22/08/2026
علمی،فکری اور روحانی نشت
12اگست2026 بمطابق 28صفر1448 مادر علمی جامعہ علویہ غوثیہ کراچی میں عراق سے ایک بزرگ الشيخ لطيف الصولي تشریف لائے جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ سے ہم کلام ہوئے جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے
شیخ صاحب نے گفتگو شروع کرتے ہوئے فرمایا سب سے پہلے میں خود کو اور آپ سب کو علم کے ساتھ خلوصِ نیت اور تقویٰ کی وصیت کرتا بے شک یہ علم نور اور معرفت الہی کا ذریعہ ہے لیکن علم کے ساتھ دل صاف نہ ہو تو یہی علم حجاب ہے۔بندے اور اللہ کے درمیان حجاب کتنے علم والے ہیں جو دل کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے معرفت سے محروم ہیں یاد رکھیے کہ دل کی بیماریاں بغض حسد اور کینہ ہے۔اور ان بیماریوں کے مریض عوام سے بڑھ کر علماء ہوتے ہیں لہذا اپنے دل کو پاک رکھیے تاکہ یہ نورِ الٰہی کا آئینہ ہو۔
اس کے بعد فرمایا
عنقریب ہم برکتوں والے مہینے کا استقبال کرنے والے ہیں یعنی ربیع الاول جس میں سرور انبیاء علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی آپ کی آمد وحدت امت کی داعی ہے،آپ نے سب کو ایک کلمہ لاالہ الااللہ پر جمع کیا یہ مہینہ اتحاد امت کا درس دیتا ہے لیکن نہایت ہی افسوس سے کیاجاتا آج امت فرقوں میں بٹی ہوئی ہے ہر کسی کا ایک خاص موقف وہ اسی کا پرچار کررہاہے اس سے بڑھ افسوسناک بات یہ ہے دوسروں طعن و تشنیع کے تیر چلا رہا ہے۔ گزشتہ معاملات میں ایک دوسرے کے دست وگریباں ہے۔ یاد رکھیں ہم سے گزرے لوگوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے ہم سے ہمارے اعمال وکردار کے بارے میں پوچھا جائے۔
مدرسہ کے نام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا علویہ اور غوثیہ دونوں عظیم نسبتیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ باب مدینہ علم ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نماز پڑھنے والے پہلے شخص،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرورہ اور داماد ہیں جن کے بارے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ ۔
شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ عملی وروحانی اعتبار عظیم شخصیت کے مالک تمام سلاسل کے اولیاء آپ سے فیض حاصل کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں خواہ شیخ سہروردی ہوں۔شیخ رفاعی ہوں یا شیخ شاذلی علیہم الرحمہ۔
جب انہوں نے' قدم ھذہ علی رقبہ.." فرمایا اولیاء کبار نے اپنی اپنی گردنیں جھکادیں۔
اور ان کے بچپن کی سچائی والا واقعہ ذکر کرتے ہوئے ان کے ہاتھ پر چوروں کی توبہ کا بھی ذکر کیا چوروں کے سردار کی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے اور وہ کہ رہا تھا یہ نوجوان ماں سے کیے ہوئے وعدہ کی اس قدر پاسداری کر رہا ہے میں کتنا بدنصیب ہوں اپنے خالق سے کیے وعدے فراموش کرچکاہوں۔
اس کے بعدعمل پر زور دیتے ہوئے فرمایا آج کل بے عملی عام ہوگئی ہے لوگ فلسطین کی آزادی کے کھوکھلے نعرہ لگاتے ہیں لیکن عملی اقدام نہیں کرتے، ایک یہودی مفکر کے حوالے سے کہاں وہ کہتا ہے جب فجر کی نماز میں مسلمانوں کے مسجدیں بھر جائیں گی تو پھر ان کے غلبہ کو کوئی نہیں روک سکتا۔لیکن نہایت افسوس کے ساتھ ہزاروں کی آبادی والے علاقوں میں بھی فجر کی نماز کے لیے دس پندرہ سے زیادہ نمازی نہیں ہوتے۔
آخر میں پاکستان کے لیے خصوصی دعاکی اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا پاکستان کی بہت ساری شاہراہوں الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ لکھا ہوتا ہے،اور اس ملک میں میلاد کے محافل کی کثرت سے ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے اور امتِ محمدیہ کو اتحاد کی دولت سے سرفراز فرمائے آمین
ابوحمزہ خلیل احمد سہروردی