Wazaif hal mushkilat

Wazaif hal mushkilat بیشک اللہ ہی کارساز و مددگار ہے قرآن و حدیث کے مستند وظائف دیکھ کر خود عمل کریں کسی بابے کے پاس نہ جائیں

اب آپ وظائف اور یا کوئی اور پڑھائی کے مطعلق معلومات کے لیئے سکائپ پر بھی کال کر سکتے ہیں
wazaif.hal.mushkilat سکائپ نام

مومن کی انفرادیت اور بلند مقام: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مومن کی زندگی کے انوکھے پن کو بیان کیا ہے کہ اس کا ہر حال اور...
31/08/2026

مومن کی انفرادیت اور بلند مقام: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مومن کی زندگی کے انوکھے پن کو بیان کیا ہے کہ اس کا ہر حال اور ہر فیصلہ اس کے حق میں خیر کا باعث بنتا ہے، اور یہ سعادت صرف ایک سچے مومن ہی کو نصیب ہوتی ہے۔

خوشحالی پر شکر: جب مومن کو نعمت، راحت، مال یا خوشی ملتی ہے، تو وہ اسے اللہ کا فضل سمجھ کر شکر ادا کرتا ہے، جو اس کے لیے اجر و ثواب کا ذریعہ بنتا ہے۔

تکلیف پر صبر: جب مومن کو کوئی نقصان، بیماری یا مصیبت پہنچتی ہے، تو وہ جزع فزع کرنے کے بجائے صبر کا دامن تھامتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے، جو اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔

ہر حال میں خیر: شکر اور صبر وہ دو بازو ہیں جن کی بدولت مومن کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ضائع نہیں ہوتا؛ راحت ملے تو شکر گزار بندہ بن جاتا ہے اور تکلیف آئے تو صابر بن جاتا ہے، اس طرح اس کا ہر معاملہ بھلائی میں بدل جاتا ہے۔

مشکلات میں مدد کے دو بڑے ذرائع (صبر اور نماز):حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ...
31/08/2026

مشکلات میں مدد کے دو بڑے ذرائع (صبر اور نماز):
حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی یاد (ذکر) اور شکر کا حکم دیا تھا، اور اس آیت میں بندوں کو زندگی کے مصائب، تکالیف اور عبادات کی ادائیگی میں پیش آنے والی دشواریوں سے نمٹنے کا سب سے بڑا نبوی اور الٰہی نسخہ بتایا ہے۔ انسان جب بھی کسی پریشانی یا آزمائش میں گھِر جائے تو اسے دو ہتھیاروں سے کام لینا چاہیے: پہلا "صبر" (یعنی دل کو قابو میں رکھنا، شکوہ نہ کرنا اور استقامت دکھانا) اور دوسرا "نماز" (جو بندے اور رب کے درمیان تعلق کا سب سے بہترین ذریعہ ہے)۔

اللہ کی معیت (مدد اور نصرت):
آیت کے آخر میں خوشخبری دی گئی ہے کہ "بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔ یہ معیت (ساتھ ہونا) نصرت، مدد، تائید اور خاص رحمت کے معنی میں ہے۔ یعنی جو بندہ صبر کا دامن تھامتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر مشکل گھڑی میں اس کا مددگار بن جاتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل:
امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے مسند احمد اور سنن سنن کی روایات کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب بھی کوئی پریشانی یا غم کا مرحلہ آتا، تو آپ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔ نماز ہی وہ ذریعہ تھی جس سے آپ کو قلبی سکون اور روحانی طاقت ملتی تھی۔

صبر کی فضیلت سے متعلق حدیث:
صحیح مسلم میں حضرت صبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو(اللہ کی رضا کے لیے) صبر کر تا ہے ، یہ (ابھی) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔(صحیح مسلم: 2999)
صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7500

پڑوسی کے حقوق اور ایذا رسانی سے بچناایمان کا تقاضا: حقیقی مومن وہ ہے جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ رہے۔ پڑوسی کو تکلیف د...
30/08/2026

پڑوسی کے حقوق اور ایذا رسانی سے بچنا
ایمان کا تقاضا: حقیقی مومن وہ ہے جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ رہے۔ پڑوسی کو تکلیف دینا (خواہ وہ قول کی صورت میں ہو یا فعل کی) ایمانی کمزوری یا اخلاقی پستی کی علامت ہے۔

حسنِ سلوک: اسلام میں پڑوسی کے حقوق کا اتنا خیال رکھا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بار بار اس کی تاکید فرمائی ہے۔

مہمان نوازی اور عزت و تکریم
مہمان کا احترام: مہمان کی عزت کرنا اور اس کی خاطر تواضع کرنا ایمانی غیرت اور شرافت کا تقاضا ہے۔

میزبان کی ذمہ داری: مہمان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا اور اس کی راحت کا خیال رکھنا دینِ اسلام کی نمایاں تعلیم ہے۔

زبان کی حفاظت اور صُحبت کا ادب
خیرخواہی یا خاموشی: انسان کی زبان اس کے کردار کا آئینہ ہوتی ہے۔ ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ یا تو منہ سے بھلی اور نفع بخش بات نکلے، یا پھر انسان فضول گوئی، غیبت اور گناہ سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کرے۔

زبان کا احتیاط: اکثر گناہ زبان کے غلط استعمال سے ہوتے ہیں، اس لیے خاموشی کو حکمت قرار دیا گیا ہے۔

ذکرِ الٰہی اور اس کا بدلہ:حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ذکر (یاد کرنے) ...
30/08/2026

ذکرِ الٰہی اور اس کا بدلہ:
حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ذکر (یاد کرنے) کا حکم دیا ہے اور اس کے بدلے میں اپنے ذکر کا وعدہ فرمایا ہے۔ بندہ جب اللہ کو طاعت، عبادت اور اچھے اعمال کے ذریعے یاد کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرشتوں کے اعلیٰ دربار میں اور اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ فرماتا ہے۔

شکر گزاری اور کفرانِ نعمت سے بچنا:
آیت کے دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں (جیسے قبلہ کی ہدایت، اسلام کی دولت اور نبی کریم ﷺ کی بعثت) پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ "اور میری ناشکری نہ کرو"۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ ناشکری سے مراد نعمتوں کی قدر نہ کرنا یا ان کا غلط استعمال کرنا ہے۔

صحیح بخاری و مسلم کی قدسی روایت:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

"میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے کسی مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں۔" (صحیح بخاری: 7405، صحیح مسلم: 2675)

ذکر کی عظمت اور فضیلت:
امام ابنِ کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت حسن بصری اور دیگر سلف صالحین کے اقوال نقل کیے ہیں کہ اللہ کا بہترین ذکر یہ ہے کہ جب بندہ کسی گناہ یا معصیت کا ارادہ کرے تو اسے اللہ کا خوف یاد آجائے اور وہ رک جائے۔ (تفسیر ابنِ کثیر، سورہ البقرہ، آیت: 152)

درستگی اور اخلاص (سَدِّدُوا): عبادت کی کثرت سے زیادہ اس کا درست طریقہ، شریعت کی مطابقت اور اخلاص اہم ہے تاکہ عمل قبول ہو...
29/08/2026

درستگی اور اخلاص (سَدِّدُوا): عبادت کی کثرت سے زیادہ اس کا درست طریقہ، شریعت کی مطابقت اور اخلاص اہم ہے تاکہ عمل قبول ہو۔

اعتدال اور استطاعت (وَقَارِبُوا): اگر کمالِ درجے تک نہ پہنچ سکیں تو مایوس ہو کر نیکی چھوڑنے کے بجائے اپنی استطاعت کے مطابق میانہ روی کا راستہ اپنائیں۔

رحمتِ الٰہی پر انحصار: انسان محض اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت کا مستحق نہیں بن سکتا؛ جنت اصل میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے ہی ملتی ہے، اس لیے اعمال پر غرور کرنے کے بجائے ہمیشہ اس کی رحمت کا امیدوار رہنا چاہیے۔

دوام اور استقامت (أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ): اللہ کے نزدیک وہی نیکی سب سے زیادہ محبوب ہے جو باقاعدگی اور مستقل مزاجی سے کی جائے، چاہے وہ مقدار میں تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔ جوش میں آ کر بہت زیادہ عمل کر کے چھوڑ دینے کے مقابلے میں کم لیکن مستقل معمول زیادہ بہتر ہے۔

عظیم نعمت (آپ ﷺ کی بعثت کا احسان):حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اس عظیم نع...
29/08/2026

عظیم نعمت (آپ ﷺ کی بعثت کا احسان):
حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اس عظیم نعمت کی یاد دہانی کرا رہا ہے جو اس نے ان پر اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر انعام کی ہے۔ یہ دراصل پچھلی آیت (جس میں قبلے کی نعمت اور تکمیلِ ہدایت کا ذکر تھا) ہی کا تسلسل ہے، یعنی جس طرح ہم نے تمہیں بہترین قبلہ عطا کیا اور قبلے کی نعمت پوری کی، اسی طرح ہم نے تم میں تمہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا۔

"مِّنْکُمْ" (تم ہی میں سے ہونے) کی حکمت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عرب اور تم ہی میں سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہاری زبان بولنے والے، تمہارے خاندان اور قبیلے سے تعلق رکھنے والے، اور تمہارے حالات سے پوری طرح واقف ہیں۔ تم ان کے ساتھ پوری انسیت اور نرمی محسوس کر سکتے ہو، اور ان کے لیے تمہارے دل میں اجنبی پن نہیں ہوتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار بنیادی فرائض:
آیت میں آپ کی بعثت کے چار اہم مقاصد بیان کیے گئے ہیں:

تلاوتِ آیات: آپ اللہ کی آیات لوگوں کو پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ حق واضح ہو جائے۔

تزکیہ (پاکیزگی): آپ لوگوں کو شرک، اخلاقی برائیوں اور گندگی سے پاک کر کے اخلاقِ حسنہ سے سنوارتے ہیں۔

تعلیمِ کتاب و حکمت: آپ کو قرآن (کتاب) اور سنت (حکمت) کی تعلیم دیتے ہیں۔

تعلیمِ مجہولات: جو باتیں لوگ پہلے سے نہیں جانتے تھے (مثلاً عقائدِ حقہ، غیب کی خبریں اور شریعت کے احکام)، اللہ تعالی آپ کے ذریعے وہ سب سکھاتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت:
تفسیر ابنِ کثیر میں اس آیت کے تحت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وہ دعائیں نقل کی گئی ہیں جو انہوں نے کعبہ کی تعمیر کے وقت مانگی تھیں: "اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔" (البقرہ: 129)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیثِ مبارکہ میں ارشاد فرمایا: "میں اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی دعا، اپنے بھائی عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت، اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا۔" (مسند احمد)

اگر کوئی شخص ہمارے ساتھ بھلائی کرے، ہماری مدد کرے، ہمیں کوئی نعمت پہنچائے یا مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دے تو اس کا شکریہ ا...
27/08/2026

اگر کوئی شخص ہمارے ساتھ بھلائی کرے، ہماری مدد کرے، ہمیں کوئی نعمت پہنچائے یا مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دے تو اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
کیونکہ حقیقت میں نعمت دینے والا اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ بعض نعمتیں اپنے بندوں کے ذریعے ہم تک پہنچاتا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کا اعترافِ احسان اور شکریہ ادا کرنا بھی اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔

مثلاً کسی نے آپ کی مدد کی تو صرف دل میں یہ سوچنا کافی نہیں کہ "اللہ اسے جزا دے گا"؛ بلکہ مناسب موقع پر "جزاک اللہ خیراً"، "اللہ آپ کو جزائے خیر دے" یا کم از کم "شکریہ" کہنا بھی اچھا اخلاق ہے۔

اللہ کی نعمتوں پر الحمدللہ کہیں، اور اللہ کے بندوں کے احسانات کو بھی نہ بھولیں۔

یہ حدیث حسنِ اخلاق، شکرگزاری اور لوگوں کے احسان کی قدر کرنے کا بہترین سبق دیتی ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ جہاں کہیں بھی ہوں، نماز کے وقت مسجدِ حرام یعنی خان...
27/08/2026

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ جہاں کہیں بھی ہوں، نماز کے وقت مسجدِ حرام یعنی خانۂ کعبہ کی طرف رخ کریں۔

اب مسلمانوں کا مستقل قبلہ بیت اللہ، مکہ مکرمہ ہے۔ ابن کثیرؒ کے مطابق آیت میں پہلے نبی ﷺ کو اور پھر تمام اہلِ ایمان کو اس حکم کی تاکید کی گئی ہے۔

قبلہ کی تبدیلی کیوں ہوئی؟

ابتداء میں رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا فرماتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قبلہ مسجدِ حرام کی طرف تبدیل فرما دیا۔

یہ تبدیلی صرف سمت تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اللہ کے حکم کے سامنے مکمل اطاعت کا امتحان بھی تھا۔

رسول اللہ ﷺ کی خواہش تھی کہ قبلہ حضرت ابراہیمؑ کے گھر، یعنی کعبہ کی طرف ہو، لیکن آپ ﷺ نے اپنی خواہش کے مطابق قبلہ تبدیل نہیں کیا؛ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آیا تو فوراً اس پر عمل فرمایا۔

"لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ"

"تاکہ لوگوں کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔"

ابن کثیرؒ بیان کرتے ہیں کہ اہلِ کتاب کو اپنی کتابوں سے معلوم تھا کہ آخری نبی ﷺ کی امت کا قبلہ کعبہ ہوگا۔ پہلے مسلمانوں کا بیت المقدس کی طرف رخ کرنا ان کے لیے اعتراض کا ایک موقع تھا، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو قبلہ مقرر فرما دیا تو یہ اعتراض بھی ختم ہوگیا۔

"فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي"

"پس تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔"

یہ آیت صرف قبلہ کے بارے میں نہیں بلکہ ایک بہت بڑا ایمانی سبق بھی دیتی ہے۔

مومن کو حق معلوم ہوجانے کے بعد لوگوں کے اعتراضات، مذاق یا مخالفت سے نہیں گھبرانا چاہیے۔

لوگ کیا کہیں گے؟
لوگ ناراض ہوں گے؟
لوگ اعتراض کریں گے؟

ان سب سے بڑھ کر اہم سوال یہ ہے:

اللہ تعالیٰ کیا چاہتے ہیں؟

ابن کثیرؒ کے مطابق یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخالفین کے اعتراضات سے خوف زدہ ہونے کے بجائے صرف اللہ سے ڈرنے کی تعلیم دے رہے ہیں۔

"وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ"

"اور تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں۔"

قبلہ کی تبدیلی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی، کیونکہ اس سے مسلمانوں کی الگ دینی شناخت واضح ہوئی اور امت کو حضرت ابراہیمؑ کی نسبت والے مقدس مرکز، یعنی کعبہ کی طرف متوجہ کیا گیا۔

ابن کثیرؒ کے مطابق اس سے مسلمانوں کے لیے شریعت کے احکام کی تکمیل اور امت کی خصوصی ہدایت کا پہلو بھی ظاہر ہوتا ہے۔

"وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ"

"اور تاکہ تم ہدایت پاؤ۔"

اصل مقصد صرف کعبہ کی سمت میں چہرہ کرنا نہیں بلکہ اللہ کی ہدایت کو قبول کرنا ہے۔

قبلہ جسم کو ایک سمت میں جمع کرتا ہے، جبکہ ایمان انسان کے دل کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

اس آیت سے ہمارے لیے اہم سبق

اللہ کا حکم سب سے مقدم ہے۔
اپنی پسند یا لوگوں کی رائے کے بجائے اللہ کے حکم کو اختیار کرنا مومن کی شان ہے۔

مسلمانوں کی اپنی دینی شناخت ہے۔
قبلہ امتِ مسلمہ کی وحدت کی علامت ہے۔

لوگوں کے اعتراض سے حق نہیں بدلتا۔
اگر اللہ کا حکم واضح ہو تو لوگوں کا خوف انسان کو پیچھے نہیں ہٹانا چاہیے۔

اصل خوف اللہ کا ہونا چاہیے۔
آیت کا مرکزی پیغام ہے:

فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي
"ان سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو۔"

ہدایت صرف معلومات کا نام نہیں۔
اللہ کا حکم معلوم کرنے کے بعد اسے قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا ہی حقیقی ہدایت ہے۔

ایک خوبصورت خلاصہ

قبلہ صرف نماز کی سمت نہیں؛ یہ اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی علامت ہے۔

رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ نے جب اللہ تعالیٰ کا حکم سنا تو بحث نہیں کی، بلکہ رخ بدل دیا۔ یہی اس آیت کا سب سے بڑا عملی سبق ہے: مومن کی پہچان یہ ہے کہ اسے اللہ کا حکم معلوم ہو جائے تو وہ اپنی خواہش اور لوگوں کے دباؤ پر اللہ کے حکم کو ترجیح دیتا ہے

تقویٰ اور خدا ترسی (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو)تقویٰ کی همہ گیری: "جہاں بھی رہو" کا مطلب یہ ہے کہ انسان تنہائی میں ہو یا م...
26/08/2026

تقویٰ اور خدا ترسی (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو)
تقویٰ کی همہ گیری: "جہاں بھی رہو" کا مطلب یہ ہے کہ انسان تنہائی میں ہو یا مجمع میں، گھر میں ہو یا سفر میں، ملک کے اندر ہو یا باہر؛ اسے ہمیشہ یہ احساس ہونا چاہئے کہ اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے۔

خوفِ خدا: تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کے احکام کی فرماں برداری کرے اور اس کی نافرمانی سے بچے، چاہے اسے دیکھنے والا کوئی انسان موجود ہو یا نہ ہو۔

نیکی اور توبہ کا اثر (برائی کے بعد بھلائی کرو جو اسے مٹا دے)
بشری کمزوری کا ازالہ: انسان خطا کا پتلا ہے، زندگی میں جانے یا انجانے میں اس سے گناہ یا برائی سرزد ہو سکتی ہے۔

نیکیوں کا کفارہ: اس کا حل یہ بتایا گیا کہ جب کوئی برائی صادر ہو جائے تو فوراً اس کے بعد اچھے اعمال اور بھلائی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ نیکیاں پچھلے گناہوں کے اثرات اور گناہوں کے بوجھ کو مٹا دیتی ہیں (جیسا کہ قرآن پاک میں بھی ہے کہ "بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں")۔

حسنِ خلق اور انسانی روابط (لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ)
معاشرتی حسن: اسلام میں بندوں کے حقوق اور اخلاق کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ لوگوں کے ساتھ نرمی، خوش اخلاقی، رواداری اور اچھے طریقے سے پیش آنا چاہیے۔

کامل اخلاق: مومن وہ ہے جو لوگوں کے لیے خیر کا سرچشمہ بنے اور اپنے حسنِ سلوک سے معاشرے میں امن اور محبت کو فروغ دے۔

یہ مختصر سی حدیث دین کا نچوڑ ہے—اللہ کا خوف دل میں ہو، اگر غلطی ہو جائے تو نیکی کے ذریعے اس کا ازالہ کیا جائے، اور مخلوقِ خدا کے ساتھ ہمیشہ اچھے اخلاق کا معاملہ رکھا جائے۔

سفر یا باہر جانے کی حالت میں قبلہ کا حکم:حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تاکی...
26/08/2026

سفر یا باہر جانے کی حالت میں قبلہ کا حکم:
حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تاکید فرمائی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امتِ مسلمہ جب بھی کسی سفر پر روانہ ہوں یا اپنے گھروں سے باہر نکلیں، تو نماز کے وقت ان کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہی ہونا چاہیے۔ چونکہ پچھلی آیات میں بھی قبلے کی تبدیلی کا ذکر آ چکا تھا، اس لیے یہاں اس حکم کو مزید پکا کیا جا रहा ہے تاکہ سفر یا حضر (مقیم ہونے) دونوں حالتوں میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

یہ حکم عین حق ہے:
آیت کے اس حصے "وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ" میں مسلمانوں کے دلوں کو مزید اطمینان دلایا گیا ہے کہ قبلہ کا یہ رخ (بیت المقدس سے کعبہ کی طرف) کوئی اتفاقی یا عارضی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بالکل برحق اور آخری حکم ہے۔

اللہ کی نگرانی:
آختام میں فرمایا گیا کہ "اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے"۔ اس میں تنبیہ بھی ہے اور تسلی بھی۔ تسلی یہ کہ مومنین جو اطاعت شعاری کے ساتھ فوراً قبلہ بدل لیتے ہیں، اللہ اس کو دیکھ رہا ہے اور پورا اجر دے گا؛ اور تنبیہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اس حکم میں پس و پیش یا مخالفت کرتے ہیں۔
سفر میں قبلے کے تعین سے متعلق حکم:
محدثین اور فقہاء نے اس آیت اور اس سے متعلقہ احادیث (جیسے صحیح بخاری و مسلم کی روایات) کی روشنی میں یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ مقیم شخص کے لیے تو عین کعبہ (عین قبلہ) کی طرف منہ کرنا فرض ہے، لیکن جو شخص سفر میں ہو یا جسے کعبہ کی درست سمت کا علم نہ ہو، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اندازہ لگا کر (اجتہاد کر کے) رخ کر لے۔ اگر بعد میں پتہ چلے کہ سمت تھوڑی ہٹ گئی تھی تب بھی اس کی نماز درست شمار ہوگی، جیسا کہ مسند احمد اور سنن ترمذی کی روایات میں سفر کے دوران سمت قبلہ کے تعین کے واقعات سے ثابت ہے۔ (تفسیر ابنِ کثیر، سورہ البقرہ، آیت: 149)

Address

Sadar Bazaar
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wazaif hal mushkilat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Wazaif hal mushkilat:

Shortcuts

Share