموشی سے ایک طرف ہٹ جاتے ہیں۔ یہ ایک عام منظرنامہ ہے، لیکن کیا والدین نے کبھی سوچا ہے کہ ان کے الفاظ اور لہجے کا بچوں کی شخصیت پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے؟
بچوں کے ساتھ مؤثر رابطہ صرف ان سے بات کرنا نہیں، بلکہ ان کی بات سننا، ان کے جذبات کو سمجھنا اور انہیں اپنے قریب محسوس کرانا بھی ہے۔ یہ رابطہ ان کے اعتماد، شخصیت اور مستقبل کی بنیاد بناتا ہے۔
بچوں کو وقت دینا۔
کیا آپ نے کبھی ایسےوالدین کو دیکھا ہے جو بچوں سے یہ تو کہتے ہیں کہ "تم ہمارے لیے سب کچھ ہو"، لیکن جب بچے ان سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں، تو وہ اپنے فون میں مصروف رہتے ہیں؟
ماہم، ایک چھ سالہ بچی، اسکول سے واپس آتی ہے اور بڑی خوشی سے اپنی ڈرائنگ دکھاتی ہے۔ والد صاحب، جو ٹی وی دیکھ رہے ہیں، بغیر نظر اٹھائے کہتے ہیں، "اچھی ہے، بعد میں دیکھوں گا۔" ماہم کے چہرے کی مسکراہٹ دھیرے دھیرے ماند پڑ جاتی ہے۔
اپنی مصروفیات کے باوجود، بچوں کو روزانہ کچھ وقت دیں جس میں آپ مکمل طور پر ان کے ساتھ ہوں۔ وہ وقت مختصر ہو سکتا ہے، لیکن اس دوران بچوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ وہ آپ کی اولین ترجیح ہیں۔
نرمی اور شفقت سے سمجھانا۔ غصے سے گریز کریں۔
بچوں کے ساتھ اکثر والدین کی گفتگو نصیحتوں یا ڈانٹ ڈپٹ پر مبنی ہوتی ہے۔ لیکن کیا یہ مؤثر ہے؟
حسن، ایک آٹھ سالہ بچہ، ہوم ورک کے دوران مسلسل غلطیاں کرتا ہے۔ والدہ غصے میں آ کر کہتی ہیں، "تم ہمیشہ غلطی کرتے ہو! کچھ نہیں سیکھ سکتے؟" حسن شرمندہ ہو کر مزید الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
بچوں کی غلطیوں پر ناراض ہونے کے بجائے، ان کی رہنمائی کریں۔ نرمی سے کہیں، "کوئی بات نہیں، ہم دوبارہ کوشش کرتے ہیں۔ دیکھو، یہ طریقہ آسان ہے۔" اس سے بچے کا اعتماد بڑھے گا اور وہ بہتر سیکھ پائے گا۔
سننے کا فن۔ بچوں کی باتوں کو اہمیت دیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بچے کب بولنا چھوڑ دیتے ہیں؟ جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔
دانیال، ایک دس سالہ لڑکا، اپنی کلاس کے ایک واقعے کے بارے میں والد کو بتانے کی کوشش کرتا ہے۔ والد صاحب مسلسل یہ کہتے ہیں، "بعد میں بات کریں، ابھی وقت نہیں ہے۔" چند بار ایسا ہونے کے بعد دانیال نے اپنی باتیں شیئر کرنا بند کر دیا۔
جب بچے بات کریں، تو انہیں توجہ سے سنیں، ان کی آنکھوں میں دیکھیں، اور ان کی باتوں کو اہمیت دیں۔ یہ رویہ انہیں محسوس کرائے گا کہ وہ آپ کیلئے اہم ہیں۔
مثبت انداز اختیار کریں۔ حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کیجیے۔
اکثر والدین بچوں کی غلطیوں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن ان کی کامیابیوں پر خاموش رہتے ہیں۔
مریم، ایک نو سالہ بچی، نے اپنی نظم کے مقابلے میں دوسرا انعام جیتا۔ والدین کہتے ہیں، "پہلا کیوں نہیں جیتا؟ زیادہ محنت کرنی ہوگی!" مریم کی خوشی فوراً مایوسی میں بدل جاتی ہے۔
بچوں کی کامیابیوں کو سراہیں، چاہے وہ چھوٹی ہوں۔ یہ حوصلہ افزائی بچوں کو آگے بڑھنے کی تحریک دے گی۔
بچوں کے جذبات کو سمجھیں۔ ان کی دنیا میں جھانکیں
بچے اکثر اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ان کے اشارے سمجھیں۔
علی، ایک سات سالہ بچہ، کھیلتے ہوئے اپنا پسندیدہ کھلونا توڑ دیتا ہے اور چپ چاپ ایک کونے میں بیٹھ جاتا ہے۔ والدین کہتے ہیں، "یہ تو معمولی بات ہے، دوبارہ خرید دیں گے۔" لیکن علی کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں۔
بچوں کے جذبات کو نظر انداز نہ کریں۔ ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کے دکھ کو سمجھیں اور کہیں، "مجھے معلوم ہے تمہیں یہ کھلونا بہت پسند تھا۔ آؤ، مل کر کچھ اور کریں۔"
مثبت مثال بنیں۔ باتوں سے زیادہ عمل اثر کرتا ہے۔
بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر والدین آپس میں خوش اخلاقی سے پیش نہ آئیں تو بچے کیسے سیکھیں گے؟
ایک والدہ، روزانہ اپنے شوہر سے تلخ لہجے میں بات کرتی ہیں، اور پھر بچوں سے کہتی ہیں کہ وہ احترام سے بات کریں۔ بچے الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور احترام سیکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اسی طرح اگر شوہر بھی اپنی زوجہ سے بد تمیزی سے بات کرتا ہو یا بات بات پر اس کی عزت کی دھجیاں بکھیر دیتا ہو تو بچوں کو وہ دوسروں کا احترام کیا سکھائے گا۔
اپنے عمل سے بچوں کو سکھائیں۔ نرمی، شفقت، اور ادب سے بات کریں تاکہ بچے بھی یہی رویہ اپنائیں۔
والدین اور بچوں کے درمیان مؤثر رابطہ ایک فن ہے۔ یہ صرف بات چیت کا نام نہیں، بلکہ تعلقات قائم کرنے، جذبات سمجھنے اور بچوں کی شخصیت کو پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے۔ یاد رکھیں، بچے آپ کی باتوں سے زیادہ آپ کے عمل سے سیکھتے ہیں۔ اس لیے اپنی باتوں اور رویے کو ایسا بنائیں جو ان کے دل میں جگہ بنا سکے۔
بات کرنا آسان ہے، دل تک پہنچانا مشکل!