04/06/2026
عیدِ غدیر: اکمالِ دین اور اعلانِ ولایت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
18 ذوالحجہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جسے "عیدِ غدیر" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب رسولِ خدا ﷺ نے حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیرِ خم کے مقام پر اللہ کے حکم سے حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی ولایت و امامت کا اعلان فرمایا۔
روایات کے مطابق غدیر صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ دین کی تکمیل اور نعمتِ الٰہی کے اتمام کا دن ہے۔ جب پیغمبرِ اسلام ﷺ نے ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علیؑ کا ہاتھ بلند کرکے فرمایا:
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ
جس جس کا میں مولا ہوں، یہ علیؑ بھی اس کے مولا ہیں۔
اس اعلان کے بعد مسلمانوں نے حضرت علیؑ کو مبارک باد پیش کی اور ان کی ولایت کا اقرار کیا۔
علماء کے نزدیک غدیر دراصل رسالت اور امامت کے باہمی تعلق کا نام ہے۔ اگر رسالت انسانوں تک الٰہی پیغام پہنچانے کا ذریعہ ہے تو امامت اس پیغام کی حفاظت اور صحیح تفسیر کی ضمانت ہے۔ اسی لیے غدیر کو صرف ایک عید نہیں بلکہ اسلام کی بقا اور ہدایتِ امت کا دن قرار دیا جاتا ہے۔
حضرت علیؑ کی زندگی عدل، تقویٰ، علم، شجاعت اور عبادت کا ایسا نمونہ ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ غدیر کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان حق و صداقت کے راستے پر چلیں، اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے وابستہ رہیں اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں۔
عیدِ غدیر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ولایتِ علیؑ صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے، جس کی بنیاد انصاف، اخلاق، خدمتِ خلق اور خدا کی اطاعت پر قائم ہے۔ آج کے دن ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم قرآن اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا محور بنائیں گے اور غدیر کے پیغام کو آنے والی نسلوں تک پہنچائیں گے۔
عیدِ غدیر اہلِ ایمان پر مبارک ہو۔
اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ
پروردگار! جو علیؑ سے محبت رکھے تو اس سے محبت فرما، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔
التماسِ دعا : عدیل حسن