Hayhat Minnaz Zillah هيهات منا ذله

Hayhat Minnaz Zillah     هيهات منا ذله Assalaam-o- Alaikum
'Ya Ali Madad .. "Welcome to Hayhat minnaz zillah Exploring Shia Islam, sharing knowledge, and inspiring faith. Join our community!"

♥بسم الله الرحمن الرحيم
(¸.·'´(¸.·'´*¤* `'·.¸)`'·.¸)

السلام عليکم مومنين کرام !
يا علي (ع) مدد ·

MOLA SALAMAT RAKHE YA ALI(A.S)MADAD KEHNAY WALOON KO

10 ربیع الاوّل عقد بی بی خدیجہ الکبریٰ س و رسول اللہ ص مبارک ہو
24/08/2026

10 ربیع الاوّل عقد بی بی خدیجہ الکبریٰ س و رسول اللہ ص مبارک ہو

23/08/2026

🌸 عیدِ زہراءؑ مبارک 🌸

تمام مومنین و مومنات کو عیدِ زہراءؑ کی پُرمسرت مناسبت بہت بہت مبارک ہو۔ ❤️🌹
اللہ تعالیٰ اس بابرکت دن کے صدقے امامِ زمانہ عج کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور تمام محبانِ اہلِ بیتؑ کو خوشیاں عطا فرمائے۔ 🤲

عیدِ زہراءؑ مبارک! 🌸

ؑ #اہلبیتؑ #شیعہ

Iہر سال 9 ربیع الاول کے موقع پر ایک بات دیکھنے میں آتی ہے کہ 8 ربیع الاول کے جلوس کے فوراً بعد ہی امام زمانہ عج کی تاج پ...
22/08/2026

Iہر سال 9 ربیع الاول کے موقع پر ایک بات دیکھنے میں آتی ہے کہ 8 ربیع الاول کے جلوس کے فوراً بعد ہی امام زمانہ عج کی تاج پوشی کی مبارکبادیں شروع ہوجاتی ہیں۔

ایک سوال ہے: اگر 9 ربیع الاول کو امام زمانہ عج کو تاج پوشی کی مبارکباد دی جاسکتی ہے، تو کیا 11 محرم کو امام زین العابدین علیہ السلام کو بھی تاج پوشی کی مبارکباد دی جاسکتی ہے؟

امام زمانہ عج نے اپنے بابا امام حسن عسکری علیہ السلام کی تدفین کی، پھر آپ عج کی امامت کا آغاز ہوا۔ تو کیا ایسے موقع پر "تاج پوشی مبارک" کہہ کر خوشی منانا مناسب معلوم ہوتا ہے؟

اگر امام زمانہ عج کی امامت کے آغاز پر "تاج پوشی مبارک" کہنا درست سمجھا جاتا ہے، تو پھر اسی اصول کے مطابق 22 رمضان کو امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی امامت کی مبارکباد، 11 محرم کو امام زین العابدین علیہ السلام کی امامت کی مبارکباد، اور اسی طرح ہر امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد اگلے امام علیہ السلام کی امامت کی مبارکباد بھی دینی چاہیے۔

البتہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلانِ غدیر کی خوشی کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ غدیر کے موقع پر کسی امام علیہ السلام کی شہادت کے فوراً بعد اگلے امام کی امامت کا معاملہ نہیں تھا۔ وہاں رسولِ خدا ﷺ کی جانب سے ولایتِ علی علیہ السلام کے اعلان کی خوشی ہے۔

لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے فوراً بعد 9 ربیع الاول کو "تاج پوشی مبارک" کے عنوان سے پوسٹس اور مبارکبادیں شروع کرنا واقعی ضروری ہے؟ اگر یہ محض ایک رسم بن چکی ہے تو بہتر یہی ہے کہ اسے جذبات کے بجائے عقیدے اور معتبر روایات کی روشنی میں دیکھا جائے۔

امام زمانہ عج کی امامت اپنی جگہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لیکن امام زمانہ عج کی تاج پوشی کے نام پر پوسٹس جتنی جلدی بند کی جائیں، اتنا ہی بہتر ہے، تاکہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے فوراً بعد کے غم اور حرمتِ شہادت کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

اختلاف اپنی جگہ، مگر عقیدے کے معاملات میں جذبات سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم معتبر روایات اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں بات کریں۔

کچھ جاہل افراد سوشل میڈیا یہ اعتراض کرتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر حضرت فاطمہ زہراؑ کے گھر پر حملہ ہوا تھا تو امام علیؑ نے تل...
16/08/2026

کچھ جاہل افراد سوشل میڈیا یہ اعتراض کرتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر حضرت فاطمہ زہراؑ کے گھر پر حملہ ہوا تھا تو امام علیؑ نے تلوار کیوں نہیں نکالی؟ اور بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت محسنؑ کا نام اور ان کی شہادت کا واقعہ بعد میں شیعوں نے گھڑ لیا۔

سب سے پہلے یہ بات سمجھ لو کہ حضرت محسنؑ کا نام کسی شیعہ نے اپنی طرف سے نہیں رکھا۔ حضرت محسنؑ کا ذکر قدیم غیر شیعی مصادر میں بھی موجود ہے۔

📚 اہلِ سنت کے تاریخی مصادر:

1۔ امام طبری — تاریخ الطبری
حضرت محسنؑ کو حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے فرزند کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

2۔ یعقوبی — تاریخ الیعقوبی، ج 2
حضرت محسنؑ کا ذکر اولادِ حضرت علیؑ میں موجود ہے۔

3۔ ابن الاثیر — الکامل فی التاریخ، ج 3
حضرت محسنؑ کا ذکر حضرت علیؑ و حضرت فاطمہؑ کے فرزند کے طور پر موجود ہے۔

اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ’’محسنؑ کا نام شیعوں نے بعد میں گھڑا‘‘ تو اسے پہلے یہ بتانا ہوگا کہ قدیم غیر شیعی تاریخی کتب میں حضرت محسنؑ کا ذکر کیسے آگیا؟

مزید اہم حوالہ:

📚 شہرستانی — الملل والنحل، ج 1، ص 57
شہرستانی نے ابراہیم بن سیار النظام کا قول نقل کیا ہے جس میں حضرت فاطمہؑ کے بطن پر ضرب اور حضرت محسنؑ کے ساقط ہونے کا ذکر موجود ہے۔

📚 صفدی — الوافی بالوفیات
صفدی نے بھی النظام سے منقول اسی مضمون کو نقل کیا ہے۔

📚 ابن حجر عسقلانی — لسان المیزان، ج 1، ص 268
ابن حجر نے ابن ابی دارم کے ترجمے کے ضمن میں حضرت فاطمہؑ پر ضرب اور حضرت محسنؑ کے اسقاط کا ذکر نقل کیا ہے۔

یہاں ایک علمی بات واضح رہنی چاہیے: ان کتابوں میں کسی واقعے کا نقل ہونا اور اس روایت کا صحیح السند ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ لہٰذا دیانت دارانہ تحقیق میں سند اور راویوں پر بھی بحث ہونی چاہیے۔

اب آتے ہیں اصل اعتراض کی طرف:

’’اگر گھر پر حملہ ہوا تو امام علیؑ نے تلوار کیوں نہیں نکالی؟‘‘

شیعہ روایات کے مطابق رسولِ خدا ﷺ نے اپنی شہادت سے قبل حضرت علیؑ کو ان حالات کی پیشگی خبر دی تھی جو آپ ﷺ کے بعد پیش آنے والے تھے اور حضرت علیؑ کو صبر کی وصیت فرمائی تھی۔

اسی لیے امام علیؑ نے اسلام کے وسیع تر مفاد اور رسول اللہ ﷺ کی وصیت کی خاطر فوری طور پر ایسی جنگ شروع نہیں کی جس سے نوزائیدہ اسلامی معاشرہ مزید انتشار کا شکار ہوجاتا۔

لیکن صبر کا مطلب یہ نہیں کہ امام علیؑ نے اپنی زوجہ حضرت فاطمہ زہراؑ کا دفاع ہی نہیں کیا۔

روایات میں امام علیؑ کے حملہ آوروں سے مقابلے اور بعض افراد کو ضرب لگانے کا ذکر موجود ہے، اور یہ مضمون بھی نقل ہوا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ سے کیا ہوا عہد نہ ہوتا تو امام علیؑ حملہ آوروں کو شدید جواب دیتے۔

یہاں ایک اور اہم نکتہ ہے: بعض روایات میں یہ مضمون بھی ملتا ہے کہ حملہ آوروں کو پہلے سے معلوم تھا کہ علیؑ تلوار نہیں نکالیں گے۔

تو سوال یہ ہے:

اگر انہیں پہلے سے یقین تھا کہ علیؑ تلوار نہیں اٹھائیں گے، تو انہیں یہ یقین کہاں سے تھا؟

یہی وہ تاریخی سوال ہے جس پر جذباتی طنز کے بجائے قدیم مصادر، روایات، اسناد اور تاریخی شواہد کے ساتھ گفتگو ہونی چاہیے۔

اور جو لوگ کہتے ہیں:

’’علیؑ شیرِ خدا تھے، پھر خاموش کیوں رہے؟‘‘

ان سے صرف اتنا پوچھنا ہے:

کیا رسول اللہ ﷺ کی وصیت پر عمل کرنا بزدلی ہے؟

جس علیؑ کی شجاعت بدر، اُحد، خندق اور خیبر میں تاریخ کے صفحات پر ثبت ہے، ان کے صبر کو بزدلی کہنا دراصل صبر اور حکمت کے فرق کو نہ سمجھنے کے برابر ہے۔

لہٰذا اعتراض ضرور کرو، مگر کتاب کھول کر کرو۔

حوالہ مانگو تو حوالہ دو،
راوی مانگو تو راوی بتاؤ،
سند پر اعتراض ہے تو سند پر بحث کرو۔

صرف یہ کہنا کہ ’’یہ سب شیعوں نے بعد میں گھڑ لیا‘‘ کوئی تاریخی دلیل نہیں۔

اہلِ سنت کے قدیم مصادر میں موجود مواد کو نظر انداز کرکے تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

جب سے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے دوران خامنہ ای صاحب کی شہادت کی خبر سامنے آئی ہے، تب سے ایک بات مسلسل دیکھنے میں آ ...
15/08/2026

جب سے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے دوران خامنہ ای صاحب کی شہادت کی خبر سامنے آئی ہے، تب سے ایک بات مسلسل دیکھنے میں آ رہی ہے کہ ان کے بعض مقلدین امام حسینؑ کے مشہور قول «أَنَا مِثْلُهُ لَا يُبَايِعُ مِثْلُهُ» کو خامنہ ای صاحب پر بھی منطبق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ لوگ شاید اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ امام حسینؑ کا یہ قول کسی عام شخصیت کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ یہ امامِ معصوم کے مقام، منزلت اور منصب کے مطابق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب آج بھی کوئی شخص امام علیؑ، امام حسنؑ، امام زین العابدینؑ یا دیگر آئمہ معصومینؑ کے بارے میں کوئی ایسی روایت پیش کرتا ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ نعوذ باللہ کسی امام نے باطل کی بیعت کر لی تھی، تو فوراً امام حسینؑ کا یہی قول پیش کیا جاتا ہے۔
اس کی ایک تازہ مثال اویس ربانی کے ایک پروگرام میں بھی دیکھنے میں آئی، جہاں اللہ یاری امام زین العابدینؑ کے متعلق یزید ملعون کی بیعت کا دعویٰ کر رہا تھا، تو فوراً اویس ربانی نے امام حسینؑ کا یہی قول نقل کیا۔

کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ امام حسینؑ کے اس قول کو اپنی مرضی سے کسی بھی شخصیت پر منطبق کر دے۔ محض عقیدت یا گمان کی بنیاد پر اس قول کو دوسروں کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔
کوئی شخص کتنی ہی عبادت کیوں نہ کر لے اور کتنا ہی علم کیوں نہ حاصل کر لے، وہ حضرت میثم تمارؓ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا، جبکہ آئمہ معصومینؑ کی مثل بننا تو بہت دور کی بات ہے۔
اگر یہی طرزِ عمل اختیار کر لیا جائے تو پھر رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کا کیا ہوگا؟
"اے علیؑ! تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کو موسیٰؑ سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"
اگر کوئی شخص اس حدیث کو اس کے اصل سیاق و سباق سے ہٹا کر کسی اور شخصیت پر منطبق کرنے لگے تو کیا یہ درست ہوگا؟
احادیث اور اقوالِ معصومینؑ کو سمجھنے کے لیے ان کے اصل مفہوم، سیاق و سباق اور مقام و منزلت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، ورنہ ہر شخص اپنی پسند کے مطابق ان کے معنی متعین کرنے لگے گا، جس سے حق اور باطل کے درمیان فرق مٹ جائے گا۔
#کربلا #بیعت

امام زین العابدینؑ اور یزید کی بیعت: قرآن، تاریخ اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میںپچھلے کچھ عرصے سے تکفیری گروہ اور ...
13/08/2026

امام زین العابدینؑ اور یزید کی بیعت: قرآن، تاریخ اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں

پچھلے کچھ عرصے سے تکفیری گروہ اور سیمت اللہ یاری جیسے لوگ یہ دعویٰ کرتے نظر آ رہے ہیں کہ نعوذ باللہ امام زین العابدینؑ نے واقعۂ حرہ کے موقع پر یزید لعین کی بیعت کر لی تھی۔ یہ دعویٰ نہ صرف تاریخی حقائق کے خلاف ہے بلکہ قرآن اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے بھی متصادم ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق واقعۂ حرہ کے بعد مدینہ کے لوگوں سے زبردستی بیعت لی گئی، لیکن متعدد تاریخی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ امام زین العابدینؑ کو اس جبری بیعت سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔

حال ہی میں اللہ یاری ایک پوڈکاسٹ میں یہ کہتے نظر آئے کہ نعوذ باللہ امامؑ نے جان بچانے کے خوف سے یزید لعین کی بیعت قبول کر لی تھی۔

اگر یہ دعویٰ درست مان لیا جائے تو پھر کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔

وہ امامؑ جو کربلا کے بعد قیدی بن کر شام پہنچے، انہوں نے یزید کے دربار میں خطبہ دے کر اس کے ظلم کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے کبھی جان کے خوف سے حق کا راستہ نہیں چھوڑا۔ جو امامؑ یزید کے دربار میں اسیری کے باوجود خاموش نہ ہوئے، وہ مدینہ میں جا کر یزید کی بیعت کیسے قبول کر سکتے تھے؟

امام حسینؑ کا مشہور قول ہے:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»

"مجھ جیسا شخص اس جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔"

یہ صرف امام حسینؑ کا ذاتی موقف نہیں تھا بلکہ اہلِ بیتؑ کے اصول کا اعلان تھا۔

قرآنِ مجید بھی حق اور باطل کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیتا ہے۔

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ

"اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ۔"

(سورۂ البقرہ: 42)

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

"اور کہہ دیجیے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔"

(سورۂ الإسراء: 81)

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ ۝ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

"کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کر دیں گے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟"

(سورۂ القلم: 35-36)

اگرچہ "حق کبھی باطل کی بیعت نہیں کرتا" قرآن کے الفاظ نہیں ہیں، لیکن یہ ایک ایسا اصولی اور مفہومی جملہ ہے جو قرآن کی تعلیمات سے اخذ کیا گیا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ امام زین العابدینؑ نے جان بچانے کے لیے یزید لعین کی بیعت کر لی تھی، نہ صرف تاریخی حقائق کے خلاف ہے بلکہ قرآن، سیرتِ اہلِ بیتؑ اور امام حسینؑ کے واضح موقف سے بھی متصادم ہے۔

اہلِ بیتؑ کے خلاف پروپیگنڈا کرنا آسان ہے، لیکن تاریخ اور قرآن کے سامنے ایسے دعوے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hayhat Minnaz Zillah هيهات منا ذله posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share