14/09/2026
شان و مقامِ اولیائے کرام علیہم الرّحمہ
حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کرامات اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ حق ہیں اور ان کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں :
حضرات انبیاء کرام ورُسُل عظام علیہم الصلوٰۃوالسلام کے معجزات اور اہل بیت وصحابہ اور اولیاء و صالحین رضی اللہ عنہم اجمعین کی کرامات کے برحق ہونے کا ذکر قرآن پاک اور احادیث شریفہ میں موجود ہے ، علماءِ امت کا اس پر ابتداءِ اسلام اتفاق ثابت ہے ۔ اللہ تعالی کے وہ محبوب ومقرب بندے جنہوں نے زندگی بھر اسلامی تعلیمات پر عمل کیا ، اپنی زندگی کا ہر لمحہ یاد خدا کےلیے وقف کیا ، دنیوی لذتوں کو ترک کرکے اپنی ساری توانائیاں دین متین کی تبلیغ و اشاعت میں صرف کیں ، ایسے مقربان بارگاہ الہی کےلیے آخرت میں بلند مقامات اور اعلی درجات ہیں، نیز دنیا میں اللہ تعالی نے ان کی شان وعظمت آشکار کرنے کےلیے خصائص و امتیازات عطا فرمائے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ ۔
ترجمہ : اور بے شک ہم نے "زبور" میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا : یقینا زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے ۔ (سورۃ الانبیاء۔ 105)
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ "زمین" سے مراد جنت کی زمین ہے ، اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے دنیا کی زمین مراد ہے اور علامہ ابن کثیر نے اس آیت کے ضمن میں لکھا ہے کہ : اولیاء وصالحین 'دنیا وآخرت ہر دو کی زمین کے وارث ہوتے ہیں : يقول تعالی مخبرا عما حتمه وقضاه لعباده الصالحين ، من السعادة فی الدنيا والآخرة، ووراثة الأرض في الدنيا والآخرة -
ترجمہ : اللہ تعالی ان چیزوں سے متعلق بیان فرمارہا ہے جس کا اس نے اپنے نیک بندوں کےلیے قطعی اور حتمی فیصلہ کردیا ہے کہ دنیا وآخرت میں ان کےلیے سعادت ہے اور دنیا و آخرت میں زمین ان کی وراثت ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 5 صفحہ 384 سورۃ الانبیاء ۔105)
اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اولیاءِ کرام و صالحین عظام کو ‘ زمین کا وارث بنا دیا ، مالک کو اپنی ملکیت میں تصرف و اختیار کا حق حاصل ہوتا ہے ، یہ حضرات زمین میں صاحبِ تصرف و بااختیار ہوتے ہیں ، ان مقربین بارگاہِ خداوندی سے جو خلافِ عادت کام ظاہرہوتے ہیں اور خلاف عقل امور وقوع پذیر ہوتے ہیں ، اُنہیں "کرامات" کہا جاتا ہے۔
اہل سنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ
’’اولیاء کرام کی کرامتیں ثابت و برحق ہیں‘‘یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا ،
جیسا کہ فن عقائد میں پڑھائی جانے والی درسِ نظامی کی مشہور کتاب "شرح عقائد نسفی" میں مذکور ہے : وکرامات الاولياء حق ۔
ترجمہ : اولیاء کرام کی کرامات برحق ہیں ۔
(شرح العقائد النسفیۃ صفحہ 144،)
اولیاء اللہ سے ظاہر ہونے والی کرامت دراصل معجزہ نبی کا مظہر اور اسی کا فیضان ہوتی ہے ، اور کرامات اولیاء سے اہل زمانہ پر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ ولی جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اُنہی کا دین سچا اور حق ہے ، یہ جن کی نبوت کے قائل ہیں اُنہی کا قانون درست وصحیح ہے ، صالحین و بزرگانِ دین کی کرامات سے دین اسلام کی تائید و تصدیق ہوتی ہے ۔
"معجزہ" اور "کرامت" کا امتیازی فرق🌹
خلاف عادت اور خلافِ عقل و اقعات انبیاءِ کرام علیہم السلام کے بھی ہوتے ہیں اور اولیاۓ عظام کے بھی ‘اس طرح کے واقعات انبیاء کرام علیھم السلام کے حق میں ’’معجزہ‘‘ ہوتے ہیں اور اولیاءِ کرام کے حق میں ’’کرامت‘‘ قرار پاتے ہیں ۔
"معجزہ" اور "کرامت" کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ "معجزہ" سے مراد وہ خلاف عادت عمل ہے جو کسی نبی سے نبوت کی صداقت کی دلیل کے طور پرصادر ہوا ہو-اور’’کرامت‘‘ اس خلاف عادت عمل کو کہا جاتا ہے جو نبوت کے دعوے کے بغیر کسی مومن صالح سے ظاہر ہوتا ہے ۔
اگر کسی غیر مسلم اور بد عمل سے کوئی خلاف عادت ‘ واقعہ رونما ہو جائے تو اسے "استدراج" کہا جاتا ہے ، جیسا کہ شرح عقائد نسفی میں ہے : وکرامته :ظهور امر خارق للعادة من قبله غير مقارن لدعوی النبوة فما لا يکون مقرونا بالايمان والعمل الصالح يکون استدراجا۔وما يکون مقرونا بدعوی النبوة يکون معجزة ۔ (شرح العقائد النسفیۃ صفحہ 144)
کرامتیں واقع ہونے کی حکمت🌼
اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آخری نبی بنایا ، اب کوئی رسول یا کسی قسم کے نبی نہیں آئیں گے ، قیامت تک جتنے لوگ آئیں گے ، سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر ایمان لانے کے محتاج ہوں گے ، ظاہر ہے جو لوگ ابھی دائرئہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے ان کےلیے ایسے خلاف عادت واقعات معاون و مددگار ہوں گے ، یہ واقعات انہیں اسلام کی طرف مائل کریں گے اور ایمان لانے پر آمادہ کریں گے ،اس سبب سے کرامتوں کا واقع ہونا‘ ضروری ہے ، لہٰذا اس امت کے اولیاء کرام کی کرامتیں دیگر امتوں کے اولیاءِ کرام کی کرامتوں سے زیادہ ہیں ۔
جیسا کہ امام یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں
الحکمة في کثرة کرامات اولياء الامة المحمدية -والله اعلم-اظهار سيادته صلي الله عليه واله وسلم علی سائر الانبياء بکثرة معجزاته في حياته وبعد مماته ولکونه صلي الله عليه واله وسلم خاتم النبيين ، وحبيب رب العالمين ، واستمرار دينه المبين الي قيام الساعة فالحاجة الي اسباب التصديق به مستمرة، ومن اقوي هذه الاسباب کرامات امته التي هی في الحقيقة من جملة معجزاته صلي الله عليه واله وسلم -
ترجمہ : امت محمدیہ علی صاحبھا افضل الصلوۃ والسلام کے اولیاء کرام کی کرامتیں زیادہ ہونے کی حکمت - اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے - یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ میں اور آپ کے وصالِ اقدس کے بعد آپ کے معجزات کی کثرت کے ذریعہ تمام انبیاء کرام پر آپ کی سیادت وسرداری کا اظہار ہو ، کیونکہ آپ خاتم الانبیاء علہم السلام اور رب العالمین کے محبوب ہیں ، اور قیامت تک آپ کا دین مبین چلتا رہے گا ، اسی وجہ سے ضروری ہے کہ دین کی حقانیت و صداقت کے دلائل بھی ہر زمانہ میں ظاہر ہوتے رہیں ، اور ان مضبوط ترین دلائل میں آپ کی امت کے اولیاء کی کرامات ہیں جو در حقیقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے معجزات کا فیضان ہے ۔ (مقدمۃ جامع کرامات الاولیاء صفحہ 36،)
کرامات اولیاء کا اظہار کیوں ہوتا ہے ؟ اس کے اسباب ووجوہ اور منافع و فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ ابن قیم نے لکھا ہے : وانها انما تکون لحاجة في الدين او لمنفعة للاسلام والمسلمين فهذه هی الاحوال الرحمانية سببها متابعة الرسول ونتيجتها اظهار الحق وکسرالباطل ۔
ترجمہ : دین میں جب کوئی ضرورت لاحق ہوتی ہے تو اس کےلیے اور اسلام ومسلمانوں کی منفعت کی خاطر کرامات ظاہر ہوتی ہیں ، تو یہی رحمانی احوال ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع و پیروی کے سبب ان کرامات کا ظہور ہوتا ہے ، اس کا فائدہ اور نتیجہ حق ظاہرکرنا اور باطل کا زور توڑنا ہوتا ہے ۔ (زاد المعاد فصل فی فقہ ہذہ القصۃ)
علامہ ابن تیمیہ نے کرامات اولیاء کو تسلیم کیا ہے اور صحابہ و تابعین کی متعدد کرامات اپنی کتاب ’’اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان‘‘ میں ذکرکی ہیں ۔ (اولیاء الرحمن و اولیاء الشیطان کرامات الصحابۃ والتابعین)
قرآن کریم سے کرامت کا ثبوت🌹
خرقِ عادت امورکا ذکر قرآن شریف کی آیات مبارکہ میں موجودہے ، چنانچہ سورۂ اٰل عمران میں حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت‘ سورۂ کہف میں اصحاب کہف کی کرامت اور حضرت خضرعلیہ السلام کی کرامت ‘سورۂ مریم میں حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت اورسورۂ نمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے امتی حضرت آصف بن برخیاء رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت کا ذکرہے ۔
سوکھے درخت سے تازہ کھجور گرنے لگے🌼
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا موقع آیا تو آپ کی والدۂ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام ایک درخت کے تنے کے پاس آئیں ، جو سوکھا تھا ، اُس پر کھجورنہ تھے ، اللہ تعالی نے فرمایا : وَهُزِّیْ إِلَيْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْکِ رُطَبًا جَنِيًّا ۔
ترجمہ : اور کھجور کے درخت کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ ، یہ تم پر تازہ اور پکے کھجور گرادے گا ۔(سورۃمریم ۔25)
آیتِ مذکورہ میں بتایا گیا کہ حضرت مریم علیہاالسلام نے کھجور کے درخت کو ہاتھ لگایا تو وہ اسی وقت تروتازہ کھجور آپ کی گود میں ڈالنے لگا ، ظاہر ہے سوکھا ہوا درخت تروتازہ ہوتا ہے تو اُس کےلیے وقت درکار ہے ، مختصر لمحات یا چند گھنٹوں میں بے ثمر درخت پھلدار نہیں ہوتا ‘خشک درخت سرسبز نہیں ہوتا‘ سوکھے ہوئے درخت پر برگ و بار نظر نہیں آتے ، سوکھے درخت کا لمحہ بھرمیں تروتازہ اور پھلدار ہو جانا ‘یقیناً خداکی اس محبوب بندی کی کرامت ہے ۔
غیب سے بے موسم پھل کی آمد :🌼
حضرت مریم علیہا السلام کے پاس بند کمرہ میں بے موسم میوے آیا کرتے تھے جبکہ وہاں لانے والا کوئی نہ ہوتا‘ جیسا کہ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر :37میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
کُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَکَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنّٰی لَکِ هٰذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ إِنَّ اللّٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۔
ترجمہ : جب بھی (سیدنا) زکریا علیہ السلام ، حضرت مریم علیہا السلام کے پاس عبادت گاہ میں داخل ہوتے تو ان کے پاس کھانے کی چیزیں موجود پاتے،آپ نے فرمایا : اے مریم!یہ چیزیں تمہارے لئے کہاں سے آتی ہیں ؟انہوں نے کہا : (یہ رزق) اللہ تعالی کے پاس سے آتا ہے ، بیشک اللہ تعالی جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے ۔ (سورۃاٰل عمران۔37)
اس آیت کریمہ میں کرامت کی حقانیت کا واضح ثبوت ملتا ہے ، حضرت مریم علیہا السلام نبی نہیں تھیں بلکہ ایک ولیہ تھیں ، اور جب بھی حضرت زکریاعلیہ السلام آپ کے پاس تشریف لے جاتے تو ملاحظہ فرماتے کہ وہاں مختلف قسم کے پھل موجود ہوتے،گرما کے موسم میں سرما کا پھل میسرہوتا اور سرما کے موسم میں گرما کا پھل موجود ہوتا ۔
بغیر موسم کے پھل میسر آجانا اور غیب سے رزق کا آنا حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت ہے ۔
اصحابِ کہف کا تین سو نو (309) سال آرام فرمانا🌼
حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کے نیکوکار حضرات نے فتنہ و فساد سے بچنے اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کےلیے ایک غار میں پناہ لی اور تین سو نو (309) سال غار ہی میں قیام پذیر رہے ‘ جیسا کہ سورۂ کہف کی آیت نمبر 25 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَلَبِثُوْا فِيْ کَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِئَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا ۔
ترجمہ : اور وہ (اصحاب کہف) اپنے غار میں تین (300) سوسال ٹھہرے رہے اور انہوں نے اس پر نو (9)سال زیادہ کیے ۔ (سورۃ الکھف : 25)
اللہ تعالیٰ کے یہ نیک بندے تین سو نو (309) سال تک غار میں رہے،ان کے جسموں میں تغیر وتبدل نہ آیا،اس عرصۂ دراز تک نہ انہوں نے کچھ کھایا نہ پیا،انسانی جسم کا تقاضا کھانا پینا ہے ، کوئی شخص بغیر کھائے ،پئے سالوں سال تو درکنار کچھ ہفتے یا مہینے نہیں گزارسکتا ۔
اللہ تعالی کی عظیم قدرت سے اصحابِ کہف کی یہ کرامت ہے کہ انہوں نے تین سو نو (309) سال کا طویل عرصہ غار میں بغیر کچھ کھائے ‘ پیے گزارا ، ان کے جسم سلامت رہے ، اور ان کے در پر رہنے والا کُتَّا بھی محفوظ رہا ۔
نظامِ شمسی میں تغیر‘ اصحابِ کہف کی کرامت🌼
یہ ایک حقیقت ہے کہ سورج اپنے ایک مقررہ نظام کے تحت گردش کرتا ہے ، نکلنے اور ڈوبنے کے نظام میں نہ ایک سیکنڈ کےلیے تاخیر کرتا ہے نہ طلوع یا غروب کے وقت ایک لمحہ پہلے نکلتا ہے اور نہ ایک سینٹی میٹر یا ایک ملی میٹر ہٹ کر طلوع ہوتا ہے ، یہ قدرتی نظام ہے ، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کو یہ کرامت و بزرگی عطا فرمائی کہ اُن کی راحت وآرام کےلیے نظامِ شمسی میں تبدیلی واقع ہوئی ،
جیسا کہ سورۂ کہف کی آیت نمبر 17 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ آَيَاتِ اللَّهِ ۔
ترجمہ : اور آپ سورج کو دیکھیں گے کہ جب وہ نکلتا ہےتو ان کے غار سے دائیں جانب ہٹ کر گزرتا ہے اور جب وہ ڈوبتا ہے تو بائیں طرف کتراتا ہوا ڈوبتا ہے اور وہ (اصحابِ کہف) غار کے ایک کشادہ حصہ میں ہیں ، یہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے ۔ (سورۃ الکھف۔17)
اس آیت کریمہ میں اصحابِ کہف کی اس کرامت کا ذکر ہے کہ جتنا عرصہ انہوں نے غار میں گزارا اتنے عرصہ تک سورج نے اپنی روش کو تبدیل کردیا،جب وہ طلوع ہوتا تو دائیں جانب ہوجاتا اور جب غروب ہوتا تو بائیں جانب ہوکر غروب ہوتا،اس طرح سورج کی شعاعیں ان پر نہ پڑتیں ۔
سورج کا اپنے مقررہ نظام سے ہٹ کر اس طرح طلوع وغروب ہونا قدرتِ خدا وندی کی دلیل اور اصحاب کہف کی کرامت ہے ۔
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : وکان ذلک فعلاً خارقاً للعادة وکرامة عظيمة خص الله بها أصحاب الکهف ۔
ترجمہ : سورج کا اس طرح طلوع اور غروب ہونا ایک خلاف عادت واقعہ ہے اور وہ عظیم کرامت ہے جو اللہ تعالی نے اصحاب کہف کو عطا فرمائی ۔ (التفسیر الکبیر للرازی سورۃ الکھف۔17)
لمحہ بھر میں میلوں دور سے وزنی تخت حاضر کرنا ‘ آصف بن برخیاء کی کرامت
جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے لشکر سے فرمایا کہ تم میں کون ایسا شخص ہے جو بلقیس کے آنے سے پہلے ان کے تخت کو میرے پاس لے آئے؟تو جنات میں سے ایک قوی ہیکل جِن نے عرض کیا کہ آپ اپنے مقام سے اٹھنے سے قبل میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں ، آپ نے فرمایا : مجھے وہ تخت اور جلد چاہیے ! تب حضرت آصف بن برخیاء رحمۃ اللہ علیہ نے اجازت چاہی اور پلک جھپکنے سے پہلے آپ کی خدمت میں وہ تخت لے کر حاضر ہوگئے ۔
جیساکہ سورہ نمل کی آیت نمبر 40 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِنَ الْکِتَابِ أَنَا آَتِيْکَ بِهٖ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْکَ طَرْفُکَ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي ۔
ترجمہ : (حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں) ایک شخص نے عرض کیا : جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اس (تختِ بلقیس) کو آپ کے پاس لا سکتا ہوں ، اس سے قبل کہ آپ کی آنکھ جھپکے ۔ پھر جب (سلیمان علیہ السلام)نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا پایا تو فرمایا : یہ میرے رب کا فضل ہے ۔ (سورۃ النمل۔40)
اس آیت کریمہ میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کے امتی حضرت آصف بن برخیاء رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت مذکور ہے ۔
تختِ بلقیس سونے کا بنا ہوا تھا ، جس پر یاقوت ، زمرد اور موتیاں جڑی ہوئی تھیں ، وہ تخت سات محلوں میں سے اندر کے محل میں محفوظ رکھا ہوا تھا ، دروازے مقفل تھے ، پہرے دار نگرانی کررہے تھے ، یہ بات عقل میں نہیں آتی کہ اس قدر وزنی اور محفوظ تخت کو لمحہ بھر میں ایک ملک سے دوسرے ملک لایا جا سکے ، حضرت آصف بن برخیاء رحمۃ اللہ علیہ نے لمحہ بھر میں اس بھاری اور وزنی تخت کو ملکِ یمن سے ملک شام حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دیا ۔
جیسا کہ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے
وکان من ذهب مُفصَّص بالياقوت والزبرجد واللؤلؤ - فجعل في سبعة أبيات ، بعضها في بعض ، ثم أقفلت عليه الأبواب ... حتي إذا دنت جمع من عنده من الجن والإنس ، ممن تحت يديه ، فقال : (يا ايها الملأ ايكم يأتينی بعرشها قبل أن يأتوني مسلمين ) ۔ قال عفريت من الجن أنا آتيک به قبل أن تقوم من مقامک وإني عليه لقوي أمين ... فلما قال سليمان : أريد أعجل من ذلک ، ( قال الذی عنده علم من الکتاب) قال ابن عباس : وهو آصف کاتب سليمان ۔ و کذا روی محمد بن إسحاق، عن يزيد بن رومان: أنه آصف بن برخياء ... وسأله أن يأتيه بعرش بلقيس -وکان فی اليمن، وسليمان عليه السلام ببيت المقدس-(تفسیر ابن کثیر،سورۃ النمل۔40،)
مذکورہ آیاتِ مبارکہ سے کرامتوں کا صحیح اور برحق ہونا ‘ عیاں ہوتا ہے ۔
حدیث شریف سے کرامت کا ثبوت🌹
احادیث مبارکہ میں گزشتہ امتوں کے اولیاء کرام کی کرامتیں اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی کرامتیں تفصیل کے ساتھ وارد ہیں، جنہیں بیان کرنے کے لئے ایک مستقل کتاب لکھی جاسکتی ہے ، یہاں بطور استدلال ایک حدیث پاک ذکر کی جارہی ہے جس سے کرامت کی حقانیت واضح ہوتی ہے ،
چنانچہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ : إِنَّ اللَّهَ قَالَ مَنْ عَادَي لِيْ وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهٗ بِالْحَرْبِ ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِي بِشَيْئٍ أَحَبَّ إِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّی أُحِبَّهٗ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهٗ کُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهٖ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهٖ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا۔ وَإِنْ سَأَلَنِي لأُعْطِيَنَّهُ ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لأُعِيذَنَّهٗ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْئٍ أَنَا فَاعِلُهٗ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ ، يَکْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَهُ مَسَائَتَهُ -
ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھتا ہےمیں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں،اور میرا بندہ میری بارگاہ میں کسی چیز کے ذریعہ تقرب حاصل نہیں کیا جو اس فرض سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس کے ذمہ کیا ہے ،اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ‘پھر جب میں اسے اپنا محبوب بنالیتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتا ہے،میں اس کی آنکھ ہوجاتاہوں جس سے وہ دیکھتا ہے،میں اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے،میں اس کے پیر ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں ضرور بضرور اسے عطا کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ طلب کرے تو ضرور بضرورمیں اسے پناہ دیتا ہوںاور میں کسی چیز کو کرنا چاہوں تو اس سے توقف نہیں کرتا ،جس طرح مومن کی جان لینے سے توقف کرتا ہوں جبکہ وہ موت کو ناپسند کرے،اور میں اس کو تکلیف دینا گوارا نہیں کرتا ۔ (صحیح البخاری ،کتاب الرقاق، باب التواضع ،حدیث نمبر:6502)
اس حدیث قدسی سے اولیاء کرام و صالحین امت کی عظمت و جلالت کا اظہار ہوتا ہے اور ان کی کرامات کا ثبوت ملتا ہے کہ جب ان کی سماعت و بصارت ، کلام و حرکت میں قدرت الہی کار فرما ہے تو وہ اپنے کان سے قریب کی بھی سنتے ہیں اور دور کی بھی ، اپنی آنکھ سے قریب کو بھی دیکھ لیتے ہیں اور دور کو بھی ، اپنے ہاتھ میں غیر معمولی قوت رکھتے ہیں ، اپنے پیر میں زبردست طاقت رکھتے ہیں، اسی وجہ سے اولیاء کرام اپنی قوت سماعت سے وہ آواز سنتے ہیں جو دوسرے نہیں سن سکتے ، اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھتے ہیں جسے عام نگاہ نہیںدیکھ سکتی، اپنے ہاتھوں میں گرفت ودستگیری کی وہ قوت رکھتے ہیں جو دوسروں کے پاس نہیں ہوتی ، وہ اپنا زورِ قدم اس طور پر رکھتے ہیں کہ آن واحد میں کئی منازل طے کرلیتے ہیں ۔
احادیث شریفہ میں سابقہ امتوں کے اولیاء عظام اور صحابہ کرام کی کرامتیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئیں، علماء اعلام نے کرامات کے اثبات وبیان میں ضخیم کتابیں تصنیف کی ہیں ،اس سلسلہ میں امام ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 430ھ )کی کتاب ’’حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء ‘‘،امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ھوازن قشیری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 465ھ) کی کتاب ’’الرسالۃ القشیریۃ‘‘، علامہ عبداللہ بن اسعد یافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 768ھ)کی کتاب ’’روض الریاحین فی حکایات الصالحین ‘‘اور علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1350ھ) کی کتاب’’جامع کرامات الاولیاء ‘‘ بالخصوص قابلِ دید ہیں ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ولی کی طرف سے بغیر دعویٰ نبوت کیے خلافِ عادت کام کے ظاہر ہونے کو ’’کرامت‘‘ کہتے ہیں ۔ کراماتِ اولیاء حق ہیں ، جس پر قرآن وسنت اور اسلاف کی کتب معتمدہ سے کثیر دلائل موجود ہیں ۔ یہ عقیدہ ضروریاتِ مذہبِ اہلسنت میں سے ہے ۔ لہذا جو کراماتِ اولیاء کا انکار کرے ، وہ بدمذہب وگمراہ ہے ۔
اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان علیہ السلام کے قول کی حکایت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
قَالَ یٰٓاَیُّہَا الْمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِہَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ، قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَ ، وَ اِنِّیْ عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ ، قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ ۔
ترجمہ : سلیمان ( علیہ السلام )نے فرمایا : اے درباریو ! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں ؟ ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کر دوں گا، قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بے شک اس پر قوت والا ، امانتدار ہوں ۔ اس نے عرض کی ، جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کر دوں گا، ایک پل مارنے سے پہلے ۔ (پارہ 19، سورۃ النمل، آیت 38،39،40)
مفتی احمدیار خان نعیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اس سے معلوم ہوا کہ ولایت برحق ہے اور اولیاء اللہ کی کرامات بھی برحق ہیں ۔ (نورالعرفان صفحہ 816 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ)
مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے :
کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ ، وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا ، قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ، قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ۔
ترجمہ : جب زکریا اس (مریم) کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے ، اس کے پاس نیا رزق پاتے ، کہا : اے مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ؟ بولیں : وہ اللہ کے پاس سے ہے ۔ (پارہ 3، سورۂ آل عمران، آیت37)
تفسیر خزائن العرفان میں ہے : یہ آیت کراماتِ اولیاء کے ثبوت کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں پر خوارق ( کرامات ) ظاہرفرماتا ہے ۔ (تفسیر خزائن العرفان صفحہ98 مطبوعہ ضیاء القرآن)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ باب الکرامات کے تحت فرماتے ہیں :
کرامات جمع ہے کرامت کی بمعنی تعظیم واحترام ۔ اصطلاحِ شریعت میں کرامت وہ عجیب وغریب چیز ہے، جو ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو ۔ حق یہ ہے کہ جو چیز نبی کا معجزہ بن سکتی ہے ، وہ ولی کی کرامت بھی بن سکتی ہے ، سوا اُس معجزہ کے جو دلیلِ نبوت ہو ۔ جیسے وحی اور آیات قرآنیہ ۔ معتزلہ کرامات کا انکار کرتے ہیں ، اہل سنت کے نزدیک کرامت حق ہے ۔ آصف بن برخیا کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو یمن سے شام میں لے آنا ، حضرت مریم کا بغیر خاوند حاملہ ہونا اور غیبی رزق کھانا ، اصحابِ کہف کا بے کھانا ، پانی صدہا سال تک زندہ رہنا کراماتِ اولیاء ہیں ، جو قرآن مجید سے ثابت ہیں۔حضور غوث پاک کی کرامات شمار سے زیادہ ہیں ۔ (مراۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 268 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ)
امام ملا علی قاری رحمہ اللہ باب الکرامات کے تحت فرماتے ہیں : الکرامات جمع کرامۃ وھی اسم من الاکرام والتکریم وھی فعل خارق للعادۃ غیر مقرون بالتحدی وقد اعترف بھا اھل السنۃ وانکرھا المعتزلۃ واحتج اھل السنۃ بحدوث الحبل لمریم من غیر فحل وحصول الرزق عندھا من غیر سبب ظاھر وایضاً ففی قصۃ اصحاب الکھف فی الغار ثلٰثمائۃ سنۃ وازید فی النوم احیاء من غیر اٰفۃ دلیل ظاھر وکذا فی احضار اٰصف بن برخیا عرش بلقیس قبل ارتداد الطرف حجۃ واضحۃ ۔ مفہوم اوپر مذکور ہوا ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 11 صفحہ 88 مطبوعہ کوئٹہ،)
امام نسفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
کرامات الاولیاء حق فتظھر الکرامۃ علیٰ طریق نقض العادۃ للولی من قطع مسافۃ البعیدۃ فی المدۃ القلیلۃ ۔
ترجمہ : اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں ، پس ولی کی کرامت خلافِ عادت سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ مسافتِ بعیدہ کو مدتِ قلیلہ میں طے کر لے ۔
اس کی شرح میں علامہ تفتازانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :
کأتیان صاحب سلیمان علیہ السلام وھو اٰصف بن برخیا علی الاشھر بعرش بلقیس قبل ارتداد الطرف مع بعد المسافۃ ۔
ترجمہ : مثلاً صاحبِ سلیمان علیہ السلام آصف بن برخیا کا تخت بلقیس کو پلک جھپکنے سے پہلے مسافت بعیدہ سے لے آنا ۔ (شرح العقائد النسفیہ مع متن العقائد، صفحہ 146 مطبوعہ ملتان)
شرح فقہ اکبر میں ہے :
الکرامات للاولیاء حق ای ثابت بالکتاب والسنۃ ولا عبرۃ بمخالفۃ المعتزلۃ واھل البدعۃ فی انکار الکرامۃ ۔
ترجمہ : کراماتِ اولیاء حق ہیں ۔ یعنی قرآن و سنت سے ثابت ہیں اور معتزلہ اور بدعتیوں کا کراماتِ اولیاء کا انکار کرنا معتبر نہیں ۔ (شرح فقہ اکبر صفحہ 130 مطبوعہ ملتان،)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : کراماتِ اولیاء کا انکار گمراہی ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 14صفحہ 324 رضا فاؤنڈیشن ، لاہور )
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کرامتِ اولیا حق ہے ، اس کا منکر گمراہ ہے ۔ مردہ زندہ کرنا ، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دینا ، مشرق سے مغرب تک ساری زمین ایک قدم میں طے کرجانا ، غرض تمام خوارقِ عادات (خلافِ عادات کام) اولیاء سے ممکن ہیں ، سوا اُس معجزہ کے جس کی بابت دوسروں کےلیے ممانعت ثابت ہو چکی ہے ۔ جیسے قرآن مجید کے مثل کوئی سورت لے آنا یا دنیا میں بیداری میں اللہ عزوجل کے دیدار یا کلامِ حقیقی سے مشرف ہونا ، اس کا جو اپنے یا کسی ولی کےلیے دعویٰ کرے ، کافر ہے ۔ (بہارِ شریعت جلد 1 صفحہ 268 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،)
کرامت کے صدور کا اختیار ولی کے پاس : ⬇
کسی غیر نبی سے خارقِ عادت ، مافوق الفطرت اور خلافِ عقل فعل کا صدور کرامت کہلاتا ہے ۔ کرامت کا صدور اگرچہ بندے سے ہوتا ہے مگر اس کا فاعلِ حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی شخص کچھ چاہ بھی نہیں سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ۔
ترجمہ : اور تم خود کچھ نہیں چاہ سکتے سوائے اس کے جو اللہ چاہے ، بے شک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ (سورہ الدَّهْر ، 76 : 30)
اور سورہ تکویر میں فرمایا ہے :
وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ۔
ترجمہ : اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ چاہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ (سورہ التَّکْوِيْر 81 : 29)
اس لیے جب عین فطرت اور عادت کے مطابق ہونے والے افعال کا صدور بھی بغیر حکمِ الٰہی کے ممکن نہیں تو خارقِ عادت واقعہ بغیر اذنِ الٰہی کے کیسے وقوع پذیر ہو سکتا ہے ؟ اس لیے کرامت کا اذن بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور وہ جس کو جتنا چاہے اس میں اختیار عطا فرما دے ۔ ارشادِ ربانی ہے :
قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَـنْـزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔
ترجمہ : (اے حبیب! یوں) عرض کیجیے : اے ﷲ ، سلطنت کے مالک ! تُو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے ، ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے ، بیشک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے ۔ (سورہ آل عِمْرَان، 3: 26)
حدیثِ قدسی میں بیان کیا گیا ہے کہ نیک و صالح ہستیوں کو ان کی عبادت و ریاضت اور صالحیت کے سبب اس قدر قربِ خداوندی عطا ہوتا ہے کہ ان کا دیکھنا ، سننا پکڑنا اور چلنا عین اطاعتِ خداوندی میں آجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اولیاء اللہ سے کرامات کا صدور ہوتا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے قرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے پسند ہیں اور میں نے اُس پر فرض کی ہیں ۔
مزید فرمایا :
وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ: كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ المُؤْمِنِ، يَكْرَهُ المَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ ۔
ترجمہ : اور میرا بندہ برابر نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں ۔ اور جب میں اُس سے محبت کرتا ہوں تو اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے اور اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے اور اس کا قدم بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے ۔ اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں ضرور اسے عطا فرماتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ پکڑے تو ضرور میں اسے پناہ دیتا ہوں اور کسی کام میں مجھے تردد نہیں ہوتا جس کو میں کرتا ہوں مگر مومن کی موت کو برا سمجھنے میں ، کیونکہ میں اس کے اس برا سمجھنے کو برا سمجھتا ہوں ۔ (بخاري، الصحيح، كتاب الرقاق، باب التواضع ، 5 : 2384 ، رقم : 6137 ، بيروت دار ابن كثير اليمامة،)
درج بالا تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے جس قدر چاہے اختیار عطا فرماتا ہے ، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ۔ ہم اس اختیار کا ناپ تول نہیں کر سکتے ۔
اولیاء اللہ کے اس اختیار کی مثالیں قرآن و حدیث میں بےشمار مواقع پر بیان کی گئی ہیں ۔ اختصار کی خاطر ان میں دو مثالیں درج ذیل ہیں : ⬇
حضرت سلمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا فرمایا تو وہاں موجود ایک جن نے اس کےلیے اپنے مقام سے اٹھنے تک کی مہلت مانگی لیکن آپ علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص آصف بن برخیا نے پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ تخت لاکر آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔
قرآنِ مجید میں یہ واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے :
قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ۔
ترجمہ : (پھر) ایک ایسے شخص نے عرض کیا جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا کچھ علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ کی نگاہ آپ کی طرف پلٹے (یعنی پلک جھپکنے سے بھی پہلے) ، پھر جب (سلیمان علیہ السلام نے) اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا (تو) کہا : یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر گزاری کرتا ہوں یا نا شکری ، اور جس نے (اللہ کا) شکر ادا کیا سو وہ محض اپنی ہی ذات کے فائدہ کےلیے شکر مندی کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو بیشک میرا رب بے نیاز ، کرم فرمانے والا ہے ۔
(سورہ النَّمْل، 27: 40)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر بھیجا جس کا سردار حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ، پھر اچانک حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ کے دوران پکارنے لگے : يَا سَارِيَةُ الْجَبَل ، يَا سَارِيَةُ الْجَبَل ، يَا سَارِيَةُ الْجَبَل ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ الْجَيْشِ فَسَأَلَهُ عُمَرُ، فَقَال : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هُزِمْنَا، فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتًا يُنَادِي: يَا سَارِيَةُ إِلَى الْجَبَل ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا إِلَى الْجَبَل فَهَزَمَهُمُ اللهُ تَعَالَى، وَكَانَتِ الْمَسَافَةُ بَيْنَ الْمَدِينَةِ حَيْثُ كَانَ يَخْطُبُ عُمَرُ وَبَيْنَ مَكَانِ الْجَيْشِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ۔
ترجمہ : اے ساریہ پہاڑ کی طرف دیکھو ! اے ساریہ پہاڑ کی طرف دیکھو ! اے ساریہ پہاڑ کی طرف دیکھو ! پھر لشکر کا قاصد آیا تو حضرت عمر عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا ۔ وہ عرض گذار ہوا : اے امیر المومنین ہم شکست خوردہ ہو گئے ، ہم اسی حالت میں تھے کہ ہم نے ایک آواز سنی ، کوئی پکار رہا تھا : اے ساریہ پہاڑ کی طرف دیکھو ، یہ بات اس نے تین بار کہی ، تو ہم نے اپنی پشت کو پہاڑ کی طرف کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دیدی اور جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے ، اس وقت مدینہ منورہ اور لشکر کی جگہ کے درمیان ایک ماہ کی مسافت تھی ۔ (صهيب عبد الجبار، الجامع الصحيح للسنن والمسانيد، 15: 333، الكتاب غير مطبوع)
معلوم ہوا کہ کرامت اللہ تعالیٰ کا اپنے اولیاء اور نیک بندوں کو عزت و توقیر دینے کا نام ہے ۔ جس کو جس قدر چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ۔
======================
مزارات اولیاء اللہ پر حاضری اور خرافات🌹
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے مزارات شعائر اللہ ہیں‘ ان کا احترام و ادب ہر مسلمان پر لازم ہے‘ خاصان خدا ہر دور میں مزارات اولیاء پر حاضر ہو کر فیض حاصل کرتے رہے ہیں ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزار پر حاضر ہو کر سے فیض حاصل کیا کرتے تھے ۔ پھر تابعین کرام صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مزارات پر حاضر ہوکر فیض حاصل کیا کرتے تھے‘ پھر تبع تابعین‘ تابعین کرام کے مزارات پر حاضر ہوکر فیض حاصل کیا کرتے تھے‘ تبع تابعین اور اولیاء کرام کے مزارات پر آج تک عوام وخواص حاضر ہوکر فیض حاصل کرتے ہیں اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ مزاراتِ اولیاء پر جانا جائز اور مستحب کام ہے ۔ جیسا کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیاتھا ۔ اب زیارت کیا کرو ۔ (مسلم شریف ، کتاب الجنائز، ،حدیث نمبر 2260، مطبوعہ دارالسلام، ریاض سعودی عرب)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ جیسا کہ مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں گریہ فرمایا اور جو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے وہ بھی روئے ۔ (مسلم شریف ، کتاب الجنائز،حدیث 2258، مطبوعہ دارالسلام، ریاض سعودی عرب)
فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب رد المحتار میں حضور خاتم المحققین ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ (وصال1252ھ) فرماتے ہیں : امام بخاری علیہ الرحمہ کے استاد امام ابن ابی شیبہ علیہ الرحمہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سال شہداء احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے تھے ۔ (رد المحتار ، باب مطلب فی زیارۃ القبور ،مطبوعہ دارالفکر، بیروت،)
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (سن وصال606ھ) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سال شہداء احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد چاروں خلفاء کرام علیہم الرضوان بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔ (تفسیر کبیر، زیر تحت آیت نمبر 20، سورہ الرعد)
صحابہ کرام علیہم الرضوان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزار اقدس پر حاضری دیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ حضرت مالک دار رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر اطہر پر آئے اور عرض کیا ۔ یارسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ اپنی امت کے لئے بارش مانگئے کیونکہ وہ ہلاک ہوگئی ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، حدیث نمبر 32002، مکتبہ الرشد، ریاض، سعودی عرب،)
اس سے ملوم ہوا کہ زیارت مزار کے ساتھ، صاحبِ مزار سے مدد طلب کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ ہے ۔
حضرت داؤد بن صالح سے مروی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز مروان آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزارِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ، تو اس (مروان) نے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ توکیا کر رہا ہے ؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی ﷲ عنہ تھے ۔ اور انہوں نے جواب دیا۔ ہاں میں جانتا ہوں ۔ میں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا ہوں ’’لم ات الحجر‘‘ میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا ۔ (مسند امام احمد بن حنبل،حدیث نمبر 23646، مطبوعہ دارالفکر ، بیروت،)
ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ : حدیث شریف میں ہے کہ تین مسجدوں (مسجد حرام ، مسجد اقصیٰ اور مسجد نبوی شریف) کے سوا کسی جگہ کا سفر نہ کیا جائے ۔ پھر لوگ مزارات اولیاء پر حاضری کی نیت سے سفر کیوں کرتے ہیں ؟
جواب : اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان تینوں مسجدوں میں نماز کا ثواب زیادہ ملتا ہے ۔ لہٰذا ان مساجد میں یہ نیت کرکے دور سے آنا چونکہ فائدہ مند ہے ، جائز ہے ۔ لیکن کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا ’’یہ سمجھ کر‘‘ کہ وہاں ثواب زیادہ ملتا ہے ۔ یہ ناجائز ہے کیونکہ ہر جگہ کی مسجد میں ثواب یکساں ہے اور حدیث میں اسی نیت سے سفر کو منع فرمایا ہے ۔ آج لوگ تجارت کے لئے سفر کرتے ہیں ۔ علم دین کے لئے سفر کرتے ہیں۔ تبلیغ کے لئے سفر کرتے ہیں اور بے شمار دنیاوی کاموں کےلیے مختلف قسم کے سفر کئے جاتے ہیں ۔ کیا یہ سب سفر حرام ہوں گے ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ سارے سفر جائز ہیں اور ان کا انکار کوئی بھی نہیں کر سکتا ۔ تو پھر مزارات اولیاء کے لئے سفر کرنا ناجائز کیوں ہوگا بلکہ لاکھوں شافعیوں کے پیشوا امام شافعی علیہ الرحمہ (سن وصال 204ھ) فرماتے ہیں : میں امام ابو حنیفہ رضی ﷲ عنہ سے برکت حاصل کرتا اور ان کے مزار پر آتا ہوں ۔ اگر مجھے کوئی حاجت درپیش ہوتی ہے تو دو رکعتیں پڑھتا ہوں اور ان کے مزار کے پاس جاکر ﷲ سے دعا کرتا ہوں تو حاجت جلد پوری ہوجاتی ہے ۔ (رد المحتار، مقدمہ، مطبوعہ دارالفکر ، بیروت،)
امام شافعی علیہ الرحمہ اپنے وطن فلسطین سے عراق کا سفر کرکے امام صاحب رضی اللہ عنہ کے مزار پر تشریف لاتے تھے اور مزار سے برکتیں بھی حاصل کرتے تھے ۔ کیا ان کا یہ سفر کرنا بھی ناجائز تھا ؟
محمد بن معمر سے روایت ہے کہ کہتے ہیں : امام المحدثین ابوبکر بن خذیمہ علیہ الرحمہ ، شیخ المحدثین ابو علی ثقفی علیہ الرحمہ اور ان کے ساتھ کئی مشائخ امام علی رضا بن موسیٰ رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کے مزار پر حاضر ہوئے اور مزار کی خوب تعظیم فرمائی ۔ (تہذیب التہذیب حروف العین المہملہ مطبوعہ دارالفکر بیروت،چشتی)
اگر مزاراتِ اولیاء اللہ پر جانا شرک ہوتا تو ؟
کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ اور شہداء احد کے مزاروں پر تشریف لے جاتے ؟
کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزار پر انوار پر حاضری دیتے ؟ کیا تابعین ، محدثین ، مفسرین ، مجتہدین مزارات اولیاء پر حاضری کے لئے سفر کرتے ؟
پتہ چلا مزارات پر حاضری حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور امت کے مجتہدین، محدثین اور مفسرین کی سنت ہے اور یہی اہلِ اسلام کا طریقہ رہا ہے اور اس مبارک عمل پر شرک کے فتویٰ دینے والے صراط ِمستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں ۔ ان کی اسی روش نے ان کے ہم خیال دھشت گرد گروە کو تشدد کی راە دی اور آج مزارات اولیاء کو وھابی دھشت گرد بموں سے شھید کر رہے ہیں ۔ جبکہ وھابیوں نے حرمین کے قبرستانوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و اکابرین کے مزارات کو زمین بوس کر دیا ۔
مزاراتِ اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ پر ہونے والی خرافات🌹
اکثر مخالفین مزاراتِ اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ پر ہونے والی خرافات کو امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مزارات اولیاء پر ہونے والی خرافات کا اہلسنت و جماعت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ نے اپنی تصانیف میں ان کا رد بلیغ فرمایا ہے ۔ لادینی قوتوں کا یہ ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ مقدس مقامات کو بدنام کرنے کےلیے وہاں خرافات و منکرات کا بازار گرم کرواتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے مقدس مقامات اور شعائرﷲ کی تعظیم و ادب ختم کیا جا سکے ۔ یہ سلسلہ سب سے پہلے بیت المقدس سے شروع کیا گیا ۔ وہاں فحاشی و عریانی کے اڈے قائم کیے گئے‘ شرابیں فروخت کی جانے لگیں اور دنیا بھر سے لوگ صرف عیاشی کرنے کے لئے بیت المقدس آتے تھے ۔ (معاذ ﷲ) ۔ اسی طرح آج بھی مزارات اولیاء پر خرافات‘ منکرات‘ چرس و بھنگ‘ ڈھول تماشے‘ ناچ گانے اور رقص و سرور کی محافلیں سجائی جاتی ہیں تاکہ مسلمان ان مقدس ہستیوں سے بدظن ہوکر یہاں کا رخ نہ کریں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بعض لوگ یہ تمام خرافات اہلسنت اور امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں جوکہ بہت سخت قسم کی خیانت ہے ۔ اس بات کو بھی مشہور کیا جاتا ہے کہ یہ سارے کام جو غلط ہیں‘ یہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ کی تعلیمات ہیں ۔ پھر اس طرح عوام الناس کو اہلسنت اور امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ سے برگشتہ کیا جاتا ہے ۔ اگر ہم لوگ امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ کی کتابوں اور آپ کے فرامین کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بدعات و منکرات کے قاطع یعنی ختم کرنے والے تھے ۔ اب مزارات پر ہونے والے خرافات کے متعلق آپ ہی کے فرامین اور کتابوں سے اصل حقیقت ملاحظہ کریں اور اپنی بدگمانی کو دور کریں ۔
مزار شریف کو بوسہ دینا اور طواف کرنا
امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص خانہ کعبہ ہے۔ مزار شریف کو بوسہ نہیں دینا چاہئے ۔ علماء کا اس مسئلے میں اختلاف ہے مگر بوسہ دینے سے بچنا بہتر ہے اور اسی میں ادب زیادہ ہے ۔ آستانہ بوسی میں حرج نہیں اور آنکھوں سے لگانا بھی جائز کہ اس سے شرع میں ممانعت نہ آئی اور جس چیز کو شرح نے منع نہ فرمایا وہ منع نہیں ہو سکتی ۔ ﷲ تعالیٰ کا فرمان ’’ان الحکم الا ﷲ‘‘ ہاتھ باندھے الٹے پاٶں آنا ایک طرز ادب ہے اور جس ادب سے شرح نے منع نہ فرمایا اس میں حرج نہیں ۔ ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذا کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز (بچا) کیا جائے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 8‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
روضہ انور پر حاضری کا صحیح طریقہ
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ : خبردار جالی شریف (حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزار شریف کی سنہری جالیوں) کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلافِ ادب ہے بلکہ (جالی شریف) سے چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاٶ ۔ یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کو اپنے حضور بلایا‘ اپنے مواجہ اقدس میں جگہ بخشی‘ ان کی نگاہ کرم اگرچہ ہر جگہ تمہاری طرف تھی اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 10 ص 765‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)
روضہ انور پر طواف و سجدہ منع ہے
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : روضہ انور کا طواف نہ کرو‘ نہ سجدہ کرو‘ نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو ۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد 10ص 769 مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور،)
معلوم ہوا کہ مزارات پر سجدہ کرنے والے لوگ جہلا میں سے ہیں اور جہلاء کی حرکت کو تمام اہلسنت پر ڈالنا سراسر خیانت ہے‘ اور امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔
مزارات پر چادر چڑھانا
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے مزارات پر چادر چڑھانے کے متعلق دریافت کیا تو جواب دیا جب چادر موجود ہو اور ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام اس میں صرف کریں ﷲ تعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کےلیے محتاج کو دیں ۔ (احکام شریعت حصہ اول صفحہ 42)
عرس کا دن خاص کیوں کیا جاتا ہے
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ بزرگان دین کے اعراس کی تعین (یعنی عرس کا دن مقرر کرنے) میں بھی کوئی مصلحت ہے ؟
آپ سے جواباً ارشاد فرمایا ہاں اولیائے کرام کی ارواح طیبہ کو ان کے وصال کے دن قبور کریمہ کی طرف توجہ زیادہ ہوتی ہے چنانچہ وہ وقت جو خاص وصال کا ہے ۔ اخذ برکات کے لئے زیادہ مناسب ہوتا ہے ۔ (ملفوظات صفحہ 383 مطبوعہ مکتبتہ المدینہ ک