Islamic.videos

Islamic.videos I am Muslim Muslims are not a terrorist

20/09/2023

کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: بیعت

رسول اللہ ﷺ کی وفات کا حال سن کر ایک طرف مسجد نبوی ﷺ میں لوگ جمع ہو گئے تھے‘ ان میں قریباً سب مہاجرین تھے‘ کیونکہ مہاجرین کے مکانات اسی محلہ میں زیادہ تھے‘ یہاں انصار بہت کم تھے‘ دوسری طرف بازار کے متصل سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمانوں کا اجتماع تھا‘ اس مجمع میں تقریباً سب انصار ہی تھے‘ کوئی ایک دو مہاجر بھی اتفاقاً وہاں موجود تھے‘ اسلام کی ابتداء اور اس کی نشوونما مخالفین کی کوششیں ‘ جنگ و پیکار کے ہنگامے‘ شرک کا مغلوب و معدوم ہونا‘ اور اسلامی قانون و اسلامی آئین کے سامنے سب کا گردنیں جھکا دینا سب کچھ ان لوگوں کے پیش نظر تھا اور وہ جانتے تھے کہ یہ نظام اب وفات نبوی ﷺ کے بعد دنیا میں اسی وقت بحسن و خوبی قائم رہ سکتا ہے کہ آپ ﷺ کا جانشیں منتخب کر لیا جائے۔
مسجد نبوی ﷺ میں سیدنا عمر فاروق ؓ کے عاشقانہ جذبہ نے لوگوں کو کچھ سوچنے اور مسئلہ خلافت پر غور کرنے کا موقع ہی نہ دیا‘ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ وفات نبوی ﷺ کی خبر سن کر اگر جلد یہاں نہ پہنچ جاتے تو اللہ تعالیٰ جانے مسجد نبوی ﷺ میں عشاق نبوی ؓ کی یہ حیرت و اضطراب کی حالت کب تک قائم رہتی‘ لیکن دوسرے مجمع کی جو سعد بن عبادہ ؓ کی نشست گاہ میں تھا یہ حالت نہ تھی‘ وہاں انتخاب خلیفہ کے متعلق گفتگو ہوئی‘ چونکہ وہ مجمع انصار ہی کا تھا اور ایک سردار قبیلہ کی نشست گاہ میں تھا جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور قبیلہ خزرج تعداد نفوس اور مال و دولت میں انصار کے دوسرے قبیلہ اوس سے فائق و برتر تھا‘ لہذا اس مجمع کی گفتگو اور اظہار خیالات کا نتیجہ یہ تھا کہ سیدنا سعد بن عبادہ ؓ کو خلیفہ یعنی جانشین رسول اللہ ﷺ تسلیم کیا جائے۔
مہاجرین کی تعداد اگرچہ مدینہ میں انصار سے کم تھی لیکن ان کی اہمیت اور ان کی بزرگی و عظمت کا انصار کے قلوب پر ایسا اثر تھا کہ جب سیدنا سعد ؓ نے خلافت کو انصار ہی کا حق ثابت کرنا چاہا تو انصار کے ایک شخص نے اعتراض کیا کہ مہاجرین انصار کی خلافت کو کیسے تسلیم کریں گے‘ اس پر ایک دوسرے انصاری نے کہا کہ اگر انہوں نے تسلیم نہ کیا تو ہم ان سے کہہ دیں گے کہ ایک خلیفہ تم اپنا مہاجرین میں سے بنا لو اور ایک خلیفہ ہم نے انصار میں سے بنا لیا ہے‘ سیدنا سعد ؓ نے کہا کہ نہیں یہ ایک کمزوری کی بات ہے‘ ایک اور انصاری نے کہا کہ اگر مہاجرین نے ہمارے خلیفہ کو تسلیم نہ کیا تو ہم ان کو بذریعہ شمشیر مدینہ سے نکال دیں گے‘ اس مجمع میں جو چند مہاجرین تھے انہوں نے انصار کی مخالفت میں آواز بلند کی اس طرح اس مجمع میں بحث و تکرار شروع ہو گئی‘ ممکن تھا کہ یہ ناگوار صورت ترقی کر کے جنگ و پیکار تک نوبت پہنچ جاتی۔
یہ خطرناک رنگ دیکھ کر سیدنا مغیرہ ؓ بن شعبہ وہاں سے چلے اور مسجد نبوی ﷺ میں آ کر سقیفہ بنی ساعدہ کی روداد سنائی‘ یہاں مسجد نبوی ﷺ میں سیدنا ابوبکرصدیق ؓ اپنی تقریر ختم کر کے تجہیز و تکفین کے سامان کی تیاری میں مصروف ہو چکے تھے‘ اس وحشت انگیز خبر کو سن کر سیدنا ابوبکر صدیق اپنے ہمراہ سیدنا عمر فاروق ؓ اور سیدنا ابوعبیدہ ؓ کو لے کر سقیفہ بنی ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم کو تجہیز و تکفین کے کام کی تکمیل میں مصروف چھوڑ گئے‘ اگر اس وقت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ذرا بھی تامل فرماتے تو اللہ تعالیٰ جانے کیسے کیسے خطرات رونما ہو جاتے۔
یہ تینوں بزرگ اس مجمع میں پہنچے تو وہاں عجیب افراتفری اور تو تو میں میں کا عالم برپا تھا سیدنا عمر فاروق ؓ نے وہاں اس مجمع کو مخاطب کر کے کچھ بولنا چاہا‘ لیکن سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے روک دیا اور خود کھڑے ہو کر نہایت وقار و سنجیدگی کے ساتھ تقریر فرمائی۔
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ ابھی تھوڑی دیر ہوئی سیدنا عمر فاروق ؓ کی ازخودرفتگی دیکھ چکے تھے کہ وہ مسجد نبوی ﷺ میں شمشیر بدست پھر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جو کوئی یہ کہے گا کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں اس کا سر اڑا دوں گا‘ لہذا ابوبکرصدیق ؓ کو اندیشہ ہوا کہ یہاں بھی کہیں فرط جوش اور وفور غم میں کوئی اسی قسم کی بات نہ کہہ گذریں ‘ لہذا انہوں نے خود مجمع کو مخاطب فرما کر تقریر شروع کی اور اسی کی ضرورت تھی‘ چنانچہ انہوں نے فرمایا … اول مہاجرین امراء ہوں گے اور انصار وزراء‘ …آپ ؓ کی تقریر سن کر سیدنا حباب بن المنذر بن الجموح ؓ نے فرمایا کہ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے …سیدنا عمرفاروق ؓ نے حباب انصاری ؓ کو جواب دیا کہ تم کو خوب یاد ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین کو وصیت کی ہے کہ انصار کے ساتھ نیک سلوک کرنا‘ انصار کو وصیت نہیں کی کہ مہاجرین کے ساتھ رعایت کا برتائو کرنا‘ یہ دلیل اس بات کی ہے کہ حکومت و خلافت مہاجرین میں رہے گی‘ سیدنا حباب بن المنذر ؓ نے فوراً سیدنا عمرفاروق ؓ کے کلام کو قطع کیا اور خود کچھ فرمانے لگے‘ نتیجہ یہ ہوا کہ سیدنا عمرفاروق ؓ اور سیدنا حباب ؓ دونوں زور زور سے باتیں کرنے لگے …سیدنا ابوعبیدہ ؓ

11/09/2023

کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: سقیفہ بنو ساعدہ اور بیعت خلافت

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ مسجد نبوی ﷺ میں سیدنا صدیق اکبر ؓ تقریر فرما کر لوگوں کی حیرت دور فرما چکے تھے کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کے مجتمع ہونے اور بلا مشاورت مہاجرین کسی امیر یا خلیفہ کے انتخاب کی نسبت گفتگو کرنے کی خبر پہنچی‘ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسلام پر یہ سب سے زیادہ نازک وقت تھا‘ اگر اس خبر کو سن کر سیدنا ابوبکرصدیق ؓ خاموش رہتے اور اس طرف متوجہ نہ ہوتے تو سخت اندیشہ تھا کہ مہاجرین و انصار کی اخوت و محبت ذرا سی دیر میں برباد ہو کر جمعیت اسلامی پارہ پارہ ہو جاتی‘ مگر چونکہ خدائے تعالیٰ اپنے دین کا خود حافظ و ناصر تھا‘ اس نے صدیق اکبر ؓ کو ہمت و استقامت عطا فرمائی کہ ہر ایک خطرہ اور ہر ایک اندیشہ ان کی بصیرت و قوت کے آگے فوز و اصلاح سے تبدیل ہو گیا۔
رسول اللہ ﷺ کی قوت قدسی نے تمام مسلمانوں کو ایک ہی قوم اور ایک ہی خاندان بنا دیاتھا اور نور ایمان کے محیر العقول اثر سے قبیلوں ‘ خاندانوں اور ملکوں کے امتیازات یک سر برباد و منہدم ہو چکے تھے اور ان کی حقیقت اس سے زیادہ باقی نہ رہی تھی کہ قبیلوں اور خاندانوں کے نام سے لوگوں کی شناخت میں اور پتہ دینے میں آسانی ہوتی تھی اور بس۔
وفات نبوی ﷺ کے بعد اور اس روح اعظم کے ملاء اعلیٰ کی طرف متوجہ ہونے پر ذرا سی دیر کے لیے اس تفریق قومی کے ابتلاء کا کروٹ لینا کوئی حیرت اور تعجب کا مقام نہیں ہے دیکھنا یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی پاک و مطہر ج**عت نے اس ابتلاء کو اپنے لیے موجب اصطفا بنایا یا سامان بربادی ‘ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں مہاجرین کی تعداد انصار کے مقابلے میں کم تھی‘ لیکن انصار بھی دو حصوں میں منقسم تھے یعنی اوس‘ اور خزرج‘ اسلام سے پہلے قدیم سے ایک دوسرے کے حریف اور رقیب چلے آتے تھے‘ اس طرح مدینہ منورہ کے موجودہ مسلمانوں کو تین بڑے بڑے حصوں میں منقسم سمجھا جا سکتا تھا‘ اوس‘ خزرج‘ قریش یا مہاجرین یا مکی‘ قبیلہ خزرج کے رئیس سعد بن عبادہ ؓ تھے‘ ان کے مکان کے ملحق ایک وسیع نشست گاہ تھی‘ جس کی صورت یہ تھی کہ ایک وسیع چبوترہ تھا اس کے اوپر سائبان پڑا ہوا تھا‘ اسی کو سقیفہ بنی ساعدہ کہتے تھے۔

23/07/2023

کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: خلافت صدیقی ؓ کے اہم واقعات

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ مسجد نبوی ﷺ میں سیدنا صدیق اکبر ؓ تقریر فرما کر لوگوں کی حیرت دور فرما چکے تھے کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کے مجتمع ہونے اور بلا مشاورت مہاجرین کسی امیر یا خلیفہ کے انتخاب کی نسبت گفتگو کرنے کی خبر پہنچی‘ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسلام پر یہ سب سے زیادہ نازک وقت تھا‘ اگر اس خبر کو سن کر سیدنا ابوبکرصدیق ؓ خاموش رہتے اور اس طرف متوجہ نہ ہوتے تو سخت اندیشہ تھا کہ مہاجرین و انصار کی اخوت و محبت ذرا سی دیر میں برباد ہو کر جمعیت اسلامی پارہ پارہ ہو جاتی‘ مگر چونکہ خدائے تعالیٰ اپنے دین کا خود حافظ و ناصر تھا‘ اس نے صدیق اکبر ؓ کو ہمت و استقامت عطا فرمائی کہ ہر ایک خطرہ اور ہر ایک اندیشہ ان کی بصیرت و قوت کے آگے فوز و اصلاح سے تبدیل ہو گیا۔
رسول اللہ ﷺ کی قوت قدسی نے تمام مسلمانوں کو ایک ہی قوم اور ایک ہی خاندان بنا دیاتھا اور نور ایمان کے محیر العقول اثر سے قبیلوں ‘ خاندانوں اور ملکوں کے امتیازات یک سر برباد و منہدم ہو چکے تھے اور ان کی حقیقت اس سے زیادہ باقی نہ رہی تھی کہ قبیلوں اور خاندانوں کے نام سے لوگوں کی شناخت میں اور پتہ دینے میں آسانی ہوتی تھی اور بس۔
وفات نبوی ﷺ کے بعد اور اس روح اعظم کے ملاء اعلیٰ کی طرف متوجہ ہونے پر ذرا سی دیر کے لیے اس تفریق قومی کے ابتلاء کا کروٹ لینا کوئی حیرت اور تعجب کا مقام نہیں ہے دیکھنا یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی پاک و مطہر ج**عت نے اس ابتلاء کو اپنے لیے موجب اصطفا بنایا یا سامان بربادی ‘ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں مہاجرین کی تعداد انصار کے مقابلے میں کم تھی‘ لیکن انصار بھی دو حصوں میں منقسم تھے یعنی اوس‘ اور خزرج‘ اسلام سے پہلے قدیم سے ایک دوسرے کے حریف اور رقیب چلے آتے تھے‘ اس طرح مدینہ منورہ کے موجودہ مسلمانوں کو تین بڑے بڑے حصوں میں منقسم سمجھا جا سکتا تھا‘ اوس‘ خزرج‘ قریش یا مہاجرین یا مکی‘ قبیلہ خزرج کے رئیس سعد بن عبادہ ؓ تھے‘ ان کے مکان کے ملحق ایک وسیع نشست گاہ تھی‘ جس کی صورت یہ تھی کہ ایک وسیع چبوترہ تھا اس کے اوپر سائبان پڑا ہوا تھا‘ اسی کو سقیفہ بنی ساعدہ کہتے تھے۔

23/07/2023

کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: حسن معاشرت

عطا بن صائب ؓ کہتے ہیں کہ بیعت خلافت کے دوسرے دن سیدنا ابوبکرصدیق ؓ دو چادریں لیے ہوئے بازار کو جاتے تھے‘ سیدنا عمر ؓ نے پوچھا کہ آپ ؓ کہاں جا رہے ہیں ؟ فرمایا بازار‘ سیدنا عمر ؓ نے کہا کہ اب آپ ؓ یہ دھندے چھوڑ دیں ‘ آپ ؓ مسلمانوں کے امیر ہو گئے ہیں ‘ آپ ؓ نے فرمایا پھر میں اور میرے اہل و عیال کہاں سے کھائیں ‘ سیدنا عمر ؓ نے کہا کہ یہ کام ابوعبیدہ ؓ کے سپرد کیجئے‘ چنانچہ دونوں صاحب سیدنا ابوعبیدہ ؓ کے پاس گئے اور ان سے سیدنا ابوبکرصدیق ؓ نے کہا کہ میرا اور میرے اہل و عیال کا نفقہ مہاجرین سے وصول کر دیا کرو‘ ہر چیز معمولی حیثیت کی چاہئے‘ گرمی اور جاڑے کے کپڑوں کی بھی ضرورت ہو گی‘ جب پھٹ جایاکریں گے تو ہم واپس کر دیا کریں گے اور نئے لے لیا کریں گے‘ چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ ہر روز آپ ؓ کے یہاں آدھی بکری کا گوشت بھیج دیا کرتے تھے۔
ابوبکر بن حفص ؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر ؓ نے انتقال کے وقت سیدنا عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ مسلمانوں کے کام کی اجرت میں میں نے کوڑی پیسے کا فائدہ حاصل نہیں کیا‘ سوائے اس کے کہ موٹا جھوٹا کھا پہن لیا‘ اس وقت مسلمانوں کا تھوڑا یا بہت کوئی مال سوائے اس حبشی غلام‘ اونٹنی اور پرانی چادر کے میرے پاس نہیں ہے‘ جب میں مر جائوں تو ان سب کو عمر ؓ کے پاس بھیج دینا۔۱
سیدنا امام حسن بن علی ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر ؓ نے انتقال کے وقت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد یہ اونٹنی جس کا دودھ ہم پیتے تھے اور یہ بڑا پیالہ جس میں ہم کھاتے تھے‘ اور یہ چادریں عمر ؓ کے پاس بھیج دینا کیونکہ میں نے ان چیزوں کو بحیثیت خلیفہ ہونے کے بیت المال سے لیا تھا‘ جب سیدنا عمر ؓ کو یہ چیزیں پہنچیں تو انہوں نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ ابوبکر ؓ پر رحم فرمائے کہ میرے واسطے کیسی کچھ تکلیف اٹھائی ہے۔
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ نے بیت المال میں کبھی مال و دولت جمع نہیں ہونے دیا‘ جو کچھ آتا مسلمانوں کے لیے خرچ کر دیتے‘ فقراء و مساکین پر بحصہ مساوی تقسیم کر دیتے تھے‘ کبھی گھوڑے اور ہتھیار خرید کر فی سبیل اللہ دے دیتے‘ کبھی کچھ کپڑے لے کر غرباء صحرانشیں کو بھیج دیتے‘ حتی کہ جب سیدنا عمر ؓ نے آپ ؓ کی وفات کے بعد معہ اور چند صحابیوں کے بیت المال کا جائزہ لیا تو بالکل خالی پایا۔
محلہ کی لڑکیاں اپنی بکریاں لے کر آپ ؓ کے پاس آ جایا کرتیں اور آپ ؓ سے دودھ دوہا کر لے جاتیں ‘ سیدنا صدیق اکبر ؓ بہت سے آدمیوں میں اس طرح مل جل کر بیٹھتے کہ کوئی پہچان بھی نہ سکتا تھا کہ ان میں خلیفہ کون ہے۔

30/05/2023

️کہانیاں اور معلومات:
*دنیا کا پہلا پرسنل کمپیوٹر وائرس جسکو 2 پاکستانی بھائیوں نے تیار کیاتھا۔*

یہ 1986 کی بات ہے جب امریکا کی ڈیل وئیر یونیورسٹی کے طالبعلموں کو عجیب کمپیوٹر کے استعمال میں عجیب علامات کا سامنا ہوا، جیسے عارضی طور پر میموری ختم ہوجانا، سست ڈرائیو اور دیگر۔

اور اس کی وجہ دنیا کا پہلا پرسنل کمپیوٹر وائرس بنا جسے اب برین کے نام سے جانا جاتا ہے جو میموری کو تباہ کرنے کے ساتھ ہارڈ ڈرائیو کو سست اور بوٹ سیکٹر میں ایک مختصر کاپی رائٹ میسج چھپا دیتا۔

اوردنیا کا یہ پہلا وائرس 2 پاکستانی بھائیوں باسط علوی اور امجد علوی نے تیار کیا تھا جن کی عمریں اس وقت بالترتیب 17 اور 24 سال تھیں اور وہ لاہور میں ایک کمپیوٹر کی دکان چلارہے تھے۔

اس وقت جب ان بھائیوں نے دریافت کیا کہ ان کے صارفین ان کے تحریر کردہ سافٹ وئیر کی غیرقانونی کاپیاں آگے بڑھا رہے ہیں تو انہوں نے جوابی وار کا فیصلہ کیا۔

اس مقصد کے لیے برین نامی وائرس تیار کیا گیا تاکہ سافٹ وئیر چوری کرنے والوں کو ڈرایا جاسکے مگر ان بھائیوں کا موقف تھا کہ ان کا مقصد کوئی مجرمانہ کام کرنا نہیں تھا۔

2011 میں فن لینڈ کی ایک اینٹی وائرس کمپنی ایف سیکیور کو دیئے گئے انٹرویو میں دونوں بھائیوں نے اس بگ کو 'دوستانہ وائرس' قرار دیا جس کا مقصد 'کسی ڈیٹا کو تباہ' کرنا نہیں تھا اور اسی وجہ سے وائرس کوڈ پر ان کے نام، فون نمبر اور دکان کا پتا بھی موجود تھا۔

کچھ سال پہلے ایک انٹرویو میں امجد علوی نے بتایا 'اس کے پیچھے بس یہ خیال تھا کہ اگر پروگرام کی غیرقانونی کاپی بنائی جائے تو وائرس لوڈ ہوجائے'۔

دونوں بھائیوں نے وائرس کے پھیلاﺅ پر نظر رکھنے کے لیے طریقہ کار بھی مرتب کیا 'ہم نے پروگرام میں ایک کاﺅنٹر رکھا، تاکہ تمام کاپیوں کو ٹریک کرسکے اور معلوم ہوسکے کہ انہیں کب بنایا گیا'۔

دنیا بھر میں پھیل گیا
ان کا دعویٰ تھا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ وائرس اتنا پھیل جائے گا کہ ان کے کنٹرول سے باہر ہوجائے گا مگر ٹائم میگزین نے ستمبر 1988 میں اس حوالے سے ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ جاری کی بلکہ میگزین کور بھی وائرسز کے نام پر تیار کیا جس میں کچھ پیچیدہ پہلوﺅں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

میگزین کے مطابق یہ دونوں بھائی اپنے سافٹ وئیر کی چوری کے حوالے سے جتنے بھی فکرمند تھے، مگر خود دیگر مہنگے پروگرامز جیسے لوٹس 1-2-3 کی کاپیاں فروخت کررہے تھے اور ان کا موقف بھی کافی دلچسپ تھا کہ کمپیوٹر سافٹ وئیر کو پاکستان میں کاپی رائٹ تحفظ حاصل نہیں تو بوٹ لیگ ڈسکس کی تجارت کوئی پائریسی نہیں۔

اسی جواز کے تحت دونوں بھائی صاف کاپیاں پاکستانیوں کو فروخت کرتے جبکہ وائرس سے متاثرہ ورژن امریکی طالبعلموں اور سیاحوں کو۔

جب یہ امریکی شہری واپس گھر پہنچ کر پروگرامز کی کاپی بنانے کی کوشش کرتے تو وہ ہر اس فلاپی ڈسک کو انفیکٹ کردیتے جو وہ اپنے کمپیوٹرز میں لگاتے، وہ ڈسکس بھی جس کا اوریجنل پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔

ڈیل وئیر یونیورسٹی کے بعد برین وائرس دیگر یونیورسٹیوں میں سامنے آیا اور پھر اخبارات تک جاپہنچا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک نقصان دہ کمپیوٹر پروگرام نے Providence Journal-Bulletin کو نشانہ بنایا جس کا نقصان تو محدود تھا مگر ایک رپورٹر کئی ماہ کے کام سے محروم ہوگیا جو ایک فلاپی ڈسک میں موجو تھا۔

ویسے تو اس پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی مگر اس وقت میڈیا کا ردعمل بہت زیادہ دھماکا خیز تھا، باسط اور امجد علوی کو دنیا بھر سے فون کالز موصول ہوئیں اور وہ ہر ایک کی طرح یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ان کا چھوٹا سا تجربہ کتنی دور تک جاپہنچا ہے، کیونکہ آج تیزی سے پھیلنے والے وائرسز کے برعکس برین کی ترسیل پرانے انداز سے انسانی کیرئیرز کے ذریعے ہورہی تھی اور فلاپی ڈسکس کو سہارا بنایا گیا تھا۔

مگر اس کے بعد جن بوتل سے باہر نکل آیا اور اب 10 لاکھ سے زائد وائرسز کمپیوٹر کو متاثر کررہے ہیں اور ایسا تخمینہ لگایا تھا کہ دنیا بھر کے 50 فیصد کمپیوٹرز وائرس سے متاثر ہیں یا ہونے والے ہیں، صارفین ان سے لڑنے کے لیے سالانہ 4 ارب ڈالرز سافٹ وئیر پروگرامز پر خرچ کرتے ہیں۔

جہاں تک دونوں بھائیوں کی بات ہے تو یہ وائرس ان کے کاروبار کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا اور ان کی کمپنی برین نیٹ پاکستان کی چند بڑی انٹرنیٹ سروسز پروائڈرز میں سے ایک ہے اور ایک انٹرویو کے دوران امجد علوی نے کہا 'یہ وائرس اس وقت تک نہیں پھیل سکتا تھا جب تک لوگ سافٹ وئیر کو غیرقانونی طور پر کاپی نہیں کرتے'۔

دونوں بھائیوں کے مطابق انہوں نے وائرس سے متاثرہ سافٹ وئیر کی فروخت 1987 میں ختم کردی تھی اور اب بھی اسی پتے پر موجود ہیں جو برین کوڈ پر دیا گیا تھا۔

ایک تخمینے کے مطابق اس وائرس نے 1986 سے 1989 کے دوران ایک لاکھ سے زائد کمپیوٹرز کو نشانہ بنایا تھا، ویسے تو یہ کمپیوٹر کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں تھا مگر بہت جلد ہی اس کے نئے ورژن اور نقول تیار ہوگئیں جو بڑے پیمانے پر تباہی مچانے لگے۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کے ایک حالیہ مضمون کے مطابق درحقیقت اب کمپیوٹر وائرسز کی تاریخ پاکستانی برین کے بغیر مکمل نہیں ہوتی کیونکہ اس سے ہی بیشتر پروگرامرز کو اینٹی وائرس سافٹ وئیر تحریر کرنے کا خیال آیا، جن میں سرفہرست نام جان میکافی کا ہے جو اب اینٹی وائرس سافٹ وئیر کمپنی کی بدولت کروڑ پتی بن چکے ہیں اور وہ پاکستانی بھائیوں کو جنیئس قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'میں نے سان جوز مرکری نیوز میں اس بارے میں پڑھا اور سوچا کہ آخر انہوں نے ایسا کیسے کیا، کسی نے بھی کبھی سافٹ وئیر کو بیکٹریا اور وائرسز کے طور پر استعمال کرنے کا نہیں سوچا تھا، یہ ایک جنیئس آئیڈیا تھا'۔

جان میکافی اس وقت ایک کمپیوٹر کمپنی انٹرپاتھ چلارہے تھے، انہوں نے برین کا تجزیہ کرکے اس کے مقابلے کے لیے ایک پروگرام تحریر کیا، جس کو الیکٹرونک بلیٹن بورڈ پر پوسٹ کیا گیا اور 2 ہفتے میں 10 لاکھ صارفین بن گئے۔

اس طرح دنیا بھر میں معروف پہلے کمرشل اینٹی وائرس سافٹ وئیر میکافی نے جنم لیا۔

25/03/2023

کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: علم و فضل

آپ ؓ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سب سے زیادہ عالم اور ذکی تھے‘ جب کسی مسئلہ کے متعلق صحابہ کرام ؓ میں اختلاف واقع ہوتا تو وہ مسئلہ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ کے سامنے پیش کیا جاتا‘ آپ ؓ اس پرجو حکم لگاتے وہ عین صواب ہوتا۔
قرآن شریف کا علم آپ ؓ کو سب صحابیوں رضی اللہ عنھم سے زیادہ تھا‘ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے آپ ؓ کو نماز میں امام بنایا‘ سنت کا علم بھی آپ ؓ کو کامل تھا‘ اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم مسائل سنت میں آپ ؓ ہی سے رجوع کرتے تھے‘ آپ ؓ کا حافظہ بھی قوی تھا‘ آپ ؓ نہایت ذکی الطبع تھے‘ آپ ؓ کو رسول اللہ ﷺ کا فیض صحبت ابتدائے بعثت سے وفات تک حاصل رہا‘ زمانہ خلافت میں جب کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ ؓ قرآن شریف میں اس مسئلہ کو تلاش فرماتے‘ اگر قرآن شریف میں نہ ملتا تو رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل کے موافق فیصلہ کرتے‘ اگر کوئی ایسا قول و فعل معلوم نہ ہوتا تو باہر نکل کر لوگوں سے دریافت فرماتے کہ تم نے کوئی حدیث اس معاملہ کے متعلق سنی ہے؟ اگر کوئی صحابی ایسی حدیث بیان نہ فرماتے تو آپ ؓ جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنھم کو جمع فرماتے اور ان کی کثرت رائے کے موافق فیصلہ صادر فرماتے۔
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ عرب بھر کے بالعموم اور قریش کے بالخصوص بڑے نساب تھے‘ حتی کہ جبیر بن مطعم جو عرب کے بڑے نسابوں میں شمار ہوتے تھے‘ سیدنا صدیق اکبر ؓ کے خوشہ چیں تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں نے علم نسب عرب کے سب سے بڑے نساب سے سیکھا ہے۔
علم تعبیر میں بھی آپ ؓ کو سب سے زیادہ فوقیت حاصل تھی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں آپ ؓ خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے تھے‘ امام محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد صدیق اکبر ؓ سب سے بڑے معبر ہیں ‘ آپ ؓ سب سے زیادہ فصیح تقریر کرنے والے تھے‘ بعض اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابیوں رضی اللہ عنھم میں سب سے زیادہ فصیح ابوبکر ؓ و علی ؓ تھے‘ تمام صحابیوں میں آپ ؓ کی عقل کامل اور اصابت رائے مسلم تھی۔
سیدنا علی ؓ نے بارہا فرمایا ہے کہ اس امت محمدی ﷺ میں سب سے زیادہ افضل ابوبکر صدیق ؓ ہیں ‘ ایک مرتبہ سیدنا علی ؓ نے فرمایا کہ جو شخص مجھ کو ابوبکرصدیق ؓ و عمر ؓ پر فضیلت دے گا میں اس کے درے لگائوں گا‘ سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ ابوبکر صدیق ؓ پر رحم کریں کہ اس نے اپنی بیٹی مجھے زوجیت میں دی اور مجھے مدینہ تک پہنچایا اور بلال ؓ کو آزاد کیا‘ اللہ تعالیٰ تعالیٰ عمر ؓ پر رحم کرے‘ حق بات کہتے ہیں خواہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو‘ اللہ تعالیٰ تعالیٰ عثمان ؓ پر رحم کرے کہ ان سے فرشتے حیا کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ تعالیٰ علی ؓ پر رحم کرے‘ الٰہی جہاں علی ہو حق اس کے ساتھ رکھ۔۱
امام شافعی فرماتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا صدیق اکبر ؓ کو بالا ج**ع خلیفہ بنایا‘ کیونکہ اس وقت دنیا کے پردے پر ان سے بہتر آدمی نہ ملا‘ معاویہ ؓ بن قرہ کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنھم کو کبھی خلافت ابوبکر ؓ میں شک نہیں ہوا‘ اور وہ لوگ ہمیشہ ان کو خلیفہ رسول ﷺ کہتے رہے‘ اور صحابی کبھی کسی خطا یا گمراہی پر اج**ع نہیں کر سکتے۔

25/03/2023

کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: سخاوت

آپ ؓ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے سب سے زیادہ سختی تھے {وَسَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقٰی ٭ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی} (اللیل : ۹۲/۱۷۔۱۸) کے شان نزول آپ ؓ ہی ہیں ‘ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جتنا مجھے ابوبکرصدیق ؓ کے مال سے نفع پہنچا ہے۔ ۲ کسی کے مال سے نہیں پہنچا‘ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ رو کر فرمانے لگے کہ میں اور میرا مال کیا چیز ہے جو کچھ ہے سب آپ ﷺ کا ہی ہے‘ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ کے مال میں ویسا ہی تصرف فرماتے تھے جیسا اپنے مال میں ‘ جس روز سیدنا ابوبکرصدیق ؓ ایمان لائے ہیں اس روز ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے‘ آپ ؓ نے وہ سب کے سب رسول اللہ ﷺ پر خرچ کر دئیے۔
ایک روز سیدنا عمرفاروق جیش عسرت یا جنگ تبوک کے چندہ کا تذکرہ فرما کر کہنے لگے رسول اللہ ﷺ نے جب ہمیں مال صدقہ کرنے کا حکم دیا تو میں نے سیدنا ابوبکرصدیق ؓ سے بڑھ کر مال صدقہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا اور اپنا نصف مال تصدق کر دیا‘ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا کہ اپنے اہل و عیال کے واسطے کچھ چھوڑا‘ میں نے عرض کیا کہ باقی نصف‘ اتنے میں ابوبکرصدیق ؓ اپنا سارا مال لیے ہوئے آ گئے‘ رسول اللہ ﷺ نے ان سے بھی وہی سوال کیا‘ انہوں نے جواب دیا کہ اہل و عیال کے لیے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ تعالیٰ کافی ہیں ‘ میں نے یہ دیکھ کر کہا کہ میں کبھی ابوبکر صدیق ؓ سے کسی بات میں نہ بڑھ سکوں گا۔۱
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں سب کا احسان اتار چکا ہوں ‘ البتہ ابوبکرصدیق کا احسان باقی ہے‘ اس کابدلہ قیامت کے دن خدائے تعالیٰ دے گا‘ کسی شخص کے مال سے مجھے اتنا فائدہ نہیں ہوا جتنا ابوبکرصدیق ؓ کے مال سے۔

23/03/2023

*Important MCQs*
1 پاکستان کی سب سے پرانی حساس ایجنسی کونسی ہے؟
آئی بی(IB) ✅

2 سندھ کا باغ کس شہر کو کہتے ہیں؟
لاڑکانہ ✅

3 میسور کا شیر کسے کہتے ہیں؟
ٹیپو سلطان ✅

4 پیلے کس کھیل کا مشہور کھلاڑی تھا؟
فٹبال ✅

5 نیدرلینڈ کا پرانا نام کیا ہے؟
ہالینڈ ✅

6 شیطان کو کنکریاں مارنا کیا کہلاتا ہے؟
رمی ✅

7 بیت المعمور کہاں واقع ہے؟
ساتویں آسمان ✅

8 قلعہ قموص کس نے فتح کیا؟
حضرت علی مرتضیٰ ✅

9 اس عورت کا نام بتائیں جس نے حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو زہر دینا چاہی؟
زینب ✅

10 سورج کیا ہے؟
ایک ستارہ ✅

11 کائنات میں سب سے زیادہ کونسا عنصر پایا جاتا ہے؟
ہائیڈروجن ✅

12 وٹامن D کی کمی سے کونسی بیماری لاحق ہوتی ہے؟
رکٹس ✅

13 پریشر کا اکائی کیا ہے؟
پاسکل ✅

14 زمین کا مطالعہ کیا کہلاتا ہے؟
جیولوجی ✅

15 جنوبی افریقہ کا دارالحکومت کیا ہے؟
کیپ ٹاؤن ✅

16 پی ٹی وی(PTV) نے رنگین نشریات کا آغاز کب کیا؟
1976ء ✅

17 قوم ثمود کا تعلق کس سے ہیں؟
اونٹنی سے ✅

18 سید الشہداء کس کو کہتے ہیں؟
حضرت امیر حمزہ ✅

19 حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہ صحابی کا نام کیا تھا؟
حضرت مصعب بن عمیر ✅

20 پہلا مفرد عدد کونسا ہے؟
1 ایک ✅

21 جنت سے تیار شدہ خوراک کس قوم کو ملتی تھی؟
بنی اسرائیل ✅

22 بنی اسرائیل کس پیغمبر کی قوم تھی؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام ✅

23 البیرونی نے کب وفات پائی؟
1048ء ✅

24 پرستان جھیل کہاں واقع ہے؟
سکردو ✅

25 مالدیپ کی کرنسی کیا ہے؟
روفیہ ✅

26 جاپان کا قومی کھیل کیا ہے؟
جوڈو ✅

27 ہاکی کو اولمپک گیمز میں کب شامل کیا گیا؟
1908ء ✅

28 وہ کونسا واحد ممالیہ ہے جو اڑ سکتا ہے؟
چمگادڑ ✅

29 بلب کے موجد کا نام کیا ہے؟
ایڈیسن ✅

30 کمپیوٹر کس کی ایجاد ہے؟
چارلس باب ایج ✅

31 پاکستان کی طویل ترین سرحد کس ملک کے ساتھ ہے؟
بھارت ✅

32 پاکستان کے مشرق کونسا ملک ہے؟
بھارت ✅

33 دنیا کی بلند ترین چوٹی کا نام کیا ہے؟
ماؤنٹ ایورسٹ ✅

34 دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کا نام کیا ہے؟
کے ٹو(K-2) ✅

35 درجہ حرارت کی اکائی کیا ہے؟
کیلون ✅

36 قرارداد پاکستان کب پیش کی گئی؟
23 مارچ 1940 ✅

37 قرارداد پاکستان کس نے پیش کی؟
مولوی فضل الحق ✅

38 پاکستان کے کس صوبہ میں کوئی صحرا نہیں ہے؟
خیبر پختونخوا ✅

39 کونسا پہاڑی سلسلہ پاکستان اور چین کو ملاتا ہے؟
قراقرم ✅

40 ملایشیا کی کرنسی کا نام کیا ہے؟
رنگٹ ✅

41 آکسیجن کس نے دریافت کی؟
جوسف پرسٹلے ✅

42 اقوام متحدہ کی موجودہ ارکان کی تعداد کتنی ہے؟
193 ممالک ✅

43 دنیا میں سب سے زیادہ شمسی توانائی کونسا ملک استعمال کرتا ہے؟
چین ✅

44 آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک کونسا ہے؟
چین ✅

45 رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک کونسا ہے؟
روس ✅

46 دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم کونسا ہے؟
آسٹریلیا ✅

47 سب سے بڑا براعظم کونسا ہے؟
ایشیاء ✅

48 دوسرا بڑا براعظم کونسا ہے؟
افریقہ ✅

49 صحت کا عالمی دن کب منایا جاتا ہے؟
7 اپریل ✅

50 پاکستان کے جنوب میں کیا واقع ہے؟
بحیرہ عرب ✅

51 شیر شاہ سوری کا مقبرہ کہاں ہے؟
سہسرام، بھارت ✅

52 پاکستان کے پہلے ڈپٹی وزیراعظم کا نام کیا ہے؟
چوھدری پرویز الٰہی ✅

53 آزاد کشمیر کا دارالحکومت کیا ہے؟
مظفر آباد ✅

54 عمر خیام کس زبان کا اعظیم شاعر گزرا ہے؟
فارسی ✅

55 ریڈیو کے موجد کا نام کیا ہے؟
مارکونی ✅

56 ریڈیو کی ایجاد کس سن میں ہوئی؟
1895ء ✅

57 موجود دور کی سب سے اہم ایجاد کیا ہے؟
سمارٹ فون ✅

58 مارکوپولو کا تعلق کس ملک سے تھا؟
اٹلی ✅

59 جاپان کا دارالحکومت کیا ہے؟
ٹوکیو ✅

60 چین کا دارالحکومت کیا ہے؟
بیجینگ ✅

61 کان کے سائنسی مطالعے کو کیا کہتے ہیں؟
اوٹولوجی ✅

62 پاکستان کی کتنی فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہیں؟
45 فیصد ✅

63 پانی پت کی پہلی لڑائی کب ہوئی؟
1526ء ✅

64 پانی پت کی دوسری لڑائی کب ہوئی؟
1556ء ✅

65 دنیا کا سب سے چھوٹا ملک کونسا ہے؟
وٹاکین سٹی ✅

66 پاکستان کا کتنے فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے؟
5.2 فیصد ✅

67 سفید ہاتھی کی سر زمین کسے کہا جاتا ہے؟
تھائی لینڈ ✅

68 گرینڈ جامع مسجد پاکستان کے کس شہر میں واقع ہے؟
لاہور ✅

69 شاہ جہاں مسجد پاکستان کے کس شہر میں واقع ہے؟
سندھ، ٹھٹہ ✅

70 طوبیٰ مسجد پاکستان کے کس شہر میں واقع ہے؟
کراچی ✅

71 مسجد مہابت خان پاکستان کے کس شہر میں واقع ہے؟
پشاور ✅

72 مسجد وزیر خان پاکستان کے کس شہر میں واقع ہے؟
لاہور ✅

73 موتی مسجد پاکستان کے کس شہر میں واقع ہے؟
لاہور ✅

74 شاہ فیصل مسجد پاکستان کے کس شہر میں واقع ہے؟
اسلام آباد ✅

74 شاہ فیصل مسجد کب مکمل ہوئی؟
1987ء ✅

75 بادشاہی مسجد پاکستان کے کس شہر میں واقع ہے؟
لاہور ✅

76 بادشاہی مسجد کس نے تعمیر کروائی؟
اورنگزیب عالمگیر ✅

77 بادشاہی مسجد کب تعمیر ہوئی؟
1673ء ✅

78 انگریزی حروف i اور j کے اوپر نقطے کو کیا کہا جاتا ہے؟
ٹائٹل( Tittle) ✅

23/03/2023

79 آئن سٹائن کو کس ملک کی صدارت کی پیشکش کی گئی تھی؟
اسرائیل ✅

80 "بلیک ڈیتھ" کس بیماری کو کہتے ہیں؟
طاغون ✅

81 "میں بت شکن ہوں بت فروش نہیں" بتائے یہ جملہ کس بادشاہ نے کہا تھا؟
محمود غزنوی ✅

82 کس شخصیت نے سب سے پہلے قائد اعظم کو "بابائے قوم" کا خطاب دیا تھا؟
قاضی محمد اکبر ✅

83 محمد علی جناح کو "قائد اعظم" کا خطاب کس نے دیا تھا؟
مولانا مظہر الدین شہید ✅

84 کس کھیل کے پلے گراونڈ کو "Arena" کہتے ہیں؟
ریسلنگ ✅

85 یوم نجات کب منایا جاتا ہے؟
22 دسمبر ✅

86 آبادی کے لحاظ سے عالم اسلام کا سب سے بڑا ملک کونسا ہے؟
انڈونیشیا ✅

87 رقبے کے لحاظ سے عالم اسلام کا سب سے بڑا ملک کونسا ہے؟
قازقستان ✅

88 کنگھی کس پیغمبر نے ایجاد کیا ہے؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام ✅

89 صابن کس پیغمبر نے ایجاد کیا ہے؟
حضرت سلیمان علیہ السلام ✅

90 کشتی کس پیغمبر نے ایجاد کیا ہے؟
حضرت نوح علیہ السلام ✅

91 قلم کس پیغمبر نے ایجاد کیا ہے؟
حضرت ادریس علیہ السلام ✅

92 گھڑی کس پیغمبر نے ایجاد کیا ہے؟
حضرت یوسف علیہ السلام ✅

93 آئینہ کس پیغمبر نے ایجاد کیا ہے؟
حضرت سلیمان علیہ السلام ✅

94 عصا کا تعلق کس پیغمبر سے ہیں؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام ✅

95 امام ابو حنیفہ کا اصل نام کیا تھا؟
نعمان بن ثابت ✅

96 لعل شہباز قلندر کا اصل نام کیا تھا؟
سید عثمان مروندی ✅

97 محمد بن قاسم کا اصل نام کیا تھا؟
عماد الدین ✅

98 ٹیپو سلطان کا اصل نام کیا تھا؟
نوب فاتح علی ✅

99 پطرس بخاری کا اصل نام کیا تھا؟
سید احمد شاہ ✅

100 میڈم نور جہاں کا اصل نام کیا تھا؟
اللّٰہ وسائی

09/03/2023

کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: شجاعت

سیدنا علی ؓ نے ایک مرتبہ لوگوں سے سوال کیا کہ تمہارے نزدیک شجاع ترین کون شخص ہے‘ سب نے عرض کیا آپ‘ آپ ؓ نے فرمایا کہ میں ہمیشہ اپنے برابر کے جوڑے سے لڑتا ہوں ‘ یہ کوئی شجاعت نہیں ‘ تم شجاع ترین شخص کا نام لو‘ سب نے کہا ہمیں معلوم نہیں سیدنا علی ؓ نے فرمایا کہ شجاع ترین سیدنا ابوبکرصدیق ؓ ہیں ‘ یوم بدر میں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک سائبان بنایا تھا‘ ہم نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کون رہے گا کہ مشرکین کو آپ ﷺ پر حملہ کرنے سے باز رکھے‘ قسم اللہ تعالٰی کی ہم میں سے کسی شخص کو ہمت نہ پڑی‘ مگر ابوبکرصدیق ؓ ننگی تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کسی کو پاس نہ پھٹکنے دیا اور جس شخص نے آپ ﷺ پر حملہ کیا ابوبکرصدیق ؓ اس پر حملہ آور ہوئے۔۔۔ ایک دفعہ مکہ معظمہ میں مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو پکڑ لیا‘ اور آپ ﷺ کو گھسیٹنے لگے اور کہنے لگے کہ تو ہی ہے جو ایک اللہ تعالیٰ بتاتا ہے‘ واللہ کسی کو کفار کے مقابلے کی جراء ت نہ ہوئی‘ مگر ابوبکر صدیق ؓ آگے بڑھے‘ وہ کفار کو مار مار کر ہٹاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ ہائے افسوس تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا اللہ ایک ہے۔ ۱ یہ فرما کر سیدنا علی ؓ رو پڑے اور فرمانے لگے بھلا یہ تو بتائو کہ مومن آل فرعون اچھے ہیں یا ابوبکرصدیق ؓ ‘ لیکن جب لوگوں نے جواب نہ دیا تو فرمایا کہ جواب کیوں نہیں دیتے‘ واللہ ابوبکر ؓ کی ایک ساعت ان کی ہزار ساعت سے بہتر ہے‘ وہ تو ایمان کو چھپاتے تھے اور سیدنا ابوبکر ؓ نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا۔

09/03/2023

کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: عہد جاہلیت

زمانہ جاہلیت میں قریش کی شرافت و حکومت دس خاندانوں میں منحصر و منقسم تھی‘ ان معزز و سردار خاندانوں کے نام یہ ہیں (۔:۱) ہاشم (۲) امیہ (۳) نوفل (۴) عبدالدار (۵) اسد (۶)تیم(۷) مخزوم(۸) عدی(۹) جمح (۱۰)سہم‘‘۔ ان میں بنو ہاشم کے متعلق سقایہ یعنی حاجیوں کو پانی پلانا‘ بنو نوفل کے متعلق بے زاد حاجیوں کو توشہ دینا‘ بنو عبدالدار کے پاس خانہ کعبہ کی کنجی اور دربانی تھی‘ بنو اسد کے متعلق مشورہ اور دارالندوہ کا اہتمام تھا‘ بنو تیم کے متعلق خوں بہا اور تاوان کا فیصلہ تھا‘ بنو عدی کے متعلق سفارت اور قومی مفاخرت کا کام تھا‘ بنو جمح کے پاس شگون کے تیر تھے‘ بنو سہم کے متعلق بتوں کا چڑھاوا رہتا تھا۔
بنو تیم میں سیدنا ابوبکر ؓ خوں بہا اور تاوان کا فیصلہ کرتے تھے جس کو سیدنا ابوبکرصدیق ؓ مان لیتے تمام قریش اس کو تسلیم کرتے‘ اگر کوئی دوسرا اقرار کرتا تو کوئی بھی اس کا ساتھ نہ دیتا تھا‘ اسی طرح بنو عدی میں سیدنا عمر بن خطاب ؓ سفارت کی خدمت انجام دیتے اور میدان جنگ میں بھی سفیر بن جاتے اور مقابلہ میں قومی مفاخر بیان کرتے تھے‘ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ علاوہ اس شرف و فضیلت کے کہ وہ اپنے قبیلے کے سردار اور منجملہ دس سرداران قریش کے ایک سردار تھے‘ مال و دولت کے اعتبار سے بھی بڑے متمول اور صاحب اثر تھے‘ آپ قریش میں بڑے بامروت اور لوگوں پر احسان کرنے والے تھے‘ مصائب کے وقت صبر و استقامت سے کام لیتے اور مہمانوں کی خوب مدارات و تواضع بجا لاتے‘ لوگ اپنے معاملات میں آپ ؓ سے آ آ کر مشورہ لیا کرتے اور آپ ؓ کو اعلیٰ درجہ کا صائب الرائے سمجھتے تھے یہی وجہ تھی کہ ابن الدغنہ آپ ؓ کو راستہ سے جب کہ آپ ؓ مکہ سے رخصت ہو چکے تھے واپس لے آیا تھا جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔
آپ ؓ انساب اور اخبار عرب کے بڑے ماہر تھے‘ آپ ؓ طبعاً برائیوں اور کمینہ خصلتوں سے محترز رہتے تھے‘ آپ ؓ نے جاہلیت ہی میں اپنے اوپر شراب حرام کر لی تھی‘ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ سے کسی نے پوچھا کہ آپ ؓ نے کبھی شراب پی ہے‘ آپ ؓ نے فرمایا نعوذ باللہ کبھی نہیں ‘ اس نے پوچھا کیوں ؟ آپ ؓ نے فرمایا میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے بدن سے بو آئے اور مروت زائل ہو جائے۔ یہ گفتگو رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں روایت ہوئی تو آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا کہ ابوبکر سچ کہتے ہیں ۔
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ خیر مجسم‘ بے عیب‘ سلیم الطبع اور حق پسند و حق پرور تھے‘ یہی سبب تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے آپ ؓ کو دعوت اسلام پیش کی تو آپ ؓ نے کچھ بھی پس و پیش نہ کیا‘ فوراً قبول کر لیا اور نصرت و امداد کا وعدہ فرمایا‘ پھر وعدہ کو نہایت خوبی کے ساتھ پورا کر دکھایا‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بجز ابوبکرصدیق ؓ کے جس کو میں نے اسلام کی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ پس و پیش ضرور کیا‘ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بجز نبی کے اور کسی پر جوابوبکر ؓ سے بہتر ہو آفتاب طلوع نہ ہوا‘ چونکہ آپ قریش میں ہر دل عزیز تھے‘ اس لیے بہت سے لوگ آپ ؓ کے سمجھانے سے ایمان لے آئے جن میں عثمان بن عفان ؓ ‘ طلحہ بن عبداللہ ؓ اور سعد بن وقاص ؓ جیسے حضرات شامل تھے۔

09/03/2023

کتاب: تاریخِ اسلام
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: نام و نسب

آپ ؓ کا نام عبداللہ بن ابوقحافہ بن عامر بن عمروبن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہربن مالک بن نضر بن کنانہ ہے‘ مرہ پر آپ ؓ رسول اللہ ﷺ سے نسب میں مل جاتے ہیں اور باعتبار مراتب آباء ایک ہی درجہ میں ہیں ‘ کیونکہ دونوں میں مرہ تک چھ چھ پشتوں کا فاصلہ ہے‘ آپ ؓ کی والدہ کا نام سلمیٰ بنت صخربن کعب بن سعد ہے‘ یہ ابوقحافہ کی چچا زاد بہن تھیں اور ام الخیر کے نام سے مشہور تھیں ‘ آپ ﷺ کے والد ابوقحافہ ؓ کا نام عثمان ؓ ہے‘ آپ ؓ کو زمانہ جاہلیت میں عبدالکعبہ کہا جاتا تھا‘ رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام عبداللہ رکھا‘ آپ ؓ کا نام عتیق بھی تھا‘ مگر علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تاریخ الخلفاء ؓ میں لکھتے ہیں کہ جمہور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ عتیق آپ ؓ کا نام نہ تھا‘ بلکہ لقب تھا‘ اس لیے کہ حدیث شریف کے موافق آپ ؓ نار دوزخ سے عتیق یا آزاد تھے‘ بعض نے کہا کہ حسن و جمال کے سبب آپ ؓ کا نام عتیق مشہور ہوا‘ بعض کا قول ہے کہ چونکہ آپ ؓ کے نسب میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جو عیب سمجھی جائے پس سلسلہ نسب بے عیب ہونے کے سبب آپ ؓ کا نام عتیق مشہور ہوا۔
تمام امت محمدی ﷺ کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ ؓ کا لقب صدیق ہے‘ کیونکہ آپ ؓ نے بے خوف ہو کر رسول اللہ ﷺ کی بلاتامل تصدیق فرمائی اور صدق کو اپنے لیے لازم کر لیا‘ معراج کے متعلق بھی آپ ؓ نے کفار کے مقابلہ میں ثابت قدمی دکھائی اور رسول اللہ ﷺ کے قول کی تصدیق فرمائی‘ آپ ؓ رسول اللہ ﷺ سے دو سال دو مہینے چھوٹے تھے‘ لیکن بعض لوگوں نے کہا کہ آپ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بڑے تھے‘ آپ ؓ مکہ میں پیدا ہوئے‘ وہیں پرورش پائی تجارت کی غرض سے آپ ؓ باہر سفر میں بھی جایا کرتے تھے‘ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ؓ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور مدینہ میں ہی داعی اجل کو لبیک کہا۔

Address

Baldia Town Karachi
Karachi
7200

Telephone

03423754579

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic.videos posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share