مذہب اہل بیت

مذہب اہل بیت اس پیج کا مقصد مذہب اہل بیت کی تبلیغ کرنا ہے۔

30/08/2018

وَاِنَّ كَثِيْـرًا لَّيُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِـهِـمْ بِغَيْـرِ عِلْمٍ ۗ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ۔

اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بناء پر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں یقیناً آپ کا رب حد سے تجاوز کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
(سورة انعام،آیت:۱۱۹)

29/08/2018

سیاہ لباس پہننے کے بارے میں تذکرہ۔
ــــــــــــــــــــ
سیاہ لباس پہننے کے بارے میں چند روایات میں ممانعت وارد ہوئی ہے تو یہ نہی حرمت نہیں بلکہ نہی کراہت ہے اس سلسلہ میں دو احادیث نقل کرتے ہیں:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
يكره السواد إلا في ثلاثة : الخف والعمامة والكساء۔
سیاہ لباس پہننا مکروہ ہے سوائے تین چیزوں کے جو یہ ہیں:
۱۔سیاہ موزے
۲۔سیاہ عمامہ
۳۔سیاہ چادر
(الکافی،جلد:۶،صفحہ:۴۴۹،شیخ کلینی)
(تہذیب الاحکام،جلد:۲،صفحہ:۲۱۳،شیخ طوسی)
(وسائل الشيعة،جلد:۴،صفحہ:۳۸۲،شیخ حر العاملي)
(الفصول المهمة،جلد:۳،صفحہ:۳۰۷،شیخ حر العاملي)

اور شیخ محمد بن حسن حر العاملي نے بھی وسائل الشيعة میں اس عنوان سے مستقل باب باندھا ہے:
باب كراهة لبس السواد إلاّ في الخف والعمامة والكساء۔
اور آیت اللہ شیخ ناصر مکارم شیرازی سمیت دوسرے مجتہدین کے نزدیک بھی سیاہ لباس پہننا مکروہ ہے۔
اور سیاہ لباس سوگ منانے کے طور پر بھی پہنا جاتا ہے مگر راہ خدا میں شہید ہونے والے سید الشہداء علیہ السلام کے غم میں پہننا مکروہ نہیں ہے تو یہ بات نص کی رو سے ثابت ہے چنانچہ شیخ ابو جعفر احمد بن محمد بن خالد البرقی اپنے سلسلہ سند کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لما قتل الحسين بن علي عليه السلام لبس نساء بني هاشم السواد والمسوح ، وكن لا يشتكين من حر ولا برد ، وكان علي بن الحسين عليه السلام عمل لهن الطعام للمأتم۔
حضرت عمر بن علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام شہید ہو گئے تو بنی ہاشم کی عورتوں نے سیاہ لباس پہنے اور انہوں نے گرمی و سردی کا شکوہ نہ کیا اور ان کے ماتم کی وجہ سے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ان کے لئے کھانے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔
(المحاسن،جلد:۲،صفحہ:۱۹۵،شیخ البرقي)
(وسائل الشيعة،جلد:صفحہ:۲،صفحہ:۳۵۷،شیخ حر العاملي)

اور جن احادیث میں سیاہ لباس پہننے کو مکروہ قرار دیا گیا ان کے بارے میں محدث بحرانی لکھتے ہیں:
لا يبعد استثناء لبس السواد في مأتم الحسين عليه السلام من هذه الأخبار ، لما استفاضت به الأخبار من الأمر بإظهار شعائر الأحزان۔
ان اخبار کی رو سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے غم میں ماتم کرنے کے لئے سیاہ لباس پہننا مکروہ ہے بلکہ کراہت سے استثناء حاصل ہے اور بعض اخبار میں سیاہ لباس پہننے کو غم و حزن کے شعائر میں سے قرار دیا گیا ہے۔
(الحدائق الناضرة،جلد:۷،صفحہ:۱۱۶،شیخ البحراني)
اس موضوع پر دوسری روایات بھی وارد ہوئی ہیں۔
ــــــــــــــــــــ
تحریر:محمد بشیر توحیدی

آیت اللہ سید ابو الحسن اصفہانی فرماتے ہیں:ان استعمال السیوف و السلاسل و الطبول و الابواق و مایجری الیوم امثاله فی مواکب ...
28/08/2018

آیت اللہ سید ابو الحسن اصفہانی فرماتے ہیں:
ان استعمال السیوف و السلاسل و الطبول و الابواق و مایجری الیوم امثاله فی مواکب الغرا بیوم عاشورا انما هو محرم و هو غیرشرعی۔
ترجمہ:تلوار اور زنجیروں کا استعمال اور طبل اور آلات موسیقی اور اس طرح کے دیگر امور جو عزاداری کے دستہ جات اور عاشورا والے دن عموماً استعمال ہوتے ہیں ـ یہ سب کے سب حرام اور غیر شرعی ہیں۔
(اعیان الشیعہ،جلد،۱۰،صفحہ:۳۷۸،سید محسن امین عاملی)

حضرت امام حسین علیہ السلام کے غم میں گریہ اور ماتم کرنے کا جواز احادیث کی رو سے ثابت ہے مگر قمہ زنی اور خاردار زنجیر زنی بعد میں شروع ہوئی جب ایران میں صفوی دور حکومت قائم تھا اس عمل کا شمار بدعات میں ہوتا ہے کیونکہ اپنے سر و بدن کو نقصان اور اذیت پہنچانا حرام ہے اور سینکڑوں علماء اور مجتہدین نے اس عمل کو حرام قرار دیا ہے لہذا اسے جائز قرار دینے والے فتاویٰ بے بنیاد اور باطل ہیں اور فلپائن کے نصرانی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے خاردار زنجیر لگاتے ہیں اور سب سے پہلے اس بدعت کی ابتداء انہی سے شروع ہوئی تھی۔
ــــــــــــــــــــ
توحیدی

حسن بن راشد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ پر قربان جاؤں۔کیا مسلم...
28/08/2018

حسن بن راشد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ پر قربان جاؤں۔
کیا مسلمانوں کی دو عیدوں (فطر اور قربان) کے علاوہ بھی کوئی عید ہے؟
فرمایا:ہاں اے حسن وہ عید ان دونوں سے عظیم اور شرف والی ہے راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا وہ کس دن ہے؟
فرمایا:جس دن حضرت امام علی علیہ السلام کو لوگوں کا پیشوا بنایا گیا میں نے کہا کہ میں آپ پر قربان جاؤں ، یہ کس دن ہے؟
فرمایا:دن گزرتے رہتے ہیں اور وہ اٹھارہ ذی الحجہ کا دن تھا میں نے کہا کہ آپ پر قربان جاؤں اس دن ہماری کیا ذمہ داری ہے؟
فرمایا:اے حسن اس دن روزہ رکھو اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر کثرت سے درود بھیجو اور جن لوگوں نے ان پر ظلم کیا اور ان کے حق کے منکر بنے ، ان سے بیزاری اختیار کرو ، انبیاء علیہم السلام اپنے اوصیاء کو حکم دیا کرتے تھے کہ جس دن وصی بنائے گئے ہوں اس دن عید مناؤ میں نے عرض کیا کہ ہم میں سے جو اس دن روزہ رکھے گا اسے کتنا ثواب ہوگا؟
فرمایا:اسے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب ملے گا اسی طرح ستائیس رجب کا روزہ بھی ترک نہ کرو اسی دن حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پیغمبری کے لئے معبوث ہوئے اس دن کے روزے کا ثواب بھی ساٹھ مہینوں کے روزوں کی مانند ہے۔
(ثواب الاعمال و عقاب الاعمال ،صفحہ:۱۶۱،شیخ صدوق)
ــــــــــــــــــــ
توحیدی

سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے مرقد کی نشاندہی۔ــــــــــــــــــــسیدہ زینب الحوراء سلام اللہ علیہا کے بارے میں دو آراء ہ...
26/08/2018

سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے مرقد کی نشاندہی۔
ــــــــــــــــــــ
سیدہ زینب الحوراء سلام اللہ علیہا کے بارے میں دو آراء ہیں:
اکثر علماء اور مجتہدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مرقد دمشق میں ہے اور یہی مشہور ہے جن کے نزدیک سیدہ ام کلثوم سلام اللہ علیہا کا مرقد جنة البقیع میں ہے جیسا کہ شیخ ذبیح اللہ محلاتی نے ریاحین الشریعة میں لکھا ہے۔

اور چند علماء یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مرقد جنة البقیع میں ہے جن کے نزدیک سیدہ ام کلثوم سلام اللہ علیہا کا مرقد دمشق میں ہے جیسا کہ سید محسن امین عاملی نے اعیان الشیعة میں لکھا ہے تو یہ قول درست نہیں ہے اور نہ ثابت ہے چنانچہ سیدہ ام کلثوم سلام اللہ کے بارے میں شیخ ذبیح اللہ محلاتی لکھتے ہیں:
کربلا سے واپسی کے چار ماہ بعد مدینہ میں دق کر کے دنیا سے رخصت ہو گئیں اور درحقیقت آپ کی رحلت کی وجہ سفر کربلا میں توڑے گئے مصائب و آلام کے پہاڑ تھے ، بدن پر تازیانوں کے زخم تھے جن سے آپ جانبر نہیں ہو پائیں اور انہی تمام صدموں کی بناء پر آپ شہید ہو گئیں۔
(ریاحین الشریعة،جلد:۳،صفحہ:۲۵۶،محلاتی)
اس وقت جنة البقیع میں ان کے روضہ کے باہر بھی ام کلثوم بنت علی لکھا ہوا ہے۔

اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے واپس شام میں پلٹنے کی دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں:
بعض یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ جب سن ۶۳ ہجری میں یزیدیوں کے توسط سے مدینہ میں واقعہ حرہ پیش آیا اور قتل و غارت پیش آئی تو حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنی شریک حیات کے ہمراہ شام میں ایک مزرعہ (کھیت) کی طرف ہجرت کی تا کہ ان معظمہ کا غم تجدید نہ ہو جائے اور ان کا غم و اندوہ کم ہو جائے اس کے علاوہ مدینہ میں طاعون کی بیماری پھیلی تھی اس لئے اس سے بچنے کے لئے حضرت عبداللہ بن جعفر اپنی شریک حیات کے ہمراہ شام چلے گئے اور وہاں پر سکونت اختیار کی اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا وہیں بیمار ہوئیں اور وہیں وفات پائی۔

اور بعض یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر کا شام کے گائوں راویہ میں ایک فارم تھا جس کی وجہ سے وہ اپنی شریک حیات کے ہمراہ شام چلے گئے اور وہاں پر سکونت اختیار کی تھی۔

اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ واقعہ کربلا کے بعد سفر کربلا اور سفر شام میں سید زادیوں پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے گئے ، ان پر ظلم و ستم کیا گیا انہی تمام صدموں کی وجہ سے کچھ سید زادیاں شام میں شہید ہو گئیں باقی مدینہ چلی گئیں تو سیدہ زینب سلام اللہ علیہا ان شہید ہونے والی سید زادیوں کی محبت اور ان کی المناک شہادت اور ان سے دوری ختم کرنے کی بناء پر اپنے شوہر کے ہمراہ واپس شام چلی گئیں اور باقی زندگی وہیں گزاری اور باب الصغیر میں زیادہ قبور موجود ہیں۔

اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کا مرقد شام کے شہر القاھرہ میں ہے تو یہ قول درست نہیں ہے کیونکہ وہ سیدہ نفیسہ سلام اللہ علیہا کا مزار ہے جو حضرت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرزند حضرت اسحاق بن جعفر علیہ السلام کی زوجہ ہیں اور یہی مشہور ہے جسے اہل سنت کے آئمہ اربعہ میں سے شافعی نے بھی قبول کیا ہے اور اگر یہ بات تسلیم کی جاتی کہ وہ زینب کے نام سے کسی خاتون کا مرقد ہے پھر یہ کہا جاتا کہ وہ السيدة زينب بنت يحيى المتوج بن الحسن الأنور بن زيد بن الحسن بن علي بن أبي طالب ہیں جو سیدہ نفیسہ سلام اللہ علیہا کے بھائی يحيى المتوج کی دختر تھیں۔
ــــــــــــــــــــ
تحریر:محمد بشیر توحیدی

مصر کے شہر القاھرہ میں رقیہ کے نام سے ایک مرقد ہے جس کے بارے میں تین آراء ہیں:بعض یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سیدہ رقیہ بنت علی ...
25/08/2018

مصر کے شہر القاھرہ میں رقیہ کے نام سے ایک مرقد ہے جس کے بارے میں تین آراء ہیں:

بعض یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سیدہ رقیہ بنت علی سلام اللہ علیہا کا مرقد شریف ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان معظمہ کا مرقد شام کے شہر دمشق میں واقع ہے وہ سیدہ رقیہ بنت حسین کا روضہ نہیں ہے اس سلسلہ میں شیعہ و سنی علماء کی تصریحات موجود ہیں جن میں سید محسن عاملی اور ابن الحورانی اور شبلنجی شامل ہیں چنانچہ مخالفین میں سے شبلنجی لکھتے ہیں:
مجھے بعض شامیوں نے خبر دی ہے کہ سیدہ رقیہ بنت علی کرم اللہ وجہ کی ضریح دمشق میں ہے۔
(نور الابصار،صفحہ:۱۷۷)
اور ان کے اس مرقد کا تذکرہ کثیر مصادر میں ملتا ہے جیسے اعلام الوریٰ اور بحار الانوار ہیں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ جب سیدہ رقیہ بنت علی سلام اللہ علیہا کے شوہر مسلم بن عقیل اور ان کے فرزند شہید ہو گئے تو وہ مدینہ سے مصر کن کے ساتھ گئیں ؟؟
لہذا ان معظمہ کا شام میں وفات پا جانا ثابت ہے۔

اور بعض یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سیدہ رقیہ بنت علی رضا سلام اللہ علیہا کا مرقد شریف ہے اس سلسلہ میں شیخ محمد زکی ابراہیم لکھتے ہیں:
مصر میں یہ مرقد رقية بنت علي الرضا کا ہے ، اور اکثر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ سیدہ رقية بنت علي کا مرقد ہے لیکن وہ دمشق میں مدفون ہیں اور ان کے بارے میں یہی مشہور ہے۔
(مرشد الزوار إلى قبور الأبرار جلد:۲صفحہ:۲۲۷)

اور صالح الوردانی لکھتے ہیں:
سیدہ نفیسة سلام اللہ علیہا کے قریب جو مشہور مراقد ہیں ان میں سے ایک سيدة رقية بنت الإمام علي الرضا کا مرقد ہے اور یہ نسبت اہل سنت کی ہے۔
(الشيعة في مصر، صفحہ:۱۱۰)

اور بعض یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رقية بنت عبد الله بن أحمد بن الحسين الحسينية کا مرقد ہے جیسا کہ ابن الجباس نے ذکر کیا ہے۔
(مرقد العقيلة زينب،صفحہ:۵۶ عن الكواكب السيارة صفحہ:۱۷۰)

اور ممکن ہے کہ یہ سیدہ رقیہ بنت حسن الأنور بن زيد الأبلج الإمام الحسن السبط بن الإمام علي ہوں جو سیدہ نفیسہ سلام اللہ علیہا کی خواہر تھیں۔

اور آیت اللہ سید جعفر مرتضیٰ عاملی کے مطابق یہ رقية بنت عبد الله بن أحمد بن الحسين الحسينية کا مرقد ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی رقیہ کے نام سے کوئی دختر نہیں تھی مزید یہ کہ دمشق میں جس مرقد کو رقیہ بنت حسین کا روضہ سمجھا جاتا ہے وہ درحقیقت سیدہ رقیہ بن علی سلام اللہ علیہا کا روضہ ہے۔
اور ہم کہتے ہیں کہ سیدہ رقیہ بنت حسین سلام علیہا کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کربلا میں موجود نہیں تھیں اور بعض یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کربلا میں تھیں لیکن ان کا دوسرا نام فاطمہ ہے اور اسی نام سے ان کا کربلا میں تذکرہ ملتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت حسین سلام اللہ علیہا ان خواتین میں سے تھیں جو حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے ساتھ پہلے کربلا پہنچی جہاں امام مظلوم کا سر اقدس سپرد خاک کیا گیا بعد میں مدینہ تشریف لے گئیں اور رقیہ بنت حسین کی شہادت کے بارے میں جو روایت بیان کی جاتی ہے وہی شہادت کا واقعہ سیدہ سکینہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں بھی بیان کیا جاتا ہے تو اس بارے میں بندہ حقیر کی نظر سے کوئی مستند معلومات نہیں گزری کہ ان کا مرقد کہاں ہے اور بعض نے سیدہ رقیہ بنت علی سلام اللہ علیہا کے روضہ کو سیدہ رقیہ بنت حسین کا روضہ سمجھا ہے لیکن یہ ثابت نہیں ہے اور ممکن ہے کہ سیدہ رقیہ بنت حسین شام جانے کے بعد اپنی والدہ کے ساتھ مدینہ چلی گئیں ہوں اور وہیں ان کی وفات ہوگئی ہو اور شائد ان کی جنة البقیع میں قبر مطہر ہو لہذا ان کی معلومات خدا کے پاس ہے اور قدیم کتابوں میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی دختران کی تعداد کے متعلق زیادہ تر دو بیٹیوں کا تذکرہ ملتا ہے تو وہ فاطمہ اور سکینہ ہیں نیز مذکورہ مراقد کے بارے میں اختلافات کی تین وجوہات ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمارے قدیم کتب خانوں کو نذر آتش کیا گیا ، کتابوں کو جلایا گیا اس لئے اس کے متعلق محدثین کے اقوال اور احادیث ہم تک پہنچ نہ سکیں۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ چند علماء کی غفلتوں کا نتیجہ بھی ہے کہ انہوں نے کتابوں کو شائع نہ کروایا۔
اور تیسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے بعض علماء نے اس سلسلہ میں مخالفین کے اقوال کو بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا اور انہیں قبول کیا جس کی وجہ سے اختلاف پھیلتا گیا۔
ذیل میں دی گئی تصویر مصر کے ایک مرقد کی ہے جس کے بارے میں اختلافی اقوال کو واضح کیا گیا ہے۔
ــــــــــــــــــــ
تحریر:محمد بشیر توحیدی

عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مرتد ہو گیا مگر فتح مکہ کے بعد دوبارہ اسلام قبول کرلیا۔ــــــــــــــــــــہجرت کرنے والوں میں...
24/08/2018

عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مرتد ہو گیا مگر فتح مکہ کے بعد دوبارہ اسلام قبول کرلیا۔
ــــــــــــــــــــ
ہجرت کرنے والوں میں سے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح جو عثمان بن عفان کے رضاعی بھائی تھے ان کے بارے میں مخالفین یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو گیا مگر فتح مکہ کے بعد اس نے دوبارہ اسلام قبول کرلیا اس سلسلہ میں ان کے علماء کی تصریحات یہ ہیں:
یہ عثمان کے رضائی بھائی ہیں فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرلیا پھر ہجرت کی لیکن شیطان کے بہکاوے میں آ کر مرتد ہو گیا اور مشرکین مکہ سے جا کر ملا فتح مکہ کے دن عثمان کی سفارش پر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم نے ان کو امان دیا اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔
(الاستیعاب،جلد:۲،صفحہ:۳۷۵،ابن عبد البر)
(فتح الباری،جلد:۸،صفحہ:۱۱،ابن حجر عسقلانی)
(البدایہ و النہایہ،جلد:۳۵،صفحہ:۵،ابن کثیر)

"اور یہ مرتد ہونے سے پہلے کاتب وحی بھی تھے اہل تاریخ و سیر کا اس پر اتفاق ہے"
(سیرة ابن ہشام،جلد:۳،صفحہ:۴۰۵)
(تاریخ خلیفہ بن خیاط،جلد:۱،صفحہ:۷۷)

اور حافظ مزی نے تحفة الاشراف میں روایت بیان کی ہے جس کی سند کو ناصر الدین البانی نے صحیح قرار دیا ہے اس میں آیا ہے کہ سعد بیان کرتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عثمان بن عفان کے پاس چھپ گیا پھر اسے رسول اللہ کے پاس لے کر آئے اور عرض کیا:
اے اللہ کے رسول ۔۔۔ آپ عبداللہ سے بیعت لے لیجئے پھر آنحضرت نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا ہر بار آنحضرت انکار فرماتے رہے پھر تین دفعہ کے بعد آنحضرت نے اس سے بیعت لے لی پھر آنحضرت اپنے اصحاب کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا:
کیا تم میں سے کوئی ایسا نیک بخت انسان نہیں تھا کہ اس وقت اسے کھڑا ہوا پا کر قتل کر دیتا جب اس نے یہ دیکھ لیا تھا کہ میں اس سے بیعت لینے کے لئے اپنا ہاتھ روکے ہوئے ہوں تو لوگوں نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول ۔۔۔ آپ کی جو منشاء تھی ہمیں معلوم نہ ہو سکی ، آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہ کیا تو آنحضرت نے فرمایا:
کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کنکھیوں سے پوشیدہ اشارہ کرے۔
(تحفة الاشراف،۳۹۳۸،حافظ مزی)
اور عثمان نے اپنے دور حکومت میں اسے مصر کا گورنر مقرر کیا اور یہ منافقین ثلاثہ کا پیروکار تھا۔
ــــــــــــــــــــ
توحیدی

عبداللہ بن خطل انصاری کا مرتد ہوجانا۔ــــــــــــــــــــپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کے اصحاب میں سے عبداللہ...
23/08/2018

عبداللہ بن خطل انصاری کا مرتد ہوجانا۔
ــــــــــــــــــــ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کے اصحاب میں سے عبداللہ بن خطل نے اسلام قبول کیا جن کا زمانہ جاہلیت میں شائد عبد العزی نام تھا جن کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم نے زکوٰۃ یا صدقات وصول کرنے کے لئے ایک جگہ کی طرف بھیجا ان کے ساتھ ایک مسلمان بھی تھا جس کو بعد میں اس نے قتل کر ڈالا پھر وہ سزا کے خوف سے مرتد ہو کر مکہ چلا گیا حتیٰ کہ وہ اپنی دو لونڈیوں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کی شان اقدس میں گستاخی اور ہجو کے اشعار کہلواتا تھا تو فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کے حکم پر عبداللہ بن خطل کو قتل کردیا گیا یہ واقعہ مخالفین کی کتابوں میں نقل ہوا ہے جن کا اس واقعہ کے درست ہونے پر اتفاق ہے اور ناصر الدین البانی نے اس واقعہ کی سند کو صحیح قرار دیا ہے نیز ابن تیمیہ ناصبی لکھتا ہے:
ابن خطل کے کل تین جرم تھے جس کی وجہ سے اس کا خون مباح قرار پایا:
۱۔ارتداد
۲۔قتل
۳۔نبی معظم کی شان میں گستاخی
(الصارم المسلول،صفحہ:۱۳۵)
اور ہمارے عقیدہ کے مطابق واجب القتل "مرتد فطری" اور "مرتد ملی" ہوتا ہے مگر جو مرتد نہ ہو بلکہ بچپن ہی سے کافر تھا جس نے کبھی اسلام قبول نہ کیا ہو اگر وہ نبی معظم کی شان اقدس میں گستاخی کرتا ہے تو اس کی وجہ سے واجب القتل نہیں قرار پائے گا کیونکہ وہ مرتد نہیں ہے اور عبداللہ بن خطل مرتد ہو گیا جس کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے وہ واجب القتل قرار پایا نیز اس کے ساتھ ایک مسلمان کا خون بھی بہایا لہذا مخالفین صحابی رسول عبداللہ بن خطل کا مرتد ہوجانا تسلیم کرتے ہیں تو جو لوگ مومنین کی تکفیر کرتے ہیں صرف اس بناء پر کہ وہ اصحاب ثلاثہ کو مسلمان نہیں سمجھتے ہیں تو ایسے انتہاء پسند تکفیریوں کو چاہئیے کہ وہ پہلے اپنے باپ پر کفر کا فتویٰ لگائیں کہ جس نے عبداللہ بن خطل کو "کافر" قرار دیا ہے۔
ــــــــــــــــــــ
توحیدی

22/08/2018

بنات اربعہ کے بارے میں تذکرہ۔
ــــــــــــــــــــ
پیغمبر اسلام صلی علیہ و آ لہ و سلم کی دختر سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بارے میں علماء امامیہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ وہ آنحضرت کے صلب سے اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے بطن سے تھیں لیکن آنحضرت کی باقی تین دختران کے بارے میں علماء امامیہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے بعض یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آنحضرت کی ربیبہ بیٹیاں تھیں اور بعض یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آنحضرت کے صلب سے تھیں جس کی تائید میں "غیبت طوسی" میں ابو القاسم حسین بن روح نوبختی علیہ الرحمہ کا قول بھی وارد ہوا ہے جس میں انہوں نے سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو تینوں دختران سے افضل قرار دیا ہے اور اکثر علماء امامیہ اسی نظریہ کے معتقد ہیں لیکن پاکستان کے اکثر مومنین اس خبر سے ناواقف ہیں تو اس سلسلہ میں تین باتیں عرض کریں گے:
پہلی بات یہ ہے کہ زینب اور رقیہ اور ام کلثوم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کے صلب سے تھیں یا ربیبہ بیٹیاں تھیں لیکن وہ آیت تطہیر کے زمرے میں نہیں آتی ہیں اور نہ اہل بیت کے ساتھ چادر کے نیچے موجود تھیں جب آیت تطہیر کا نزول ہوا لہذا ان تینوں کا شمار اہل بیت میں ہوتا تھا لیکن اہل بیت تطہیر میں نہیں ہوتا ہے اور سیدہ شہیدة بنت رسول اللہ ان تینوں سے افضل تھیں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ اوائل اسلام میں مشرکین سے نکاح کرنا جائز تھا جیسا کہ مخالفین نے بھی تسلیم کیا ہے کہ زینب بنت رسول اللہ کا نکاح ابو العاص بن ربیع سے ہوا جب وہ مشرک تھا جس نے بعد میں اسلام قبول کرلیا اور مشرکین سے نکاح کرنے کی حرمت پر ہجرت کے بعد صلح حدیبیہ کے موقع پر حکم نازل ہوا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُـوْهُنَّ ۖ اَللَّـهُ اَعْلَمُ بِاِيْمَانِهِنَّ ۖ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَـرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ ۖ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّـهُـمْ وَلَا هُـمْ يَحِلُّوْنَ لَـهُنَّ ۖ وَاٰتُوْهُـمْ مَّآ اَنْفَقُوْا ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ۚ وَلَا تُمْسِكُـوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِـرِ وَاسْاَلُوْا مَآ اَنْفَقْتُـمْ وَلْيَسْاَلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا ۚ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّـٰهِ ۖ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ ۚ وَاللّـٰهُ عَلِـيْمٌ حَكِـيْمٌ۔
اے ایمان والوں جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان لے لیا کرو اللہ ان کے ایمان (کی اصلیت) کو بہتر جانتا ہے پس اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو پھر انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو نہ وہ (مومن عورتیں) ان کافروں کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان عورتوں کے لئے حلال ہیں اور ان (کافر شوہروں) نے (حق مہر وغیرہ کے سلسلہ میں) جو کچھ خرچ کیا ہے وہ انہیں ادا کردو اور تمہارے لئے کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم ان سے نکاح کرو جبکہ تم ان کے حق مہر ان کو ادا کردو اور تم (بھی) کافر عورتوں کو (اپنے نکاح میں) روکے نہ رکھو اور تم نے (ان پر جو مہر) خرچ کیا ہے وہ (ان سے) واپس لے لو اور کافر بھی (مسلمان بیویوں سے مہر واپس) لے لیں جو انہوں نے خرچ کیا ہے یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ بڑا جاننے والا ، بڑا حکمت والا ہے۔
(سورة ممتحنة،آیت:۱۰)
اور تیسری بات یہ ہے کہ علماء امامیہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ عثمان بن عفان نے اسلام قبول کرلیا تھا لیکن وہ بعد میں منافق ہو گئے تو یاد رکھیں عثمان بن عفان سے شیعوں کے مخصوص اختلافات فتح مکہ کے بعد سن ۹ ہجری سے شروع ہوتے ہیں اور اسی ہجری میں جب منافقین کو خلافت کے بارے میں مایوسی ہوئی تب انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم غزوہ تبوک سے واپس لوٹ رہے تھے ان کے ساتھ عمار بن یاسر اور حذیفہ بن الیمان بھی تھے جن کو بعد میں منافقین کے نام بھی بتائے گئے اسے واقعہ عقبہ کہا جاتا ہے جبکہ ام کلثوم کی وفات غزوہ تبوک سے پہلے ہو چکی تھی اور رقیہ کی وفات سن ۲ ہجری میں ہوئی اور اصحاب عقبہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے (پیغمبر کی غیر موجودگی میں کفر آمیز کلمہ) نہیں کہا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا اور اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے اور ایسا (خطرناک) منصوبہ بنایا جس میں وہ کامیاب نہ ہوئے اور یہ سب کچھ اسی کا بدلہ تھا کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے دولتمند کردیا تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ انہیں دنیا و آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور انہیں روئے زمین پر کوئی دوست اور مددگار نہیں ملے گا۔
(سورۃ توبہ،آیت:۷۴)
اور اگر ان منافقین نے توبہ کی ہو یا توبہ نہیں کی ہو لیکن اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کی حیات ہی میں کفر اختیار کر سکتے ہیں تو وہی لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کی وفات کے بعد بھی کفر اختیار کر سکتے ہیں پھر اس کے بعد سن ۱۰ ہجری میں یوم غدیر کے موقع پر ولایت علی کا اعلان کیا گیا تھا اور مومنین کے اصحاب ثلاثہ سے زیادہ تر اختلافات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کی وفات کے بعد سے شروع ہوتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِـهِ الرُّسُلُ ۚ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُـمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّـٰهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِى اللّـٰهُ الشَّاكِرِيْنَ۔
اور حضرت محمد نہیں ہے سوائے پیغمبر کے جن سے پہلے تمام پیغمبر گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو تم الٹے پائوں (کفر کی طرف) پلٹ جائو گے اور جو کوئی الٹے پائوں پھرے گا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور عنقریب اللہ شکر گزار بندوں کو جزا دے گا۔(سورة آل عمران،آیت:۱۴۴)
اور حدیث حوض ایک مشہور حدیث ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ محشر کے دن بعض لوگ میری طرف آئیں گے مگر ان کو روکا جائے گا پھر میں کہوں گا کہ اے میرے پروردگار یہ میرے اصحاب ہیں تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کیا تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئے کام کئے تھے۔
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کی وفات کے بعد ابو بکر کی بیعت کرنے کے لئے حضرت امام امیر المومنین علیہ السلام کو مجبور کیا گیا چنانچہ آنحضرت نے معاویہ کے خط کے جواب میں مکتوب لکھا جس میں یہ بھی ہے:
وَقُلْتَ: إِنِّي كُنْتُ أُقَادُ كَمَا يُقَادُ الْجَمَلُ الْـمَخْشُوشُ حَتَّى أُبَايِعَ وَ لَعَمْرُ اللهِ لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تَذُمَّ فَمَدَحْتَ وَأَنْ تَفْضَحَ فَافْتَضَحْتَ وَمَا عَلَى الْمُسْلِمِ مِنْ غَضَاضَة فِي أَنْ يَكُونَ مَظْلُوماً۔
اور تمہارا یہ کہنا کہ مجھے اس طرح کھینچا جا رہا تھا جس طرح اونٹ کو نکیل ڈال کر کھینچا جاتا ہے تا کہ مجھ سے (ابوبکر کی) بیعت لی جائے تو خدا کی قسم تم نے میری مذمت کرنا چاہی لیکن نادانستہ طور پر میری تعریف کر بیٹھے اور مجھے رسوا کرنا چاہا لیکن خود رسوا ہو گئے کیونکہ مسلمان کے مظلوم ہونے میں کوئی عیب نہیں ہے۔
(نہج البلاغہ،مکتوب:۲۸)
ــــــــــــــــــــ
تحریر:محمد بشیر توحیدی

15/08/2018

علم کلام سیکھنے اور مکالمہ کی ترغیب۔
ــــــــــــــــــــ
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یونس سے فرمایا:
اے یونس ! علم کلام سیکھو۔
(تصحیح اعتقادات،صفحہ:۴۷)

اور حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
لوگوں سے مناظرہ کرو اور ان سے وہ ہدایت کا راستہ بیان کرو جس پر تم قائم ہو اور وہ گمراہی بھی بیان کرو جس پر وہ قائم ہیں۔
(تصحیح اعتقادات،صفحہ:۶۷)

Address

Block
Karachi
786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مذہب اہل بیت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share