Jamia Abdullah Bin Masood Al Islamia R.A

Jamia Abdullah Bin Masood Al Islamia R.A Jamia Abdullah Bin Masood Al Islamia RA is an Islamic Religious Organization who delivered islamic education to poor peoples and child...

ماشاءاللہ بہت خوبصورت معلومات شئر کریں
11/06/2023

ماشاءاللہ بہت خوبصورت معلومات شئر کریں

07/05/2022

مولانا طارق جمیل صاحب اور پی ٹی آئی میں ان کا کردار اور استعمال۔۔۔۔
مولانا طارق جمیل صاحب نے بنی گالہ میں دعا کیلئے کیوں گیا تھا ۔۔؟اس لیے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی مذہبی سیاست کے مقابلے میں عمران خان کو ایک مولانا صاحب کی ضرورت ہے اور وہ ضرورت مولانا طارق جمیل صاحب سے پوری ہو سکتی ہے۔
اگر مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور جمعیت علماء اسلام نہ ہوتے۔ تو مذہب اور مذہبی لوگوں کو پی ٹی آئی جیسی پارٹیاں کبھی پوچھنے والی نہ تھی۔ ورنہ تو پی ٹی آئی میں مولانا طارق جمیل صاحب کی کیا حیثیت ہے۔
1. آج سے چند مہینے پہلے پی ٹی آئی کی وفاقی وزیر شیری مزاری اسمبلی میں ایک بل لیکر آئی (جبری مذہب تبدیلی بل) اس بل کی رو سے کوئی غیر مسلم 18 سال سے پہلے مسلمان نہیں ہو سکتا جبکہ 18 سال کی عمر میں مسلمان ہونے کیلئے اسے جج کے پاس درخواست جمع کرانا ہوگی اس دوران جج صاحب صورت حال کے مطابق فیصلہ کرینگے کہ وہ غیر مسلم کیوں مسلمان ہونا چاہتا ہے اور پھر جج اسے ضروری اسلام لٹریچر پڑھنے کو دیگا پھر اس دوران اس غیر مسلم کو کئی بار جج کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور بعد میں جج صاحب 6 مہینے کے بعد اس کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا ختمی فیصلہ کریگا۔
یہ بل سیاسی علماء کرام نے روک کر دکھایا اور حکومت کو مسلمان ہونے کیلئے شرعی دلائل دے کر اس اسلام دشمن بل کو بزور قوت روک کر دکھایا۔
اب سوال یہ ہے
کیا یہ بل لانے سے پہلے عمران خان نے مولانا طارق جمیل صاحب سے پوچھا یا مشورہ کرنا مناسب سمجھا؟
اور اگر نہیں تو کیا مولانا طارق جمیل صاحب اس بل کو اسمبلی کے فلور پر قانون بننے سے روکنے کی طاقت رکھتے تھے؟
اس غیر شرعی بل کے لانے میں عمران خان اور اسکی ٹیم نے مولانا طارق جمیل صاحب کو وہ اہمیت کیوں نہ دی جو بوقت ضرورت مولانا طارق جمیل صاحب کو اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے وقت دیتے ہیں؟
عمران خان مذہبی جماعتوں کے مقابلے اپنی ساکھ بچانے کیلئے مولانا طارق جمیل صاحب کا استعمال کرتا ہے ۔
جبکہ غیر شرعی قانون سازی کے وقت مولانا طارق جمیل صاحب عمران خان کی مغربی ضروریات کے مطابق سکرین سے پس پردہ چلے جاتے ہیں اور این جی اوز کی پلانٹڈ شیری مزاری کو غیر شرعی قانون سازی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

2.سندھ میں مسجدوں کو گرانے کا ناپاک کام عمران کی حکومت نے شروع کیا
طارق روڈ کراچی کی مشہور مدینہ مسجد کو گرانے سے بزور سیاسی قوت روک کر ( پاکستان کی باقی تمام مساجد کی حفاظت کا اہتمام بھی ) ان ہی سیاسی مولویوں نے کر کے دکھایا۔

سوال یہ ہے کہ مسجدوں کو گرانے کے فیصلے کرتے وقت، عمران خان کی حکومت کے ہاں مولانا طارق جمیل صاحب کی کیا اہمیت ہوتی ہے ؟
کیا مولانا طارق جمیل صاحب سے پوچھ کر مسجدوں کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا یا یہ کہ ان کو سیاسی علماء کرام کو کمزور کرنے کے طور پر استعمال کرنے کی عمران خان کی سیاسی چال کو مولانا طارق جمیل صاحب سمجھ نہیں پا رہیں؟

یا کیوں وہ ایسے موقعوں پر منظر عام سے غائب ہو جاتے ہیں۔ اور تب ظاھر افروز یوتے ہیں جب نیازی صاحب پر سیاسی علماء حاوی ہونے لگتے ہیں اور اس کے اسلام دشمن ایجنڈے کو مات دینے لگتے ہیں۔

3.گزشتہ سال ایف اے ٹی ایف FATF کی شرائط پر (مغربی ممالک کے کہنے) پر عمران خان مدارس کے لئے بنائے گئے وفاقی بورڈ (وفاق المدارس )کے نصاب کو تبدیل کرکے مغرب کا بنایا ہوا نصاب مدارس میں نافذ العمل کرنا چاہتا تھا۔
اس مذموم فعل کو سیاسی علماء کرام نے بزور سیاسی قوت روک کر دکھایا اور مغرب کی چال ناکام بنا دی۔
کیونکہ مغرب مدارس کے موجودہ نصاب سے خوف زدہ ہے کیونکہ انہیں علماء کرام کے ہاتھوں اس خطے میں 45 اتحادیوں کیساتھ عبرت ناک شکست ہوئی ہے اور علماء کرام کے ہاتھوں 200 ارب ڈالر کی مال غنیمت بھی ہاتھ آئی۔

کیوں اس وقت مولانا طارق جمیل صاحب نے عمران خان کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب کی تبدیلی سے نہیں روکا؟
وہ اس وقت پس پردہ کیوں چلے گئے تھے ؟
وہ اس وقت منظر عام پر کیوں نہیں آئے؟
یہ ایسے سوالات ہے جن کے جوابات دین اسلام کی بقاء اور سالمیت کیلئے مولانا طارق جمیل صاحب کو دینا ضروری ہے ۔
اس وقت سیاسی علماء کرام ھی لبرل اور سیکولر جماعتوں کو پاکستان کو سیکولر اور مغربی ممالک کی ضروریات کے مطابق بدلنے روکے ہوئے ہیں۔

جبکہ سیاسی نظام سے باہر ہمارے علماء کرام کو لبرل اور سیکولر جماعتیں وقتی طور اپنی ضروریات کیلئے عزت و تکریم دے تو سکتے ہیں مگر وہ ان علماء کرام کے کہنے پر کسی قسم کی اسلام مخالف پالیسیوں کو ترک نہیں کرسکتے۔
اور یہ آسیہ ملعونہ کی رہائی میں بھی ثابت ہوا ۔
چلے مولانا فضل الرحمن صاحب کو تھوڑی دیر کیلئے ایک طرف کر لیں وہ تو عمران خان کا سیاسی مخالف ہے
کیا عمران خان نے آسیہ کے رہائی کے معاملے میں مولانا طارق جمیل صاحب سے مشورہ کیا؟
یا اس فیصلے کےوقت ان کو خاطر میں لایا؟ وہ کیوں اس معاملے میں پس پردہ چلے گئے تھے اس نازک وقت پر مولانا طارق جمیل صاحب نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس کیلئے گڑگڑا کر اور آنسو بہا کر کیوں دعا نہیں کی؟

اسلئے وقت کا تقاضہ ھے کہ سیاسی میدان میں سیاسی علماء کرام کا کردار اسلام کی بقا اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے ۔
اگر چہ سیاسی میدان میں علماء کرام کیلئے کام کرنا کٹھن ، مشکل اور قربانیوں سے بھرا ہے مگر اسلام کی بقا کیلئے یہ قربانیاں بڑی نہیں۔

27/01/2022

خلیفہ بلا فصل حضرت ابوبکر صدیق

16/01/2022
16/01/2022
09/05/2021


اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے

مکہ سے رات کے مناظر
05/05/2021

مکہ سے رات کے مناظر

23/10/2020

tableghi ijtima 2020

Address

Umar Goth Mangho Peer Karachi
Karachi
75891

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Abdullah Bin Masood Al Islamia R.A posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Jamia Abdullah Bin Masood Al Islamia R.A:

Share