28/10/2025
تمھیں معلوم ہے، اللہ پاک کے اصول ، اللہ کے طور طریقے بڑے الگ ہیں ، ہماری سوچ اور سمجھ سے آگے کے کھیل ہیں۔۔ اس نے اپنے معاملات میں ،ہماری سوچ کو محدود رکھا ہے۔۔۔
اب یوسف علیہ السلام کا معاملہ دیکھ لو ، کوئی عقل مانتی ہے بھلا ، کہ کنوئیں میں بادشاہت کی چابیاں پڑی ہیں ،۔۔۔؟؟
بھائیوں کو گر معلوم ہو جاتا کہ یہ کنویں میں پھینکنا اسے مصر کا بادشاہ بنا دے گا ان میں تو لڑائی ہی ہوجاتی اس کنویں میں گرنے میں کیلئے ، ۔۔ نوازنے کا طریقہ دیکھیں نا ۔۔۔ باپ بھی نبی اس کو بھی نہیں بتایا کہ رو مت تمھارے بیٹے کو مصر کا بادشاہ بنایا جا رہا ، ۔۔۔
لیکن عقل محدود ہے اس کے معاملات بڑے وسیع ہیں ۔۔
وہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک کے آگ ٹھنڈی کر دیتا ہے۔۔۔ یقین کا کھیل دیکھو معلوم نہیں تھا کہ آگ ٹھنڈی کر دی جائے گی۔۔۔
وہ موسی علیہ السلام کو اس کے گھر پالتا جو اس کی تلاش میں جانے کتنی ماؤں کی کوکھ اجاڑ چکا ہے، عقل کیسے مانے کہ وہ بچہ اسی گھر میں پل رہا ،۔۔۔ ماں ڈر رہی ، اسی ڈر سے دریائے نیل میں بہا رہی ، لیکن اللہ پاک کے اصول دیکھو ، اسی گھر میں پالنے کا ارادہ کر چکے ، ۔۔۔ دیکھو تو سہی کیسے ، کیا کیا ، کیوں نوازا،؟؟
لیکن جو سپردگیاں کر دیتے جو یقین کا کھیل کھیلتے ہیں یقیناً فتح ان کو دی جاتی ہے۔۔۔ سارا کھیل یقین کا ہے ، عقل کو ماؤف کر کے ، سب کو اس کے حوالے کر دینا ، دنیاوی اصولوں کی نفی کر کے ایک یقین کا کھیل ، پھر صلے ملتے ہیں اور پھر نوازا جاتا ہے،۔۔ اس کی حکمت تمھاری عقل سے بہت آگے ہے۔۔ تمھارے سائنسی اصولوں سے بھی ۔۔۔
تم جنھیں ناکامیاں سمجھ رہے شاید وہ تمھاری کامیابیوں کی راہ کی سیڑھی ہوں؟؟
تم جنھیں پریشانیاں اور تکالیف سمجھ رہے وہ تمھارے کامیابی کا سامان ہوں ۔۔۔
تم جو کچھ کھو چکے ، تم چیخے ، تم جو روئے ، تمھارے دکھ تمھارے غم ، آنے والے سالوں میں ان کا ایسا مداوا ہو جائے کہ تم سب بھول جاؤ ۔۔
تمھیں ایسا نوازا جائے جیسے یوسف علیہ السلام کو نوازا گیا ان کا رب بھی تو وہی تھا ، تمھارا بھی وہی ۔۔ بس فرق ہے تو یقین کا ، ۔۔۔
تو آج سے اپنی محدود عقل سے اس لامحدود ذات کے سپردگیاں کر دو اپنے معاملات کی۔۔ پھر دیکھو کیسے نوازے جاتے ہو۔۔۔۔
✍️ آدی سالار