20/07/2026
حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام اور بے مثال دعوت کا واقعہ
مدینہ منورہ آمد اور منفرد اندازِ گفتگو
حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم بنو سعد بن بکر (یہ وہی قبیلہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن میں سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی آغوش میں پرورش پائی تھی) کی طرف سے بطورِ نمائندہ اور سفیر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ وہ ایک جری، عاقل اور بارعب انسان تھے اور خود اپنی ذات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے کی تحقیق و تصدیق کرنا چاہتے تھے۔
جب وہ مدینہ منورہ پہنچے، تو انہوں نے مسجد نبوی کے باہر اپنے اونٹ کو بٹھایا، اسے عقال (رسی) سے باندھا اور مسجد کے اندر داخل ہو گئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے تشریف فرما تھے۔ چونکہ ضمام رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک سے واقف نہیں تھے، اس لیے انہوں نے سیدھا پوچھا:
"تم میں سے عبدالمطلب کا بیٹا (پوتہ) کون ہے؟"
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "یہ جو سفید رنگت والے صاحب تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، یہی ہیں۔" تب ضمام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا: "اے ابنِ عبدالمطلب!" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمالِ اخلاق سے جواب دیا: "میں تمہاری بات سن رہا ہوں (کہو)۔"
اس پر ضمام نے کہا: "میں آپ سے کچھ سوالات پوچھنے والا ہوں اور آپ پر سوالات میں کچھ سختی بھی کروں گا، تو آپ اپنے دل میں مجھ سے ناراض نہ ہوئیے گا۔"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے صاف گو اور بدویانہ مزاج کو بھانپتے ہوئے نہایت نرمی سے فرمایا: "تمہارے ذہن میں جو کچھ بھی ہے، پوچھو۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکالمہ اور سوال و جواب
پہلا سوال (رسالت کے بارے میں):
انہوں نے کہا: "میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جو آپ کا معبود ہے، آپ سے پہلے لوگوں کا معبود ہے اور آپ کے بعد آنے والوں کا معبود ہے؛ کیا اللہ ہی نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ! ہاں۔"
دوسرا سوال (توحید کے بارے میں):
انہوں نے کہا: "میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں؛ کیا اللہ ہی نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم صرف اسی ایک کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ان تمام بتوں اور شریکوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے؟"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ! ہاں۔"
تیسرا سوال (نماز کے بارے میں):
پھر انہوں نے کہا: "میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں؛ کیا اللہ ہی نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم دن اور رات میں یہ پانچ نمازیں پڑھیں؟"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ! ہاں۔"
چوتھا سوال (روزے کے بارے میں):
پھر انہوں نے کہا: "میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں؛ کیا اللہ ہی نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم سال کے اس مخصوص مہینے (رمضان) کے روزے رکھیں؟"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ! ہاں۔"
پانچواں سوال (زکوٰۃ کے بارے میں):
پھر انہوں نے کہا: "میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں؛ کیا اللہ ہی نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ یہ صدقہ (زکوٰۃ) ہمارے مالداروں سے لیں اور اسے ہمارے غریبوں میں تقسیم کر دیں؟"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ! ہاں۔"
ایمان لانا، بشارتِ نبوی اور قوم کی طرف واپسی
جب ضمام رضی اللہ عنہ یہ تمام بنیادی احکامات سن چکے، تو ان کا دل ایمان کے نور سے منور ہو گیا۔ انہوں نے برملا اعلان کیا:
"میں اس سب پر ایمان لایا جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں، اور میں اپنی قوم کا سفیر ہوں جو میرے پیچھے ہے، اور میں ضمام بن ثعلبہ ہوں، جو بنو سعد بن بکر کا بھائی ہوں۔ خدا کی قسم! میں ان فرائض پر نہ تو کوئی اضافہ کروں گا اور نہ ہی ان میں کوئی کمی کروں گا۔"
جب وہ یہ کہہ کر پیٹھ پھیر کر جانے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی طرف مسکرا کر دیکھا اور ایک عظیم تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
"اگر اس نے سچ کہا ہے، تو یہ ضرور کامیاب ہو گیا" (اور ایک روایت میں ہے: "اگر یہ اپنی بات پر قائم رہا تو یقیناً جنت میں داخل ہوگا")۔
اپنی قوم میں بے مثال دعوت اور بت پرستی کا خاتمہ
حضرت ضمام رضی اللہ عنہ جب اپنے قبیلے میں واپس پہنچے، تو ان کی قوم ان کے گرد جمع ہو گئی۔ کتبِ سیرت (جیسے سیرت ابن ہشام) کے مطابق، وہ ایک دراز قد، خوبصورت اور گیسوؤں (لمبے بالوں) والے رعب دار شخص تھے۔ انہوں نے قبیلے کے سامنے کھڑے ہو کر پہلا جملہ یہ کہا: "لات اور عزیٰ (بتوں) کا ستیاناس ہو! (یہ کتنے برے ہیں!)"
قوم کے لوگوں نے شدید خوف اور گھبراہٹ میں کہا: "اے ضمام! رک جاؤ، ایسا مت کہو! برص (سفید داغ کی مہلک بیماری) اور پاگل پن سے ڈرو! کہیں یہ بت غصے میں آ کر تمہیں تباہ نہ کر دیں۔"
تو ضمام رضی اللہ عنہ نے کمالِ توحید کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا:
"تمہارا ناس ہو! اللہ کی قسم! یہ دونوں بت نہ تو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی فائدہ دے سکتے ہیں۔ بیشک اللہ نے ایک رسول مبعوث فرمایا ہے اور ان پر ایک کتاب نازل کی ہے، جس کے ذریعے اس نے تمہیں اس گمراہی اور اندھیرے سے نجات دلائی ہے جس میں تم مبتلا تھے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔"
پھر انہوں نے جوش اور محبت کے ساتھ اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی، اللہ کے احکامات (نماز، روزہ، زکوٰۃ) ان کے سامنے کھول کر بیان کیے اور حلال و حرام کی حدیں بتائیں۔
بے مثال کامیابی اور علمی حیثیت
حضرت ضمام رضی اللہ عنہ کی دعوت میں ایسا اخلاص اور رعب تھا کہ ان کی قوم پر سحر طاری ہو گیا۔ ابھی وہ دن ختم نہیں ہوا تھا اور شام کا سورج غروب نہیں ہوا تھا کہ ان کے قبیلے کا ہر مرد اور عورت دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا تھا۔ انہوں نے اپنے پورے قبیلے کے بتوں کو اپنے ہاتھوں سے توڑا اور اسی رات مسجد قائم کر کے اذان دی گئی۔ تاریخِ اسلام میں کسی ایک شخص کی دعوت سے اتنی جلدی پورا قبیلہ مسلمان ہونے کی یہ واحد اور بے مثال نظیر ہے۔
اسی لیے جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فخر سے فرمایا کرتے تھے:
"ہم نے کسی قوم کے وفد یا سفیر میں ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر برکت والا، افضل اور بہترین شخص نہیں دیکھا۔"
علمی و حدیثی حیثیت:
یہ واقعہ اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح بخاری (کتاب العلم) اور صحیح مسلم (کتاب الایمان)میں انتہائی معتبر اسناد کے ساتھ موجود ہے۔ جبکہ ان کی قوم کے اسلام لانے اور بتوں کو توڑنے کی تفصیلی روایات سنن ابی داؤد، مسند احمد اور سیرتِ ابن ہشام میں "حسن اور صحیح" اسناد کے ساتھ محفوظ ہیں، جن کی تصدیق ائمہِ جرح و تعدیل نے کی ہے۔