27/08/2026
قرآن اور ہامان
سلسلہ روز و شب
رسالے کے قارئین واقف ہیں کہ یہ طالب علم اپنے رسالے میں عام طور پر مختصر تذکیری مضامین ہی لکھتا ہے۔ کبھی کسی ایک آدھ علمی نکتے پر بات کرنی ہو تو آرٹیکل کچھ بڑا بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن جب کوئی اہم اور تفصیلی تحقیقی نوعیت کا معاملہ ہو تو یہ طالب علم سلسلہ روز و شب کا کالم ہی استعمال کرتا ہے۔ یہ کالم ابتدا میں ملاقات کے نام سے شائع ہوا اور پھر اس کا نام بدل کر سلسلہ روز و شب رکھا گیا۔ انھی دو ناموں سے اس کالم میں شائع ہونے والے آرٹیکل پر مشتمل دو کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔
یہ تمہید اس لیے باندھنی پڑی ہے کہ کچھ وقفے کے بعد آج بھی اسی نوعیت کا ایک آرٹیکل پیش نظر ہے جس میں ایک اہم موضوع پر تفصیلی گفتگو ہو گی جس کا تعلق قرآن مجید کی حقانیت کے ساتھ ہے۔
ڈاکٹر مورس بکائے سے تعارف
اس آرٹیکل کا تعلق ڈاکٹر مورس بکائے سے ہے۔ میرا ان سے ابتدائی تعارف 1987 میں اس وقت ہوا جب میں نے ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ (The Bible, The Qur'an and Science) کا اردو ترجمہ پڑھا۔ یہ کتاب اصل میں انھوں نے اپنی مادری زبان فرانسیسی میں لکھی تھی اور پھر متعدد زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے۔ یہ بڑی غیر معمولی کتاب تھی جس میں ایک غیر مسلم ڈاکٹر کی زبانی یہ شہادت دی گئی تھی کہ قرآن مجید کس طرح ایک سچا اور محفوظ کلام ہے۔
آگے بڑھنے سے قبل ان کا کچھ تفصیلی تعارف کرانا ضروری ہے۔ ڈاکٹر مورس بکائے (Maurice Bucaille) فرانس کے ایک مشہور سرجن، ماہرِ طب اور مصنف تھے۔ وہ دنیا بھر میں بالعموم اور اسلامی دنیا میں بالخصوص اپنی کتاب ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ (The Bible, The Qur'an and Science) کی وجہ سے مشہور ہیں۔ وہ 1920 میں فرانس کے علاقے پونٹ لیویک (Pont-l'Évêque) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے طب کا شعبہ اختیار کیا اور پیٹ کے امراض (Gastroenterology) کے ماہر بنے اور پھر یونیورسٹی آف پیرس کے ہسپتال میں سرجری کلینک کے سربراہ رہے۔ فرانس کے صفِ اول کے سرجن ہونے کی وجہ سے ان کا شمار نامور ترین طبی ماہرین میں ہوتا تھا۔
1973ء میں انہیں سعودی عرب کے شاہ فیصل کا خاندانی معالج مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ مصر کے صدر انور سادات کے اہل خانہ کے بھی معالج رہے۔ مذہبیات میں ان کی دلچسپی اس وقت شروع ہوئی جب سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران میں انھیں معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں چودہ صدیوں قبل یہ بات واضح طور پر بیان کر دی گئی تھی کہ سمندر میں ڈوبنے کے بعد فرعون کے جسم کو بچا لیا گیا تھا۔ قرآن مجید میں یہ بات اس طرح بیان ہوئی ہے۔
’’سو آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تا کہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے تو (خدا کے عذاب کی) نشانی بن کر رہے‘‘، (یونس 10: 92)
اسی زمانے میں رعمسیس اور منفتاح نامی فرعونوں کی ممیاں مصر سے فرانس منتقل کی گئیں۔ ان کے صدر انورسادات سے ذاتی تعلقات کی بنا پر 1975ء میں انھیں مصر کے فرعون (رعمسیس دوم / منفتاح) کی ممی (محفوظ لاش) کے طبی معائنہ اور تحقیق کی ذمہ داری دی گئی۔ دورانِ تحقیق انہوں نے پایا کہ فرعون کی موت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی تھی اور اس کا جسم حیرت انگیز طور پر محفوظ رہا۔ اس تحقیق کے نتائج انھوں نے اپنی تصنیفMummies of the Pharaohs: Modern Medical Investigations میں تفصیل سے پیش کیے۔
اسی دوران میں انھوں نے قرآن مجید کے اس معجزے سے متاثر ہو کر 50 سال کی عمر میں عربی زبان سیکھی تاکہ وہ کسی ترجمے کے محتاج رہے بغیر قرآن کا براہ راست مطالعہ کرسکیں۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن اور بائبل کا سائنس کی روشنی میں ایک تحقیقی مطالعہ کیا اور وہ کتاب لکھی جس کا ذکر شروع میں ہوا۔ اس کتاب میں انہوں نے ثابت کیا کہ بائبل کے کئی بیانات جدید سائنس سے ٹکراتے ہیں، جبکہ قرآن مجید کی ایک بھی آیت جدید سائنسی حقائق کے خلاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کی متعدد دیگر تصانیف ہیں۔
ان کی گران قدر تاریخی اور سائنسی تحقیقات کے اعتراف میں 1988ء میں انہیں ’’فرانسیسی اکیڈمی‘‘ (French Academy) کی طرف سے ہسٹری پرائز سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر مورس بکائے 17 فروری 1998ء کو 77 برس کی عمر میں پیرس میں وفات پا گئے۔
مسیحی مستشرقین کا ایک الزام
ڈاکٹر مورس بکائے کا اس قدر تفصیلی تعارف کرانے کی وجہ مسیحی مستشرقین کا ایک الزام ہے جس پر آج ان کی تحقیقات کی روشنی میں تفصیلی گفتگو پیش نظر ہے۔ مسیحی مستشرقین قرآن مجید پر عام طور پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی تاریخ کے ضمن کے تمام واقعات معاذ اللہ حضور نے قبل نبوت سفر شام میں مسیحی راہبوں اور علما سے سنے اور پھر ان کو قرآن میں بیان کر دیا۔ اس میں ایک مثال وہ قرآن میں ہامان کے ذکر کی دیتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے قبل ہم یہ واضح کر دیں کہ یہ الزام اتنا لغو اور لایعنی تھا کہ کفار مکہ جو اعلان نبوت کے بعد حضور کے بدترین دشمن بن گئے تھے، انھوں نے بھی یہ الزام لگانے کی حماقت نہیں کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں کوئی سفر انفرادی طور پر نہیں ہوتا تھا۔ تمام سفر تجارتی قافلوں کی شکل میں اجتماعی طور پر کیے جاتے تھے۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ان سفروں میں حضور مسیحی راہبوں کی صحبت میں رہ کر ان سے کچھ سنتے اور قریش کو اس کا علم نہ ہوتا۔ انھیں لازماً علم ہوتا اور پھر وہ اس بات کو لازمی طور پر اٹھاتے۔ مگر انھوں نے یہ کام نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ مذہبیات نبوت سے قبل حضور کی دلچسپی کا کبھی موضوع ہی نہیں رہا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے خلاف ایک دلیل بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔ مگر ان معاندین کا کیا کیجیے جو بے جا الزام تراشی سے باز نہیں آتے۔
قرآن اور ہامان
قرآن میں چھ مقامات پر ہامان کا ذکر آیا ہے۔ یہ مقامات قرآن کی تین سورتوں القصص، العنکبوت اور المومن میں مذکور ہیں۔ ان مقامات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص فرعون کے دربار میں ایک اہم شخص تھا جو اس کے کاموں اور جرائم میں بھی پوری طرح شریک تھا۔ قرآن میں ہامان کے بارے میں فرعون کی جو بات بیان ہوئی ہے اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس کا تعلق تعمیرات کے امور سے تھا۔ قرآن کے یہ وہ متعلقہ الفاظ ہیں جن میں وہ اپنی دانست میں حضرت موسیٰ کا مذاق اڑا رہا تھا:
’’فرعون نے کہا کہ اے ہامان، میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا دو کہ میں اطراف میں پہنچوں۔ آسمانوں کے اطراف میں، پھر موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں تو اِسے ایک جھوٹا آدمی سمجھتا ہوں۔ اِس طرح فرعون کی نگاہوں میں اُس کی بدعملی خوش نما بنا دی گئی اور وہ سیدھی راہ سے روک دیا گیا‘‘، (المومن 36-37:40)
’’فرعون نے کہا: دربار کے لوگو، میں تو اپنے سوا تمھارے لیے کسی اور معبود سے واقف نہیں ہوں۔ اچھا تو اے ہامان، تم میرے لیے مٹی کی اینٹوں کا پزاوہ(اینٹیں پکانے والا بھٹہ) لگواؤ اور ایک اونچا محل میرے لیے بنواؤ تاکہ موسیٰ کے خدا کو میں (آسمان میں) جھانک کر دیکھوں، اور میں تو اِسے ایک جھوٹا آدمی سمجھتا ہوں‘‘، (القصص 28: 38)
بائبل اور ہامان
ہامان کا نام بائبل میں بھی آیا ہے۔ یہ نام بائبل کی کتابِ استر (Book of Esther) میں آتا ہے۔ جہاں اسے فارس کے بادشاہ اخشوروش (Ahasuerus) کے وزیر اعظم کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ بائبل کے مطابق وہ یہودیوں کا سخت دشمن تھا اور اسے فارس میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ ان واقعات کا زمانہ حضرت موسیٰ اور فرعون کے واقعے کے کم و بیش ہزار برس بعد کا ہے۔ اسی نام کو لے کر مستشرقین یہ الزام لگاتے ہیں کہ حضور نے یہ نام بائبل سے سنا اور پھر ایران سے اٹھا کر ہامان کو ایک ہزار سال پہلے کے مصر میں فرعون کے درباری کے طورپر بیان کر دیا۔ مثال کے طور پر انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا جیسی معتبر تحقیقی قاموس کا مضمون نگار جرمن مستشرق تھیوڈور نولڈیکے (Theodor Nöldeke) 1891 میں یہ سخت جملہ لکھتا ہے۔
The most ignorant Jew could never have mistaken Haman (the ministere of Ahasuerus) for the minister of Pharaoh.
کمترین درجہ کا ناواقف یہودی بھی کبھی ہامان (جو کہ شاہِ فارس اخشوروش کا وزیر تھا) کو فرعون کا وزیر سمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتا۔
تاہم چند برس بعد ہونے والی مصریات (Egyptology)کی دریافتوں نے تھیوڈور جیسے جہلا کے پر اعتماد لہجے کو چلو بھر پانی میں غسل دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس دریافت کو منظر عام پر لانے کی خدمت ڈاکٹر مورس بکائے (Maurice Bucaille) سے لی۔ انھوں نے قرآن، تاریخ اور بائبل کی روشنی میں حضرت موسیٰ اورفرعون پر ایک کتاب لکھی۔ فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والی اس کتاب کا نام یہ ہے:
Moïse et Pharaon:Les Hébreux en Égypte
Quelles concordances des livres saints avec l'histoire
اس کا اردو ترجمہ یہ ہے:
موسیٰ اور فرعون: مصر میں بنی اسرائیل، مقدس کتابوں اور تاریخ کے درمیان کیا مطابقتیں ہیں؟
اس کا انگریزی ترجمہ درج ذیل عنوان سے شائع ہوا ہے۔
Moses and Pharaoh in the Bible, Qur'an and History
ڈاکٹر بکائے کی تحقیق
اپنی اس کتاب میں تفصیلی بحث کرکے انھوں نے قرآن مجید پر کیے جانے والے مستشرقین کے اس اعتراض کا بھرپور جواب دیا ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر بکائے نے جدید علمِ مصریات (Egyptology) کے ذریعے سے اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ قدیم مصری رسم الخط یعنی ہیر و غلیفی(Hieroglyphics) نزول قرآن سے بہت پہلے دنیا سے مکمل طور پر متروک ہوچکا تھا اور کوئی اسے پڑھنے والا نہیں تھا۔ اس قدیم رسم الخط کو 1822 میں فرانسیسی ماہر جین فرینکوئس چیمپولیون (Champollion) نے روزیٹا اسٹون (Rosetta Stone) کی مدد سے پہلی بار ڈی کوڈ یعنی ترجمہ کیا۔
بکائے واضح کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساتویں صدی کے عرب میں کسی بھی انسان کے لیے قدیم مصری کتبے پڑھنا نا ممکن تھا۔ پھر وہ یہ بتاتے ہیں کہ جب مصری کتبوں کا ترجمہ ہوا تو ہرمن رینکے(Hermann Ranke) نام کے ایک جرمن محقق اور ماہر مصریات نے قدیم مصری ناموں کی ایک ڈکشنری شائع کی جس کا نام ’Die Ägyptischen Personennamen‘ یعنی قدیم مصریوں کے ذاتی نام تھا۔ یہ قدیم مصر کے ناموں پر لکھی گئی دنیا کی سب سے مستند اور مشہور ترین لغت ہے۔ اس لغت میں قدیم مصری کتبوں کا مطالعہ کر کے مصریوں کے نام جمع کیے گئے ہیں۔ اس لغت میں ہامان کا نام بھی موجود ہے۔ ہرمن رینکے نے یہ نام جس کتبہ سے لیا وہ آج بھی ویانا کے ’’Kunsthistorisches Museum‘‘ (آرٹ ہسٹری میوزیم) میں رکھا ہوا ہے۔ ہامان کے نام کے ساتھ اس میں اس کا عہدہ ’پتھروں کا کام کرنے والے مزدوروں کا نگران‘ (the overseer of the stonemasons) لکھا ہوا ہے۔ تحقیقی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے ہم کتبے کا انگریزی اور اردو ترجمہ دے رہے ہیں۔ انگریزی ترجمہ اس میوزیم کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے :
(1) An offering, which the king gives to Osiris, Foremost of the Westerners, Lord of Infinity, Ruler of Eternity, so that he may give everything that is offered on his food table; the sweet breath of the northern wind; a goodly funeral for his old age, for the Ka of the overseer of the stonemasons of Amun Hemen-hetep, true of voice.
(2) An offering, which the king gives to the Western Desert and Amaunet, the Lady of Heaven, so that she may give food and sustenance and all kinds of offerings, all things good and pure, for the Ka of the overseer of the stonemasons of Amun Hemen-hetep, true of voice.
اردو ترجمہ درج ذیل ہے:
(1) ایک نذر (ہدیہ)، جو بادشاہ اوسیرس کو دیتا ہے، جو مغرب والوں کا سردار، لامحدودیت کا مالک، ابدیت کا حاکم ہے، تاکہ وہ اپنی خوراک کی میز پر پیش کی جانے والی تمام چیزیں عطا کرے؛ شمالی ہوا کی خوشگوار سانس؛ اس کے بڑھاپے کے لیے ایک اچھی تدفین، تاکہ یہ سب کچھ آمون کے پتھروں کا کام کرنے والے مزدوروں کا نگران ہمن-ہیٹپ، ’’سچا آواز والا‘‘، کے کا (روح) کے لیے ہو۔
(2) ایک نذر، جو بادشاہ مغربی صحرا اور آماونیت (Amaunet)، آسمان کی خاتون، کو دیتا ہے، تاکہ وہ خوراک، رزق اور ہر قسم کی نذریں، اور تمام اچھی اور پاکیزہ چیزیں عطا کرے، آمون کے پتھروں کا کام کرنے والے مزدوروں کا نگران ہمن-ہیٹپ،’’ سچا آواز والا‘‘، کے کا(روح) کے لیے۔
یہاں جس ہمن(Hemen) کو ہم نے انڈر لائن کیا ہے اس کا نام اور کام دیکھیں۔ اس میں اور قرآن کے بیان میں کیا فرق ہے؟ ہم آیت کا متعلقہ حصہ دوبارہ نقل کیے دیتے ہیں۔
’’اے ہامان، تم میرے لیے مٹی کی اینٹوں کا پزاوہ(اینٹیں پکانے والا بھٹہ) لگواؤ اور ایک اونچا محل میرے لیے بنواؤ۔ ‘‘ (القصص 28: 38)
اعتراض کی موت
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ کتبے پر ہمن کے ساتھ ’ہوتپ‘ کے الفاظ برائے بیت لگے ہیں۔ ’’ہوتپ‘‘ کوئی مستقل شخصیت نہیں بلکہ قدیم مصری زبان کا ایک معزز لفظ ہے جس کا مطلب ’’امن، اطمینان اور نذرانہ‘‘ ہے۔ ناموں کے آخر میں اس کا آنا اس بات کی علامت ہوتا تھا کہ مذکورہ شخص پر دیوتاؤں کی خوشنودی اور رحمت ہے۔ یعنی اصل نام ہمن ہی بیان ہوا ہے۔
اس ساری تفصیل سے یہ واضح ہوجاتا ہے یہ تاریخی معلومات نبی کریم کے دور میں صدیوں پرانے کتبوں میں دفن تھیں جنہیں اُس وقت دنیا کا کوئی انسان نہیں پڑھ سکتا تھا۔ اس لیے قرآن پر یہ اعتراض کہ اس میں بیان کردہ ہامان کو غلطی سے ایران سے مصر منتقل کر دیا گیا ہے مکمل طور بے بنیاد ہے۔ مصری تاریخ یہ ثابت کر دیتی ہے کہ یہ نام مصر میں پایا جاتا تھا۔ اسی طرح یہ عہدہ یعنی معمار/پتھروں کے کام کا نگران بھی مصر میں پایا جاتا تھا۔ یہ دونوں قرائن بتاتے ہیں کہ قرآن مجید نے جس ہامان کا ذکر کیا ہے وہ یا تو یہی ہامان ہے جس کا کتبے میں ذکر ہے یا پھر اسی خاندان میں آگے یا پیچھے پیدا ہونے والا کوئی شخص ہے جس کا نام بھی ہامان تھا اور کام بھی یہی تھا۔
اس پس منظر میں قرآن پر کیا گیا اعتراض نہ صرف غلط ہے بلکہ قرائن ثابت کرتے ہیں کہ وہ ہامان دریافت ہوچکا ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے۔
مستشرقین کے جوابی اعتراضات اور ان کا جواب
مورس بکائے کی اس تحقیق کے جواب میں مسیحی مناظر نے بہت سطحی سے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ اصل کتبے میں HMN کے الفاظ ہیں۔ ان سے ہیمن یا ہامان کا نام بنانا درست نہیں ہے۔ مگر یہ اعتراض اس لیے درست نہیں ہے کہ کسی نام میں اہمیت حروف علت (Vowels) سے زیادہ حروفِ صحیح (Consonants) کی ہوتی ہے۔ ویسے تو علاقے اور زبان کی تبدیلی سے ان میں بھی کچھ جزوی فرق اور کمی بیشی ہوسکتی ہے جیسے فرعون انگریزی میں جاکر pharaoh ہوجاتا ہے جس میں آخر کا نون نہیں آرہا، لیکن اگر حروف صحیح وہی ہوں جو دوسرے نام میں پائے جائیں تو پھر اس بات کا بڑی حد تک اطمینان ہوجاتا ہے کہ دونوں نام ایک ہی ہیں۔ اردو میں دیکھیے تو ہمن اور ہامان بالکل صاف لگتا ہے کہ ایک ہی نام ہے جو معمولی سا بدل گیا ہے۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس کتبے میں فرعون یا حضرت موسیٰ کا ذکر نہیں ہے، اس لیے اس کتبے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ وہی فرعون کے دربار والا ہامان ہے۔ اس بات کا جواب یہ ہے کہ مسیحیوں کو اپنے اصل اعتراض پر نظر رکھنی چاہیے کہ حضور نے فارس کے ایک بادشاہ کے وزیراعظم ہامان کا نام بائبل میں پڑھا اور معاذاللہ اسے فارس سے مصر لے جاکر فرعون کے ساتھ ملا دیا۔ یہ دریافت اس پورے اعتراض کو ہوا میں اڑا چکی ہے۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ مصریات کے ماہرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ کتبہ مصر کے انیسویں یا بیسویں خاندان کے دور کا ہے۔ انیسواں خاندان وہی دور ہے جس میں رامسیس دوم (Ramesses II) اور اس کا بیٹا منفتاح (Merneptah) حکمران تھے، جنہیں اکثر مفسرین حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے فرعون قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ قرائن واضح کرتے ہیں کہ کتبے والا ہامان یا تو وہی ہے جس کا قرآن میں ذکر ہوا ہے یا آگے پیچھے پیدا ہونے و الا اسی خاندان کا کوئی فرد ہے جس کا نام اور کام یہی تھا۔ کسی خاندان میں نام اور کام کا ایک ہی ہونا آج بھی ایک معروف بات ہے جسے سمجھنا مشکل نہیں۔ خاص طور پر جب زمانہ متعین ہوچکا ہو تو یہ امر کم و بیش یقینی ہوجاتا ہے کہ قرآن کی بات بالکل درست ہے۔
قارئین یہاں رک کر خود بھی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اس شخصیت کے زمانے، نام اور کام سب کو جمع کرنے کے بعد کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ کیا یہ ہامان ہزار سال بعد کے فارس سے لیا گیا ایک نام ہے یا مصر کا ایک عہدیدار، جو انیسویں یا بیسویں خاندان کے دور میں تعمیرات کے شعبے کا انچارج تھا۔ یہ بھی خیال رہے کہ قرآن یہ ساری بات اس وقت کر رہا ہے جب مصریات کا سارا فن مقبروں میں دفن تھا اور پوری دنیا میں کوئی ان سے واقف نہ تھا نہ ان کی اس زبان کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا جو ان کتبوں پر درج تھی۔ ایسے وقت میں کسی بھی ہامان کا ایران کے بجائے مصر سے تعلق بیان کرنا ہی اپنی ذات میں ایک معجزہ ہے۔
ناقدین کا تیسرا اعتراض منصب کے بارے میں ہے کہ مصری کتبے میں مذکور شخص کوئی وزیر اعظم یا شاہی مشیر نہیں بلکہ ایک انتظامی یا پیشہ ورانہ عہدے سے متعلق معلوم ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہامان کو وزیر اعظم قرآن نے نہیں، بائبل نے کہا ہے۔ اس لیے قرآن پر یہ اعتراض نہیں بنتا۔ البتہ اس کا پورا امکان ہے کہ یہ بائبل کے مصنفین کا کرشمہ ہو کہ انھوں نے ایک مصری عہدیدار کے نام کو مصر سے ایران منتقل کرکے وزیراعظم بنا دیا۔
اس بات کے متعدد قرائن ہیں۔ پہلا یہ کہ اس کتاب کی نسبت نہ کسی نبی کی طرف ہے اور نہ اس میں خدا کا نام آیا ہے۔ چنانچہ یہ کسی طور کوئی الہامی کتاب نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ جدید بائبل اسکالرز اور مؤرخین اسے ایک ’’تاریخی ناول‘‘یا تمثیلی داستان (Novella) قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس دور کے معروف یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کی تاریخی دستاویزات میں ملکہ استر یا مرد کی کا کوئی واضح تذکرہ نہیں جو اس کتاب کے مرکزی کردار ہیں۔ تیسرا یہ کہ خود یہ بات نہیں معلوم کہ اس کتاب کا اصل مصنف کون ہے۔ صاف لگتا ہے کہ یہ ایک تاریخی افسانہ تھا جو یہودیوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے گھڑا گیا اور پھر ان کی مقدس کتابوں کا حصہ بن گیا۔
آخری بات
مضمون کے اختتام پر ہم ایک بہت اہم بات کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ قرآن مجید کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ واقعات کے بیان میں قرآن مجید اکثر مواقع پر تفصیل کے بجائے اختصار کو ترجیح دیتا ہے۔ مگر قرآن نے نہ صرف کئی دفعہ ہامان کا ذکر کیا ہے بلکہ دو دفعہ بہت اہتمام سے فرعون کی زبانی اس کا کام بھی نمایاں کرکے بیان کر دیا ہے۔ حالانکہ ان دونوں مواقع پر یہ واقعات بیان کیے بغیر بھی اصل مدعا پوری طرح واضح ہورہا تھا۔ بہت ہوتا تو قرآن یہ کہہ دیتا کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کا مذاق اڑایا اور انھیں جھوٹا قرار دیا۔
مگر قرآن کی یہ تفصیل بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب و الشہادہ ہیں، وہ جانتے تھے کہ ایک روز جب اسلام کی سیاسی قوت ختم ہوچکی ہوگی اور مسلمان دعوت کی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل ہوکر بدترین اخلاقی زوال کا شکار ہوجائیں گے ان کے دین کو ان کی خصوصی مدد کی ضرورت ہوگی۔ چنانچہ انھوں نے اسی پس منظر میں ہامان کے نام اور کام کو قرآن میں بااہتمام بیان کیا اور پھر اس دریافت کو سامنے لا کر دنیا پر حجت قائم کر دی کہ وہ حق ہیں، ان کے نبی حق ہیں، ان کی کتاب حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں اور ان کا وعدہ حق ہے۔
جہاں رہیے بندگان خدا کے لیے باعث رحمت بن کر رہیے، باعث آزار نہ بنیں۔
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)