Inzaar

Inzaar Promotion of Emaan (Faith) and Ikhlaaq (Ethics)

ہم ادارہ انذار میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انذار ایک دعوتی اور تربیتی ادارہ ہے۔ اس ادارے کا مقصدلوگوں میں ایمان و اخلاق کے شعور کو راسخ کرنا اور ان کی شخصیت کو ایمانی تقاضوں اور اخلاقی رویوں کے مطابق ڈھالنا ہےتاکہ روز قیامت ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہوکر اس کی جنت کے امیدوار بن سکیں۔

ہمارا جذبہ محرکہ:
اس کام میں ہمارا جذبہ محرکہ یہ ہے کہ ہم قیامت کے دن ہم اللہ کے دین کی نصرت کا کام

کرنے والوں میں شمار کیے جائیں۔کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی جدو جہد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی مدد سے تعبیر کیا ہے،(الصف14:61)۔ان کے مال خرچ کرنے کو اللہ کو قرض دینے سے تعبیر کیا ہے،( الحدید 11:57)اور یہی وہ کام ہے جس کے کرنے والے صحابہ کرام سے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی اپنی مدد و نصرت کا وعدہ فرمایا تھا،( محمد 7:47)۔

ادارے کا مقصد اور کام:
اس ادارے میں ہم شامل ہوتے وقت ہمارا اصل مقصد دوسروں سے پہلے خود کو بہتر کرنا، اپنی شخصیت کو مسلسل ارتقاء کی راہ پر ڈالنا اور اپنی سیرت و کردار کو اعلیٰ اخلاقی اور شخصی رویوں سے مزین کرنا ہے۔ساتھ میں جو خیر ہم پارہے ہیں، نصرت دین کے جذبے سےاس کا ابلاغ دوسروں تک کرنا بھی ہمارے ایک بنیادی کام رہے گا۔ اس حیثیت میں ادارہ جو خدمات سر انجام دے رہا ہے وہ درج ذیل ہیں:
1)ایمان و اخلاقی اور علم و عمل کی اصلاح کے لیے ایک ماہنامے یعنی "انذار" کا اجراجس کے مضامین کا مسلسل مطالعہ ہماری روحانی اور اخلاقی شخصیت کو طاقت عطا کرتا ہے۔
کے نام سے ادارے کی ایک ویب سائٹ کام کرہی ہے جس پر رسالے کے مضامین وقتاً فوقتاً شائع کیے جاتے ہیں۔Inzaar.org

2) ایسے ہی مقاصد کے حصول کے لیے کتابوں کی اشاعت۔ ابھی تک ادارہ ایک درجن کتب کو خود یا معاون اداروں کے ذریعے سے شائع کرچکا ہے۔

3) تذکیری آرٹیکل اور کتابوں کی آڈیو ریکارڈنگ ادارے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

4) سر ابویحییٰ کا تذکیری درس قرآن بھی ادارے کی ویب سائٹ اور سی ڈی پر دستیاب ہے۔

5) فیس بک اور سائٹ پر ایسے ہی تذکیری و تعمیری لٹریچر کی مسلسل اشاعت ۔

6) تذکیری نوعیت کے انتہائی موثر آرٹیکل کی پمفلٹ کی شکل میں اشاعت۔

7) لوگوں کی باقاعدہ تعلیم کے لیے آن لائن تعلیمی پروگرام جہاں آپ باقاعدہ تعلیمی عمل سے گزر کر اور اساتذہ کی زیرنگرانی اپنی اصلاح کا عمل مستقل جاری رکھ سکتے ہیں۔

آپ سے درکار تعاون:
ادارہ بحیثیت ایک ممبر کے آپ سے توقع رکھتا ہے کہ آپ اس تمام مواد سے نہ صرف خود استفادہ کریں گے بلکہ دوسروں تک اس کے ابلاغ میں عملی تعاون فرمائیں گے۔اس تعاون کی شکلیں درج ذیل ہیں۔
1) لوگوں تک اس تربیتی اور اخلاقی مواد کو پہنچانے کے لیے فیس بک پر ہمارے پیجز کو جوائن کیجیے ۔پھر ہماری چیزیں شیئر کرکے دوسروں تک پہنچائیں۔
2)دعوتی مضامین کو بذریعہ ای میل اپنے ای میل لسٹ میں موجود لوگوں کو ہفتہ وار بنیادوں پر پہنچایے۔
3)ماہنامہ انذار کو خود بھی باقاعدہ پڑھیے اور اپنے جاننے والوں تک اسے لگوایے۔
4) ادارے کی مطبوعات، سی ڈی، کتب، پمفلٹ وغیرہ دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کیجیے۔
5) ادارہ آپ سے کسی قسم کا مالی تعاون نہیں چاہتا۔ تاہم اگر ادارے کے کام پر آپ کا اعتماد ہوجائے تو ماہانہ بنیادوں پر اپنی حیثیت کے مطابق ادارے کے ساتھ مالی تعاون کیجیے تاکہ مذکورہ بالا کاموں اور نئے پروجیکٹس کے لیے وسائل دستیاب ہوسکیں۔
6) ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مستقل دعا کرتے رہیے کہ پروردگار اپنی مدد و نصرت کو ہمارے شامل حال کردے اور ہمیں اپنے کام کے لیے استعمال کرلے۔

27/08/2026

قرآن اور ہامان سلسلہ روز و شبرسالے کے قارئین واقف ہیں کہ یہ طالب علم اپنے رسالے میں عام طور پر مختصر تذکیری مضامین ہی ل...
27/08/2026

قرآن اور ہامان
سلسلہ روز و شب

رسالے کے قارئین واقف ہیں کہ یہ طالب علم اپنے رسالے میں عام طور پر مختصر تذکیری مضامین ہی لکھتا ہے۔ کبھی کسی ایک آدھ علمی نکتے پر بات کرنی ہو تو آرٹیکل کچھ بڑا بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن جب کوئی اہم اور تفصیلی تحقیقی نوعیت کا معاملہ ہو تو یہ طالب علم سلسلہ روز و شب کا کالم ہی استعمال کرتا ہے۔ یہ کالم ابتدا میں ملاقات کے نام سے شائع ہوا اور پھر اس کا نام بدل کر سلسلہ روز و شب رکھا گیا۔ انھی دو ناموں سے اس کالم میں شائع ہونے والے آرٹیکل پر مشتمل دو کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔

یہ تمہید اس لیے باندھنی پڑی ہے کہ کچھ وقفے کے بعد آج بھی اسی نوعیت کا ایک آرٹیکل پیش نظر ہے جس میں ایک اہم موضوع پر تفصیلی گفتگو ہو گی جس کا تعلق قرآن مجید کی حقانیت کے ساتھ ہے۔

ڈاکٹر مورس بکائے سے تعارف
اس آرٹیکل کا تعلق ڈاکٹر مورس بکائے سے ہے۔ میرا ان سے ابتدائی تعارف 1987 میں اس وقت ہوا جب میں نے ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ (The Bible, The Qur'an and Science) کا اردو ترجمہ پڑھا۔ یہ کتاب اصل میں انھوں نے اپنی مادری زبان فرانسیسی میں لکھی تھی اور پھر متعدد زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے۔ یہ بڑی غیر معمولی کتاب تھی جس میں ایک غیر مسلم ڈاکٹر کی زبانی یہ شہادت دی گئی تھی کہ قرآن مجید کس طرح ایک سچا اور محفوظ کلام ہے۔

آگے بڑھنے سے قبل ان کا کچھ تفصیلی تعارف کرانا ضروری ہے۔ ڈاکٹر مورس بکائے (Maurice Bucaille) فرانس کے ایک مشہور سرجن، ماہرِ طب اور مصنف تھے۔ وہ دنیا بھر میں بالعموم اور اسلامی دنیا میں بالخصوص اپنی کتاب ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ (The Bible, The Qur'an and Science) کی وجہ سے مشہور ہیں۔ وہ 1920 میں فرانس کے علاقے پونٹ لیویک (Pont-l'Évêque) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے طب کا شعبہ اختیار کیا اور پیٹ کے امراض (Gastroenterology) کے ماہر بنے اور پھر یونیورسٹی آف پیرس کے ہسپتال میں سرجری کلینک کے سربراہ رہے۔ فرانس کے صفِ اول کے سرجن ہونے کی وجہ سے ان کا شمار نامور ترین طبی ماہرین میں ہوتا تھا۔

1973ء میں انہیں سعودی عرب کے شاہ فیصل کا خاندانی معالج مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ مصر کے صدر انور سادات کے اہل خانہ کے بھی معالج رہے۔ مذہبیات میں ان کی دلچسپی اس وقت شروع ہوئی جب سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران میں انھیں معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں چودہ صدیوں قبل یہ بات واضح طور پر بیان کر دی گئی تھی کہ سمندر میں ڈوبنے کے بعد فرعون کے جسم کو بچا لیا گیا تھا۔ قرآن مجید میں یہ بات اس طرح بیان ہوئی ہے۔
’’سو آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تا کہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے تو (خدا کے عذاب کی) نشانی بن کر رہے‘‘، (یونس 10: 92)

اسی زمانے میں رعمسیس اور منفتاح نامی فرعونوں کی ممیاں مصر سے فرانس منتقل کی گئیں۔ ان کے صدر انورسادات سے ذاتی تعلقات کی بنا پر 1975ء میں انھیں مصر کے فرعون (رعمسیس دوم / منفتاح) کی ممی (محفوظ لاش) کے طبی معائنہ اور تحقیق کی ذمہ داری دی گئی۔ دورانِ تحقیق انہوں نے پایا کہ فرعون کی موت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی تھی اور اس کا جسم حیرت انگیز طور پر محفوظ رہا۔ اس تحقیق کے نتائج انھوں نے اپنی تصنیفMummies of the Pharaohs: Modern Medical Investigations میں تفصیل سے پیش کیے۔

اسی دوران میں انھوں نے قرآن مجید کے اس معجزے سے متاثر ہو کر 50 سال کی عمر میں عربی زبان سیکھی تاکہ وہ کسی ترجمے کے محتاج رہے بغیر قرآن کا براہ راست مطالعہ کرسکیں۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن اور بائبل کا سائنس کی روشنی میں ایک تحقیقی مطالعہ کیا اور وہ کتاب لکھی جس کا ذکر شروع میں ہوا۔ اس کتاب میں انہوں نے ثابت کیا کہ بائبل کے کئی بیانات جدید سائنس سے ٹکراتے ہیں، جبکہ قرآن مجید کی ایک بھی آیت جدید سائنسی حقائق کے خلاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کی متعدد دیگر تصانیف ہیں۔

ان کی گران قدر تاریخی اور سائنسی تحقیقات کے اعتراف میں 1988ء میں انہیں ’’فرانسیسی اکیڈمی‘‘ (French Academy) کی طرف سے ہسٹری پرائز سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر مورس بکائے 17 فروری 1998ء کو 77 برس کی عمر میں پیرس میں وفات پا گئے۔

مسیحی مستشرقین کا ایک الزام
ڈاکٹر مورس بکائے کا اس قدر تفصیلی تعارف کرانے کی وجہ مسیحی مستشرقین کا ایک الزام ہے جس پر آج ان کی تحقیقات کی روشنی میں تفصیلی گفتگو پیش نظر ہے۔ مسیحی مستشرقین قرآن مجید پر عام طور پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی تاریخ کے ضمن کے تمام واقعات معاذ اللہ حضور نے قبل نبوت سفر شام میں مسیحی راہبوں اور علما سے سنے اور پھر ان کو قرآن میں بیان کر دیا۔ اس میں ایک مثال وہ قرآن میں ہامان کے ذکر کی دیتے ہیں۔

آگے بڑھنے سے قبل ہم یہ واضح کر دیں کہ یہ الزام اتنا لغو اور لایعنی تھا کہ کفار مکہ جو اعلان نبوت کے بعد حضور کے بدترین دشمن بن گئے تھے، انھوں نے بھی یہ الزام لگانے کی حماقت نہیں کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں کوئی سفر انفرادی طور پر نہیں ہوتا تھا۔ تمام سفر تجارتی قافلوں کی شکل میں اجتماعی طور پر کیے جاتے تھے۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ان سفروں میں حضور مسیحی راہبوں کی صحبت میں رہ کر ان سے کچھ سنتے اور قریش کو اس کا علم نہ ہوتا۔ انھیں لازماً علم ہوتا اور پھر وہ اس بات کو لازمی طور پر اٹھاتے۔ مگر انھوں نے یہ کام نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ مذہبیات نبوت سے قبل حضور کی دلچسپی کا کبھی موضوع ہی نہیں رہا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے خلاف ایک دلیل بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔ مگر ان معاندین کا کیا کیجیے جو بے جا الزام تراشی سے باز نہیں آتے۔

قرآن اور ہامان
قرآن میں چھ مقامات پر ہامان کا ذکر آیا ہے۔ یہ مقامات قرآن کی تین سورتوں القصص، العنکبوت اور المومن میں مذکور ہیں۔ ان مقامات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص فرعون کے دربار میں ایک اہم شخص تھا جو اس کے کاموں اور جرائم میں بھی پوری طرح شریک تھا۔ قرآن میں ہامان کے بارے میں فرعون کی جو بات بیان ہوئی ہے اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس کا تعلق تعمیرات کے امور سے تھا۔ قرآن کے یہ وہ متعلقہ الفاظ ہیں جن میں وہ اپنی دانست میں حضرت موسیٰ کا مذاق اڑا رہا تھا:
’’فرعون نے کہا کہ اے ہامان، میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا دو کہ میں اطراف میں پہنچوں۔ آسمانوں کے اطراف میں، پھر موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں تو اِسے ایک جھوٹا آدمی سمجھتا ہوں۔ اِس طرح فرعون کی نگاہوں میں اُس کی بدعملی خوش نما بنا دی گئی اور وہ سیدھی راہ سے روک دیا گیا‘‘، (المومن 36-37:40)

’’فرعون نے کہا: دربار کے لوگو، میں تو اپنے سوا تمھارے لیے کسی اور معبود سے واقف نہیں ہوں۔ اچھا تو اے ہامان، تم میرے لیے مٹی کی اینٹوں کا پزاوہ(اینٹیں پکانے والا بھٹہ) لگواؤ اور ایک اونچا محل میرے لیے بنواؤ تاکہ موسیٰ کے خدا کو میں (آسمان میں) جھانک کر دیکھوں، اور میں تو اِسے ایک جھوٹا آدمی سمجھتا ہوں‘‘، (القصص 28: 38)

بائبل اور ہامان
ہامان کا نام بائبل میں بھی آیا ہے۔ یہ نام بائبل کی کتابِ استر (Book of Esther) میں آتا ہے۔ جہاں اسے فارس کے بادشاہ اخشوروش (Ahasuerus) کے وزیر اعظم کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ بائبل کے مطابق وہ یہودیوں کا سخت دشمن تھا اور اسے فارس میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ ان واقعات کا زمانہ حضرت موسیٰ اور فرعون کے واقعے کے کم و بیش ہزار برس بعد کا ہے۔ اسی نام کو لے کر مستشرقین یہ الزام لگاتے ہیں کہ حضور نے یہ نام بائبل سے سنا اور پھر ایران سے اٹھا کر ہامان کو ایک ہزار سال پہلے کے مصر میں فرعون کے درباری کے طورپر بیان کر دیا۔ مثال کے طور پر انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا جیسی معتبر تحقیقی قاموس کا مضمون نگار جرمن مستشرق تھیوڈور نولڈیکے (Theodor Nöldeke) 1891 میں یہ سخت جملہ لکھتا ہے۔
The most ignorant Jew could never have mistaken Haman (the ministere of Ahasuerus) for the minister of Pharaoh.

کمترین درجہ کا ناواقف یہودی بھی کبھی ہامان (جو کہ شاہِ فارس اخشوروش کا وزیر تھا) کو فرعون کا وزیر سمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتا۔

تاہم چند برس بعد ہونے والی مصریات (Egyptology)کی دریافتوں نے تھیوڈور جیسے جہلا کے پر اعتماد لہجے کو چلو بھر پانی میں غسل دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس دریافت کو منظر عام پر لانے کی خدمت ڈاکٹر مورس بکائے (Maurice Bucaille) سے لی۔ انھوں نے قرآن، تاریخ اور بائبل کی روشنی میں حضرت موسیٰ اورفرعون پر ایک کتاب لکھی۔ فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والی اس کتاب کا نام یہ ہے:
Moïse et Pharaon:Les Hébreux en Égypte
Quelles concordances des livres saints avec l'histoire
اس کا اردو ترجمہ یہ ہے:
موسیٰ اور فرعون: مصر میں بنی اسرائیل، مقدس کتابوں اور تاریخ کے درمیان کیا مطابقتیں ہیں؟
اس کا انگریزی ترجمہ درج ذیل عنوان سے شائع ہوا ہے۔
Moses and Pharaoh in the Bible, Qur'an and History

ڈاکٹر بکائے کی تحقیق
اپنی اس کتاب میں تفصیلی بحث کرکے انھوں نے قرآن مجید پر کیے جانے والے مستشرقین کے اس اعتراض کا بھرپور جواب دیا ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر بکائے نے جدید علمِ مصریات (Egyptology) کے ذریعے سے اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ قدیم مصری رسم الخط یعنی ہیر و غلیفی(Hieroglyphics) نزول قرآن سے بہت پہلے دنیا سے مکمل طور پر متروک ہوچکا تھا اور کوئی اسے پڑھنے والا نہیں تھا۔ اس قدیم رسم الخط کو 1822 میں فرانسیسی ماہر جین فرینکوئس چیمپولیون (Champollion) نے روزیٹا اسٹون (Rosetta Stone) کی مدد سے پہلی بار ڈی کوڈ یعنی ترجمہ کیا۔

بکائے واضح کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساتویں صدی کے عرب میں کسی بھی انسان کے لیے قدیم مصری کتبے پڑھنا نا ممکن تھا۔ پھر وہ یہ بتاتے ہیں کہ جب مصری کتبوں کا ترجمہ ہوا تو ہرمن رینکے(Hermann Ranke) نام کے ایک جرمن محقق اور ماہر مصریات نے قدیم مصری ناموں کی ایک ڈکشنری شائع کی جس کا نام ’Die Ägyptischen Personennamen‘ یعنی قدیم مصریوں کے ذاتی نام تھا۔ یہ قدیم مصر کے ناموں پر لکھی گئی دنیا کی سب سے مستند اور مشہور ترین لغت ہے۔ اس لغت میں قدیم مصری کتبوں کا مطالعہ کر کے مصریوں کے نام جمع کیے گئے ہیں۔ اس لغت میں ہامان کا نام بھی موجود ہے۔ ہرمن رینکے نے یہ نام جس کتبہ سے لیا وہ آج بھی ویانا کے ’’Kunsthistorisches Museum‘‘ (آرٹ ہسٹری میوزیم) میں رکھا ہوا ہے۔ ہامان کے نام کے ساتھ اس میں اس کا عہدہ ’پتھروں کا کام کرنے والے مزدوروں کا نگران‘ (the overseer of the stonemasons) لکھا ہوا ہے۔ تحقیقی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے ہم کتبے کا انگریزی اور اردو ترجمہ دے رہے ہیں۔ انگریزی ترجمہ اس میوزیم کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے :
(1) An offering, which the king gives to Osiris, Foremost of the Westerners, Lord of Infinity, Ruler of Eternity, so that he may give everything that is offered on his food table; the sweet breath of the northern wind; a goodly funeral for his old age, for the Ka of the overseer of the stonemasons of Amun Hemen-hetep, true of voice.
(2) An offering, which the king gives to the Western Desert and Amaunet, the Lady of Heaven, so that she may give food and sustenance and all kinds of offerings, all things good and pure, for the Ka of the overseer of the stonemasons of Amun Hemen-hetep, true of voice.
اردو ترجمہ درج ذیل ہے:
(1) ایک نذر (ہدیہ)، جو بادشاہ اوسیرس کو دیتا ہے، جو مغرب والوں کا سردار، لامحدودیت کا مالک، ابدیت کا حاکم ہے، تاکہ وہ اپنی خوراک کی میز پر پیش کی جانے والی تمام چیزیں عطا کرے؛ شمالی ہوا کی خوشگوار سانس؛ اس کے بڑھاپے کے لیے ایک اچھی تدفین، تاکہ یہ سب کچھ آمون کے پتھروں کا کام کرنے والے مزدوروں کا نگران ہمن-ہیٹپ، ’’سچا آواز والا‘‘، کے کا (روح) کے لیے ہو۔

(2) ایک نذر، جو بادشاہ مغربی صحرا اور آماونیت (Amaunet)، آسمان کی خاتون، کو دیتا ہے، تاکہ وہ خوراک، رزق اور ہر قسم کی نذریں، اور تمام اچھی اور پاکیزہ چیزیں عطا کرے، آمون کے پتھروں کا کام کرنے والے مزدوروں کا نگران ہمن-ہیٹپ،’’ سچا آواز والا‘‘، کے کا(روح) کے لیے۔

یہاں جس ہمن(Hemen) کو ہم نے انڈر لائن کیا ہے اس کا نام اور کام دیکھیں۔ اس میں اور قرآن کے بیان میں کیا فرق ہے؟ ہم آیت کا متعلقہ حصہ دوبارہ نقل کیے دیتے ہیں۔
’’اے ہامان، تم میرے لیے مٹی کی اینٹوں کا پزاوہ(اینٹیں پکانے والا بھٹہ) لگواؤ اور ایک اونچا محل میرے لیے بنواؤ۔ ‘‘ (القصص 28: 38)

اعتراض کی موت
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ کتبے پر ہمن کے ساتھ ’ہوتپ‘ کے الفاظ برائے بیت لگے ہیں۔ ’’ہوتپ‘‘ کوئی مستقل شخصیت نہیں بلکہ قدیم مصری زبان کا ایک معزز لفظ ہے جس کا مطلب ’’امن، اطمینان اور نذرانہ‘‘ ہے۔ ناموں کے آخر میں اس کا آنا اس بات کی علامت ہوتا تھا کہ مذکورہ شخص پر دیوتاؤں کی خوشنودی اور رحمت ہے۔ یعنی اصل نام ہمن ہی بیان ہوا ہے۔

اس ساری تفصیل سے یہ واضح ہوجاتا ہے یہ تاریخی معلومات نبی کریم کے دور میں صدیوں پرانے کتبوں میں دفن تھیں جنہیں اُس وقت دنیا کا کوئی انسان نہیں پڑھ سکتا تھا۔ اس لیے قرآن پر یہ اعتراض کہ اس میں بیان کردہ ہامان کو غلطی سے ایران سے مصر منتقل کر دیا گیا ہے مکمل طور بے بنیاد ہے۔ مصری تاریخ یہ ثابت کر دیتی ہے کہ یہ نام مصر میں پایا جاتا تھا۔ اسی طرح یہ عہدہ یعنی معمار/پتھروں کے کام کا نگران بھی مصر میں پایا جاتا تھا۔ یہ دونوں قرائن بتاتے ہیں کہ قرآن مجید نے جس ہامان کا ذکر کیا ہے وہ یا تو یہی ہامان ہے جس کا کتبے میں ذکر ہے یا پھر اسی خاندان میں آگے یا پیچھے پیدا ہونے والا کوئی شخص ہے جس کا نام بھی ہامان تھا اور کام بھی یہی تھا۔

اس پس منظر میں قرآن پر کیا گیا اعتراض نہ صرف غلط ہے بلکہ قرائن ثابت کرتے ہیں کہ وہ ہامان دریافت ہوچکا ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے۔

مستشرقین کے جوابی اعتراضات اور ان کا جواب
مورس بکائے کی اس تحقیق کے جواب میں مسیحی مناظر نے بہت سطحی سے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ اصل کتبے میں HMN کے الفاظ ہیں۔ ان سے ہیمن یا ہامان کا نام بنانا درست نہیں ہے۔ مگر یہ اعتراض اس لیے درست نہیں ہے کہ کسی نام میں اہمیت حروف علت (Vowels) سے زیادہ حروفِ صحیح (Consonants) کی ہوتی ہے۔ ویسے تو علاقے اور زبان کی تبدیلی سے ان میں بھی کچھ جزوی فرق اور کمی بیشی ہوسکتی ہے جیسے فرعون انگریزی میں جاکر pharaoh ہوجاتا ہے جس میں آخر کا نون نہیں آرہا، لیکن اگر حروف صحیح وہی ہوں جو دوسرے نام میں پائے جائیں تو پھر اس بات کا بڑی حد تک اطمینان ہوجاتا ہے کہ دونوں نام ایک ہی ہیں۔ اردو میں دیکھیے تو ہمن اور ہامان بالکل صاف لگتا ہے کہ ایک ہی نام ہے جو معمولی سا بدل گیا ہے۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس کتبے میں فرعون یا حضرت موسیٰ کا ذکر نہیں ہے، اس لیے اس کتبے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ وہی فرعون کے دربار والا ہامان ہے۔ اس بات کا جواب یہ ہے کہ مسیحیوں کو اپنے اصل اعتراض پر نظر رکھنی چاہیے کہ حضور نے فارس کے ایک بادشاہ کے وزیراعظم ہامان کا نام بائبل میں پڑھا اور معاذاللہ اسے فارس سے مصر لے جاکر فرعون کے ساتھ ملا دیا۔ یہ دریافت اس پورے اعتراض کو ہوا میں اڑا چکی ہے۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ مصریات کے ماہرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ کتبہ مصر کے انیسویں یا بیسویں خاندان کے دور کا ہے۔ انیسواں خاندان وہی دور ہے جس میں رامسیس دوم (Ramesses II) اور اس کا بیٹا منفتاح (Merneptah) حکمران تھے، جنہیں اکثر مفسرین حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے فرعون قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ قرائن واضح کرتے ہیں کہ کتبے والا ہامان یا تو وہی ہے جس کا قرآن میں ذکر ہوا ہے یا آگے پیچھے پیدا ہونے و الا اسی خاندان کا کوئی فرد ہے جس کا نام اور کام یہی تھا۔ کسی خاندان میں نام اور کام کا ایک ہی ہونا آج بھی ایک معروف بات ہے جسے سمجھنا مشکل نہیں۔ خاص طور پر جب زمانہ متعین ہوچکا ہو تو یہ امر کم و بیش یقینی ہوجاتا ہے کہ قرآن کی بات بالکل درست ہے۔

قارئین یہاں رک کر خود بھی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اس شخصیت کے زمانے، نام اور کام سب کو جمع کرنے کے بعد کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ کیا یہ ہامان ہزار سال بعد کے فارس سے لیا گیا ایک نام ہے یا مصر کا ایک عہدیدار، جو انیسویں یا بیسویں خاندان کے دور میں تعمیرات کے شعبے کا انچارج تھا۔ یہ بھی خیال رہے کہ قرآن یہ ساری بات اس وقت کر رہا ہے جب مصریات کا سارا فن مقبروں میں دفن تھا اور پوری دنیا میں کوئی ان سے واقف نہ تھا نہ ان کی اس زبان کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا جو ان کتبوں پر درج تھی۔ ایسے وقت میں کسی بھی ہامان کا ایران کے بجائے مصر سے تعلق بیان کرنا ہی اپنی ذات میں ایک معجزہ ہے۔

ناقدین کا تیسرا اعتراض منصب کے بارے میں ہے کہ مصری کتبے میں مذکور شخص کوئی وزیر اعظم یا شاہی مشیر نہیں بلکہ ایک انتظامی یا پیشہ ورانہ عہدے سے متعلق معلوم ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہامان کو وزیر اعظم قرآن نے نہیں، بائبل نے کہا ہے۔ اس لیے قرآن پر یہ اعتراض نہیں بنتا۔ البتہ اس کا پورا امکان ہے کہ یہ بائبل کے مصنفین کا کرشمہ ہو کہ انھوں نے ایک مصری عہدیدار کے نام کو مصر سے ایران منتقل کرکے وزیراعظم بنا دیا۔

اس بات کے متعدد قرائن ہیں۔ پہلا یہ کہ اس کتاب کی نسبت نہ کسی نبی کی طرف ہے اور نہ اس میں خدا کا نام آیا ہے۔ چنانچہ یہ کسی طور کوئی الہامی کتاب نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ جدید بائبل اسکالرز اور مؤرخین اسے ایک ’’تاریخی ناول‘‘یا تمثیلی داستان (Novella) قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس دور کے معروف یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کی تاریخی دستاویزات میں ملکہ استر یا مرد کی کا کوئی واضح تذکرہ نہیں جو اس کتاب کے مرکزی کردار ہیں۔ تیسرا یہ کہ خود یہ بات نہیں معلوم کہ اس کتاب کا اصل مصنف کون ہے۔ صاف لگتا ہے کہ یہ ایک تاریخی افسانہ تھا جو یہودیوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے گھڑا گیا اور پھر ان کی مقدس کتابوں کا حصہ بن گیا۔

آخری بات
مضمون کے اختتام پر ہم ایک بہت اہم بات کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ قرآن مجید کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ واقعات کے بیان میں قرآن مجید اکثر مواقع پر تفصیل کے بجائے اختصار کو ترجیح دیتا ہے۔ مگر قرآن نے نہ صرف کئی دفعہ ہامان کا ذکر کیا ہے بلکہ دو دفعہ بہت اہتمام سے فرعون کی زبانی اس کا کام بھی نمایاں کرکے بیان کر دیا ہے۔ حالانکہ ان دونوں مواقع پر یہ واقعات بیان کیے بغیر بھی اصل مدعا پوری طرح واضح ہورہا تھا۔ بہت ہوتا تو قرآن یہ کہہ دیتا کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کا مذاق اڑایا اور انھیں جھوٹا قرار دیا۔

مگر قرآن کی یہ تفصیل بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب و الشہادہ ہیں، وہ جانتے تھے کہ ایک روز جب اسلام کی سیاسی قوت ختم ہوچکی ہوگی اور مسلمان دعوت کی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل ہوکر بدترین اخلاقی زوال کا شکار ہوجائیں گے ان کے دین کو ان کی خصوصی مدد کی ضرورت ہوگی۔ چنانچہ انھوں نے اسی پس منظر میں ہامان کے نام اور کام کو قرآن میں بااہتمام بیان کیا اور پھر اس دریافت کو سامنے لا کر دنیا پر حجت قائم کر دی کہ وہ حق ہیں، ان کے نبی حق ہیں، ان کی کتاب حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں اور ان کا وعدہ حق ہے۔

جہاں رہیے بندگان خدا کے لیے باعث رحمت بن کر رہیے، باعث آزار نہ بنیں۔
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)

26/08/2026

شیطان کے چھ پھندے


Lecture by Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi) - Hindi / Urdu

26/08/2026

شیطان کے چھ پھندے - سوال و جواب سیشن



Question & Answer Session by Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi) - Hindi / Urdu

https://youtu.be/30ZOUeiB6pg

▶ Timestamps:
00:00 Apne will ko Allah ke smane submit karna
03:11 Najat Ka Rasta
09:36 Quran Institutionalized kyun nahi hua?
15:33 Quran Hifz Karna aur Jannat ya Jahannum
18:13 Quran ka Tarjuma

Question & Answer Session by Abu Yahya (...

Eminence, Love, ObedienceBy Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)YouTube Channel: Inzaarhttps://www.inzaar.org/eminence-lo...
25/08/2026

Eminence, Love, Obedience
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)

YouTube Channel: Inzaar
https://www.inzaar.org/eminence-love-obedience
-----------
To get books, please visit http://www.inzaar.pk/order-books/

The aspect of the Messenger of Allah’s (peace and blessings be upon him) personality that stands out most among Muslims is his eminence and love. His eminence is an undeniable fact, and his love is an indispensable part of faith. However, one might wonder why something so widely accepted, about wh...

دنیا اور دھوکاسوال و جوابسوالاستادِ محترم، السلام علیکم۔  برائے مہربانی وضاحت فرما دیں کہ جب قرآن مجید میں دنیا کی زندگ...
25/08/2026

دنیا اور دھوکا
سوال و جواب

سوال
استادِ محترم، السلام علیکم۔

برائے مہربانی وضاحت فرما دیں کہ جب قرآن مجید میں دنیا کی زندگی کو دھوکا یا فریب جیسی کہا گیا ہے، تو اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم سب انسان، انسانیت، جذبات، دعا اور اعمال سب صرف آنکھوں کا دھوکا ہیں؟ یا پھر اس کا مطلب کچھ اور ہے؟ براہِ کرم اس موضوع پر رہنمائی اور اصلاح فرما دیں۔ شکریہ۔ مائرہ گل

جواب
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

محترمہ مائرہ گل صاحبہ
آپ نے جس آیت مبارکہ کی طرف اشارہ کیا ہے وہ قرآن مجید میں دو مقامات پر آئی ہے۔ ترجمہ درج ذیل ہے:
’’ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو تمھارا پورا پورا بدلہ تو قیامت کے دن ہی ملے گا۔ پھر جو دوزخ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، وہی کامیاب ہے اور یہ دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سودا ہے‘‘، (آل عمران 185:3)

’’جان رکھو کہ دنیا کی زندگی، یعنی لہو و لعب، زیب و زینت اور مال و اولاد کے معاملے میں باہم ایک دوسرے پر فخر جتانے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تگ و دو کرنے کی تمثیل اُس بارش کی ہے جس کی اگائی ہوئی فصل اِن منکروں کے دل لبھائے، پھر زور پر آئے اور تم دیکھو کہ وہ زرد ہوگئی ہے، پھر (کوئی آفت آئے اور) ریزہ ریزہ ہوجائے۔ (جان رکھو کہ) آخرت میں (اِس کے بعد) سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور اُس کی خوشنودی بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی یہ زندگی تو متاع غرور کے سوا کچھ بھی نہیں ہے‘‘، (الحدید 57: 20)

ان دونوں مقامات کے سیاق و سباق کا جب جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں مقامات پر لوگوں کا وہ رویہ زیر بحث ہے جس میں وہ اللہ کی راہ میں انفاق کرنے کے بجائے بخل کرتے اور اس طرح آخرت کی فلاح کے بجائے دنیا کے حقیر فائدوں کے لیے آخرت کی ابدی کامیابی کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مال دنیا کے قائم مقام ہے۔ جب انسان مال کو بچا کر رکھتا ہے تو اس کے پیش نظر یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر اس نے انفاق کیا تو اس کے پاس دنیا کی ضروریات پوری کرنے، مشکل حالات کا سامنا کرنے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے پیسے نہیں بچیں گے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت کی زندگی میں جب اٹھائے جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ ان کے پاس جنت میں کوئی مقام حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی نیکی نہیں اور جس دنیا کو بچانے اور اس کے عیش و عشرت کے لیے انھوں نے مال خرچ کیا تھا، وہ اِس لمحے خواب و خیال ہوچکی ہے۔ نہ دنیا بچی، نہ لذات دنیا، نہ مال رہا، نہ اس سے خریدی گئی اشیا۔ اس روز انسان جانے گا کہ وہ گزری ہوئی دنیا تو ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں تھی اور جب حقیقت کی دنیا میں آنکھ کھلی ہے تو انسان خالی ہاتھ اور خالی دامن ہے۔ یہ بات سورہ الرعد میں اس طرح بیان ہوئی ہے:
’’یہ اِسی دنیا کی زندگی پر ریجھے ہوئے ہیں، دراں حالیکہ دنیا کی یہ زندگی آخرت میں محض ایک متاع حقیر ہی نکلے گی‘‘، (الرعد 13: 26)

یہاں واضح کر دیا گیا کہ دنیا ایک متاع غرور یا متاع حقیر تھی، اس بات کا احساس انسان کو آخرت کے دن ہوگا۔ چنانچہ آیت کا مطلب وہ نہیں جو آپ سمجھ رہی ہیں کہ ہم سب انسان، انسانیت، جذبات، دعا اور اعمال سب صرف آنکھوں کا دھوکا ہیں۔ اصل مطلب یہ ہے کہ روزِ قیامت یہ دنیا ایک خواب و خیال کی طرح رہ جائے گی اور یہ واضح ہوجائے گا کہ اصل زندگی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی تو بس آخرت کی تھی۔ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے آج ہی ہمیں یہ حقیقت سمجھا دی ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ انفاق کریں۔ دنیا کو برتنے پر کوئی پابندی نہیں نہ زینت دنیا کی حرمت ہے۔ مگر آخرت کو بھول کر دنیا کو اپنا ہدف نہ بنائیں۔ ورنہ قیامت کے دن پچھتاووں کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔

بندہ عاجز
ابویحییٰ
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)

24/08/2026

نماز-ایمان کا ثبوت
پارٹ 01
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)

24/08/2026

شیطان کے چھ پھندے


Lecture by Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi) - Hindi / Urdu

https://youtu.be/cD3WNMI7TMw

▶ Timestamps:
00:00 In this Episode
01:10 Introduction
02:23 Rare Earth Elements aur Insaan
15:09 Insaan ki Fitrat aur Jannat
16:55 Shaitaan aur Insaan
29:28 Karne ka Kaam

Lecture by Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yo...

23/08/2026

"انجینئرنگ کافی نہیں" - کتاب "اللہ اکبر" – مولانا وحید الدین خان



ALLAH HU AKBAR - Audio Book - Maulana Wahiduddin Khan (in Hindi / Urdu)

Narrated by Zainab Khan

قول سدید اور اہل مذہب  پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک عالم دین کا مضمون نظر سے گزرا ۔ یہ مضمون جیو ٹی وی کے اینکر شاہ زیب ...
23/08/2026

قول سدید اور اہل مذہب

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک عالم دین کا مضمون نظر سے گزرا ۔ یہ مضمون جیو ٹی وی کے اینکر شاہ زیب خانزادہ صاحب کے ایک پروگرام کے حوالے سے تھا جو جوابی بیانیہ کے موضوع پر ہوا تھا۔اس میں صاحب مضمون نے اپنے نقطہ نظر کے علمی دلائل دیے تھے۔

علم کی دنیا میں ظاہر ہے کہ ہر شخص کو رائے قائم کرنے اور دوسروں سے اختلاف کرنے کی آزادی ہے۔ یہاں ایک شخص غلطی کرکے بھی اپنی نیت کی بنیاد پر رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوسکتا ہے۔مگر اخلاقی حدود کی خلاف ورزی وہ چیز ہے جس پر قیامت کے دن انسان کی پرسش ہوگی۔ خاص کر کسی معاشرے کے بڑے اور نمائندہ لوگ اگر ایسے معاملات میں غیر محتاط ہوجائیں تو پھر عوام الناس پر ایسے ہی قیامت ڈھاتے ہیں جیسے ہمارے ہاں ڈھائی جارہی ہے۔

عالم دین نے مضمون کا آغاز اس جملے سے کیا تھا کہ 13مارچ کو جناب شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں، میں نے مختصر بات کی، اس کے بعد علامہ جاوید احمد غامدی کو اپنی بات تفصیل سے کہنے کا موقع دیا گیا۔ اس جملے کا صاف مطلب یہ تھا کہ اینکر پر جانب داری کا الزام لگایا جارہا ہے۔

جس کے بعد حقیقت جاننے کے لیے اس خاکسار نے یوٹیوب پر اس پروگرام کی ریکارڈنگ بھی دیکھی۔ جو پہلی بات میں نے نوٹ کی وہ یہ کہ اس پروگرام میں اینکر نے دونوں علما سے برابر یعنی دو دو سوال کیے۔ عالم دین نے پہلے سوال کا جو جواب دیا وہ پروگرا م ٹائم لائن میں 12:24 سے 15:35 منٹ پر دیکھا جاسکتا ہے اور اس کا دورانیہ تین منٹ گیارہ سیکنڈ بنتا ہے۔ جبکہ دوسرے جواب کو 15:59 سے 16:30 منٹ پر دیکھا جاسکتا ہے اور اس کا دورانیہ 31 سیکنڈ بنتا ہے۔ یوں مجموعی طور پر ان کو تین منٹ اور بیالیس سیکنڈ دیے گئے۔

اس کے بعد اینکر نے دوسرے شریک گفتگو یعنی جاوید صاحب سے بھی دو ہی سوال کیے۔ انھوں نے پہلے سوال کا جو جواب دیا وہ پروگرام ٹائم لائن میں17:47 سے 20:47 میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا دورانیہ تین منٹ بنتا ہے۔ دوسرے جواب کو 21:24 سے 23:00 منٹ میں دیکھا جاسکتا ہے اور اس کا دورانیہ ایک منٹ چھتیس سیکنڈ بنتا ہے۔ یوں ان کو دیا گیا مجموعی وقت چار منٹ چھتیس سیکنڈ بنتا ہے۔

اس تفصیل کا مطلب یہ ہے کہ اینکر نے دونوں اہل علم سے برابر سوال کیے اور کوئی کمی بیشی نہیں کی۔ پھر دونوں کے سوال کے جواب میں اینکر بیچ میں بالکل نہیں بولے۔ پہلے عالم کو تین منٹ بیالیس سیکنڈ اور جاوید صاحب کو چار منٹ چھتیس سیکنڈ ملے جو عالم دین کے وقت سے گو چون(54) سیکنڈ زیادہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کس اخلاقی معیار پر یہ بات درست ہے کہ اس صورتحال کو اس طرح بیان کیا جائے کہ میں نے مختصر بات کی، اس کے بعد دوسرے عالم کو اپنی بات تفصیل سے کہنے کا موقع دیا گیا؟

اگر صاحب مضمون سے کم سوالات کیے جاتے یا ان کی گفتگو کے بیچ میں مداخلت کی جاتی تو یقینا یہ شکایت بجا ہوتی۔ مگر یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس لیے صاحب مضمون کا یہ دعویٰ ہر اعتبار سے نامناسب ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ صاحب مضمون نے اپنے ارشادات میں یہ بھی فرمایا کہ اینکر نے غامدی صاحب سے یہ سوال کیا کہ ’’ریاست اپنی ہی ماضی کی پالیسیوں کا شکار بن جاتی ہے۔‘‘ علامہ غامدی نے اس سوال کا جواب گول کر دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی غلط بیانی ہے۔ مذکورہ بالا الفاظ اینکر نے ادا تو کیے تھے، مگر یہ سوال نہیں بلکہ ان کا اپنا تبصرہ تھا جو وہ اصل سوال اٹھانے پہلے کر رہے تھے۔ اس تبصرے کے بعد ان کا اصل سوال الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ تھا کہ ایسے کیا اہم نکات ہیں جن پر ریاست کام کرے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کے علاوہ انتہا پسندی کو بھی کاؤنٹر کرنے کے لیے ریاست نے یہ جوابی بیانیہ ترتیب دیا ہے؟یہ ساری تفصیل یوٹیوب پر دیکھی جاسکتی ہے۔

ہم اس معاملے کے علمی اور فکری پہلو پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس لیے کہ علمی و فکری مباحث میں آراء قائم کرنا ہر شخص کا حق ہوتا ہے۔ یہ حق اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس میں کسی سے اجتہادی غلطی ہوجائے تب بھی اجر کی بشارت بعض صحیح روایات میں دی گئی ہے۔

مگر جو دو مثالیں ہم نے بیان کی ہیں کہ ان میں کوئی علمی اور فکری بحث نہیں۔ یہ اخلاقی مسئلہ ہے۔ ہر قاری یوٹیوب پر اس پروگرام کی ریکارڈنگ دیکھ کر صاحب مضمون کی صداقت کو جانچ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ دونوں مثالیں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ہمارے ہاں ٹاپ کے مذہبی لیڈر بھی اخلاقی حدود سے کتنے بے پروا واقع ہوئے ہیں۔ حالانکہ اہل مذہب کو سب سے بڑھ کر ’’قول سدید‘‘ کا علمبراد ہونا چاہیے۔ ’’قول سدید‘‘ اور ’’اذا قلتم فاعدلوا‘‘ کے قرآنی حکم سے بڑے اہل علم کا یہی وہ اعراض ہے جس کے نتیجے میں عام لوگ انتہا پسندی اور نفرت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ کبھی اپنی زبان سے، کبھی قلم ، کبھی رویے سے، کبھی نعروں سے، کبھی جلسے جلوسوں میں اور کبھی اسلحہ ہاتھ میں اٹھا کر ظلم اور زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں اور پنے لیے غضب الٰہی اور جہنم کی آگ کو بھڑکا دیتے ہیں۔

یہ آگ بلاشبہ عنقریب ان کو جلائے گی، مگر اس کا ایک حصہ ان لوگوں کو بھی برداشت کرنا ہوگا جو جھوٹ، مبالغے اور غلط بیانی سے اس آگ کو بھڑکاتے ہیں۔ جو لوگوں کی نیتوں کو زیر بحث لاتے ہیں۔ جو خود کو آخری حق اور دوسرے کو سراپا باطل سمجھتے ہیں۔
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inzaar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Inzaar:

Shortcuts

Share