26/05/2026
قربانی کی حقیقی روح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اطاعت ۔۔۔۔۔دل سے اطاعت
اس حد تک اطاعت کہ محبوب ترین شے کی قربانی دے کر دل مسرور ہو جاۓ۔۔۔۔
یعنی قربانی اور وہ بھی قلب مطمئن کے ساتھ ۔۔۔
اسوہ ابراہیمی اس یکسوئی اور قلب مطمئنہ کا پیغام ہے
کہ جب اطاعت کا مرحلہ درپیش ہو تو جان بھی پیاری نہ رہے ۔۔۔۔کہ قربانی اور عزیمت کا راستہ ہی مقصد حیات ٹہرے
مکہ کے سنسان اور بے آباد صحرا میں اپنے دو پیاروں کو چھوڑنے سے لے کر محبوب لخت جگر کو بحکم الٰہی قربانی کے لیے پیش کرنےتک ابراہیم علیہ السلام کی پوری حیات سمعنا و اطعنا کا درس دیتی ہے ۔۔۔۔
قربانی سمعنا و اطعنا کا تسلسل ہے
پیارے آ قاحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے سازوسامان اور افرادی قوت سے لیس لشکر کے مد مقابل اپنے تین سو تیرہ جانباز بے سروسامانی کے عالم میں لا کھڑے کیے اور رب کائنات سے جو التجا کی وہ آ ج بھی آنکھیں نم کر دیتی ہے "خدارایہ قریش ہیں اپنے سامان غرور کے ساتھ آۓ ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھوٹا ثابت کریں ۔۔خداوندا بس اب آ جاۓ تیری وہ مدد جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ۔۔اے خدا اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی تو روۓ زمین پر پھر تیری عبادت نہ ہوگی "
قربانی کے اس مظہر نے اسلام کو رہتی دنیا تک کے لیے زندہ و جاوید حقیقت بنا دیا
اس سے قبل قربانی کے اس سفر میں طائف کے اوباشوں کی ایذا رسانیاں بھی آئیں ،شعب ابی طالب کی گھاٹی میں فقر وفاقہ کا کٹھن مرحلہ بھی آیا ہجرت کا سفر بھی درپیش ہوا ۔۔۔
پھر کفار مکہ کی سازشیں اور اذیتیں ،یہود سے مقابلے ،کفریہ طاقتوں کے ساتھ احد ،احزاب اور موتہ جیسے معرکے جن میں جان ومال کی قربانیوں کی لازوال مثالیں قائم ہوئیں۔۔۔
ان سب کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کا کلمہ سر بلند ہو کر رہے ،،،حق بہر صورت غالب آ جائے ۔۔۔۔
آج امت اسوہ ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہوئے عید قربان اس طرح مناتی ہے کہ قربانی کی ظاہری شکل تو پورے جوش سے دکھائی دے رہی ہوتی ہے مگر اصل روح۔۔۔ کہیں دور ۔۔۔بہت دور ۔۔۔۔۔۔۔ہے
اسوہ ابراہیمی یاد دلاتا ہےکہ جب بھی پکارا جائے طوعاً و کرہاً حاضر ہو جائیں ۔۔۔
جس عزیز شے کی قربانی مانگی جائے ۔۔۔حاضر کر دی جائے ۔۔
بس فکر یہ رہے کہ دین سربلند و غالب ہو جائے ۔۔۔
کفر اپنے تمام تر شر سمیت نیست و نابود ہو جائے ۔۔۔۔
قربانی اور عزیمت ہی مقصد حیات ٹہرے ۔۔۔
ہاں اس اسوہ کو زندہ رکھنے والے۔۔۔۔۔۔ابھی بھی زندہ ہیں
اسوہ ابراہیمی کی صحیح روح پر عمل پیرا ہونے والے آج بھی موجود ہیں۔۔۔۔
انبیاء کی سر زمین پر موجود قرون اولیٰ کے لوگوں جیسے لوگ ۔۔۔۔
ہر آزمائش میں ثابت قدم ۔۔۔
بھوک وافلاس سے نبرد آزما ۔۔۔
دنیا کی ہولناک ترین نسل کشی کا بے خوفی کے ساتھ سامنا کرنے والے ۔۔۔۔
ہر گھر شہداء کا گھر ۔۔۔
جنازے پر ماتم کی بجائے حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا ورد کرنے والے ۔۔۔۔
جن کے بچے بھی دلیر ،،بوڑھے بھی باہمت ،خواتین بھی انقلابی ۔۔۔۔
گھر سے بے گھر ،،،خیموں میں بھی خوش ،،،سردی ہو یا گرمی ثابت قدم اور پر جوش ۔۔۔
وہ اپنی قیمتی متاع قربان کر کے بھی اتنے مطمئن کیوں ہیں ؟؟؟
اسی لیے کہ ان کو یقین ہے کہ وہ انبیا ء کے مشن پر ہیں ۔۔۔
وہ کیوں اتنی قربانیاں دے رہے ہیں ۔۔۔۔
صرف اس لیے کہ کافر وفاجر اور مغضوب یہود انبیاء کی سر زمین پر قابض نہ ہو پاۓ ۔۔۔
اللہ کا کلمہ ہی بلند ہو کر رہے ۔۔۔
حق کو بلآخر غالب ہی آنا ہے
اس کا وعدہ تو اللہ نے اپنی کتاب برحق میں کر دیا ہے ۔۔۔
بس ضرورت ہے قربانی کی ظاہری شکل کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقی روح کو سمجھنے کی اور اپنی پوری زندگی اطاعت الٰہی میں کھپا دینے کی ۔۔۔
کہ جان بھی مانگی جائے گی تو حاضر کر دی جائے گی۔۔۔
ہر سعی دین کے غلبے کے لیے ہو۔۔۔ہر لمحہ اطاعت رب میں صرف ہو ۔۔۔
اسوہ ابراہیمی اور اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیغام دیتا ہے کہ دین کی سربلندی قربانی سے جڑی ہے خواہ وہ وقت کی قربانی ہو ،مال کی ہو ،گھر بار کی ہو یا کسی اور عزیز ترین شے کی ۔۔۔
سعمنا اور اطعنا کے بعد قربانی ہی
کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے ۔البتہ ان کی نوعیتیں الگ الگ ہو سکتی ہیں ۔۔۔
یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ قربانیوں کے بغیر تو جنت میں داخلہ بھی نہیں مل سکتا ۔۔۔
رومیصاء زبیر