Inzaar

Inzaar Promotion of Emaan (Faith) and Ikhlaaq (Ethics)
(1)

ہم ادارہ انذار میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انذار ایک دعوتی اور تربیتی ادارہ ہے۔ اس ادارے کا مقصدلوگوں میں ایمان و اخلاق کے شعور کو راسخ کرنا اور ان کی شخصیت کو ایمانی تقاضوں اور اخلاقی رویوں کے مطابق ڈھالنا ہےتاکہ روز قیامت ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہوکر اس کی جنت کے امیدوار بن سکیں۔

ہمارا جذبہ محرکہ:
اس کام میں ہمارا جذبہ محرکہ یہ ہے کہ ہم قیامت کے دن ہم اللہ کے دین کی نصرت کا کام

کرنے والوں میں شمار کیے جائیں۔کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی جدو جہد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی مدد سے تعبیر کیا ہے،(الصف14:61)۔ان کے مال خرچ کرنے کو اللہ کو قرض دینے سے تعبیر کیا ہے،( الحدید 11:57)اور یہی وہ کام ہے جس کے کرنے والے صحابہ کرام سے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی اپنی مدد و نصرت کا وعدہ فرمایا تھا،( محمد 7:47)۔

ادارے کا مقصد اور کام:
اس ادارے میں ہم شامل ہوتے وقت ہمارا اصل مقصد دوسروں سے پہلے خود کو بہتر کرنا، اپنی شخصیت کو مسلسل ارتقاء کی راہ پر ڈالنا اور اپنی سیرت و کردار کو اعلیٰ اخلاقی اور شخصی رویوں سے مزین کرنا ہے۔ساتھ میں جو خیر ہم پارہے ہیں، نصرت دین کے جذبے سےاس کا ابلاغ دوسروں تک کرنا بھی ہمارے ایک بنیادی کام رہے گا۔ اس حیثیت میں ادارہ جو خدمات سر انجام دے رہا ہے وہ درج ذیل ہیں:
1)ایمان و اخلاقی اور علم و عمل کی اصلاح کے لیے ایک ماہنامے یعنی "انذار" کا اجراجس کے مضامین کا مسلسل مطالعہ ہماری روحانی اور اخلاقی شخصیت کو طاقت عطا کرتا ہے۔
کے نام سے ادارے کی ایک ویب سائٹ کام کرہی ہے جس پر رسالے کے مضامین وقتاً فوقتاً شائع کیے جاتے ہیں۔Inzaar.org

2) ایسے ہی مقاصد کے حصول کے لیے کتابوں کی اشاعت۔ ابھی تک ادارہ ایک درجن کتب کو خود یا معاون اداروں کے ذریعے سے شائع کرچکا ہے۔

3) تذکیری آرٹیکل اور کتابوں کی آڈیو ریکارڈنگ ادارے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

4) سر ابویحییٰ کا تذکیری درس قرآن بھی ادارے کی ویب سائٹ اور سی ڈی پر دستیاب ہے۔

5) فیس بک اور سائٹ پر ایسے ہی تذکیری و تعمیری لٹریچر کی مسلسل اشاعت ۔

6) تذکیری نوعیت کے انتہائی موثر آرٹیکل کی پمفلٹ کی شکل میں اشاعت۔

7) لوگوں کی باقاعدہ تعلیم کے لیے آن لائن تعلیمی پروگرام جہاں آپ باقاعدہ تعلیمی عمل سے گزر کر اور اساتذہ کی زیرنگرانی اپنی اصلاح کا عمل مستقل جاری رکھ سکتے ہیں۔

آپ سے درکار تعاون:
ادارہ بحیثیت ایک ممبر کے آپ سے توقع رکھتا ہے کہ آپ اس تمام مواد سے نہ صرف خود استفادہ کریں گے بلکہ دوسروں تک اس کے ابلاغ میں عملی تعاون فرمائیں گے۔اس تعاون کی شکلیں درج ذیل ہیں۔
1) لوگوں تک اس تربیتی اور اخلاقی مواد کو پہنچانے کے لیے فیس بک پر ہمارے پیجز کو جوائن کیجیے ۔پھر ہماری چیزیں شیئر کرکے دوسروں تک پہنچائیں۔
2)دعوتی مضامین کو بذریعہ ای میل اپنے ای میل لسٹ میں موجود لوگوں کو ہفتہ وار بنیادوں پر پہنچایے۔
3)ماہنامہ انذار کو خود بھی باقاعدہ پڑھیے اور اپنے جاننے والوں تک اسے لگوایے۔
4) ادارے کی مطبوعات، سی ڈی، کتب، پمفلٹ وغیرہ دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کیجیے۔
5) ادارہ آپ سے کسی قسم کا مالی تعاون نہیں چاہتا۔ تاہم اگر ادارے کے کام پر آپ کا اعتماد ہوجائے تو ماہانہ بنیادوں پر اپنی حیثیت کے مطابق ادارے کے ساتھ مالی تعاون کیجیے تاکہ مذکورہ بالا کاموں اور نئے پروجیکٹس کے لیے وسائل دستیاب ہوسکیں۔
6) ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مستقل دعا کرتے رہیے کہ پروردگار اپنی مدد و نصرت کو ہمارے شامل حال کردے اور ہمیں اپنے کام کے لیے استعمال کرلے۔

*Kindly fill the form below for admission*Your name:Student's name:Date of Birth (age):School's name:Complete address (H...
26/05/2026

*Kindly fill the form below for admission*

Your name:
Student's name:
Date of Birth (age):
School's name:
Complete address (Home):

and the contact name & number where we can message the child for zoom classes

Registration fee Rs 1500/- to be submitted in the following account:

*Title of Account:*
Inzaar Educational and Charitable Trust

A/C # 0080248866323
IBAN: PK32 UNIL 0109 0002 4886 6323

After submitting the registration fee please send the receipt at this number:
0300 2176753

Paradox of ThoughtBy Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)YouTube Channel: Inzaarhttps://www.inzaar.org/paradox-of-thought...
26/05/2026

Paradox of Thought
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)

YouTube Channel: Inzaar
https://www.inzaar.org/paradox-of-thought
-----------
To get books, please visit http://www.inzaar.pk/order-books/

Javed Akhtar is a renowned Indian poet, famous as a Bollywood story writer and lyricist. Many of India’s blockbuster films and songs are his creations. He is also an intellectual and a staunch atheist. In today’s era, where intellectual tradition is waning, Javed Akhtar’s fame in film brings s...

ایمان، حج اور جہاد ذوالحجہ کا مہینہ حج کا مہینہ ہے۔ یہ عظیم عبادت جو اسلام کے بنیادی اراکین میں سے ایک رکن ہے، زندگی میں...
26/05/2026

ایمان، حج اور جہاد

ذوالحجہ کا مہینہ حج کا مہینہ ہے۔ یہ عظیم عبادت جو اسلام کے بنیادی اراکین میں سے ایک رکن ہے، زندگی میں ہر صاحب استطاعت مسلمان پر ایک دفعہ فرض ہے۔ امام بخاری اپنے صحیح کی کتاب الایمان میں ایک روایت لائے ہیں جو اس بات کا بہترین بیان ہے کہ دین اسلام میں حج کی کیا اہمیت ہے:
’’حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے۔ فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔ کہا پھر کون سا عمل؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔ پھر پوچھا گیا پھر اس کے بعد تو فرمایا: حج مبرور۔‘‘، (بخاری، رقم:26)

یہ حج مبرور کیا ہے؟ اس کو ایک دوسری روایت میں اس طرح واضح کیا گیا ہے:
’’جو شخص اللہ کے لیے حج کرے، پھر اُس میں کوئی شہوت یا نافرمانی کی بات نہ کرے تو وہ حج سے اِس طرح لوٹتا ہے، جس طرح اُس کی ماں نے اُسے آج جنا ہے۔‘‘، (بخاری ، رقم:1819)

اس حج مبرور کا بدلہ ایک روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے۔
’’عمرے کے بعد عمرہ اِن کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور سچے حج (حج مبرور) کا بدلہ تو صرف جنت ہی ہے۔‘‘ (بخاری ،رقم:1773)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے حج دین ابراہیمی کی سب سے جامع عبادت ہے جسے تمام عبادات کا منتہائے کمال کہنا کوئی مبالغہ نہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کوئی عالم ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہر وہ شخص جس نے زندگی میں یہ سعادت حاصل کر رکھی ہو وہ اپنے تجربے سے اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بندہ مومن صرف اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کے طریقے پر اپنی جان پر دکھ جھیلتا، مال کو خرچ کرتا، گھر، وطن اور رشتے ناطوں کی دوری سہتا، احرام کی سخت پابندیاں خود پر لگاتا ہوا صرف اللہ کی رضا کے لیے اس کے گھر پر حاضر ہوتا اور مناسک حج ادا کرتا ہے۔ یہی وہ قربانی ہے جو ایمان اور جہاد کے بعد حج مبرور کو سب سے بڑا عمل بنا دیتی ہے۔

تاہم ان سب کے ساتھ حج کو حج بنانے والی چیز یہ حقیقت ہے کہ حج دراصل جہاد کی تمثیل ہے۔ یہ اس جنگ کی تمثیل ہے جس کا اعلان روز ازل شیطان نے یہ کہہ کر کیا تھا کہ لاغوینھم اجمعین یعنی میں ان سب کو گمراہ کرکے دم لوں گا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی شیطان اور ذریت شیطان کی آدم اور اولاد آدم کے ساتھ ختم نہ ہونے والی جنگ شروع ہوگئی۔ بدقسمتی سے ہر دور میں انسانوں کی اکثریت اس جنگ میں اپنے باپ آدم علیہ السلام کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے شیطان کے ساتھ جاکر کھڑی ہوجاتی ہے اور اس کی طرف سے جنگ شروع کر دیتی ہے۔ ایسے میں ایمان کا قلادہ گلے میں ڈالے اور اطاعت کا عہد کیے ہوئے سچے مسلمان خدا کی طرف جنگ کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ خواہشات کے تیروں اور شہوات کے شیطانی نیزوں کا مقابلہ صبر کی آہنی ڈھال سے اور تعصبات کی ہر فصیل کو حق پرستی اور سچائی کی تلوار سے فتح کر لیتے ہیں۔ حج ایسے ہی لوگوں کے لیے گویا ایک تربیتی کورس ہے۔

یہ مومن ابراہیمی صدا پر لبیک کہتے اور دنیوی زیب و زینت اور لطافت کو ترک کرکے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا پہلا پڑاؤ منیٰ کے فوجی کیمپ میں ہوتا ہے۔ پھر عرفات میں امام کے خطبے کی شکل میں لشکر کشی سے پہلے وعظ و نصیحت اور اللہ سے دعا و زاری کا اہتمام ہوتا ہے۔ سفر جہاد کی تمثیل میں نمازیں جمع و قصر کرتے ہوئے یہ لشکر مزدلفہ پہنچتا ہے۔ اور صبح دم اپنے رب کو یاد کرتا ہوا غنیم پر جاپڑتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جسے مناسک حج کی اصطلاح میں رمی جمار یا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل کہتے ہیں۔ اس پہلے حملے کے ساتھ ہی قربانی دے کر خود کو رب کی راہ میں قربان کر دینے کا عزم کرتے، سرمنڈوا کر اس کا شرف غلامی حاصل کرتے اور اس کے گھر کا طواف کرکے اس کو مرکز زندگی بنا کر اپنی زندگی گزارنے کا عزم کرتے ہیں۔

پہلے دن صرف پہلے بڑے شیطان پر اور اگلے دو یا تین دن تک تینوں شیطانوں پر یہ مومنانہ سنگ باری حملے جاری رہتے ہیں۔ یہ تین شیطان بھی دراصل ان تین چیزوں کی علامت ہیں جہاں سے انسان سب سے زیادہ گمراہ کیا جاتا ہے۔ پہلا ابلیس اور اس کی ذریت۔ یہ سب سے بڑی شیطانی قوت ہے۔ دوسری انسان کا اپنا نفس جو اگر خود پر غالب آجائے تو شیطان کا سب سے بڑا ساتھی بن جاتا ہے۔ تیسرا انسان کا ماحول اور اس میں پائی جانے والی شیطانی ترغیبات۔ یہی وہ تین مقامات ہیں جہاں انسان کو زندگی بھر شیطانی وسوسہ انگیزیوں کے خلاف لڑتے رہنا ہوتا ہے۔ اس سنگ باری کے بعد یہ مجاہد اس عزم کے ساتھ گھروں کو لوٹتے ہیں کہ زندگی بندگی میں گزرے گی اور شیطان کا ازلی چیلنج پورا نہیں ہوگا کہ خدا بندے کو شکر گزار نہیں پائے گا۔

بدقسمتی سے دور حاضر میں لوگ بڑی تعداد میں حج کرنے تو جاتے ہیں، مگر انہیں حج کی یہ حقیقی اسپرٹ نہیں بتائی جاتی۔ چنانچہ وہ اسے مناسک کا ایک مجموعہ سمجھ لیتے ہیں جسے برے بھلے طریقے پر ادا کردیا جاتا ہے۔ بلاشبہ مالی اور بدنی طور پر قربانی دے کر جب حج کیا جائے تو اس کا اپنی جگہ بڑا اجر ہے، مگر جب لوگ اسپرٹ سے واقف نہیں ہوتے تو پھر ان کی زندگی میں وہ حقیقی اسپرٹ پیدا نہیں ہوتی۔ وہ اکثر اوقات اسے گناہ بخشوانے کا ایک سفر سمجھتے ہیں اور واپس آکر وہی شیطان کی پیروی کی زندگی گزارنے لگتے ہیں جیسی وہ پہلے گزار رہے تھے۔

لیکن اسپرٹ اگر بار بار دہرائی جائے تو انسان کا حج صرف ایک سفر نہیں رہتا بلکہ یہ زندگی کا ایک نیا آغاز بن جاتا ہے۔ وہ آغاز جس کی آج ہمارے معاشرے کو سب سے بڑھ کر ضرورت ہے۔
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)
YouTube Channel: Inzaar
https://inzaar.pk/eman-hajj-aur-jihad-abu-yahya
-----------
To get books, please visit http://www.inzaar.pk/order-books/

ذوالحجہ کا مہینہ حج کا مہینہ ہے۔ یہ عظیم عبادت جو اسلام کے بنیادی اراکین میں سے ایک رکن ہے، زندگی میں ہر صاحب استطاعت مسلمان پر ایک دفعہ فرض ہے۔ امام بخاری اپنے صحیح ک....

25/05/2026

انسان کی پیدائش
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)

عید الاضحی اور حج حج اہم ترین عبادت ہے۔ یہ اللہ کے دشمن شیطان کے خلاف اعلان جنگ کا نام ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ خیر ...
25/05/2026

عید الاضحی اور حج

حج اہم ترین عبادت ہے۔ یہ اللہ کے دشمن شیطان کے خلاف اعلان جنگ کا نام ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ خیر و شر کی کشمکش میں ہم غیر جانبدار نہیں بلکہ خیر کے ساتھ ہیں۔ ہم شر کو ہر قدم پر سنگسار کرتے رہیں گے اور اس راہ میں اپنی انا، تعصبات، خواہشات، اپنے مال اور یہاں تک کہ اپنی جان کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم حج اتنی مشکل اور کٹھن عبادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زندگی میں ایک ہی دفعہ فرض کیا ہے۔ پھر بھی بہت سے لوگ اس کے اسباب نہیں جمع کرپاتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام فرمایا ہے کہ خوشیوں بھرے عید الاضحیٰ کے تہوار کو حج کی اس عظیم عبادت سے متعلق کر دیا۔ پھر اس تہوار میں حج کی نمائندہ ترین عبادات شامل کر دیں۔ تہوار چونکہ ہر شخص مناتا ہے اس لیے عملی طور پر تہوار کے ذریعے سے پوری امت حج میں شریک ہوجاتی ہے۔

عید الاضحیٰ پر تین عبادات خصوصی طور پر ادا کی جاتی ہیں۔ یہ تینوں حج کے تعلق سے اس موقع پر ادا کی جاتی ہیں۔ پہلی دو رکعت عید الاضحیٰ اور اس کا خطبہ۔ یہ خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ حجۃ الوداع کی نشانی ہے جو اب ہر برس عرفات کی مسجد نمرہ میں امام حج دیتا ہے۔ پھر دو دو رکعت نماز ظہر وعصر ادا کی جاتی ہے۔ اس مناسبت سے دو رکعت عید الاضحیٰ ادا کی جاتی ہے۔

قربانی حج کا منتہائے کمال ہے جو اس بات کا علامتی اظہار ہے کہ شیطان کے خلاف جنگ میں جان بھی دینی پڑے تو حاضر ہے۔ یہی قربانی عید میں شامل کر دی گئی۔ آخری چیز تکبیرات ہیں جو نویں کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک ادا کی جاتی ہیں۔ یہ اس ذکر کی یاد دہانی ہے جس کی تلقین قیام منیٰ میں حجاج کو کی گئی ہے۔ جس شخص کو حج اور عید کے اس تعلق کی سمجھ آجائے وہ عید کے ایام میں ذہنی طور پر حج کی حالت ہی میں رہتا ہے اور اللہ کی خصوصی رحمت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)
YouTube Channel: Inzaar
https://inzaar.pk/eid-ul-azha-aur-hajj-abu-yahya
-----------
To get books, please visit http://www.inzaar.pk/order-books/

حج اہم ترین عبادت ہے۔ یہ اللہ کے دشمن شیطان کے خلاف اعلان جنگ کا نام ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ خیر و شر کی کشمکش میں ہم غیر جانبدار نہیں بلکہ خیر کے ساتھ ہیں۔ ہم شر کو ...

24/05/2026

"گھاٹے والا" - کتاب "اللہ اکبر" – مولانا وحید الدین خان



ALLAH HU AKBAR - Audio Book - Maulana Wahiduddin Khan (in Hindi / Urdu)

Narrated by Zainab Khan

مقصد اور ذریعہاگر آپ کبھی اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے سے ٹیلر مشین سے پیسے نکلوائیں تو آپ کو یہ تجربہ ہوگا کہ پیسے نکلنے س...
24/05/2026

مقصد اور ذریعہ

اگر آپ کبھی اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے سے ٹیلر مشین سے پیسے نکلوائیں تو آپ کو یہ تجربہ ہوگا کہ پیسے نکلنے سے قبل مشین رک جاتی ہے اور اس چیز کا انتظار کرتی ہے کہ آپ اپنا کارڈ مشین سے نکال لیں۔ اس کے بعد ہی مشین آپ کے پیسے آپ کے سامنے کرتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر شخص کا اصل مقصد پیسے حاصل کرنا ہوتا ہے۔ کارڈ اس کا ذریعہ ہوتا ہے، لیکن اگر پیسے فوراً ہی سامنے آجائیں تو فطری طور پر ہر شخص کا دھیان پیسوں کی طرف ہوجائے گا اور بہت سے لوگ پیسے مشین سے نکال کر اور کارڈ کو پیچھے چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ اسی چیز سے بچنے کے لیے جب تک کارڈ نہ نکالا جائے پیسے باہر نہیں آتے۔

اس مثال سے مقصد اور ذریعہ کا فرق واضح ہوتا ہے۔ انسان عام طور پر مقصد پر توجہ دیتے ہیں اور ذرائع کو اہم نہیں سمجھتے۔ دین میں بھی ذریعہ اور مقصد کا تصور پایا جاتا ہے، مگر یہاں ذریعہ مقصد جتنا ہی اہم ہے۔ دین میں مقصد فلاح آخرت ہے اور ذریعہ ایمان و اخلاق کی دعوت کو پوری طرح اختیار کرنا ہے۔ مگر یہاں شیاطین انسان کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور فلاح آخرت کے دیگر ذرائع ان کو سجھاتے رہتےہیں۔ چنانچہ شیاطین کے زیر اثر کوئی خدا کو بھول کر انسانیت کی بات کرتا ہے۔ کوئی رہبانیت کو ذریعہ بنا دیتا ہے۔ کوئی دنیا میں سیاسی انقلاب کو اصل ہدف قرار دے دیتا ہے۔ کوئی غیر اللہ سے عشق و محبت کو ذریعہ نجات سمجھ لیتا ہے۔ کوئی شفاعت کی جھوٹی امیدوں کو ذریعہ نجات سمجھ بیٹھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس قرآن نے فلاحِ آخرت کا ہدف دیا ہے اس نے فلاح کا ذریعہ بھی دو ٹوک انداز میں خود ہی بتایا ہے۔ یہ ذریعہ ایمان و اخلاق کی وہ دعوت ہے جو قرآن میں جگہ جگہ بکھری ہے۔ جنت میں جانے کا کوئی دوسرا ذریعہ اس کے سوا نہیں پایا جاتا۔

By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)
YouTube Channel: Inzaar
https://inzaar.pk/maqsad-aur-zariya-by-abu-yahya
-----------
To get books, please visit http://www.inzaar.pk/order-books/

اگر آپ کبھی اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے سے ٹیلر مشین سے پیسے نکلوائیں تو آپ کو یہ تجربہ ہوگا کہ پیسے نکلنے سے قبل مشین رک جاتی ہے اور اس چیز کا انتظار کرتی ہے کہ آپ اپنا ک...

23/05/2026

SUPPORTING ROLE (ISLAM)
By Molana Wahiduddin Khan
Narrated by Khalid Syed

خدا سے مایوسی ہمارے ہاں آج کل حقوق العباد کا بہت زور ہے۔ یہ زور اتنا زیادہ ہے کہ حقوق العباد میں کوتاہی کرنے والوں  میں...
23/05/2026

خدا سے مایوسی

ہمارے ہاں آج کل حقوق العباد کا بہت زور ہے۔ یہ زور اتنا زیادہ ہے کہ حقوق العباد میں کوتاہی کرنے والوں میں بخشش اور معافی کی امید بھی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی ایک تجربہ پچھلے دنوں پیش آیا جب ایک خاتون نے سوال کیا کہ انھوں نے اپنے والد صاحب سے بہت بے ادبی کے ساتھ معاملہ کیا تھا۔ مگر ان کے معافی مانگنے سے قبل والد کا انتقال ہوگیا تو کیا اب ان کی توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ کچھ گفتگو کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ چونکہ حقوق العباد معاف نہیں ہوسکتے، اس لیے ان کی توبہ قبول نہیں ہوسکتی۔

میں نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی جس سے وقتی طور پر ان کا اطمینان ہوگیا، مگر جب کبھی وہ کہیں بھی حقوق العباد کے حوالے سے کوئی بات سن لیتی ہیں تو فوراً اپنےمجرم ہونے کا خیال ان پر مسلط ہوجاتا ہے۔مگر اصل المیہ یہ ہوا کہ ان کے بیٹے پر اس ساری صورتحال کا بہت گہرا اثر ہوچکا تھا۔ وہ مسیحی حضرات کے ایک اسکول میں پڑھتا تھا۔ وہاں اسے بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جس کے بعد اس نے مسیحیت قبول کرلی اور والدہ کو بھی مسیحی بنانے کی کوششیں کرنے لگا تاکہ ان کے بھی گناہ یقینی طور پر معاف ہوجائیں۔

حقوق العباد میں کوتاہی بلاشبہ بہت بڑا گناہ ہے۔ توبہ اور تلافی نہ کی جائے تو اس کی معافی مشکل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس واحد گناہ کو اللہ تعالیٰ ناقابل معافی قرار دیتے ہیں وہ شرک ہے۔ تاہم جب قرآن مجید سے آگے بڑھ کر معاملہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں افراط و تفریط وجود میں آتا ہے۔ کہیں لوگ اطمینان سے حقوق العباد کی خلاف ورزی کرتے ہیں کہ اللہ معاف کر دے گا اور کہیں لوگ اللہ سے ناامید ہوکر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

دین پیش کرنے والوں کو ہمیشہ قرآن مجید تک اپنی بات کو محدود رکھنا چاہیے۔ اس سے آگے جب بھی بڑھا جائے گا مسائل پیش آئیں گے۔

By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)
YouTube Channel: Inzaar
https://inzaar.pk/khuda-se-mayosi
-----------
To get books, please visit http://www.inzaar.pk/order-books/

ہمارے ہاں آج کل حقوق العباد کا بہت زور ہے۔ یہ زور اتنا زیادہ ہے کہ حقوق العباد میں کوتاہی کرنے والوں میں بخشش اور معافی کی امید بھی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی ایک تجربہ پچ...

22/05/2026

"دولت کا فریب" - کتاب "اللہ اکبر" – مولانا وحید الدین خان



ALLAH HU AKBAR - Audio Book - Maulana Wahiduddin Khan (in Hindi / Urdu)

Narrated by Nabila Ajaz

"گھاٹے والا" - کتاب "اللہ اکبر" – مولانا وحید الدین خان         ALLAH HU AKBAR - Audio Book - Maulana Wahiduddin Khan (i...
22/05/2026

"گھاٹے والا" - کتاب "اللہ اکبر" – مولانا وحید الدین خان



ALLAH HU AKBAR - Audio Book - Maulana Wahiduddin Khan (in Hindi / Urdu)

Narrated by Zainab Khan

ALLAH HU AKBAR - Audi...

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inzaar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Inzaar:

Share