20/09/2023
کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: بیعت
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا حال سن کر ایک طرف مسجد نبوی ﷺ میں لوگ جمع ہو گئے تھے‘ ان میں قریباً سب مہاجرین تھے‘ کیونکہ مہاجرین کے مکانات اسی محلہ میں زیادہ تھے‘ یہاں انصار بہت کم تھے‘ دوسری طرف بازار کے متصل سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمانوں کا اجتماع تھا‘ اس مجمع میں تقریباً سب انصار ہی تھے‘ کوئی ایک دو مہاجر بھی اتفاقاً وہاں موجود تھے‘ اسلام کی ابتداء اور اس کی نشوونما مخالفین کی کوششیں ‘ جنگ و پیکار کے ہنگامے‘ شرک کا مغلوب و معدوم ہونا‘ اور اسلامی قانون و اسلامی آئین کے سامنے سب کا گردنیں جھکا دینا سب کچھ ان لوگوں کے پیش نظر تھا اور وہ جانتے تھے کہ یہ نظام اب وفات نبوی ﷺ کے بعد دنیا میں اسی وقت بحسن و خوبی قائم رہ سکتا ہے کہ آپ ﷺ کا جانشیں منتخب کر لیا جائے۔
مسجد نبوی ﷺ میں سیدنا عمر فاروق ؓ کے عاشقانہ جذبہ نے لوگوں کو کچھ سوچنے اور مسئلہ خلافت پر غور کرنے کا موقع ہی نہ دیا‘ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ وفات نبوی ﷺ کی خبر سن کر اگر جلد یہاں نہ پہنچ جاتے تو اللہ تعالیٰ جانے مسجد نبوی ﷺ میں عشاق نبوی ؓ کی یہ حیرت و اضطراب کی حالت کب تک قائم رہتی‘ لیکن دوسرے مجمع کی جو سعد بن عبادہ ؓ کی نشست گاہ میں تھا یہ حالت نہ تھی‘ وہاں انتخاب خلیفہ کے متعلق گفتگو ہوئی‘ چونکہ وہ مجمع انصار ہی کا تھا اور ایک سردار قبیلہ کی نشست گاہ میں تھا جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور قبیلہ خزرج تعداد نفوس اور مال و دولت میں انصار کے دوسرے قبیلہ اوس سے فائق و برتر تھا‘ لہذا اس مجمع کی گفتگو اور اظہار خیالات کا نتیجہ یہ تھا کہ سیدنا سعد بن عبادہ ؓ کو خلیفہ یعنی جانشین رسول اللہ ﷺ تسلیم کیا جائے۔
مہاجرین کی تعداد اگرچہ مدینہ میں انصار سے کم تھی لیکن ان کی اہمیت اور ان کی بزرگی و عظمت کا انصار کے قلوب پر ایسا اثر تھا کہ جب سیدنا سعد ؓ نے خلافت کو انصار ہی کا حق ثابت کرنا چاہا تو انصار کے ایک شخص نے اعتراض کیا کہ مہاجرین انصار کی خلافت کو کیسے تسلیم کریں گے‘ اس پر ایک دوسرے انصاری نے کہا کہ اگر انہوں نے تسلیم نہ کیا تو ہم ان سے کہہ دیں گے کہ ایک خلیفہ تم اپنا مہاجرین میں سے بنا لو اور ایک خلیفہ ہم نے انصار میں سے بنا لیا ہے‘ سیدنا سعد ؓ نے کہا کہ نہیں یہ ایک کمزوری کی بات ہے‘ ایک اور انصاری نے کہا کہ اگر مہاجرین نے ہمارے خلیفہ کو تسلیم نہ کیا تو ہم ان کو بذریعہ شمشیر مدینہ سے نکال دیں گے‘ اس مجمع میں جو چند مہاجرین تھے انہوں نے انصار کی مخالفت میں آواز بلند کی اس طرح اس مجمع میں بحث و تکرار شروع ہو گئی‘ ممکن تھا کہ یہ ناگوار صورت ترقی کر کے جنگ و پیکار تک نوبت پہنچ جاتی۔
یہ خطرناک رنگ دیکھ کر سیدنا مغیرہ ؓ بن شعبہ وہاں سے چلے اور مسجد نبوی ﷺ میں آ کر سقیفہ بنی ساعدہ کی روداد سنائی‘ یہاں مسجد نبوی ﷺ میں سیدنا ابوبکرصدیق ؓ اپنی تقریر ختم کر کے تجہیز و تکفین کے سامان کی تیاری میں مصروف ہو چکے تھے‘ اس وحشت انگیز خبر کو سن کر سیدنا ابوبکر صدیق اپنے ہمراہ سیدنا عمر فاروق ؓ اور سیدنا ابوعبیدہ ؓ کو لے کر سقیفہ بنی ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم کو تجہیز و تکفین کے کام کی تکمیل میں مصروف چھوڑ گئے‘ اگر اس وقت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ذرا بھی تامل فرماتے تو اللہ تعالیٰ جانے کیسے کیسے خطرات رونما ہو جاتے۔
یہ تینوں بزرگ اس مجمع میں پہنچے تو وہاں عجیب افراتفری اور تو تو میں میں کا عالم برپا تھا سیدنا عمر فاروق ؓ نے وہاں اس مجمع کو مخاطب کر کے کچھ بولنا چاہا‘ لیکن سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے روک دیا اور خود کھڑے ہو کر نہایت وقار و سنجیدگی کے ساتھ تقریر فرمائی۔
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ ابھی تھوڑی دیر ہوئی سیدنا عمر فاروق ؓ کی ازخودرفتگی دیکھ چکے تھے کہ وہ مسجد نبوی ﷺ میں شمشیر بدست پھر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جو کوئی یہ کہے گا کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں اس کا سر اڑا دوں گا‘ لہذا ابوبکرصدیق ؓ کو اندیشہ ہوا کہ یہاں بھی کہیں فرط جوش اور وفور غم میں کوئی اسی قسم کی بات نہ کہہ گذریں ‘ لہذا انہوں نے خود مجمع کو مخاطب فرما کر تقریر شروع کی اور اسی کی ضرورت تھی‘ چنانچہ انہوں نے فرمایا … اول مہاجرین امراء ہوں گے اور انصار وزراء‘ …آپ ؓ کی تقریر سن کر سیدنا حباب بن المنذر بن الجموح ؓ نے فرمایا کہ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے …سیدنا عمرفاروق ؓ نے حباب انصاری ؓ کو جواب دیا کہ تم کو خوب یاد ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین کو وصیت کی ہے کہ انصار کے ساتھ نیک سلوک کرنا‘ انصار کو وصیت نہیں کی کہ مہاجرین کے ساتھ رعایت کا برتائو کرنا‘ یہ دلیل اس بات کی ہے کہ حکومت و خلافت مہاجرین میں رہے گی‘ سیدنا حباب بن المنذر ؓ نے فوراً سیدنا عمرفاروق ؓ کے کلام کو قطع کیا اور خود کچھ فرمانے لگے‘ نتیجہ یہ ہوا کہ سیدنا عمرفاروق ؓ اور سیدنا حباب ؓ دونوں زور زور سے باتیں کرنے لگے …سیدنا ابوعبیدہ ؓ