07/06/2026
نوٹ: یہ تحریر میری ذاتی رائے اور تجزیہ ہے۔ اختلافِ رائے ہر فرد کا حق ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔
کشمیر، پاکستان اور ہماری تاریخ
جب ہم آج کشمیر، پاکستان اور اپنے مستقبل کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اپنی تاریخ کو یاد کرنا چاہیے۔
برصغیر کے مسلمانوں نے ایک طویل جدوجہد کے بعد پاکستان حاصل کیا۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، قربانیاں دیں، اپنے گھر بار چھوڑے اور ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھا۔ اس خواب کے پیچھے یہ تصور تھا کہ مسلمان اپنی شناخت، اپنے عقیدے، اپنی ثقافت اور اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ اس جدوجہد میں برصغیر کے مختلف علاقوں کے مسلمانوں نے حصہ لیا، جن میں کشمیری بھی شامل تھے۔
پاکستان کا قیام کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ علامہ اقبال نے ایک تصور پیش کیا، قائداعظم محمد علی جناح نے اس تصور کو سیاسی جدوجہد میں ڈھالا، اور لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، مال اور عزت کی قربانیاں دے کر اس خواب کو حقیقت بنایا۔
لیکن قوموں کا اصل امتحان ملک حاصل کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں کامیابیاں بھی نظر آتی ہیں اور غلطیاں بھی۔ بعض مواقع پر بیرونی قوتوں نے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور بعض مواقع پر ہم خود اپنی غلطیوں کی وجہ سے نقصان اٹھاتے رہے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جب عوام کے مسائل بروقت حل نہ ہوں، جب اعتماد کمزور ہو جائے اور جب لوگوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آواز نہیں سنی جا رہی تو فاصلے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ" قرار دیا تھا۔ اس جملے کا مقصد کشمیر کی پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی قومی پالیسی، سلامتی اور قومی شعور کا اہم حصہ رہا ہے۔
آج آزاد کشمیر کے حالات ہمیں ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اگر وہاں عوامی بے چینی ہے، اگر لوگ اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں اور اگر بعض معاملات پر اختلافات موجود ہیں تو انہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی آواز سنے، ان کے مسائل حل کرے اور اعتماد بحال کرے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بعض مطالبات پر پیش رفت ہوئی ہے اور بعض پر مذاکرات جاری ہیں، لیکن یہ عمل مزید دانشمندی اور سنجیدگی کا متقاضی ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے قیام کے دن سے ہی ایسی قوتیں موجود رہی ہیں جو اسے کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔ کبھی یہ کوششیں سیاسی شکل میں سامنے آئیں، کبھی سفارتی اور کبھی دیگر طریقوں سے۔ اس لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب کسی حساس خطے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے تو کیا کوئی بیرونی قوت اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے خدشات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
میرا مقصد ہر اختلاف کرنے والے شخص پر الزام لگانا نہیں ہے۔ نہ ہر احتجاج بیرونی سازش ہوتا ہے اور نہ ہر مطالبہ غلط ہوتا ہے۔ لیکن دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ عوام اپنے حقوق کی جدوجہد کرتے ہوئے اس بات پر بھی نظر رکھیں کہ کہیں ان کے جذبات، ان کی مشکلات اور ان کے مسائل کو کوئی دوسرا اپنے مفادات کے لیے استعمال تو نہیں کر رہا۔
میرا پیغام کشمیری عوام سے بھی ہے اور پاکستان کے ریاستی اداروں سے بھی۔ کشمیری ہمارے بھائی ہیں، ان کے مسائل ہمارے مسائل ہیں اور ان کی عزت و وقار ہمارے لیے اہم ہے۔ اسی طرح ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف سکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد، انصاف، ترقی اور بہتر حکمرانی کے ذریعے اپنے رشتے کو مضبوط کرے۔ کیونکہ عوام کے دل طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے جیتے جاتے ہیں۔
آج سوال صرف کشمیر کا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے انہیں درست کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اپنے اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہیں؟
اگر ہم نے اپنی تاریخ سے سبق سیکھ لیا تو پاکستان مزید مضبوط ہو گا۔ لیکن اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں کو دہرایا تو مسائل بھی دہرائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان ایک امانت ہے، قربانیوں کی امانت۔ اس امانت کی حفاظت صرف سرحدوں کی حفاظت سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، انصاف، اتحاد اور شعور سے ہوتی ہے۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
شکریہ
تحریر: محمد ابرار خان سواتی
ایک عام پاکستانی کی نظر سے
Instagram: