29/08/2018
سیاہ لباس پہننے کے بارے میں تذکرہ۔
ــــــــــــــــــــ
سیاہ لباس پہننے کے بارے میں چند روایات میں ممانعت وارد ہوئی ہے تو یہ نہی حرمت نہیں بلکہ نہی کراہت ہے اس سلسلہ میں دو احادیث نقل کرتے ہیں:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
يكره السواد إلا في ثلاثة : الخف والعمامة والكساء۔
سیاہ لباس پہننا مکروہ ہے سوائے تین چیزوں کے جو یہ ہیں:
۱۔سیاہ موزے
۲۔سیاہ عمامہ
۳۔سیاہ چادر
(الکافی،جلد:۶،صفحہ:۴۴۹،شیخ کلینی)
(تہذیب الاحکام،جلد:۲،صفحہ:۲۱۳،شیخ طوسی)
(وسائل الشيعة،جلد:۴،صفحہ:۳۸۲،شیخ حر العاملي)
(الفصول المهمة،جلد:۳،صفحہ:۳۰۷،شیخ حر العاملي)
اور شیخ محمد بن حسن حر العاملي نے بھی وسائل الشيعة میں اس عنوان سے مستقل باب باندھا ہے:
باب كراهة لبس السواد إلاّ في الخف والعمامة والكساء۔
اور آیت اللہ شیخ ناصر مکارم شیرازی سمیت دوسرے مجتہدین کے نزدیک بھی سیاہ لباس پہننا مکروہ ہے۔
اور سیاہ لباس سوگ منانے کے طور پر بھی پہنا جاتا ہے مگر راہ خدا میں شہید ہونے والے سید الشہداء علیہ السلام کے غم میں پہننا مکروہ نہیں ہے تو یہ بات نص کی رو سے ثابت ہے چنانچہ شیخ ابو جعفر احمد بن محمد بن خالد البرقی اپنے سلسلہ سند کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لما قتل الحسين بن علي عليه السلام لبس نساء بني هاشم السواد والمسوح ، وكن لا يشتكين من حر ولا برد ، وكان علي بن الحسين عليه السلام عمل لهن الطعام للمأتم۔
حضرت عمر بن علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام شہید ہو گئے تو بنی ہاشم کی عورتوں نے سیاہ لباس پہنے اور انہوں نے گرمی و سردی کا شکوہ نہ کیا اور ان کے ماتم کی وجہ سے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ان کے لئے کھانے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔
(المحاسن،جلد:۲،صفحہ:۱۹۵،شیخ البرقي)
(وسائل الشيعة،جلد:صفحہ:۲،صفحہ:۳۵۷،شیخ حر العاملي)
اور جن احادیث میں سیاہ لباس پہننے کو مکروہ قرار دیا گیا ان کے بارے میں محدث بحرانی لکھتے ہیں:
لا يبعد استثناء لبس السواد في مأتم الحسين عليه السلام من هذه الأخبار ، لما استفاضت به الأخبار من الأمر بإظهار شعائر الأحزان۔
ان اخبار کی رو سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے غم میں ماتم کرنے کے لئے سیاہ لباس پہننا مکروہ ہے بلکہ کراہت سے استثناء حاصل ہے اور بعض اخبار میں سیاہ لباس پہننے کو غم و حزن کے شعائر میں سے قرار دیا گیا ہے۔
(الحدائق الناضرة،جلد:۷،صفحہ:۱۱۶،شیخ البحراني)
اس موضوع پر دوسری روایات بھی وارد ہوئی ہیں۔
ــــــــــــــــــــ
تحریر:محمد بشیر توحیدی