Idara Misbah-ul-Quran International Trust

Idara Misbah-ul-Quran International Trust Our aim is to share QURANIC, HADITH and HISTORICAL events and strengthen their beliefs.
(1)

قاہرہ مصر:محدث کبیر ،حنفی امام ،حضرت امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ (المتوفی 197ھ) کے مزار مبارک پر حاضری ۔ آپ کا مزار مب...
01/05/2026

قاہرہ مصر:
محدث کبیر ،حنفی امام ،حضرت امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ (المتوفی 197ھ) کے مزار مبارک پر حاضری ۔
آپ کا مزار مبارک امام شافعی کے مزار مبارک کے عقب کی دیوار کے ساتھ ملحق ہے ، ساتھ امام ورش رحمہ اللہ کا مزار مبارک بھی ہے ۔

اس سال پاکستانی حجاج کو فراہم کردہ مکتب کی تفصیل
01/05/2026

اس سال پاکستانی حجاج کو فراہم کردہ مکتب کی تفصیل

01/05/2026
01/05/2026

خدمت حجاج کرام

دنیا کی واحد مسجد جس کے  8 محراب ہیں مسجد النبوی الشریف1. محرابِ نبوی (المحراب النبوي)یہ وہ بنیادی محراب ہے جہاں سے حضور...
29/04/2026

دنیا کی واحد مسجد جس کے 8 محراب ہیں
مسجد النبوی الشریف

1. محرابِ نبوی (المحراب النبوي)
یہ وہ بنیادی محراب ہے جہاں سے حضور اکرم ﷺ نماز کی امامت فرماتے تھے۔ یہ روضہ رسول ﷺ کے قریب واقع ہے اور اس کی موجودہ شکل عثمانی دور کی تعمیر کردہ ہے۔

2. محرابِ تہجد (محراب التهجد)
یہ محراب رسول اللہ ﷺ کے تہجد پڑھنے کی جگہ پر بنایا گیا ہے، جو حجرہ مبارکہ (روضہ رسول ﷺ) کے پیچھے کی جانب واقع ہے۔

3. محرابِ فاطمہ (محراب فاطمة)
یہ محراب حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے حجرے کے اندر واقع ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا محراب ہے جو اس جگہ کی نشاندہی کرتا ہے جہاں وہ عبادت فرمایا کرتی تھیں۔

4. محرابِ عثمانی (المحراب العثماني)
یہ مسجد نبوی کی موجودہ بیرونی مغرب دیوار میں واقع ہے جہاں سے اب امام نماز نہیں پڑھاتے ہیں۔ یہ محراب باب السلام سے داخل ہوتے ہوئے دائیں جانب موجود ہے اسے خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مسجد کی توسیع کے دوران بنوایا تھا۔

5. محرابِ سلیمانی (المحراب السليماني)
اسے "محرابِ حنفی" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سلطان سلیمان قانونی نے 938ھ میں تعمیر کروایا تھا تاکہ حنفی امام یہاں سے امامت کر سکیں۔

6.محراب حضرت عمر رضی اللہ عنه
یہ جگہ ہے جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنه کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کرتے تھے

7. قبلہ اول کی سمت میں محراب
یہ مہراب اس جگہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ ❤️ قبلہ اول کی سمت منہ کر نماز پڑھایا کرتے تھے

8. تحویل قبلہ کے بعد رسول اللہ ﷺ ❤️ نے کچھ وقت یہاں کھڑے ہو کر نماز پڑھائی

صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم ❤️❤️❤️

29/04/2026

حج کی تیاریاں 2026

عربی انگلش اردوتینوں زبانیں ساتھ ساتھ
25/04/2026

عربی انگلش اردو
تینوں زبانیں ساتھ ساتھ

فضائلِ مدینہ منورہ اور بارگاہِ رسول ﷺ کی حاضری حصّہ اوّل٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ارشادِ ...
24/04/2026

فضائلِ مدینہ منورہ اور بارگاہِ رسول ﷺ کی حاضری حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا (سورة النساء 64)
ترجمہ : اگر وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے پاس حاضر ہو کر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول ان کی مغفرت مانگے تو ضرور خدا کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔

مدینہ منورہ کائنات ارض و سماوات کا وہ نگینہ ہے ، جہاں ہر لمحہ آسمان سے رحمت کی رم جھم برستی رہتی ہے ، ساکنانِ مدینہ سائبان کرم میں رہتے ہیں اہل مدینہ کو مدینہ کا شہری ہونے کے باعث بے پناہ فضیلت حاصل ہے ۔ یہ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کے شب و روز کا ہر لمحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادرِ رحمت کے سائے میں گزرتا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں کا حصار انہیں اپنے دامنِ عطاء و بخشش میں چھپا لیتا ہے ۔ اہل مدینہ کو بتقاضائے بشریت اگر کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اس پر صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حرف شکوہ زبان پر نہیں آنے دیتے
تو ایسے اہل مدینہ کے بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مدینہ منورہ کی سختیوں اور مصیبتوں پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑے گا قیامت کے روز میں اس شخص کے حق میں گواہی دوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا ۔
(صحيح مسلم کتاب الحج باب الترغيب فی سکنی المدينة والصبر علی لاوائها جلد 2 صفحہ 1004 رقم : 1377)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عالَم حیات ظاہری میں حضور (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونا) ظاہر تھا ، اب حضورِمزار پُر انوار ہے اور جہاں یہ بھی مُیَسَّر نہ ہو تو دل سے حضور پُر نور کی طرف توجہ ، حضور سے تَوَسُّل ، فریاد ، اِستِغاثہ ، طلبِ شفاعت (کی جائے) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب بھی ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں ۔
امام علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں : رُوْحُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ حَاضِرَۃٌ فِیْ بُیُوْتِ اَھْلِ الْاِسْلَامِ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں ۔ (فتاوی رضویہ، ۱۵/۶۵۴)

قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمتہ نقل کرتے ہیں کہ :
حضرت عمرو بن دینار رحمة ﷲ علیہ نے فرمایا : ان لم یکن فی البیت احد فقل : السلام علی النبی و رحمة ﷲ و برکاتہ السلام علینا وعلیٰ عبادﷲ الصالحین السلام علیٰ اھل البیت و رحمة ﷲ وبرکاتہ "
ترجمہ : اگر کوئی گھر میں نہ ہو تو (داخل ہوتے وقت) یوں کہو : السلام علی النبی و رحمةﷲ وبرکاتہ السلام علینا وعلیٰ عبادﷲ الصالحین السلام علیٰ اھل البیت ورحمتہﷲ وبرکاتہ ۔
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الجزء الثانی صفحہ ٣٠٧ القاضی ابی الفضل عیاض بن موسیٰ بن عیاض المالکی ٥٤٤ھ الیحصُبی الاندلسی ثم المراکشی مطبوعہ دارالحدیث القاھرہ مصر)۔(کتاب الشفاء مترجم اردو جلد دوم صفحہ 64 مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)

شفاء شریف کی شرح کرتے ہوئے امام ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمتہ اس مقام پر آکر یوں فرماتے ہیں :
لان روحہ علیہ السلام حاضر فی بیوت اھل الاسلام ۔
ترجمہ : (یعنی السلام علی النبی ورحمةﷲ وبرکاتہ کا حکم اس لیے کیونکہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح ہر مسلمان کے گھر میں حاضر ہوتی ہے ل۔
(شرح الشفاء الجزء الثانی صفحہ ١١٨ الملا علی قاری الھروی الحنفی علیہ الرحمہ (متوفی ١٠١٤ھ) مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

الحمد للہ اہلسنت کے وہی عقائد ہیں جو اکابرین اہلسنت کے تھے : حیرت والی بات یہ ہے کہ اکابرین و سلف صالحین علیہم الرّحمہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر مسلمان کے گھر جلوہ فرما مانیں تو ان کے ایمان کی بنیاد مضبوط کی مضبوط ہی رہتی ہے اور اگر متاخرین بزرگانِ اہلسنت اسی عقیدے کو " حاضر و ناظر " کے عنوان سے بیان فرمائیں تو شرک کے فتوے صادر فرما دیئے جاتے ہیں ۔ مخالفین کا یہ دوہرا معیار سمجھ سے بالاتر ہے ۔

یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اور وصالِ ظاہری کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزار پر انوار پر حاضری دے کر اپنے گناہوں کی معافی چاہنے، اپنی مغفرت ونجات کی اِلتِجاء کرنے اور اپنی مشکلات کی دوری چاہنے کا سلسلہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے چلتا آ رہا ہے ۔

حضرت ابو لبابہ بن عبدا لمنذر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے غزوۂ بنو قریظہ کے موقع پر ایک خطا سرزد ہو گئی تو آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اس قدر نادم ہوئے کہ خود کو ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور کہا : جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہیں فرمائے گا تب تک نہ میں کچھ کھاؤں گا ، نہ پیوں گا ،نہ کوئی چیز چکھوں گا ، یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب ان کے بارے میں پتا چلا تو ارشاد فرمایا : اگر یہ میرے پاس آجاتا تو میں اس کےلیے مغفرت طلب کرتا لیکن اب اس نے خود کو باندھ لیا ہے تو جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہ فرمائے گا ، میں نہیں کھولوں گا ۔ سات دن تک حضرت ابو لبابہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے نہ کوئی چیز کھائی ، نہ پی ، نہ چکھی ، حتّٰی کہ ان پرغشی طاری ہو گئی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی ، جب انہیں توبہ کی قبولیت کے بارے میں بتایا گیا تو فرمایا: خدا کی قسم میں اس وقت تک خود کو نہیں کھولوں گا جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر اپنے دستِ اقدس سے مجھے نہیں کھولتے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اپنے پیارے صحابی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو بندشوں سے آزاد فرمادیا ۔
(دلائل النبوہ للبیہقی، باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الاحزاب ومخرجہ الی بنی قریظۃ۔۔۔ الخ، ۴/۱۳-۱۴)(خازن، الانفال الآیۃ: ۲۷، ۲/۱۹۰،)

بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں توبہ و رُجوع کی ایک دوسری روایت ملاحظہ فرمائیں ،
چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ عَنْہا فرماتی ہیں :
میں نے ایک ایسا بستر خریدا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور گھر میں داخل نہ ہوئے ، میں نے آپ کے روئے انور پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو عرض گزار ہوئی : یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے جو نافرمانی ہوئی میں اس سے اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں ۔ ارشاد فرمایا : یہ گدا یہاں کیوں ہے ؟ عرض کی : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے خریدا تھا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوں اور اس سے ٹیک لگائیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان تصویروں (کو بنانے) والے قیامت کے دن عذاب دئیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : جو تم نے بنایا انہیں زندہ کرو ۔ اور ارشاد فرمایا : جس گھر میں تصویریں ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔
(بخاری، کتاب البیوع، باب التجارۃ فیما یکرہ لبسہ للرجال والنساء، ۲/۲۱، الحدیث: ۲۱۰۵،)

حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ چالیس صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا بھی تھے جمع ہوکر جَبر وقَدر میں بحث کرنے لگے تو روحُ الْاَمین حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، آپ باہراپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں انہوں نے ایک نیا کام شروع کردیا ہے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں باہر تشریف لائے کہ غصہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخی میں اس طرح نمایاں تھا جیسے سرخ انار کا دانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار مبارک پر نچوڑا گیا ہو ۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس کیفیت کو دیکھ کر کھلے بازو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کےلیے آگے بڑھے اور ان کا حال یہ تھا کہ ان کے ہاتھ اور بازو کانپ رہے تھے اور عرض کی ’’ تُبْنَا اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ‘‘ ہم نے اللہ تعالیٰ اور رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں توبہ پیش کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ قریب تھا کہ تم اپنے اوپر جہنم کو واجب کرلیتے ، میرے پاس جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام تشریف لائے اور عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر امت کے پاس تشریف لے جائیں ، انہوں نے نیا کام شروع کردیا ہے ۔ (معجم الکبیر ثوبان مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۲/۵۹ الحدیث: ۱۴۲۳)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کا یہ طریقہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات ِ مبارکہ میں نہ تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ مبارک کے بعد بھی یہ عرض و معروض باقی رہی اور آج تک ساری امت میں چلتی آرہی ہے ۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے دورِ خلافت میں قحط پڑ گیا تو صحابی رسول حضرت بلال بن حارث المزنی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر حاضر ہو کر عرض کی : یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اپنی امت کےلیے بارش کی دعا فرما دیجیے وہ ہلاک ہو رہی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا : تم حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے پاس جا کر میرا سلام کہو اور بشارت دے دو کہ بارش ہو گی اور یہ بھی کہہ دو کہ وہ نرمی اختیار کریں ۔ حضرت بلال بن حارث رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بارگاہِ خلافت میں حاضر ہوئے اور خبر دے دی ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ یہ سن کر رونے لگے ، پھر فرمایا : یا رب عَزَّوَجَلَّ ، میں کوتاہی نہیں کرتا مگر اسی چیز میں کہ جس سے میں عاجز ہوں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، ۷/۴۸۲، الحدیث: ۳۵، وفاء الوفائ، الباب الثامن فی زیارۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، الفصل الثالث، ۲/۱۳۷۴، الجزء الرابع،)

ایک مرتبہ مدینۂ منورہ میں شدید قحط پڑا ، اہلِ مدینہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کی بارگاہ میں اس کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور دیکھو اور چھت میں ایک روشندان بناؤ حتّٰی کہ روضۂ منور اور آسمان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ رہے ، اہلِ مدینہ نے جیسے ہی روشندان بنایا تو اتنی کثیر بارش ہوئی کہ سبز گھاس اُگ آئی اور اونٹ موٹے ہو گئے یہاں تک کہ گوشت سے بھر گئے ۔ (سنن دارمی، باب ما اکرم اللہ تعالی نبیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد موتہ، ۱/۵۶، الحدیث: ۹۲)

بادشاہ ابو جعفرمنصور نے حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ سے مسجدِ نبوی شریف میں مناظرہ کیا ، دورانِ مناظرہ ابو جعفر کی آواز کچھ بلند ہوئی تو امام مالک رَحْمَۃُاللہِ عَلَیْہِ نے اسے (ڈانٹتے ہوئے) کہا : اے امیرُ المؤمنین! اس مسجد میں اپنی آواز اونچی نہ کرو کیونکہ اللہ تعا لیٰ نے ایک ج**عت کو ادب سکھایا کہ’’ تم اپنی آوازوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند مت کرو ۔‘‘اور دوسری ج**عت کی تعریف فرمائی کہ’’ بے شک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پَست کرتے ہیں ۔‘‘ اور ایک قوم کی مذمت بیان کی کہ’’ بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ۔‘‘ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و حرمت اب بھی اسی طرح ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں تھی۔ یہ سن کر ابو جعفر خاموش ہو گیا، پھر دریافت کیا : اے ابو عبداللہ! میں قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگوں یا رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر ؟ فرمایا : تم کیوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منہ پھیرتے ہو حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے اور تمہارے والد حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے بروز قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں وسیلہ ہیں بلکہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی طرف متوجہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاعت مانگو پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت قبول فرمائے گا ۔ (شفا شریف، القسم الثانی، الباب الثالث، فصل واعلم انّ حرمۃ النبی ص۴۱، الجزء الثانی،)

مروان نے اپنے زمانۂ تَسَلُّط میں ایک صاحب کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہیں ، مروان نے (ان کی گردن مبارک پکڑ کر) کہا : جانتے ہو کیا کر رہے ہو ؟ اس پر ان صاحب نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ہاں ، میں کسی اینٹ پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں ، میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور حاضر ہوا ہوں ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : دین پر نہ روؤ جب اس کا اہل اس پر والی ہو، ہاں اس وقت دین پر روؤ جبکہ نا اہل والی ہو ۔ یہ صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ ا للہُ عَنْہُ تھے ۔ (مسند امام احمد، حدیث ابی ایوب الانصاری، ۹/۱۴۸، الحدیث: ۲۳۶۴۶)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کےبعد اعرابی نے بارگاہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں فریاد ، کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور سے آوازآئی تحقیق تیری بخشش ہو گئی ۔ (تفسیر مدارک التنزیل جلد 1 صفحہ 370 سورہ نساء،)

معلوم ہوا استغاثہ اور وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائز ہے ۔

بعد از وصال مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعرابی کا بارگاہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فریاد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے مغفرت کی بشارت ملنا ۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 306 سورہ نساء)

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد ایک اعرابی آیا قبر انور کی خاک سر پر ڈال کر فریاد کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور سے آواز آئی تحقیق تیری بخشش ہو گئی ۔ (بحر المحیط جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 296)

بعد از وصال مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعرابی کا قبر انور پر فریاد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور سے آواز آئی تحقیق تیری بخشش ہوگئی ۔ (۔تفسیر قرطبی سورۃُ النساء صفحہ 265،)

بعد از وصال مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعرابی کا بارگاہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فریاد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے مغفرت کی بشارت ملنا ۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 306 سورہ نساء)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال شریف کے بعد ایک اعرابی روضۂ اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ انور کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا : یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو آپ نے فرمایا ، ہم نے سنا اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا ، اس میں یہ آیت بھی ہے ’’وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا‘‘ میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا ہوں تو میرے رب عَزَّوَجَلَّ سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے ۔ اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تجھے بخش دیا گیا ۔ (مدارک، النساء الآیۃ: ۶۴، صفحہ ۲۳۶)

یہ آیتِ مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم مدح و ثنا پر مشتمل ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے بہت سے اشعار فرمائے ہیں ۔ چنانچہ’’ حدائق بخشش‘‘ میں فرماتے ہیں : ⬇

مجرم بلائے آئے ہیں جَآءُوۡکَ ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

اور فرمایا : ⬇

بخدا خدا کا یہی ہے در نہیں اور کوئی مَفَر مَقَر
جو وہاں سے ہو یہیں آ کے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں

اور فرمایا : ⬇
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
ہمیں بھیک مانگنے کو تیرا آستاں بتایا

اس آیتِ مبارکہ معلوم ہوا کہ : ⬇

(1) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاجت پیش کرنے کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا کامیابی کا ذریعہ ہے ۔
(2) قبرِ انور پر حاجت کے لئے حاضر ہونا بھی ’’ جَآئُ وْکَ‘‘ میں داخل اور خَیرُ القُرون کا معمول ہے ۔
(3) بعد ِوفات مقبولانِ حق کو ’’یا‘‘ کے ساتھ نِدا کرنا جائز ہے ۔
(4) مقبولانِ بارگاہِ الٰہی مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے ۔

اللہ کے پسندیدہ بندے خواہ وہ زندہ ہوں یاوفات یافتہ ۔اللہ تعالیٰ کے ہاں مسلمانوں کاوسیلہ عظمیٰ ہیں ان کی ذات اورنام وسیلہ اور ان سے منسوب چیزیں وسیلہ یعنی جس چیز کو ان سے نسبت ہوجائے وہ وسیلہ ۔ہم رب تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس مسئلہ پرکچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔

اس کاثبوت قرآنی آیات ' احادیث نبویہ' اقوال بزرگاں ،اج**ع امت اوردلائل عقلیہ سے ہے۔ اوپر دی گئی آیۃ کریمہ سے یہ معلوم ہواکہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ہرمجرم کیلئے ہروقت تاقیامت وسیلہ مغفرت ہیں ظلموں میں کوئی قید نہیں اوراجازت عام ہے یعنی ہر قسم کامجرم ہمیشہ آپ کے پاس حاضر ہو ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۔ (سورة المائدہ ، 35) ۔
ترجمہ : اے ایمان والو!اللہ سے ڈرتے رہو۔ اوررب کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کروتاکہ تم کامیاب ہو۔

اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ اعمال کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے پیارے بندوں کاوسیلہ ڈھونڈھنا ضروری ہے کیونکہ اعمال تو اتقواللہ میں آگئے اوراس کے بعد وسیلہ کاحکم فرمایا ۔ معلوم ہوا کہ یہ وسیلہ اعمال کے علاوہ ہے ۔

خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ (سورة التوبہ، 103)
ترجمہ : اے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان مسلمانوں کے مالوں کاصدقہ قبول فرمائو اور اس کے ذریعہ آپ انہیں پاک وصاف کریں اور ان کے حق میں دعائے خیرکرو کیونکہ آپ کی دعا ان کے دل کاچین ہے ۔

معلوم ہواکہ صدقہ وخیرات اعمال صالحہ طہارت کاکافی وسیلہ نہیں ۔بلکہ طہارت تو معلم و مقصودِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کرم سے حاصل ہوتی ہے ۔

وَكَانُوا مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا ۔ (سورة البقرہ، 89)
مفسرین اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ اہل کتاب معلم و مقصودِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل کفار پر فتح کی دعا کرتے تھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے اہل کتاب آپ کے نام کے وسیلہ سے جنگوں میں دعائے فتح کرتے تھے اور قرآن کریم نے ان کے اس فعل پراعتراض نہ کیا بلکہ تائید کی اور فرمایا کہ'' ان کے نام کے وسیلہ سے تم دعائیں مانگاکرتے تھے اب ان پرایمان کیوں نہیں لاتے ۔ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامبارک نام ہمیشہ سے وسیلہ ہے ۔

فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۔ (سورة البقرہ، 37)
آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف سے کچھ کلمے پائے جن کے وسیلہ سے دعا کی اور رب نے ان کی توبہ قبول کی ۔

بہت سے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ وہ کلمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پاک کے وسیلہ سے توبہ کرنا تھا ۔ جس سے توبہ قبول ہوئی معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انبیائے کرام کابھی وسیلہ ہیں ۔

قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ ۔ (سورة البقرہ، 144) ۔
ترجمہ : ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو آسمان کی طرف پھرتے دیکھ رہے ہیں اچھاہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جس سے آپ راضی ہیں ۔

معلوم ہواکہ تبدیلی قبلہ صرف اسی لیے ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی خواہش تھی یعنی کعبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے قبلہ بنا ۔ جب کعبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ کامحتاج ہے تودوسروں کا کیا پوچھنا ہے ۔

مسندامام احمدبن حنبل میں حضرت شریح ابن عبید سے بروایت حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چالیس (40) ابدال کے متعلق فرمایا۔ ان چالیس (40) ابدال کے وسیلہ سے بارش ہوگی دشمنوں پر فتح حاصل کی جائے گی اور شام والوں سے عذاب دور ہوگا ۔ معلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے وسیلہ سے بارش فتح ونصرت ملتی ہے اوربلادفع ہوتی ہے ۔ (مشکوٰة باب ذکریمن وشام)

دارمی شریف میں ہے کہ ایک بار مدینہ شریف میں بارش بند ہوگئی اور قحط پڑگیا لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا آپ نے فرمایاکہ روضۂِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چھت کھولدو کہ مزارِ انور اور آسمان کے درمیان چھت حائل نہ رہے تو لوگوں نے ایساہی کیا تو فوراً بارش ہوئی یہاں تک کہ چارہ اُگااونٹ موٹے ہوگئے گویا چربی سے بھرگئے ۔ (مشکوٰة ،باب الکرامات،)

مشکوٰ شریف باب المعراج میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہم واپسی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پرگذرے توآپ نے پوچھا کہ آپ کو کیاحکم ملا؟ فرمایا ہردن پچاس (50) نمازوں کافرمایا ۔ حضور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں اتنی طاقت نہیں میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں ۔ اپنی امت کےلیے رب سے رعایت مانگیے غرضیکہ کئی بار عرض کرنے پر پانچ رہیں معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وسیلہ سے یہ رعایت اور رحمت ملی کہ پچاس (50) نمازوں کی صرف پانچ باقی رہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کا وسیلہ ان کی وفات کے بعد بھی فائدہ مند ہے ۔

مسلم و بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''انما اناقاسم واللہ معطی'' ۔ (مشکوٰة ،کتاب العلم)
ترجمہ : ہم تقسیم فرمانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ دیتا ہے ۔

معلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ کی نعتمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم فرمانے والے ہیں اور تقسیم فرمانے والا وسیلہ ہوتا ہے لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خالق کی ہر نعمت کا وسیلہ ہیں ۔

شرح سنہ میں ہےکہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی جگہ تشریف لے جارہے تھے ایک اونٹ نے جوکھیت میں کام کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور منہ اپنا زانوئے مبارک پر رکھ کر فریاد ی ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مالک کو بلاکر فرمایا یہ اونٹ شکایت کرتا ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور چارہ کم دیتے ہو ۔ اس کے ساتھ بھلائی کرو ۔ معلوم ہوا کہ بے عقل جانور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کورفع حاجات کےلیے وسیلہ جانتے ہیں ۔ جو انسان ہوکر ان کے وسیلہ کا منکر ہووہ اونٹ سے زیادہ بے عقل ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل سے ابولہب کے عذاب میں کچھ تخفیف ہوئی ۔کیونکہ اس کی لونڈی ثویبہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا تھا ۔ (بخاری شریف کتاب الرضاع،)
معلوم ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ ایسی نعمت ہے جس کا فائدہ ابولہب جیسے مردود نے کچھ پالیا مسلمان توان کابندۂِ بے دام ہے ۔

مسلم شریف میں ہے کہ
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاجُبہّ شریف تھا۔ یہ جُبّہ شریف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھا ان کی وفات کے بعد میں نے اسے لے لیا اس جُبّہ شریف کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنتے تھے اور اب ہم یہ کرتے ہیں کہ مدینہ میں جو بیمار ہو جاتا ہے اسے دھو کر پلاتے ہیں اس سے شفا ہو جاتی ہے ۔ (مشکوٰة، کتاب اللباس)

معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن شریف سے مس کیے ہوئے کو شفا کا وسیلہ سمجھ کر اسے دھو کر پیتے تھے ۔ بخاری شریف کتاب المساجد میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حج کو جاتے ہوئے ہر اس جگہ نماز پڑھتے تھے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حج کے موقع پر نماز پڑھی تھی ۔ یہ مقامات بخاری نے بتائے بھی ہیں معلوم ہوا کہ جس جگہ بزرگ عبادت کریں وہ جگہ قبولیت کاوسیلہ بن جاتی ہے ۔

فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بھولی بھالی امت کی خدمت میں عرض گذار ہے کہ : سوائے محمد ابن عبد الوہاب نجدی خارجی کے پیروکاروں کے تمام امت مسلمہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ کی حاضری اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ذات اقدس کو اپنی مغفرت کا آخری اور و قوی سہارا سمجھتے ہیں آئیے مستند دلائل کی روشنی میں پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں گمراہوں کے شر و فتنہ سے بچائے آمین ۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دربار گہر بار میں حاضری بندۂ مومن کے حق میں نعمت عظمٰی ، امید افزا طاعت اوردرجات عالیہ کے حصول کابڑا وسیلہ ہے ، آپ کے دربار میں حاضر ہونا تقرب الہی کا قریب ترین ذریعہ ہے ، آپ کی بارگاہ کی حاضری گناہوں کی بخشش اور حصول رحمت و مغفرت کا قوی آسرا ہے ۔ زائرین روضۂ اقدس کےلیے رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شفاعت کا مژدۂ جاں فزا سنایا ، دراقدس کی حاضری کو اللہ تعالی نے معصیت شعار افراد کےلیے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ، توبہ کی قبولیت اور نزول رحمت کا خصوصی مرکز قرار دیا ہے ، سورۂ نساء کی آیت نمبر:64،میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَلَوْ اَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ جَاءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَحِيمًا ۔
ترجمہ : اور اگر یہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو ائے محبوب وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں ، اور اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)بھی ان کےلیے سفارش کردیں تو وہ ضرور باالضرور اللہ تعالی کو خوب توبہ قبول کرنے والا‘نہایت رحم فرمانے والا پائیں گے ۔ (سورۃ النساء :64)

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالی نے تین امور کا ذکر فرمایا :
(1) جب گناہ کر بیٹھے تو آپ کے دربار میں حاضر ہونا ۔
(2) استغفار کرنا ۔
(3) حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اس کے حق میں سفارش فرمانا ۔
جب یہ تین کام ہوتے ہیں تواللہ تعالی کی جانب سے اس بندہ کیلئے قبولیتِ توبہ کا مژدہ ملتا ہے اوروہ بے پناہ رحمتوں کا حقدار بنتا ہے ۔

تمام محدثین ومفسرین علیہم الرّحمہ کا اتفاق ہے کہ یہ حکم رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ تک ہی محدود نہیں بلکہ بعد از وصال بھی یہی حکم ہے ۔

اس سلسلہ میں کم ازکم دو واقعات ملتے ہیں جس سے یہ بات روزروشن کی طرح عیاں وآشکار ہوجاتی ہے کہ مذکورہ آیت کریمہ کا حکم بعد ازوصال باقی ہے ۔

وصالِ مبارک کے تین دن بعد اعرابی کی حاضری :
حضرت مولائے کائنات سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی اسی طرح کی ایک روایت تفسیر البحرالمحیط اورسبل الہدی والرشاد میں منقول ہے : وروی الحافظ ابن النعمان فی (مصباح الظلام فی المستغيثين بخير الانام) من طريق الحافظ ابن السمعانی بسنده عن علی رضی الله تعالی عنه قال: قدم علينا اعرابی بعدما دفنا رسول الله صلی الله عليه وسلم بثلاثة ايام فرمی نفسه علی القبر الشريف، وحثا من ترابه علی راسه وقال: يا رسول الله، قلت فسمعنا قولک، ووعيت عن الله تعالی ووعينا عنک وکان فيما انزل عليک : وَلَوْ اَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ جَاءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَحِيمًا) وقد ظلمت نفسی، وجئتک تستغفر لی فنودی من القبر: إنه قد غفر لک .
ترجمہ : محدث ابن نعمان رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی کتاب"مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام"میں محدث ابن سمعانی کی وساطت سے روایت ذکر کی ہے ، جسے انہوں نے اپنی سند کے ساتھ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت نقل کی ہے : حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال مبارک کے تین دن بعد ایک اعرابی دراقدس پر حاضر ہوکر گریہ وزاری کرنے لگے اور وہاں کی خاک مبارک کو اپنے سر پر ڈالنے لگے اور عرض گزار ہوئے : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! آپ نے ارشاد فرمایا ہم نے آپ کے ارشادِعالی کو سنا ، آپ نے اللہ تعالی سے کلام سنا اور بحفاظت ہم تک پہنچایا اور ہم نے آپ سے اس کلام کو سیکھا اور یادرکھا ، آپ پر نازل کردہ کلام میں یہ آیت کریمہ بھی ہے ۔ ترجمہ : اور اگر یہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو ائے محبوب وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں اور اللہ تعالی سے مغفرت طلب کریں اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) بھی ان کے لئے سفارش کردیں تو وہ ضرور بضرور اللہ تعالی کو خوب توبہ قبول کرنے والا‘ نہایت رحم فرمانے والا پائیں گے ۔ (سورۃ النساء :64) (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم!) میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور آپ کے دربار اقدس میں حاضر ہوا تاکہ آپ میرے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں!تو روضۂ اقدس سے آواز آئی:’’یقینا تمہاری بخشش کردی گئی ۔ (تفسیر البحرالمحیط سورۃ النساء۔64۔سبل الھدی والرشاد،ج**ع أبواب زیارتہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد موتہ وفضلھا،ج12،ص380،)

مذکورہ آیت کریمہ کے تحت علامہ ابن کثیر نے بیان کیاہے : وقوله : وَلَوْ اَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ جَاءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَحِيمًا.) يرشد تعالی العصاة والمذنبين إذا وقع منهم الخطأ والعصيان ان يأتوا إلی الرسول صلی الله عليه وسلم فيستغفروا الله عنده، ويسألوه ان يستغفر لهم، فإنهم إذا فعلوا ذلک تاب الله عليهم ورحمهم وغفر لهم، ولهذا قال : (لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَحِيمًا)
ترجمہ : اللہ تعالی کا ارشاد ہے"اور اگر یہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو ائے محبوب وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں ،اور اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بھی ان کے لئے سفارش کردیں تو وہ ضرور بضرور اللہ کو خوب توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا پائینگے ۔ (اس آیت مبارکہ کے ذریعہ) اللہ تعالی گنہگاروں اور خطاکاروں کو رہنمائی فرما رہا ہے کہ جب ان سے کوئی غلطی اور گناہ سرزد ہوجائے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں اور وہاں حاضر ہوکر اللہ تعالی سے مغفرت طلب کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معروضہ کریں کہ آپ ان کے حق میں سفارش فرمائیں،کیونکہ جب وہ لوگ اس طرح کریں گے تو اللہ تعالی ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور ان پرخصوصی رحمت نازل فرمائے گااور ان کے گناہوں کو معاف فرمائے گا،اسی وجہ سے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:"ترجمہ:تو وہ ضرور بضرور اللہ تعالی کو خوب توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا پائینگے ۔
وَقَدْ ذَکَرَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ:اَلشَّيْخُ اَبُوْ نَصْرِ بْنُ الصَّبَّاغِ فِیْ کِتَابِهِ "اَلشَّامِلْ" اَلْحِکَايَةَ الْمَشْهُوْرَةَ عَنِ الْعُتْبِیِّ، قَالَ کُنْتُ جالساً عند قَبْرِ النبیِّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ اَعْرَابِیٌّ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَيْکَ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ اللَّهَ تعالی يَقُولُ : وَلَوْ اَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ جَاءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَحِيمًا.)، وقَدْ جِئْتُکَ مُسْتَغْفِرًا لِذَنْبِیْ مُسْتَشْفِعًا بِکَ إِلَی رَبِّیْ ثُمَّ اَنْشَأَ يَقُولُ ۔
ترجمہ : اور علماء ومفسرین کی ایک ج**عت نے بیان کیاہے،ان میں شیخ ابو نصر بن صباغ رحمۃ اللہ تعالی علیہ ہیں ‘ اُنہوں نے اپنی کتاب "الشامل"میں حضرت عُتْبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منقول مشہور حکایت ذکر کی،آپ نے فرمایا:میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضۂ اقدس کے قریب حاضر تھا،ایک اعرابی نے دراقدس پر حاضر ہوکر صلوۃ وسلام پیش کیا اور عرض گزار ہوئے :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم !میں نے اللہ تعالی کو (قرآن کریم میں) فرماتے ہوئے سنا : وَلَوْ اَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ جَاءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَحِيمًا.... "اور اگر یہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو ائے محبوب وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں ،اور اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بھی ان کے لئے سفارش کردیں تو وہ ضرور بضرور اللہ کو خوب توبہ قبول کرنے والانہایت رحم فرمانے والا پائیں گے۔(سورۃ النساء :64)

نیز اعرابی نے عرض کیا : یقینا میں اپنے گناہوں کی معافی کی خاطرآپ کی ذات ستودہ صفات کو اپنے پروردگار کے دربار میں وسیلہ بناکر آپ کے دربار عالی شان میں حاضر ہوا ہوں، اس کے بعد انہوں نے یہ اشعار کہے :

يَا خَيْرَ مَنْ دُفِنَتْ بِالْقَاعِ اَعْظُمُهُ
فَطَابَ مِنْ طِيبِهِنَّ القَاعُ وَالاَکَمُ

نَفْسی الفِدَاءُ لِقَبْرٍ اَنْتَ سَاکِنُهُ
فِيهِ العَفَافُ ، وَفِيهِ الْجُودُ وَالکَرَمُ

ترجمہ : ائے کائنات کی سب سے بہترین ذات !جن کے وجود مقدس کو زمین نے چوما ہے ،آپ کے وجود مقدس کی خوشبوسے میدان اور ٹیلے پاکیزہ ومعطر ہوچکے ہیں ،میری جان قربان اس روضۂ اطہر پر جس میں آپ رونق افروز ہیں ،جس میں پاکیزگی ہے،سخاوت اور کرم نوازی ہے ۔

حضرت عُتبی فرماتے ہیں : ثُمَّ انْصَرَفَ الْاَعْرَابِیُّ فَغَلَبَتْنِیْ عَيْنِیْ، فَرَاَيْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی النَّوْمِ ، فَقَالَ : يَا عُتْبِیُّ ! اِلْحَقِ الْاَعْرَابِیَّ ، فَبَشِّرْهُ اَنَّ اللَّهَ تَعَالی قَدْ غَفَرَ لَهُ ۔
ترجمہ : جب وہ اعرابی واپس ہوگئے تو مجھ پر نیند طاری ہوگئی،خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دیدار سے مشرف ہوا،اورآپ نے ارشاد فرمایا:اے عُتْبی!اس اعرابی سے ملاقات کرو!اور انہیں بشارت دو کہ یقینااللہ تعالی نے ان کی بخشش فرمادی ہے ۔
حوالہ جات :
(تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر،سورۃ النساء ،64۔ج 2،ص384)(معجم ابن عساکر،حدیث نمبر738۔)(شعب الإیمان للبیھقی،فضل الحج والعمرۃ،حدیث نمبر4019۔)(الجواھر الحسان فی تفسیر القر ان للثعالبی،سورۃ النساء ،64۔)(الدر المنثور فی التأویل بالمأثور،سورۃ البقرۃ،203۔)(تفسیر البحر المحیط، سورۃ النساء ،64،
)(الحاوی الکبیرللماوردی،مستوی کتاب الحج۔)(الشرح الکبیر لابن قدامۃ،ج3،ص494۔)(الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ،التَّوَسُّل بِالنَّبِیِّ بَعْدَ وَفَاتِہِ۔)(المواھب اللدنیۃ، مع شرح الزرقانی،الفصل الثانی فی زیارۃ قبرہ الشریف ومسجدہ المنیف،ج12،ص199۔) (سبل الھدی والرشاد، ج**ع أبواب زیارتہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد موتہ وفضلھا،ج12، ص390۔)(مختصر تاریخ دمشق، باب من زار قبرہ بعد وفاتہ کمن زار حضرتہ قبل وفاتہ۔) (خلاصۃ الوفا بأخبار دار المصطفی،ج1،ص57۔)(الأذکار النوویۃ، کتاب أذکار الحج ،حدیث نمبر 574)

اللہ تعالی نے ان مذکورہ اشعار کو ایسی شان عطا کی ہے کہ جالی مبارک سے متصل ستونوں پر آج بھی نقش ہیں اور زائرین کے لئے نور بصارت وبصیرت کا سامان فراہم کررہے ہیں ۔

روضۂ اقدس کی حاضری عین سعادت🌼

شارح بخاری امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "المواھب اللدنیہ" میں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت نقل کی ہے : وعن الحسن البصری قال:وقف حاتم الاصم علی قبر صلی الله عليه واله وسلم فقال:يا رب! انَّا زرنا قبر نبيک فلا تردنا خائبين!فنودی :يا هذا ! ما اذنا لک فی زيارة قبر حبيبنا الا وقد قبلناک؛ فارجع انت ومن معک من الزوار مغفورا لکم .
ترجمہ : حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا:حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دراقدس پر حاضر ہوئے ،اور دربار الہی میں معروضہ کیا کہ ائے اللہ! ہم تیرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دراطہر پر حاضر ہوئے ہیں،ہمیں محروم نہ لوٹا!ہاتف غیبی سے آواز آئی :اگر ہمیں تم کو قبول کرنا منظور نہ ہوتا تو تمہیں حاضری کا موقع مرحمت ہی نہ فرماتے! تم اس حال میں واپس لوٹو کہ ہم نے تمہیں اور تمہارے ساتھ تمام زائرین کو بخشش ومغفرت سے مالامال فرمادیاہے ۔ (المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،الفصل الثانی فی زیارۃ قبرہ الشریف ومسجدہ المنیف،ج12،ص200)

زائرین روضۂ اقدس کےلیے شفاعت کی ضمانت🌼

کتب حدیث وفقہ میں جہاں حج کے مناسک اور اس کے آداب کا ذکر ہے وہیں روضۂ اطہر کی حاضری اور اس کے آداب کا بھی ذکر موجود ہے، اورزائرین روضۂ اقدس کے حق میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفاعت خاصہ کا وعدہ بھی فرمایا‘چنانچہ سنن دارقطنی،شعب الإیمان للبیھقی،جامع الأحادیث،جمع الجوامع،مجمع الزوائد اور کنز العمال وغیرہ میں حدیث مبارک ہے : عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِیْ .
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے روضۂ اطہر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوچکی ہے ۔
(سنن الدارقطنی: کتاب الحج، حدیث نمبر:2727۔)(صحیح ابن خزیمۃ کتاب الحج او المناسک باب زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، حدیث نمبر۔3095۔)(شعب الإیمان للبیھقی، الخامس و العشرین من شعب الإیمان و ھو باب فی المناسک ، فضل الحج و العمرۃ،حدیث نمبر:4159۔)(جامع الأحادیث، حرف المیم، حدیث نمبر: 22304،)(جمع الجوامع، حرف المیم، حدیث نمبر: 5035۔)(مجمع الزوائد ،ج 4،ص 6،حدیث نمبر:5841۔)(کنز العمال ، زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث نمبر: 42583۔)(المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،الفصل الثانی فی زیارۃ قبرہ الشریف ومسجدہ المنیف،ج12،ص179)

حدیث زیارت صحیح ومستند د‘ محدثین کی صراحت : اس حدیث شریف کو کئی ایک محدثین نے روایت کیا ،اس کے قابل استدلال ہونے سے متعلق ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے : رواه الدارقطنی وغيره وصححه ج**عة من الائمة ۔
ترجمہ : اس حدیث پاک کو امام دارقطنی اور دیگر محدثین نے روایت کیا اور ائمہ ومحدثین کی ایک ج**عت نے اُسے صحیح قرار دیاہے ۔ (شرح الشفا لعلی القاری بھامش نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض ، جلد 3، صفحہ 511،)

مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ اور فضیلت :🌹
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں قیام فرمانے کے بعد سب سے پہلا کام جو فرمایا وہ اس مقدس مسجد نبوی کی تعمیر ہے ۔ زمین کا یہ قطعہ جہاں اب یہ مسجد موجود ہے دو یتیم بچوں حضرت سہل اور حضرت سہیل کی ملکیت تھا ۔ یہ دونوں بچے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے زیر کفالت تھے ۔ اس جگہ کھجوریں خشک کی جاتی تھیں ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں سے فرمایا یہ زمین مسجد کی تعمیر کے لئے ہمیں فروخت کر دو۔ بچوں نے بصد ادب و نیاز عرض کی : آقا یہ اراضی ہماری طرف سے بطور نذرانہ قبول فرمائیے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس پیش کش کو بلا معاوضہ قبول نہ فرمایا۔ بالآخر قیمت ادا کرکے یہ زمین خرید لی گئی جس کے لئے دس ہزار دینار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ادا کیے۔

ربیع الاول یکم ہجری بمطابق اکتوبر 622ء مسجد نبوی کا سنگ بنیاد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے رکھا۔ مسجدکی تعمیر شروع کر دی گئی تو اس تعمیر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل کر کام کیا خود انٹیں اٹھا اٹھا کر لاتے اور اپنی زبان فیض ترجمان سے یہ بھی فرماتے :
اَللَّهمَّ إِنَّ الْاَجْرَ اَجْرُ الْاٰخِرَة، فَارْحَمِ الْاَنْصَارَ وَالْمُهاجِرَةِ ۔

اے اللہ! آخرت کا بدلہ ہی بہتر ہے تو انصار اور مہاجرین پر رحم فرما ۔
(بخاری، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب هجرة النبی صلی الله عليه وآله وسلم واصحابه إلی المدينة، 3 : 1422-1423، رقم : 3694)

یہ مسجد انتہائی سادگی سے تعمیر کی گئی۔ تعمیر میں کچی اینٹیں، کھجور کی شاخیں اور تنے استعمال کیے گئے۔ جب کبھی بارش ہوتی تو چھت ٹپکنے لگتی مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہم اسی گیلی زمین پر اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہو جاتے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال تک اس مسجد میں نمازیں ادا فرمائیں۔ یہ مسجد اسلام کا مرکز قرار پائی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صَلَاةٌ فِی مَسْجِدِی هٰذَا خَيْرٌ مِنْ اَلْفِ صَلَاةٍ فِيْمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ۔
ترجمہ
میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام کے۔‘‘
(بخاری، الصحيح، کتاب التطوع، باب فضل الصلاة فی مسجد مکة والمدينة، 1 : 398، رقم : 21133)(مسلم الصحيح، کتاب الحج، باب فضل الصلاة بمسجد مکة والمدينة، 2 : 1012، رقم : 1394،)
’’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صَلَاتُهُ فِيْ مَسْجِدِی بِخَمْسِيْنَ أَلْفِ صَلَاةً ۔
جس نے میری مسجد (مسجد نبوی) میں ایک نماز پڑھی اسے پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔‘‘
(ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ماجاء فی الصلاة فی المسجد الجامع، 2 : 191، رقم : 1413،)
’’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فَإِنِّی آخِرُ الْاَنْبِيَاءِ وَإِنَّ مَسْجِدِی آخِرُ الْمَسَاجِدِ ۔
بیشک میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخر المساجد

(مسلم، الصحيح، کتاب الحج، باب فضل الصلاة بمسجدی مکة والمدينة، 2 : 1012، رقم : 1394)
’’۔‘‘

حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اَنَا خَاتِمُ الْاَنْبِياءِ وَمَسْجِدِي خَاتِمُ مَسَاجِدِ الْاَنْبِيَاءِ ۔
ترجمہ
میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کرام کی مساجد کی خاتم ہے۔‘‘ (ديلمی، الفردوس بماثور الخطاب، 1 : 45، رقم : 112)
’’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ صَلَّی فِی مَسْجِدِی أَرْبَعِيْنَ صَلٰوةً، لَا يَفُوْتُهُ صَلٰوةٌ کُتِبَتْ لَه بَرَاءَ ةٌ مِنَ النَّارِ، وَنَجَاةٌ مِنَ الْعَذَابِ وَبَرِيئَ مِنَ الْنَفَاقِ ۔
ترجمہ
جس نے مسجد نبوی میں چالیس نمازیں متواتر ادا کیں اس کے لئے جہنم، عذاب اور نفاق سے نجات لکھ دی جاتی ہے۔‘‘

(احمد بن حنبل، المسند، 3 : 12590
سمهودی، وفاء الوفا، 1 : 77)
’’

مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح خیبر سن 7 ہجری کے بعد مسجد نبوی کی از سر نو تعمیر فرمائی اور اسے مزید کشادہ کیا۔ اس کے بعد مسجد نبوی کی توسیع کی تواریخ درج ذیل ہیں : ⬇

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کے عہد میں، 17 ہجری۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کے عہد میں، 29۔30 ہجری۔
ولید بن عبد الملک کے عہد میں، 88۔91 ہجری۔
مہدی العباسی کے عہد میں، 161۔165 ہجری۔
سلطان اشرف قائتبائی کے عہد میں، 888 ہجری۔
سلطان عبد المجید عثمانی کے عہد میں، 1265۔1277 ہجری۔
الملک سعود کے عہد میں، 1372 ہجری۔
اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودہ توسیع خادم الحرمین شریفین شاہ فہد بن عبد العزیز کے عہد (1405۔1412ھ) میں مکمل ہوئی۔

مسجد کا موجودہ توسیع شدہ رقبہ 98 ہزار 500 مربع میٹر ہے۔ اس کے علاوہ چھت پر بھی نماز پڑھنے کے لئے 67 ہزار مربع میٹر کی جگہ موجود ہے۔

اس وقت مسجد میں عام دنوں میں 6 لاکھ 50 ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں البتہ حج کے زمانے میں اور رمضان المبارک کے دنوں میں یہ تعداد 10 لاکھ تک بھی ہو سکتی ہے۔

مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور دروازوں کے نام

جنوبی سمت چھوڑ کر مسجد نبوی کے تین اطراف میں پر شکوہ، دیدہ زیب دروازے موجود ہیں۔ چند تاریخی دروازے جن سے متعارف ہونا ضروری ہے وہ یہ ہیں۔ مشرقی جانب باب جبریل ں، باب النساء اور باب البقیع، باب جنازہ، مغربی جانب باب السلام، باب ابوبکر ص، باب الرحمۃ اور باب سعود، شمالی جانب باب عثمان ص، باب مجیدی اور باب عمر رضی اللہ عنہ ۔

مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں داخل

Address

Madarsa Misbah Ul Quran, Near: Old City Area Ranchor Puri Road Bheempora Karachi
Karachi
9090

Opening Hours

Monday 14:00 - 16:00
20:30 - 22:30
Tuesday 14:00 - 16:00
20:30 - 22:30
Wednesday 14:00 - 16:00
20:30 - 22:30
Thursday 14:00 - 16:00
20:30 - 22:30
Friday 14:15 - 16:00
20:30 - 22:30
Saturday 14:00 - 16:00
20:30 - 22:30

Telephone

03362444321

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Idara Misbah-ul-Quran International Trust posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Idara Misbah-ul-Quran International Trust:

Share