22/06/2026
مجھے ذاتی طور پر اہلِ تشیع کی چند عادات اور رویے بہت پسند ہیں۔ یہ پسندیدگی اس لیے نہیں کہ میرا تعلق خود اس مکتبِ فکر سے ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ باتیں بذاتِ خود اس قدر غیر معمولی اور قابلِ تعریف ہیں کہ کوئی بھی منصف مزاج شخص ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
انسانی فطرت ہے کہ جہاں جان کا خطرہ ہو، انسان وہاں جانے سے کتراتا ہے، لیکن غمِ حسینؑ شاید دنیا کا واحد جذبہ ہے جہاں یہ فطری اصول الٹ جاتا ہے۔ جس جلوس یا امام بارگاہ پر حملہ ہوا ہو، اگلے سال وہاں شرکاء کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس کے لیے نہ کوئی باقاعدہ تلقین کی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی تشہیری مہم چلائی جاتی ہے کچھ ماہ پہلے ترلائی امام بارگاہ میں حملہ ہوا تھا آج وہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی اتنے لوگ ہوتے اور سب خود بخود جوق در جوق وہاں پہنچنے لگتے ہیں۔
اہلِ تشیع میں بڑے بڑے سیاست دان، بیوروکریٹس، صنعت کار اور ارب پتی موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عام زندگی میں اپنے عہدے اور مرتبے کے باعث خاص فاصلے برقرار رکھتے ہیں، مگر عزاداری کے ایام میں یہی شخصیات سڑک کنارے کسی عام فقیر کی طرح فٹ پاتھ پر بیٹھی نظر آتی ہیں۔ شدید گرمی میں ننگے پاؤں جلوسوں میں شریک ہوتی ہیں، اور جو کھانا ایک مزدور، ڈرائیور یا جھگی میں رہنے والا شخص تبرک سمجھ کر کھا رہا ہوتا ہے، وہی کھانا یہ ارب پتی افراد بھی نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ تناول کرتے ہیں۔
وہ خواتین جو عام دنوں میں ٹھنڈی گاڑی اور ایئرکنڈیشنڈ ماحول سے باہر کم ہی نکلتی ہیں، محرم میں کڑی دھوپ کے نیچے گھنٹوں پیدل چلتی ہیں۔ وہ بچے جن کے آرام اور خوراک کا والدین معمول کے دنوں میں غیر معمولی خیال رکھتے ہیں، وہی نازوں پلے بچے امام بارگاہ کی سخت زمین پر ساری رات بے فکری سے سوئے دکھائی دیتے ہیں۔
وہ شخص جو عام زندگی میں ریڑھی لگا کر بمشکل اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتا ہے، انہی ایامِ عزا میں اس طرح دل کھول کر خرچ کرتا ہے کہ دیکھنے والا اسے کسی رئیس خاندان کا فرد سمجھ بیٹھے۔ یہ کوئی کتابی باتیں نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا میں خود گواہ ہوں۔
انسانی نفسیات کا تقاضا ہے کہ اگر کسی محفل یا علاقے کے بارے میں یہ مشہور ہو جائے کہ وہاں جانے سے کردار پر حرف آ سکتا ہے تو انسان نہ صرف خود وہاں جانے سے اجتناب کرتا ہے بلکہ اپنے گھر کی خواتین کو بھی وہاں جانے نہیں دیتا۔ لیکن یہ آلِ رسولؐ کا غم ہے جہاں لوگوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ حاسدین اور بدخواہ شامِ غریباں کی مجالس کے بارے میں کیا الزامات اور پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
یہ بھی ممکن تھا کہ اس منفی مہم کے بعد بدنامی کے خوف سے شامِ غریباں کی مجالس صرف مردوں تک محدود ہو جاتیں، مگر آج تک اتنے منظم اور مسلسل پروپیگنڈے کے باوجود اہلِ تشیع اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بچیوں کو انہی مجالس میں لے کر جاتے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ پاکدامن خواتین کے کردار پر انگلیاں اٹھانے والے کیا سوچتے ہیں یا کیا کہتے ہیں۔
میں نے زندگی میں ایسے سخت دل مرد بھی دیکھے ہیں جو رونے کو مردانگی کے خلاف سمجھتے تھے، جو اپنے سگے بیٹے کی وفات پر بھی دوسروں کے سامنے آنسو بہانے سے گریز کرتے تھے، لیکن وہی کٹھور مزاج مرد غمِ حسینؑ میں کسی معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتے نظر آتے ہیں۔
عام دنوں میں بچے کو معمولی سا زخم بھی آ جائے تو ماں تڑپ اٹھتی ہے، مگر محرم میں وہی ماں اپنے جوان بیٹے کو عزاداری کے لیے روانہ کرتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہے۔ ظاہری عقل رکھنے والے اسے غیر معمولی یا ناقابلِ فہم رویہ قرار دے سکتے ہیں، مگر ذرا مروجہ پیمانوں سے ہٹ کر سوچیے کہ آخر وہ کون سا جذبہ ہے جو ایک ماں کو اپنے بیٹے کی تکلیف کے تصور پر بے چین کر دیتا ہے، لیکن اسی ماں کے دل میں غمِ حسینؑ کے نام پر برداشت کی جانے والی مشقت کو دیکھ کر ایک عجیب سا سکون اور اطمینان پیدا ہو جاتا ہے؟
شاید یہ وہ عشق ہے جو انسانی عقل کی مادی حدود میں پوری طرح نہیں سما سکتا۔ یہ وہ محبت ہے جس میں محبوب سے منسوب ہر چیز احترام کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تک کہ ذوالجناح جیسے علامتی نشان کو بھی لوگ عقیدت اور ادب کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
یہ محض ایک رسم نہیں، بلکہ ایک ایسا عشق ہے جو خوف کو جرات، تکبر کو عاجزی، بخل کو سخاوت اور سختی کو اشکوں میں بدل دیتا ہے۔