30/05/2026
جب بنی اسرائیل نے تورات کے احکام کو بھاری سمجھا اور ان پر عمل کرنے سے نالاں ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ طور پہاڑ کو جڑ سے اکھاڑ کر ان کے سروں پر لا کھڑا کریں۔
پہاڑ کا معلق ہونا: پہاڑ ان کے سروں پر اس طرح تان دیا گیا جیسے کوئی شامیانہ یا بادل کا ٹکڑا ہو۔ ان سے کہا گیا کہ اگر تم اس کتاب (تورات) کے احکام کو دل سے قبول نہیں کرو گے اور پختہ عہد نہیں دو گے، تو یہ پہاڑ تم پر گرا کر تمہیں ہلاک کر دیا جائے گا۔
سجدے کی حالت: اس خوفناک منظر کو دیکھ کر بنی اسرائیل سجدے میں گر پڑے۔ وہ اس طرح سجدہ کر رہے تھے کہ ان کی ایک آنکھ زمین پر تھی اور دوسری آنکھ خوف کے مارے اوپر پہاڑ کی طرف لگی ہوئی تھی کہ کہیں وہ گر نہ جائے۔ (یہودیوں میں آج بھی اسی طرح سجدہ کرنے کی روایت پائی جاتی ہے)۔
بِقُوَّةٍ (مضبوطی سے): ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ "مضبوطی سے تھامنے" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت، نیت کی سچائی، اور پورے عزم و ہمت کے ساتھ ان احکامات پر عمل کیا جائے، نہ کہ سستی اور منافقت کے ساتھ۔
متعلقہ احادیث اور آثار
تفسیر ابن کثیر اور دیگر تفسیری کتب میں اس واقعے (پہاڑ اٹھائے جانے اور میثاق یعنی عہد لینے) کی وضاحت میں درج ذیل احادیث و آثار منقول ہیں:
1. ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اثر (پہاڑ اٹھانے کی تفصیل)
امام ابن کثیرؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ:
"جب موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو اس کے احکام بتائے، تو انہوں نے کہا کہ اس میں تو بہت سخت شرائط اور حلال و حرام کی پابندیاں ہیں۔ ہم اسے قبول نہیں کرتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو اکھاڑ کر ان کے سروں پر لا کھڑا کیا اور فرمایا: 'اسے قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا'۔ تب انہوں نے مجبوراً اقرار کیا۔"
2. حدیثِ فتون (قصہِ موسیٰ علیہ السلام)
امام نسائی، امام ابن جریر اور دیگر محدثین نے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جسے "حدیثِ فتون" کہا جاتا ہے (جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالاتِ زندگی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں)۔ اس میں حضرت ابن عباسؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو ان کے سروں پر معلق کر دیا تاکہ وہ اللہ کے عہد اور مینوفیسٹو (تورات) کو قبول کریں۔ جب انہوں نے پہاڑ کو سروں پر دیکھا تو وہ سجدے میں گر گئے اور عاجزی کا اظہار کیا۔"
3. عہد و میثاق کی عالمگیر حقیقت (حدیثِ قدسی)
اگرچہ یہ خاص واقعہ بنی اسرائیل کا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا بندوں سے عہد لینے کا اصول عام ہے۔