Wazaif hal mushkilat

Wazaif hal mushkilat بیشک اللہ ہی کارساز و مددگار ہے قرآن و حدیث کے مستند وظائف دیکھ کر خود عمل کریں کسی بابے کے پاس نہ جائیں

اب آپ وظائف اور یا کوئی اور پڑھائی کے مطعلق معلومات کے لیئے سکائپ پر بھی کال کر سکتے ہیں
wazaif.hal.mushkilat سکائپ نام

Allah ki Rehmat
30/05/2026

Allah ki Rehmat

جب بنی اسرائیل نے تورات کے احکام کو بھاری سمجھا اور ان پر عمل کرنے سے نالاں ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ...
30/05/2026

جب بنی اسرائیل نے تورات کے احکام کو بھاری سمجھا اور ان پر عمل کرنے سے نالاں ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ طور پہاڑ کو جڑ سے اکھاڑ کر ان کے سروں پر لا کھڑا کریں۔

​پہاڑ کا معلق ہونا: پہاڑ ان کے سروں پر اس طرح تان دیا گیا جیسے کوئی شامیانہ یا بادل کا ٹکڑا ہو۔ ان سے کہا گیا کہ اگر تم اس کتاب (تورات) کے احکام کو دل سے قبول نہیں کرو گے اور پختہ عہد نہیں دو گے، تو یہ پہاڑ تم پر گرا کر تمہیں ہلاک کر دیا جائے گا۔

​سجدے کی حالت: اس خوفناک منظر کو دیکھ کر بنی اسرائیل سجدے میں گر پڑے۔ وہ اس طرح سجدہ کر رہے تھے کہ ان کی ایک آنکھ زمین پر تھی اور دوسری آنکھ خوف کے مارے اوپر پہاڑ کی طرف لگی ہوئی تھی کہ کہیں وہ گر نہ جائے۔ (یہودیوں میں آج بھی اسی طرح سجدہ کرنے کی روایت پائی جاتی ہے)۔

​بِقُوَّةٍ (مضبوطی سے): ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ "مضبوطی سے تھامنے" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت، نیت کی سچائی، اور پورے عزم و ہمت کے ساتھ ان احکامات پر عمل کیا جائے، نہ کہ سستی اور منافقت کے ساتھ۔

​متعلقہ احادیث اور آثار

​تفسیر ابن کثیر اور دیگر تفسیری کتب میں اس واقعے (پہاڑ اٹھائے جانے اور میثاق یعنی عہد لینے) کی وضاحت میں درج ذیل احادیث و آثار منقول ہیں:

​1. ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اثر (پہاڑ اٹھانے کی تفصیل)

​امام ابن کثیرؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ:

​"جب موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو اس کے احکام بتائے، تو انہوں نے کہا کہ اس میں تو بہت سخت شرائط اور حلال و حرام کی پابندیاں ہیں۔ ہم اسے قبول نہیں کرتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو اکھاڑ کر ان کے سروں پر لا کھڑا کیا اور فرمایا: 'اسے قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا'۔ تب انہوں نے مجبوراً اقرار کیا۔"

​2. حدیثِ فتون (قصہِ موسیٰ علیہ السلام)

​امام نسائی، امام ابن جریر اور دیگر محدثین نے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جسے "حدیثِ فتون" کہا جاتا ہے (جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالاتِ زندگی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں)۔ اس میں حضرت ابن عباسؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں:

​"اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو ان کے سروں پر معلق کر دیا تاکہ وہ اللہ کے عہد اور مینوفیسٹو (تورات) کو قبول کریں۔ جب انہوں نے پہاڑ کو سروں پر دیکھا تو وہ سجدے میں گر گئے اور عاجزی کا اظہار کیا۔"

​3. عہد و میثاق کی عالمگیر حقیقت (حدیثِ قدسی)

​اگرچہ یہ خاص واقعہ بنی اسرائیل کا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا بندوں سے عہد لینے کا اصول عام ہے۔

یہ آیت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ایک سوال کے جواب میں نازل ہوئی۔​حضرت سلمان فارسیؓ نے نبی کریم ﷺ سے اپنے ان پرانے...
30/05/2026

یہ آیت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ایک سوال کے جواب میں نازل ہوئی۔

​حضرت سلمان فارسیؓ نے نبی کریم ﷺ سے اپنے ان پرانے ساتھیوں (عیسائیوں اور راہبوں) کے بارے میں پوچھا جن کے ساتھ انہوں نے اسلام لانے سے پہلے وقت گزارا تھا، جو خوب عبادت کرتے تھے اور نمازیں پڑھتے تھے۔

​انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ لوگ بخشے جائیں گے؟ تو ابتدا میں (عمومی اصول کے تحت) کہا گیا کہ جو اسلام پر نہیں مرا وہ خسارے میں ہے۔ حضرت سلمانؓ کو یہ سن کر بہت دکھ ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

​2. تفسیرِ ابن کثیر کا بنیادی نقطہ

​امام ابن کثیرؒ اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اسلام کے آنے کے بعد بھی کوئی شخص اپنے پرانے دین پر رہ کر نجات پا سکتا ہے۔ بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے:

​نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے: عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جن لوگوں نے سچی تورات اور انجیل پر عمل کیا، اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے، وہ مومن اور نجات پانے والے تھے۔

​نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد: اب سابقہ تمام ادیان منسوخ ہو چکے ہیں۔ اب نجات کا واحد راستہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لانا اور دینِ اسلام کو قبول کرنا ہے۔

​3. متعلقہ احادیثِ مبارکہ

​امام ابن کثیرؒ اور دیگر محدثین نے اس مفہوم کو واضح کرنے کے لیے کئی احادیث نقل کی ہیں:

​حدیثِ رسول ﷺ (صحیح مسلم):

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی شخص، خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی، میرے بارے میں سنے اور پھر وہ اس دین (اسلام) پر ایمان لائے بغیر مر جائے جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں، تو وہ لازمی طور پر جہنم والوں میں سے ہوگا۔"

​ایک اور مشہور روایت (مسند احمد) میں آتا ہے کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تورات کا کوئی نسخہ دیکھ رہے تھے، تو آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا:

​"اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے، تو انہیں بھی میری پیروی کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتا۔"

​خلاصہ (Conclusion)

​تفسیر ابن کثیر کے مطابق، یہ آیت اللہ تعالیٰ کے عدل کو ظاہر کرتی ہے کہ پچھلی امتوں میں سے جن لوگوں نے اپنے اپنے وقت کے نبی کی سچی پیروی کی، ان کا اجر ضائع نہیں ہوگا۔ لیکن موجودہ دور میں نجات صرف اور صرف اسلام قبول کرنے اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے میں ہی منحصر ہے۔

من و سلوٰی پر ناشکری اور مادی خوراک کا مطالبہ​بنی اسرائیل کو صحرائے سینا (میدانِ تیہ) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے "من و سل...
30/05/2026

من و سلوٰی پر ناشکری اور مادی خوراک کا مطالبہ

​بنی اسرائیل کو صحرائے سینا (میدانِ تیہ) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے "من و سلوٰی" جیسی پاکیزہ اور بغیر محنت کے ملنے والی غذائیں عطا کی گئی تھیں۔ لیکن انہوں نے ناشکری کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے زمین سے اگنے والی معمولی چیزوں (دال، پیاز، لہسن، ککڑی) کا مطالبہ کیا۔

​حافظ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں: انہوں نے ایک بہترین، لذیذ اور نفع بخش خوراک کے بدلے ادنیٰ درجے کی چیزوں کو ترجیح دی۔ اسی لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: "کیا تم بہتر چیز کے بدلے گھٹیا چیز لینا چاہتے ہو؟"

​لفظ "فوم" کی تفسیر: ابنِ کثیرؒ نے مختلف مفسرین کے اقوال نقل کیے ہیں کہ "فوم" سے مراد گندم بھی ہے اور لہسن بھی۔ عربی زبان میں یہ دونوں معانی مستعمل ہیں۔

​2. ذلت اور مسکینی کا مسلط ہونا

​آیت کے اس حصے { وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ } کی تفسیر میں ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ ان کے کفر، نافرمانی اور احکامِ الٰہی سے سرکشی کی وجہ سے ان پر ہمیشہ کے لیے ذلت (شرعی اور تقدیری طور پر) اور دل کی محتاجی مسلط کر دی گئی۔ وہ کتنے ہی مالدار کیوں نہ ہو جائیں، ان کے دلوں پر خوف اور فقر سوار رہتا ہے۔

​3. احادیثِ مبارکہ (تفسیرِ ابنِ کثیر کے تناظر میں)

​حافظ ابنِ کثیرؒ نے بنی اسرائیل کے اس رویے اور اس کے انجام (ذلت و غضب) کی وضاحت کے لیے کئی احادیث نقل کی ہیں یا ان کی طرف اشارہ کیا ہے:

​حدیث 1: تکبر اور حق کا انکار ہی ذلت کا سبب ہے

​بنی اسرائیل نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور تکبر کیا۔ تکبر کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

​«الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ»

"تکبر کا مطلب حق کی مخالفت (نافرمانی) کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔" (صحیح مسلم)

بنی اسرائیل میں یہ دونوں برائیاں موجود تھیں؛ انہوں نے اللہ کے حق کو جھٹلایا اور انبیاء کو حقیر سمجھ کر قتل کیا۔

​حدیث 2: دنیا کی محبت اور ذلت کا مسلط ہونا

​بنی اسرائیل کی طرح جب کوئی امت دین کو چھوڑ کر دنیاوی لذتوں اور کھیتی باڑی (مادی چیزوں) میں گم ہو جاتی ہے، تو اللہ اس پر ذلت مسلط کر دیتا ہے۔ اس مفہوم میں امام ابنِ کثیرؒ کے منہج کے مطابق یہ مشہور حدیث صادق آتی ہے:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

​"جب تم عینہ (سود کی ایک قسم) کی تجارت کرنے لگو گے، بیلوں کی دُمیں پکڑ لو گے، کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جسے اس وقت تک نہیں ہٹائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ۔" (سنن ابی داؤد)

یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ میدانِ تیہ (صحرا) میں تھے، جہاں نہ کوئی سایہ تھا اور...
29/05/2026

یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ میدانِ تیہ (صحرا) میں تھے، جہاں نہ کوئی سایہ تھا اور نہ پانی کا کوئی چشمه۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر تین بڑے احسانات فرمائے:

​دھوپ سے بچانے کے لیے بادلوں کا سایہ کیا۔

​بھوک مٹانے کے لیے منّ و سلویٰ نازل فرمایا۔

​پیاس بجھانے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے ذریعے پتھر سے بارہ چشمے جاری کیے۔

​تفسیر ابنِ کثیر اور احادیث کے دلائل

​امام ابنِ کثیرؒ نے اس آیت کی تفسیر میں کئی جلیل القدر صحابہ (جیسے حضرت عبداللہ بن عباسؓ) اور تابعین کے اقوال اور احادیث کا حوالہ دیا ہے:

​1. پتھر کی نوعیت اور عصا کی ضرب

​پتھر کون سا تھا؟ ابنِ کثیرؒ نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک چوکور پتھر تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھ رکھتے تھے (کچھ روایات کے مطابق یہ طورِ سینا کا پتھر تھا)۔

​چشموں کا پھوٹنا: جب بنی اسرائیل نے پیاس کی شدت کی شکایت کی، تو اللہ نے حکم دیا کہ پتھر پر اپنا عصا مارو۔ جیسے ہی انہوں نے عصا مارا، اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔

​2. بارہ چشمے ہی کیوں؟

​بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے 12 قبائل (اسباط) پر مشتمل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آپسی لڑائی اور اختلاف کو روکنے کے لیے ہر قبیلے کے لیے ایک الگ چشمہ جاری فرما دیا۔

​"قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ"

(ہر گروہ نے اپنا گھاٹ معلوم کر لیا)۔

یعنی ہر قبیلے کو معلوم تھا کہ انہوں نے کس چشمے سے پانی پینا ہے، جس کی وجہ سے پانی بھرتے وقت ان میں کوئی جھگڑا یا بھگدڑ نہیں مچتی تھی۔

​3. متعلقہ حدیث (حضرت موسیٰ علیہ السلام اور پتھر کا واقعہ)

​امام ابنِ کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں اس پتھر کی برکت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا ذکر کرتے ہوئے صحیح بخاری کی اس مشہور حدیث کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھر اللہ کے حکم کے تابع ہوتے ہیں:

​صحیح بخاری (حدیث نمبر: 3404):

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بنی اسرائیل ننگے ہو کر ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے غسل کرتے تھے اور موسیٰ علیہ السلام اکیلے (پردے میں) غسل کرتے تھے۔ بنی اسرائیل نے کہنا شروع کیا کہ موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے صرف ایک ہی چیز روکتی ہے کہ ان کے جسم میں کوئی عیب (برص یا خایہ کا بڑھ جانا) ہے۔ ایک بار موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے۔ وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگا۔ موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے: 'اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے' یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے انہیں دیکھ لیا اور کہنے لگے:

جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے اور میدانِ تیہ میں طویل عرصہ بھٹکنے کے بعد انہیں اریحا (یا بیت المقدس) میں داخل ہونے کا حکم م...
29/05/2026

جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے اور میدانِ تیہ میں طویل عرصہ بھٹکنے کے بعد انہیں اریحا (یا بیت المقدس) میں داخل ہونے کا حکم ملا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دو خاص احکامات دیے تھے:

​قولی حکم (زبان سے کہنا): وہ دروازے سے داخل ہوتے وقت "حِطَّۃٌ" کہیں، جس کے معنی ہیں: "اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے (ہمیں بخش دے)"۔

​فعلی حکم (عاجزی کا انداز): وہ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے (یا عاجزی سے جھکتے ہوئے) داخل ہوں۔

​2. بنی اسرائیل کی بدلی اور تمسخر (تفسیر ابنِ کثیر)

​بنی اسرائیل نے ان دونوں احکامات کی نہ صرف نافرمانی کی بلکہ ان کا مذاق اڑایا:

​حکم کی تبدیلی: انہوں نے عاجزی سے جھک کر داخل ہونے کے بجائے اپنی پیٹھ کے بل (یا سرین کے بل) گھسٹتے ہوئے داخل ہونا شروع کر دیا۔

​لفظوں کا ردّوبدل: انہوں نے زبان سے "حِطَّۃٌ" (مغفرت) کہنے کے بجائے تمسخر اور مذاق کے طور پر "حِنْطَۃٌ" کہنا شروع کر دیا، جس کے معنی "گیہوں/اناج" کے ہیں۔ وہ کہنے لگے: "حَبَّةٌ فِي شَعِيرَةٍ" (جو کے اندر دانہ)۔

​ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں کہ یہ ان کی بدبختی، سرکشی اور تکبر کی انتہا تھی کہ انہوں نے اللہ کے مغفرت کے وعدے کو دنیاوی اناج اور مذاق سے بدل دیا۔

​3. احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

​تفسیر ابنِ کثیر میں اس واقعے کی تصدیق کے لیے متعدد صحیح احادیث نقل کی گئی ہیں:

​صحیح بخاری کی حدیث:

​رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ (بیت المقدس کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور کہیں 'حطۃ' (یعنی الٰہی ہماری مغفرت کر)۔ لیکن انہوں نے اس کو بدل دیا اور وہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور انہوں نے (حطۃ کے بجائے) کہا: 'حبة في شعيرة' (جو میں ایک دانہ ہے)۔" (صحیح بخاری: 4479)

​صحیح مسلم کی حدیث:

​حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ دروازے میں عاجزی سے جھکتے ہوئے داخل ہو اور 'حطۃ' کہو، تمہارے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ لیکن انہوں نے اسے بدل دیا، وہ سرین کے بل گھسٹ کر داخل ہوئے اور کہنے لگے: 'حطۃ' کے اندر دانہ (یعنی اناج)۔" (صحیح مسلم: 3015)

​4. الٰہی عذاب (رِجْز) کی حقیقت

​جب انہوں نے اللہ کے دین اور حکم کا اس طرح مذاق اڑایا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے "رِجْز" نازل کیا۔

​رِجْز سے کیا مراد ہے؟ ابنِ کثیرؒ نے حضرت ابنِ عباسؓ، مجاہد، اور قتادہ جیسے مفسرین کے اقوال نقل کیے ہیں کہ یہاں "رِجْز" سے مراد طاعون کی بیماری (Plague) اور سخت عذاب ہے۔

28/05/2026
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دینے، میدانِ تیہ میں بادلوں کا سایہ کرنے، من و سلویٰ نازل کرنے اور بے شمار ن...
28/05/2026

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دینے، میدانِ تیہ میں بادلوں کا سایہ کرنے، من و سلویٰ نازل کرنے اور بے شمار نعمتیں عطا کرنے کے بعد اب ایک اور نعمت کا ذکر فرمایا۔ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ایک بستی (جو کہ جمہور مفسرین کے نزدیک بیت المقدس ہے) میں داخل ہو جائیں۔

​وہاں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں دو احکام دیے تھے:

​عملی حکم: دروازے سے عاجزی اور شکر گزاری کرتے ہوئے سجدہ (یا رکوع کی حالت میں جھکتے ہوئے) داخل ہونا۔

​زبانی حکم: زبان سے "حِطَّةٌ" (حِطَّۃٌ) کہنا، جس کے معنی ہیں: "یا اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے اور انہیں ہم سے ساقط کر دے۔"

​احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں تفسیر

​بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے ان دونوں احکام کی نافرمانی کی، جس کا ذکر اگلی آیت (آیت 59) میں بھی ہے اور احادیثِ صحیحہ میں اس کی تفصیل ملتی ہے۔

​1. صحیح بخاری و مسلم کی حدیث (حکم کی تبدیلی)

​امام ابن کثیر نے اس آیت کے تحت رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث نقل کی ہے:

​حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے (جھکتے ہوئے) داخل ہوں اور 'حِطَّۃٌ' کہیں۔ لیکن انہوں نے اس حکم کو بدل دیا اور وہ چوتڑوں (ہپ) کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور انہوں نے 'حِطَّۃٌ' کے بجائے 'حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ' (جو کے اندر دانہ) کہنا شروع کر دیا۔"

(صحیح بخاری: 4479، صحیح مسلم: 3015)

​2. ایک اور روایت کے الفاظ

​ایک اور روایت میں الفاظ اس طرح ہیں کہ انہوں نے تمسخر اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا:

​"حِنْطَۃٌ فِیہَا حَبَّۃٌ" (گندم کا دانہ جس میں گودا ہو)۔

​توضیح: یعنی انہوں نے اللہ کے عاجزی والے کلمے 'حِطَّۃٌ' (مغفرت) کو ایک دنیاوی چیز 'حِنطۃ' (گندم) سے بدل دیا، جو ان کے تکبر، سرکشی اور احکامِ الٰہی سے مذاق کو ظاہر کرتا ہے۔

​اہم نکاتِ تفسیر (ابن کثیر)

​عاجزی کے بجائے تکبر: امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ انہیں حکم تو یہ تھا کہ وہ اللہ کی فتح اور نعمت پر شکر گزار بن کر عاجزی سے سر جھکائے داخل ہوں (جیسے رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے موقع پر اپنی اونٹنی پر اس طرح جھکے ہوئے داخل ہوئے تھے کہ آپ کی داڑھی مبارک کجاوے سے لگ رہی تھی)۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس کے برعکس تکبر کا راستہ چنا۔

​مغفرت کا وعدہ اور نیکی کرنے والوں کے لیے جزا: آیت کے آخری حصے ﴿ وَسَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ ﴾ کے بارے میں ابن کثیر فرماتے ہیں کہ جو گنہگار توبہ کریں گے ہم ان کے گناہ معاف کر دیں گے، اور جو پہلے سے نیک (محسنین) ہیں، ان کی نیکیوں اور ثواب میں مزید اضافہ کر دیں گے۔

بادلوں کا سایہ (وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ)​بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے اور فرعون غرق ہو گیا، تو وہ میدانِ تیہ (ا...
28/05/2026

بادلوں کا سایہ (وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ)

​بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے اور فرعون غرق ہو گیا، تو وہ میدانِ تیہ (ایک لق و دق صحرا) میں پہنچے۔ وہاں نہ کوئی سایہ تھا، نہ درخت اور نہ ہی مکانات۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا خاص کرم فرمایا اور ان پر بادلوں کا سایہ کر دیا۔

​تفسیر ابنِ کثیر کے مطابق: یہ کوئی عام بادل نہیں تھے بلکہ یہ ایک خاص قسم کا بادل (الغمام) تھا جو عام بادلوں سے زیادہ سفید، ٹھنڈا اور لطیف تھا، جس کی وجہ سے صحرا کی شدید تپش ان تک نہیں پہنچتی تھی اور وہ دھوپ سے محفوظ رہتے تھے۔

​سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروّی ہے کہ یہ بادل رات کے وقت بھی ان پر رہتا تھا اور ان کے لیے روشنی اور سکون کا باعث بنتا تھا۔

​2. منّ و سلویٰ کا نزول (وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ)

​اس تپتے ہوئے صحرا میں جہاں کھانے پینے کا کوئی انتظام نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ان کے لیے بغیر کسی محنت کے دو بہترین غذائیں نازل فرمائیں۔

​الف: "المنّ" (منّ) کیا ہے؟

​ابنِ کثیرؒ نے مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد واضح کیا ہے کہ یہ ایک میٹھی چیز تھی جو رات کے وقت درختوں اور پتھروں پر اوس کی طرح گرتی تھی۔ صبح اٹھ کر وہ اسے جمع کر لیتے تھے۔ یہ برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی تھی۔

​حدیثِ مبارکہ (صحیح بخاری و مسلم): رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ​"الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ" "کُمب can (مشروم/کھمبی کی ایک نایاب قسم 'ٹرفل') اس 'منّ' میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے۔" (صحیح بخاری: 5708، صحیح مسلم: 2049)

​"الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ"

"کُمب can (مشروم/کھمبی کی ایک نایاب قسم 'ٹرفل') اس 'منّ' میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے۔" (صحیح بخاری: 5708، صحیح مسلم: 2049)

​ب: "السلویٰ" (سلویٰ) کیا ہے؟

​ابنِ کثیرؒ، علی بن ابی طلحہ اور ابن عباسؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ یہ ایک پرندہ ہے جسے ہم "بٹیر" (Quail) کہتے ہیں۔

​اللہ تعالیٰ نے ایسی ہوا چلائی جو ان پرندوں کو بنی اسرائیل کے خیموں کے پاس لا کر ڈھیر کر دیتی۔ وہ انہیں آسانی سے پکڑ لیتے، ذبح کرتے اور پکا کر کھاتے۔

​3. پاکیزہ چیزیں اور ناشکری کی ممانعت

​اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا: "كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ"

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ:جب کوئی شخص کسی کام، چیز یا بات کو بار بار منحوس، برا یا نقصان دہ سمجھنے لگتا ہے تو اس کے دل میں خ...
28/05/2026

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ:
جب کوئی شخص کسی کام، چیز یا بات کو بار بار منحوس، برا یا نقصان دہ سمجھنے لگتا ہے تو اس کے دل میں خوف، وہم اور بدگمانی پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر وہ ہر معاملے کو اسی نظر سے دیکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے فیصلے، ہمت اور رویّے متاثر ہوتے ہیں، اور یوں وہ واقعی نقصان اٹھا لیتا ہے۔
مثلاً:
اگر کوئی شخص یہ سمجھ لے کہ “یہ دن میرے لیے خراب ہے”
یا “یہ کام میرے لیے بدقسمتی لاتا ہے”
یا “فلاں آدمی کو دیکھ کر میرا کام بگڑ جاتا ہے”
تو اس کے دل میں منفی سوچ بیٹھ جاتی ہے، اور وہ اعتماد کھو دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غلط فیصلے کرتا ہے یا گھبراہٹ میں نقصان اٹھا لیتا ہے۔
اسی لیے اسلام نے:
بدشگونی
نحوست کا عقیدہ
فالِ بد
وہم پرستی
سے منع فرمایا ہے۔
اصل عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ:
نفع و نقصان اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
کوئی چیز بذاتِ خود منحوس نہیں۔
مسلمان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اچھا گمان رکھتا ہے۔
نبی ﷺ کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ کو مثبت، اللہ پر توکل رکھنے والی، اور وہم سے پاک رکھے۔

Address

Sadar Bazaar
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wazaif hal mushkilat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Wazaif hal mushkilat:

Share