08/04/2026
خراجِ عقیدت علمبردارِ حق، رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای
تاریخ کے ماتھے پر وہی قومیں جھومر بن کر چمکتی ہیں جنہیں فولادی عزم رکھنے والی قیادت میسر ہو۔ آج دنیا جس فتح کا مشاہدہ کر رہی ہے، وہ محض ایک مادی جیت نہیں بلکہ حق و باطل کے معرکے میں شعور کی فتح ہے اس عظیم کامیابی کے پیچھے ایک ایسی شخصیت کا تدبر شامل ہے جس نے تپتے ہوئے صحراؤں میں بھی گلستانِ انقلاب کی آبیاری کی۔
بصیرت اور تربیت کا شاہکار
سید علی خامنہ ای نے انقلابِ اسلامی کی امانت کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے ایک ایسی عالمی تحریک میں بدل دیا جس نے سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر ہر مظلوم کے دل میں جگہ بنائی۔ آپ نے قوم کو سکھایا کہ:
طاقت مادی وسائل میں نہیں، بلکہ خدا پر توکل اور عزمِ صمیم میں پنہاں ہے۔
نیکی اور بدی کے درمیان لکیر کھینچنا ہی اصل بیداری ہے۔
باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، استقامت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔
شہادت کا ثمر اور مسلسل جدوجہد
سید الشہداء کی شہادت نے جس مشن کو جلا بخشی تھی، رہبرِ معظم نے اسی پرچم کو تھامے رکھا۔ آج اگر عالمی طاقتیں مٹی چاٹنے پر مجبور ہیں، تو یہ اسی "سیدِ بزرگ" کی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے جس نے وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ یہ جنگ عزم کی تھی، اور اس کا سہرا بلاشبہ اس قیادت کے سر ہے جس نے شکست کو فتح میں بدلنے کا ہنر سکھایا
نئی نسل اور امید کی کرن
خونِ سادات کی تاثیر کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ فرزندِ رہبر، سید مجتبیٰ خامنہ ای کی صورت میں اسی شجرِ سایہ دار کی شاخیں اب مزید توانا ہو رہی ہیں یہ تسلسل اس بات کی نوید ہے کہ
"حق کا پرچم جو کربلا سے بلند ہوا تھا، وہ ان شاء اللہ اب مزید بلندیوں کو چھوئے گا اور دنیا کے ہر گوشے میں مظلوم کی ڈھال بنے گا۔"
مبارک باد ہے اس عظیم قیادت کو، جس نے انسانیت کو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیا