31/08/2026
مومن کی انفرادیت اور بلند مقام: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مومن کی زندگی کے انوکھے پن کو بیان کیا ہے کہ اس کا ہر حال اور ہر فیصلہ اس کے حق میں خیر کا باعث بنتا ہے، اور یہ سعادت صرف ایک سچے مومن ہی کو نصیب ہوتی ہے۔
خوشحالی پر شکر: جب مومن کو نعمت، راحت، مال یا خوشی ملتی ہے، تو وہ اسے اللہ کا فضل سمجھ کر شکر ادا کرتا ہے، جو اس کے لیے اجر و ثواب کا ذریعہ بنتا ہے۔
تکلیف پر صبر: جب مومن کو کوئی نقصان، بیماری یا مصیبت پہنچتی ہے، تو وہ جزع فزع کرنے کے بجائے صبر کا دامن تھامتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے، جو اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔
ہر حال میں خیر: شکر اور صبر وہ دو بازو ہیں جن کی بدولت مومن کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ضائع نہیں ہوتا؛ راحت ملے تو شکر گزار بندہ بن جاتا ہے اور تکلیف آئے تو صابر بن جاتا ہے، اس طرح اس کا ہر معاملہ بھلائی میں بدل جاتا ہے۔